آئینوں کے بازار تک


پاکستان کے تعلیمی نظام میں تین طرح کے سلیبس، مدرسہ میں پڑھایا جانے والا، آکسفورڈ اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا سلیبس رائج پذیر ہیں۔ ان اداروں میں دو اداروں کے نظام تعلیم سے مستفید ہونا اور پھر اعتدال پسندی کی زندگی گزارنا بظاہر ناممکنات میں سے ہے اور بہت کم لوگ متوازن رائے قائم کرنے اور بنیاد پرستی میں مبتلا ہونے سے بچ پاتے ہیں۔

انہوں نے 1976 میں ژوب میں ایک انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ہمارے پشتون معاشرے میں تقریباً رواج بھی ہے اور رواج کے ساتھ ساتھ غربت کی مجبوری کہ والدین بچوں کو مدرسہ میں داخل کرواتے ہیں۔ اس کو بھی مدرسہ میں داخل کروایا گیا اور 1988 میں اس وقت حافظ قرآن بنے جب ان کی عمر صرف 12 سال تھی۔

وہ مدارس میں پڑھتا رہا جہاں سے وہ مزید مذہبی تعلیم حاصل کرتا رہا یہاں تک کہ انہیں مولانا کی ڈگری سے نوازا گیا (مذہبی عالم جسے ہم پشتو زبان میں مولانا کہتے ہیں ایک ادبی اصطلاح جو پشتون معاشرے میں عام طور پر ایک مذہبی رہنما کے طور پر استعمال ہوتی ہے جبکہ لغت کے لحاظ سے اس کے معنی ہیں۔ جس کا انگریزی میں لغوی مطلب Clergy ہے ) ۔

مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ دنیاوی علوم حاصل کرنے میں بھی پیش پیش رہا اور 2012 میں پشتو کے لیکچرر کے طور پر تعینات ہوئے اور اس وقت کوئٹہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے 2019 میں پی ایچ ڈی اور 2022 میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔ میں نے مذہبی پس منظر کے حامل افراد کو کم ہی دیکھا ہے جو بیک وقت یونیورسٹی کی تعلیم اور ادب دونوں میں یکساں مہارت رکھتے ہوں۔ وہ اس وقت پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے چیئرمین ہیں۔

ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے اپنے کیریر کا آغاز بطور کتاب کمپوزنگ سے کیا جہاں میں ان سے پہلی بار اس وقت ملا جب میں اپنے مرحوم چچا کی کتاب مرتب کر رہا تھا۔ پشتو کے معروف نابینا شاعر مرحوم حاجی شفیق العالم معذوریار کے گھر میں ہم بار بار ملتے رہے۔ اور مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی جہاں میں نے انہیں ایک علم دوست اور مدلل ادیب پایا۔

انہوں نے ابھی تک پشتو میں چھ کتابیں لکھیں اور ترجمہ کی ہیں جبکہ زیر نظر کتاب ان کی پہلی کتاب ہے جو 2010 میں شائع ہوئی تھی۔ یہ کتاب شاعری کی ہے جو 127 صفحات پر مشتمل ہے جن میں 65 غزلیں، 18 نظمیں اور چند قطعات وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں اتحاد، انصاف، تعلیم، ترقی پسند، رومانوی، خوبصورتی، امن، تشدد، مادیت پرستی جیسے موضوعات غالب نظر آتے ہیں۔

اقتدار کی ہوس، پیسے کی ہوس اور اندرونی دشمنیاں صدیوں سے پشتون سرزمین میں وجہ تضاد بنی رہی ہیں۔ یہ افسوسناک صورتحال پشتون قوم کے درمیان مجموعی طور پر انتشار اور عدم اعتماد کو مزید جنم دیتی رہی ہے جس کا نتیجہ پوری پشتون سرزمین کی تباہی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ حافظ رحمت نیازی نے اس قسم کی صورت حال کی خوبصورتی سے ان الفاظ میں تصویر کشی کی ہے

”زموږ کلی کی حافظہ کلہ داسی ہم لا اوسی
یو سڑی د بل سڑی نہ زندگی اخلی پہ بیہ ”
ترجمہ۔ ہمارے گاؤں میں یہ اب بھی ہوتا ہے حافظ
کہ، ایک آدمی دوسرے کی زندگی پیسوں کے لیے لیتا ہے

پشتون قوم میں مجموعی طور پر قیادت کا ایک بہت بڑا بحران صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور اس وقت بھی قیادت کا خلا محسوس ہو رہا ہے۔ حافظ رحمت نیازی عوام کی مشکلات کا ذمہ دار موجودہ لیڈروں کو ٹھہراتے ہیں۔ اور لیڈروں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں،

ما او تا مشران یو، د مشری نعری کڑو ما او تا
ما او تا پہ خلګو کڑہ سرہ مځکہ تودہ غوندی
ترجمہ۔
میں اور آپ لیڈر ہیں اور رہبری کا دعویٰ بھی کرتے ہیں
ہم دونوں نے لوگوں پر زمین تنگ کی ہوئی ہے

مختلف مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی اپنے خیالات اور تحریر میں ترقی پسند نظر آتے ہیں۔ وہ خواندگی اور ناخواندگی کے فوائد اور نقصانات کی نشاندہی کر کے تعلیم حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ناخواندگی کو ناپسند کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں،

حافظہ مستقبل بہ تر ما ښہ وی زما د و رور
زہ میږی د پلار پایم، دہ قلم ساتلی دی۔
حافظ میرے بھائی کا مستقبل مجھ سے بہتر ہو گا کیونکہ
میں والد کی بھیڑ بکریاں چراتا ہوں، اس نے قلم کو پکڑا ہے۔

کتاب کا مصنف معاشرے کے مسائل سے بخوبی واقف ہے جس میں ایک مادیت پرستی بھی ہے۔ ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے اپنی نظم مادیت پرستی میں لوگوں کے سماجی رویوں اور مادہ سے متعلق لوگوں کی محبت اور معاشرے پر اس کے منفی اثرات کو بہترین پیرائے میں قلمبند کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں،

”ولی چی موږ یو ظالیمان پخپلھ
ولی چی موږ یو قاتلان پخپلھ
زہ او تہ دو اڑہ پہ شریکہ باندی
مادہ پرست یو کور تہ اور اچوو ”
ترجمہ۔
کیونکہ ہم بذات خود ظالم ہیں
کیونکہ ہم بذات خود قاتل ہیں
ہم دونوں مادہ پرست اکٹھے ہو کر
اپنے گھر کو آگ لگاتے ہیں۔

مادیت پرستی کے علاوہ جناب نیازی نے افغان مہاجرین کی معاشی صورتحال کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اسلام آباد میں افغان مہاجرین کے کچھ چھوٹے بچوں کو کچرا جمع کرتے ہوئے پکڑ کر قید کر دیا گیا تھا افغان مہاجرین کی اس قسم کی معاشی بدحالی کی نشاندہی ڈاکٹر نیازی نے 2010 میں کی ہے۔ وہ اپنی نظم میں ”کاغذیں“ کے عنوان سے ایسے الفاظ میں لکھتے ہیں :

ناست و م د چا پر دکان
دو لوغڑن ماشومان
پښی او خیرن لاسونھ
سپینہ بوجۍ پر اوژو
پہ ڈیر مایوسہ انداز
راتہ ویل یی ماما
چی کا غذونہ نہ شتہ؟
ترجمہ۔
میں کسی کی دکان پر بیٹھا تھا
دو معصوم بچے
گندے ہاتھ اور پاؤں
سفید بوری اٹھائے ہوئے
انتہائی مایوس کن انداز میں
مجھ سے پوچھا کہ
کیا (کچرے کے ) کاغذات ہے؟
پشتونوں میں کہاوت مشہور ہے کہ ادیب عام لوگوں کی آنکھیں ہیں اور ان کے لئے بینائی کا کام کرتے ہیں اسی لیے مصنف کو ہمیشہ پرامید ہونا چاہیے اور مسائل کو نمایاں کرنے میں مستقل مزاجی سے قلم کا استعمال کرنا چاہیے اور مسائل اور مصائب کے حل کے لئے تجاویز پیش کرنے میں ہمیشہ اگلی صفوں میں ہونا چاہیے۔ لیکن، ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی اپنی غزل کے ایک مصرعے میں مایوسی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ نا امیدی جو حافظ صاحب کے فکری نقطہ نظر کے حوالے سے ان کی ایک بڑی خامی کو ظاہر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ کہتے ہیں کہ

د پشتون قام د یوالی د امید نتیجہ دا دہ
دیوالونہ درومہ د اوبو پر سرو باندی
ترجمہ۔
پشتون قومی کی یکجہتی کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ
کہ میں پانی کی سطح پر دیوار تعمیر کرتا ہوں

اس موضوع پر راقم کا مشہور پشتو شاعر درویش درانی کی طرز پر شعر کچھ اس طرح ہے

نا امید نہ دی، دی ډاډہ چی خاماخا بہ راځی
ځپلی قام د یو سړی پہ انتظار ښکاریږی
ترجمہ
وہ نا امید نہیں بلکہ پرامید ہے کہ ضرور آئے گا
مظلوم قوم ایک رہبر کے انتظار میں ہے

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہیے اور ایک ادیب کو ہمیشہ پرامید رہنا چاہیے۔

میں اس کتاب کا ریویو کتاب کی اشاعت کے 14 سال بعد لکھ رہا ہوں۔ حافظ رحمت نیازی نے جن باتوں کی نشاندہی 14 سال پہلے کی تھی وہ خامیاں اور مسائل آج پشتون معاشرے میں سرایت کرچکی ہیں۔ ان کی یہ کتاب اور موضوعات ان کے فکری بالغ پن اور ان کی دور اندیشی کا ثبوت دیتی ہے۔ وہ یقیناً داد کے مستحق ہیں اور میں اسے 10 میں سے 8 نمبر دیتا ہوں۔

Facebook Comments HS