امریکی اور پاکستانی ٹرمپ کارڈ
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور نیوکلیئر پروگرام پر گزشتہ ماہ لگنے والی مزید پابندیاں، اسرائیل کے ایران کے نیوکلیئر سیٹ اپ کے کچھ حصے پر گزشتہ ماہ کے حملے، ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو آئندہ ہدف بنائے جانے کے امکانات اور ایران کے ایٹمی قوت بننے میں مزید کتنا وقت درکار ہے کی بابت امریکی، اسرائیلی اور دیگر بین الاقوامی دفاعی تھنک ٹینکس کی حالیہ رپورٹس اور جاری ابحاث کے تناظر میں امریکہ اور اسرائیل کو پاکستان سے شدید تحفظات درپیش ہیں کہ پاکستان ایران کے بیلسٹک ایٹمی میزائل پروگرام میں معاونت کر سکتا ہے۔
ایران کی بابت انٹرنیشنل دفاعی تھنک ٹینک یہ کہہ رہے ہیں کہ ایٹم بم بنانا تو ایران کے لئے شاید چند دنوں یا ہفتوں میں ہی ممکن ہو سکتا ہے مگر اس سے آگے کے مراحل، وار ہیڈ کو میزائل پر تنصیب کے پرزہ جات اور دیگر درکار ٹیکنالوجی کے لئے ایران کو کئی ماہ سے ایک سال تک کا وقت درکار ہو سکتا ہے۔ ان مختلف رپورٹس میں درکار وقت کا تعین بھی مختلف ہے۔
اب جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام دنیا بھر میں زیرِ بحث ہے کہ جس سے سب سے زیادہ خطرہ اسرائیل اور امریکہ محسوس کر رہے ہیں، عین اسی لمحے پاکستان کے بیلسٹک پروگرام پر امریکی پابندیاں اسی خدشے کا اظہار بھی ہو سکتی ہیں کہ اس وقت امریکہ اور اسرائیل کو پاکستان کی طرف سے ایران کے ایٹمی پروگرام کی متوقع اور مفروضہ معاونت کے شدید تحفظات درپیش ہیں۔ لہٰذا ان تحفظات کے پیشِ نظر پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر مزید سخت پابندیاں لگنے کے واضح امکانات ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو اگر بنظر غائر بھی دیکھا جائے تو آئندہ سال ایران کے لئے سخت مشکل ثابت ہونے جا رہا ہے۔ پہلا ہی آپشن ایران کی ملا رجیم چینج کی کوشش اور ساتھ ہی ان کے جوہری پروگرام کی تباہی نوشتہ دیوار نظر آ رہی ہے جس کے خطے پر بالخصوص پاکستان پر بدترین اثرات مرتب ہوں گے۔
ایران اگر تباہ کیا جاتا ہے تو امریکہ و اسرائیل کے اگلے ہدف کی بابت اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں ہے۔ ادھر پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات قطعی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی بابت ایک فریق کو شدید خدشات اور دوسرے فریق کو میٹھی امیدیں لاحق ہیں۔ اور اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے پاکستان میں اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے تحریکِ انتشار کے بانی کی صورت میں بہترین ”ٹرمپ کارڈ“ موجود ہے۔ یعنی مذکورہ دونوں فریق ایک دوسرے کے لئے ٹرمپ کارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔


