امریکہ یورپ جیسے کیوں نہ بن سکے انڈیا اور پاکستان؟
ایک عورت ہمارے گھر وقتاً فوقتاً امداد مانگنے کے لیے آتی ہے۔ ہم خود سفید پوش لوگ ہیں تاہم جو میرے بس میں ہوتا ہے راہِ خُدا تعاون کر دیتا ہوں۔ دو بالغ بیٹے اور ایک جوان بیٹی کی ماں ہے۔ کہتی ہے میں اپنے بیٹوں کو پڑھا رہی ہوں۔ خود آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پہ ایک گھر میں بطور باورچن کام کرتی ہے اور شوہر بہاول پور کے حسینی چوک پہ روزانہ جا کے مزدوروں کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے کبھی کوئی شخص اُسے بطور مزدور لے جاتا ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آ جاتا ہے۔ گاؤں سے ہجرت کر کے شہر میں آئے ہیں اور ایک کچی آبادی میں کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔
میں نے کئی بار کہا تم اپنے بیٹوں کو کوئی ہنر سکھاؤ۔ اب تو وہ جوان ہو چکے ہیں تمہارا سہارا بنیں تو جواب میں کہتی ہے ”میرا خواب ہے میں ایک بار ان کو پڑھا لکھا دوں۔ اسکول اور کالج کی تعلیم دلوا دوں پھر دیکھا جائے گا کیا ہنر سیکھتے ہیں“ ۔ اُس عورت کا مائنڈ سیٹ ہے کہ چاہے اُسے لوگوں سے بھیک مانگنا پڑے وہ اپنی اولاد کو کالج کی تعلیم دلوائے گی۔
میرا موقف یہ ہے کہ اس وقت انڈیا اور پاکستان کے کالجز، یونیورسٹیوں اور مذہبی مدارس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ڈگریاں لے کر باہر آ رہے ہیں لیکن بڑی تعداد کے پاس کوئی ہنر نہ ہونے کی وجہ سے انھیں بے روزگاری اور مالی پریشانی کا سامنا ہے۔ کالج، یونیورسٹی اور مذہبی مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان اگر مالی خوشحال خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو چلو ٹھیک ہے جاب ملے نہ ملے کم ازکم بھوکے تو نہیں مرنا لیکن اگر خاندان انتہائی غریب ہو اور روز یہ فکر رہتی ہو کہ آج شام کو چولہا کیسے جلے؟ تو پھر میرے خیال میں بچوں کو اسکول کی واجبی تعلیم دلوانے کے بعد پہلے روزی روٹی کمانے کے قابل بنانے والا کوئی ہنر سکھانا چاہیے اُس کے بعد وہ چاہیں تو اپنی ذاتی انکم سے کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل کر لیں۔
انڈیا اور پاکستان کی سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا کیا ہے ان کے نوّے فیصد شعبے سیمسٹر کے نام پہ بھاری فیسیں وصول کر کے نوجوانوں کو ڈگریاں تو دیتے ہیں لیکن ان ڈگریوں کا عملاً کوئی آؤٹ پُٹ نہیں ہوتا یعنی وہ روزگار کا ذریعہ نہیں بنتیں۔ باقی دس فیصد شعبے بھی بھاری فیسیں ہی وصول کرتے ہیں تاہم کمپیوٹر سائنس جیسی ڈگریاں کم ازکم نوجوانوں کو ہنر مند تو بنا دیتی ہیں۔
20 دسمبر 2024 کو حاصل پور شہر سے تھوڑے فاصلہ پہ چولستان روہی کے علاقہ میں جانا پڑا۔ اب تو چولستان کا کافی حصّہ آباد ہو چکا ہے۔ سفر میں ریت کے ٹیلے تو گاہے گاہے نظر آئے۔ بیشتر جگہوں پہ سرکاری بجلی نہیں تھی لیکن لوگوں نے سولر ٹیوب ویلز لگا کر فصلیں اگائی ہوئی تھیں۔ دیہات میں فصلوں کی آمدن سے لوگ اچھا کھا اور اچھا پہن رہے ہیں تاہم وہ لوگ جن کے پاس ذاتی زرعی زمین نہیں وہ روزگار کے لیے بڑی تعداد میں شہروں کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ روبوٹک زرعی مشینری آنے کی وجہ سے اب انھیں زمیندار یا کسان کی زمینوں پہ کام کر کے گندم اکٹھی کرنے کا چانس ہی نہیں مل رہا۔
آٹو میٹک مشین گندم کی کٹائی خود کر کے دانے الگ اور بھوسہ الگ کر دیتی ہے۔ مکئی کے دانے اُس کے تکے سے الگ کر دیتی ہے۔ کماد کو خود کاٹ کر رس نکالنا شروع کر دیتی ہے۔ ہوا کھینچنے والے سکر سسٹم سے کپاس کی چنائی کر دیتی ہے۔ مشین ہی کھیت کی مٹی میں بیج پیوست کرتی جاتی ہے۔ فصلوں کو پانی دینے کے جدید طریقے آ گئے ہیں۔ بغیر مزدور کے فصلوں کو سیراب کیا جا رہا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہیں کہ کروڑوں افراد پہ مشتمل کتنا بڑا فلکس دیہات سے شہروں کی طرف مستقل بنیادوں پہ منتقل ہو رہا ہے۔ شہر ڈیزائن ہوا پانچ دس لاکھ آبادی کے لیے اور رہنے کے لیے آ گئے پچاس لاکھ لوگ۔ انفرا سٹرکچر نے تو جواب دے ہی جانا ہے نا۔ اوپر سے ٹاؤن بلڈر مافیا۔ باغات اور فصلوں کی کٹائی کر کے تنگ گلیوں پہ مشتمل ٹاؤنز جہاں ایک کار گزر رہی ہو تو سامنے سے آنے والی کار کو رُکنا پڑتا ہے کہ وہ گزر نہیں سکتی ایسے ٹاؤنز بناؤ اور اٹھارہ ارب روپے کماؤ۔ جب رولز اینڈ ریگولیشنز کی خلاف ورزی کے نام پہ سرکاری محکموں سے اٹھارہ لاکھ روپے جرمانہ لگے تو ادا کرو اور مزید پیسہ کمانے کے لیے مزید نئے ٹاؤنز بنانے کی پلاننگ کرو۔
انڈیا اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور مین سٹریم میڈیا کی طرف سے امریکہ اور یورپ کو بُرا کہنے کا رواج تو بہت ہے لیکن کبھی سوچا کہ وہ یہاں سے بہتر کیوں ہیں؟ انھوں نے اپنے عوام کو خوشحال کیسے بنایا؟ اکبر شیخ اکبر کا خیال ہے کہ انڈیا اور پاکستان میں صرف ملٹری یعنی فوج کی ”لیڈر شپ مائنڈ سیٹ“ بنیادوں پہ تربیت کرنے کی طرف توجہ دی گئی۔ دیگر تمام سرکاری محکموں اور اداروں کے افسران اور دیگر عملہ اور عوام الناس کے مائنڈ سیٹ کو ”اصول پسند اور قاعدے قوانین“ کا پابند بنانے پہ کبھی نہ تو توجہ دی گئی اور نہ کوئی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ کہ انڈیا اور پاکستان کے سرکاری محکموں میں تو پچھتر سال سے رشوت خوری چلی آ ہی رہی ہے، کاروباری طبقہ اور عام آدمی کو بھی جہاں کہیں موقع ملے وہ بھی مالی کرپشن کو گناہ نہیں سمجھتا۔ ”بہتی گنگا اور بہتے سِندھ“ میں ہاتھ ڈال ہی دیتا ہے۔ اس معاملہ میں امیر غریب کی کوئی تفریق نہیں۔
انڈیا اور پاکستان کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اپنے عوام کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بٹھانا۔ یعنی نہ غربت بڑا مسئلہ ہے نہ بے روزگاری اور نہ جرائم کو ختم کرنا۔ بس سب سے بڑا مقصد ہی یہ رہ گیا کہ نفرتوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دو یہاں تک عوام اپنی روٹی روزی کو بھی بھول جائیں۔ یورپ کے ممالک بھی کئی سالوں تک ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑتے رہے۔ پھر انھیں ادراک ہوا کہ ان جنگوں نے انھیں کیا دیا سوائے کروڑوں بے گناہ انسانوں کی موت کے۔ جب یورپ کے ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں اگلنے والی توپوں کا منہ مستقل بنیادوں پہ بند کر دیا تو وہاں پھر خوشحالی کا دور شروع ہوا جس کے فیوض سے انڈیا اور پاکستان کے کشکولیے بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔ ”تیرا لند ن نیویارک رہے آباد، انڈیا پاکستان پہ راج کریں گے ہم کشکولی“ ۔
جیسے یو ایس اے، کینیڈا اور یورپ نے انسانی ترقی کی بلندیوں کو چھوا۔ جیسے انھوں نے اپنے عوام کی مثبت بنیادوں پہ ذہن سازی کی، جیسے انھوں نے اپنے ہر ادارے اور محکمے کے ہر چھوٹے بڑے افسر اور عملہ میں کرپشن سے نفرت کرنے والی اور قانون پسندی والی لیڈر شپ پیدا کی ایسے ہی انڈیا اور پاکستان کو بھی ایسا کرنا ہو گا۔ ورنہ پھر بڑھک کلچر تو جاری رہے گا کشکول سے آزادی حاصل کرنے کے نعرے بس خالی نعرے ہی رہیں گے۔



There is no comparison between Pakistan and India as India has become the 5th largest economy of the world.Indian education system is very better than Pakistan..In next 20 to 30 year India Europe and America bun jaye ga.Pakistan to shayed 1000 tuk bhi is level par na phonch sakay