سیاہی


faisal karim khuzdar

شہر کی ایک پرانی گلی میں چند بوسیدہ مکانوں کے آخر میں واقع ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ دکان ظاہری وضع قطع سے عاری مگر باطنی طور پر پختگی کی مظہر تھی۔ کتابیں تہ در تہ خفیف گتے کی بنی الماری نما خانوں میں دھری تھی، رنگ و نوع کے اعتبار سے مختلف قلم موجود تھے۔ اور کچھ کاغذی مواد جو بِکری میں تاخیر کے سبب ہلکے پیلے رنگ میں بدل رہا تھا۔ مگر اس دکان کے بارے میں سب سے عجیب بات یہ تھی کہ اس کا مالک، نور، جسے اہلِ محلہ احترامً نور بابا کہا کرتے تھے اور بھر تاحیات یہی نام ان کے لیے مختص کر دیا گیا پھر چاہے مخاطب کرنے والا کم سن، ادھیڑ عمریا پھر نور بابا کے ہم عمر ہی کیوں نہ ہوتے۔ نور بابا ہمیشہ اکیلا رہتا تھا۔ نور بابا کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد تھا: اپنی تحریروں کے ذریعے دنیا کو بدلنا۔ کتابوں سے دوستی کیے انھیں عرصہ گزرنے کو تھا، وہ ایک تنہائی پسند شخص تھا، جس نے اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اور کامیابی کی جستجو میں خود کو دنیا سے کاٹ لیا تھا۔ کتابوں کو پڑھنا اور پھر انہی کتابوں کو از سرِ نو اپنی ذاتی رائے کے ساتھ تحریر کرنا اب ان کی زندگی کا خاصہ بن گیا تھا۔

نور بابا کا کہنا تھا، ”ہر قلم میں ایک کہانی قید ہوتی ہے، اور ہر سیاہی میں ایک جذبہ چھپا ہوتا ہے۔“ لوگ اس کے خیالات کو پاگل پن سمجھتے تھے، مگر نور کو اس کی پرواہ نہیں تھی۔

ایک دن، ایک نوجوان، دانش، دکان میں آیا۔ اس کے چہرے پہ الجھن اور آنکھوں میں ایک سوال نمایاں نظر آ رہا تھا۔ نور بابا سے بہتر کون پیشین گوئی دے سکتا تھا۔ نور بابا نے دانش کی مشکل کو کچھ یوں آساں کیا، ”کیا ہوا بچے سوالی بنے کیوں کھڑے کہو کیا چاہیے؟“

”نور بابا میں ایک ایسا قلم خریدنا چاہتا ہو جس کی سیاہی سچائی کے رنگ گھولتی ہو۔ کچھ ایسا ہے، جو قلم کے ذریعے کسی کاغذ پہ اترے تو شاید دل کی خفگی سکونت اختیار کرے۔“

نور بابا نے مسکراتے ہوئے ایک پرانا، کالا قلم نکالا اور کہا:

”یہ قلم تمہارے لیے ہے۔ لیکن یاد رکھنا، یہ قلم عام نہیں ہے۔ یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی حقیقت لکھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اور ایک بار لکھنا شروع کرو گے تو پیچھے مڑنے کا موقع نہیں ہو گا۔“

دانش نے قلم لے لیا اور نور بابا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔

دانش اپنے کمرے میں واپس آیا اور لکھنا شروع کیا۔ اس نے اپنی زندگی کی کہانی کو کاغذ پر اتارنا شروع کیا، مگر جیسے جیسے وہ لکھتا گیا، اسے احساس ہوا کہ وہ صرف اپنی کہانی نہیں لکھ رہا تھا۔ قلم سے نکلتی سیاہی کے ساتھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ آوازیں دانش کو ماضی کے ان لمحوں میں لے گئیں جو اس نے خود بھی بھلا دیے تھے۔

دانش نے دیکھا کہ اس کے لکھے ہوئے الفاظ خود بخود بدلنے لگے۔ اس نے جو جملے لکھے، وہ کاغذ پر مختلف الفاظ میں ظاہر ہو رہے تھے :

”تم نے سب کچھ چھوڑ دیا، مگر کیا کامیابی کے بدلے تم نے خود کو کھو دیا؟“

دانش نے قلم کو چھوڑنے کی کوشش کی، مگر قلم اس کے ہاتھ سے چپک گیا۔ کمرے کی روشنی مدھم ہونے لگی، اور سائے حرکت کرنے لگے۔ دانش کو لگا کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ اس نے دیوار پر سایوں کو شکلیں لیتے دیکھا۔ یہ سائے انسانی شکلوں میں بدل گئے، جن کے چہرے دھندلے مگر خوفناک تھے۔

ایک سایہ اس کے قریب آیا اور سرگوشی کی:
”تم نے اپنی حقیقت سے منہ موڑ لیا، مگر یہ قلم تمہیں مجبور کرے گا کہ تم اپنی کہانی مکمل کرو۔“
خوفزدہ دانش دوبارہ نور بابا کی دکان پر پہنچا۔
”یہ قلم میرے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ یہ مجھے میری ماضی کی زندگی میں کیوں گھسیٹ رہا ہے؟“
نور بابا نے گہری سانس لی اور کہا:

”یہ قلم صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنے اندر کی سچائی کو پہچاننے کے لیے تیار ہوں۔ مگر تم نے اپنی کہانی کو ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ یہ قلم اس وقت تک تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا جب تک تم اپنی کہانی مکمل نہیں کرتے۔“

دانش نے چیخ کر کہا، ”میں کچھ نہیں لکھنا چاہتا! مجھے آزاد کرو!“
نور بابا نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
”آزادی کی قیمت ہوتی ہے۔ اگر تم اپنی کہانی کو مکمل نہیں کرو گے، تو یہ قلم تمہیں مکمل کر دے گا۔“

دانش نے قلم کو پھینکنے کی کوشش کی، مگر قلم خود بخود اس کے ہاتھ میں واپس آ گیا۔ دکان کی دیواروں سے عجیب و غریب آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ دانش نے دیکھا کہ دیواروں پر وہ تمام لوگ ظاہر ہو رہے ہیں جنہیں اس نے اپنے سفرِ کامیابی کے دوران چھوڑ دیا تھا۔ ان کی آنکھوں میں غصہ اور دکھ تھا۔

”یہ سیاہی ان جذبات سے بنی ہے جنہیں تم نے نظر انداز کیا۔ یہ تمہاری تنہائی کا نتیجہ ہے۔ اب یہ قلم تمہارے وجود کو ختم کر کے تمہاری کہانی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لے گا۔“

اچانک دکان اندھیرے میں ڈوب گئی۔ دانش کی چیخ سنائی دی، اور جب روشنی واپس آئی، تو دکان خالی تھی۔ قلم اپنی جگہ پر موجود تھا، مگر دانش کا کوئی سراغ نہ تھا۔

نور بابا نے قلم کو دوبارہ الماری میں رکھا اور کہا:
”سیاہی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اب اگلا مسافر کون ہو گا؟“

Facebook Comments HS