باورچی خانے میں تلا گیا ناول : نعمت خانہ
اور المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر اور یکسر انجان تھیں کہ میں نے کبھی اُن دونوں پر اتنے بڑے اور عظیم احسانات کیے تھے۔
اتنے بڑے بڑے احسان!
اف! اتنے بڑے بڑے دھبے۔ ”
دو دو قتل۔ ایک نہیں دو دو قتل جن میں میرے دونوں ہاتھوں کی مرضی شامل تھی۔
مگر اُن دونوں کو کچھ نہیں معلوم۔
میں اُن دونوں کے لیے خاندان کا ایک معمولی جھینپو سا لڑکا تھا اور بس، اور اُن دونوں کی اپنی اپنی دنیائیں تھیں جن کا میری سیاہ اور زہریلی پر اسرار دنیا سے کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ جیسے اُڑن طشتری پر بے مروتی کے ساتھ بیٹھ کر کسی دوسرے سیارے پر پہنچ گئی تھیں۔
اور میں اس کرہ ارض، اس زمین اور اس مٹی میں تمام رات اس کاکروچ کو ڈھونڈتا پھرا جو میرے ان عظیم احسانوں کا گواہ تھا۔
کم بخت وہ کاکروچ بھی مجھے اُس دن نہ ملا اور سٹیل بار بار مجھے یہ کہہ کہہ کر چڑاتا رہا کہ گڈو میاں آ گئے گڈو میاں آ گئے۔ تھی نہ یہ ایک لرزہ خیز داستان!
ہاں یہ کچن میں تنہائی، اداسی اور کسمپرسی اور انسانی بے وسی کا وہ لرزہ خیز شہکار ہے جسے پڑھ کے بس یہی گمان گزرتا ہے کہ یہ میری آب بیتی تھی یا سارے جہاں کی جگ بیتی۔
خالد جاوید اردو ادب کا موجودہ جینئس ہے۔ کیونکہ وہ اردو ادب میں وہ اضافے کا کر رہا ہے کہ انسان ہر تخلیق کہ بعد دنگ رہ جاتا ہے۔ اب چاہے وہ موت کی کتاب ہو، ایک خنجر پانی میں یا ارسلان اور بہزاد ہو یا وہ یہ شہکار جسے ”نعمت خانے کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
نعمت خانہ ویسے ہے کچن اور خوراک کے موضوع پر لیکن خالد جاوید نے بھوک پر اس کے اصلی، سفلی اور ظالم معنوں میں پرمغز اور بھرپور بحث کی ہے۔
خالد جاوید اردو ادب کے منفرد اور جدید فکشن نگاروں میں سے ایک ہیں، اور ان کا ناول ”نعمت خانہ“ اپنی پیچیدگی، علامتوں اور داخلی معانی کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ناول نہ صرف اپنی موضوعاتی گہرائی کی وجہ سے بلکہ اسلوب اور بیانیہ کی انفرادیت کی وجہ سے بھی ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ ”نعمت خانہ“ کو جدید اردو ناول کا شاہکار مانا جاتا ہے، کیونکہ یہ انسانی زندگی کی بے معنویت اور داخلی کشمکش کو انتہائی انوکھے انداز میں بیان کرتی ہے۔
”نعمت خانہ“ بنیادی طور پر انسانی زندگی کے اُس پہلو پر روشنی ڈالتی ہے جسے عام طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ یہ ناول ایک ایسے فرد کی داستان ہے جو اپنے داخلی وجود، احساسات، اور جنونیت کی گہرائی میں ڈوبا ہوا ہے۔ خالد جاوید نے اس ناول میں انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو چھوا ہے اور ان کے کردار اپنی حقیقت میں جینے کے بجائے اندرونی تضادات میں الجھے نظر آتے ہیں۔ ”نعمت خانہ“ کا مرکزی موضوع انسانی بقا اور اس کی بے مقصدیت ہے، جہاں زندگی کے عام معمولات میں پوشیدہ درد اور غم کو آشکار کیا گیا ہے۔
ناول میں باورچی خانہ ایک مرکزی علامت کے طور پر ابھرتا ہے، جو انسانی وجود کی پیچیدگی، اس کے تعلقات اور اس کی جذباتی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ باورچی خانہ صرف کھانا پکانے کی جگہ نہیں بلکہ یہ زندگی کے تجربات اور انسانی فطرت کی ایک مجازی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہاں کھانے کی علامت کو محض جسمانی ضرورت سے ہٹ کر نفسیاتی اور فلسفیانہ نقطۂ نظر سے دیکھا گیا ہے۔
نعمت خانہ ”کے کردار داخلی طور پر منتشر اور جذباتی طور پر متزلزل ہیں۔ ان کا وجود باہر سے مضبوط دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ یہ کردار عام انسانی زندگی میں موجود مسائل اور جذباتی الجھنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی دنیا ایک گہرے بحران میں مبتلا ہے، جہاں روایتی اقدار اور اصول بے معنی ہو چکے ہیں۔ خالد جاوید نے انسانی جذبات اور احساسات کو فلسفیانہ اور نفسیاتی پہلوؤں سے بیان کیا ہے، جو قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا ہم واقعی جیتے ہیں یا صرف زندہ رہتے ہیں۔
”نعمت خانہ“ میں کھانے، باورچی خانے اور مختلف اشیاء کو نہایت گہرائی اور علامتی طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کھانے کی علامات انسانی زندگی کی ضروریات اور ان کے اردگرد موجود تضادات کو ظاہر کرتی ہیں۔ کھانا، جو بظاہر ایک معمولی سی چیز ہے، اس ناول میں زندگی، موت، محبت، نفرت، اور خواہشات کی ایک مکمل تصویر بن کر سامنے آتا ہے۔
”کاش کہ کھانے نہ ہوتے، تب شاید دنیا میں خالص محبت کا وجود ہوتا مگر یہ کم بخت کھانے، جو باورچی خانے میں تیار ہوتے ہیں اور باورچی خانہ جو گھر کا سب سے خطر ناک مقام ہے۔ ان کھانوں کی تباہ کاریاں کوئی مجھ سے پوچھے۔ یہ کھانے جو زندگی جیسی گھٹیا شے کو پائیدار بنانے کا خطرناک فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ کھانے جو جنسی شہوت بڑھاتے ہیں۔ آدم اور حوا کو بہکاتے ہیں اور حبوط آدم کا سبب بنتے ہیں۔ یہ کھانے جو لڑکا پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں، لڑکے جو بڑے ہو کر رام گنگا کی کھادروں سے گھوڑوں پر سوار نکل کر آتے ہیں اور اپنی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کرتے پھرتے ہیں“
خالد جاوید کا اسلوب اور بیانیہ اردو فکشن میں منفرد ہے۔ ان کا بیانیہ زیادہ تر تجریدی، فلسفیانہ اور علامتی ہوتا ہے، جو قاری کو گہرے غور و فکر پر مجبور کرتا ہے۔ ”نعمت خانہ“ کا اسلوب نہایت بلیغ اور دقیق ہے، جہاں ہر لفظ اور جملہ اپنے اندر گہرے معانی سموئے ہوئے ہے۔ خالد جاوید کی تحریر میں ایک پراسراریت ہے جو قاری کو ناول کی دنیا میں مکمل طور پر جذب کر لیتی ہے۔
ان کا اسلوب جدیدیت کے اثرات سے مزین ہے، جہاں ہر کردار اور واقعہ اپنی علامتی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس ناول میں انسانی زندگی کی بے مقصدیت اور داخلی بحران کو نہایت منفرد انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ اسلوب عام قاری کے لیے مشکل ہو سکتا ہے، لیکن جو قارئین گہرائی میں جانا پسند کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک علمی خزانہ ہے۔
ناول کا مرکزی کردار ایک چھوٹا لڑکا ہے جس کا نام حفیظ ہے جو ایک بڑے کنبے میں رہتا ہے۔ اور اپنے سے بڑے دو عورتوں پر اس کی نگاہ غلط ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے وہ حسد میں ان کے لئے دو خون بھی کر ڈالتا ہے۔ جیسے کے اوپر کے اقتباس میں وہ بیان کرتا ہے۔ لیکن کوئی اس پہ ذرا برابر شک نہیں کرتا اور وہ دندناتا پھر ہے۔ مزید برآں وہ آگے پڑتا ہے۔ وکیل بنتا ہے شہر میں رہتا ہے لیکن، کھانے اور باورچی خانہ اس کی زندگی کا لازمی و ملزوم ٹھہرتے ہیں ویسے جیسے ہمارے۔
خالد جاوید اس ناول میں حوزے سراماگو جیسے موجودگی تجریدی ناول نگاروں سے متاثر نظر آتے ہیں۔ یہ ناول عام قاری کے لئے تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن ہے ایک شہکار۔
” خالد جاوید خود ایک جگہ لکھتے ہیں کہانی اس طرح بیان ہونا چاہیے کہ قاری سمجھنے میں بھی محنت کرے“ اور یہ ناول محنت کرواتی ہے۔


