عالمی یومِ ورثہ

ہر سال 18 اپریل کو دنیا بھر میں ”عالمی یومِ ورثہ“ منایا جاتا ہے تاکہ قوموں کو اپنے تاریخی، ثقافتی، اور تہذیبی ورثے کی حفاظت اور اہمیت کا شعور دلایا جا سکے۔ اس دن کی مناسبت سے حیاتین ہسٹوریکل سوسائٹی کے زیر اہتمام، کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد کاشف علی کی سربراہی میں شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے طلباء و طالبات نے ایک تعلیمی دورے کے ذریعے وزیر آباد کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد طلباء کو

Read more

یادگار عید لاہور میں۔ خوشبو، رنگ اور مسکراہٹوں کا سفرنامہ

رمضان المبارک کی آخری سحر تھی۔ گجرات کی فضا میں سناٹا سا چھایا تھا، جیسے شہر روزوں کی تکمیل پر مراقبے میں ہو۔ میں نے سحری کے بعد فجر ادا کی، اور خاموشی سے بستر پر جا بیٹھا۔ تبھی موبائل کی اسکرین پر روشنی چمکی، جیسے تقدیر نے انگلی تھام کر ایک دروازہ کھولا ہو۔ پیغام تھا: ”عید منانے لاہور آ جاؤ!“ حامد کی تحریر میں بلا کی کشش تھی۔ وہ پیغام نہیں، جیسے کسی آزاد پرندے کی پکار ہو۔

Read more

مولہ چٹوک: بلوچستان کی چھپی ہوئی جنت

بلوچستان اپنی قدرتی خوبصورتی، بے مثال ثقافت، اور دلفریب مناظر کے لیے جانا جاتا ہے، اور ان ہی مناظر میں ایک نایاب جواہر مولہ چٹوک بھی شامل ہے۔ مولہ چٹوک، خضدار کے قریب واقع ایک ایسی جگہ ہے جو کسی جنت سے کم نہیں۔ مولہ چٹوک کی سیر کا خواب کئی دنوں سے ہمارے ذہن میں تھا، اور یہ خواب حقیقت میں بدلنے کا لمحہ تب آیا جب میرے دوست ثناء نے ہفتے کے دن اچانک دوپہر کو کال کی۔

Read more

چھارو مچھی آبشار: قدرت کا جیتا جاگتا شاہکار

بلوچستان کے دلکش اور دل موہ لینے والے مناظر کے درمیان چھپی ہوئی ایک خوبصورتی، چھارو مچھی آبشار، وہ مقام ہے جہاں قدرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ یہ آبشار وادی خضدار کے قریب واقع ہے اور تقریباً تین گھنٹے کی موٹر سائیکل سواری کے بعد وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سفر کسی عام سفر کی طرح آسان نہیں ؛ یہ ایڈونچر، ہمت اور استقامت کا امتحان ہے۔ ہمارا سفر رات 8 بجے خضدار

Read more

2024 : زمائشوں کا سال، تجربات کا خزانہ

کہنے کو تو 2024 ایک گزر جانے والا سال تھا، مگر حقیقت میں یہ میری زندگی کا ایک ایسا عہد تھا جو تلخ و شیریں تجربات، چیلنجز اور انمول سبقوں سے عبارت تھا۔ یہ سال آزمائشوں کا ایک مسلسل سلسلہ تھا، لیکن انہی آزمائشوں نے میری شخصیت کو نکھارا اور میری زندگی کے کئی پہلوؤں کو ایک نئی سمت دی۔ یہ سال کئی حوالوں سے منفرد رہا۔ کبھی حالات نے امتحان لیا، تو کبھی قسمت نے کامیابی کے دروازے کھولے۔

Read more

دھوپ کا سایہ

ایمان اور ماہین، دو دوست، دو دنیائیں، اور دو نظریات۔ ایک دوسرے کے لیے وہ تھیں جو دھوپ کے تپتے صحرا میں ایک سایہ دار درخت ہوتا ہے۔ دونوں نے ایک ہی گلی میں بچپن گزارا، ایک ہی اسکول میں پڑھیں، لیکن زندگی کے بارے میں دونوں کا نقطۂ نظر ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا۔ ایمان، حقیقت پسندی کا مجسمہ، زندگی کو اصولوں اور سخت حقیقتوں کے تناظر میں دیکھتی تھی۔ اس کے نزدیک خواب دیکھنا وقت کا زیاں

Read more

دسمبر کی آخری رات

جامعہ کے ہاسٹل کا ماحول سردی کی شدت کے باوجود گرمجوشی سے بھرپور تھا۔ دسمبر کا آخری دن تھا، اور ہاسٹل کے تین قریبی دوست۔ عالمگیر، فیصل، اور امتیاز علی۔ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ باہر کہر چھایا ہوا تھا، اور اندر ایک پرانی ہیٹر کے گرد بیٹھ کر چائے کے کپ تھامے، وہ اپنے مخصوص انداز میں محفل سجائے ہوئے تھے۔ عالمگیر کو سب ہاسٹل میں ”سر“ کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ عمر میں ان سب سے بڑا تھا

Read more

سیاہی

شہر کی ایک پرانی گلی میں چند بوسیدہ مکانوں کے آخر میں واقع ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ دکان ظاہری وضع قطع سے عاری مگر باطنی طور پر پختگی کی مظہر تھی۔ کتابیں تہ در تہ خفیف گتے کی بنی الماری نما خانوں میں دھری تھی، رنگ و نوع کے اعتبار سے مختلف قلم موجود تھے۔ اور کچھ کاغذی مواد جو بِکری میں تاخیر کے سبب ہلکے پیلے رنگ میں بدل رہا تھا۔ مگر اس دکان کے بارے

Read more