ہمہ یارانِ جامعہ، تلہ گنگ کا اے حمید اور بدلتا سماج – جنریشن زی


دسمبر اس لحاظ سے ثروت مند رہا کہ یکے بعد دیگرے نور احمد جانجھی صاحب بوساطت (محترمی اللہ نواز سموں ) ، تنویر ملک صاحب اور عثمان قاضی صاحب کی ’ہڈ بیتیاں‘ سرکاری قاصدوں کے ہاتھ سے وصول ہوئیں۔ گزشتہ ایک برس سے آس پڑوس والے ”کان بردوش“ ’ڈاکٹر صاحبہ کے نام ایک اور کتاب کا پارسل‘ سے بتدریج آشنا ہو رہے ہیں۔ ”دراز اور تیمو“ کے دور میں یہ بیگانگیٰ شوق! (اُن کی سرد آہیں موسم اور سماعت کو مزید یخ کرتی رہتی ہیں )

دبستان جامعہ یعنی قائداعظم یونیورسٹی کی روداد اور وہ بھی تنویر ملک کے سہ آتشی قلم سے! (ملک صاحب اُردو، کیمبلپوری اور انگریزی زبان تینوں میں یکساں پرخچے اُڑانے میں مشاّق و مشتاق ہیں۔

گزشتہ تین عشروں سے محکمہ ٹیکس و مالیات میں بچھی کرپشن کی بارودی سُرنگوں کے تعاقب میں سیکھی مہارت، بیوروکریسی کی کچوکے لگاتی بیگانگی، تلہ گنگی مزاح میں دُھلی اُردوئے معلی، اِن لینڈ ریونیو کے رنگ میں رنگی استعداد اور اپنے تاریخی ورثے پہ اتراتی اُن کی نوکِ قلم اپنے قاری کی ہیپناٹائزڈ بے بس نگاہوں کو ہلارے دیتی رہتی ہے۔

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت ’

کا رتی برابر احساس رکھے بغیر تاریخی معروضیت کے ساتھ کرداروں کی ”جا و بے جا“ تفصیل پہ ہنسنے اور لطف اندوز ہونے کے بے شُمار اور شاندار مواقع سامنے آتے رہتے ہیں

(تقریب بہرِ ملاقات چاہیے تو آئینے کے سامنے تو بیٹھنا ہی پڑے گا! )

اس سے بیشتر ملک صاحب نے شہر آشوب تلہ گنگ کے عنوان سے اپنے دیہی وسیب کی کہانی شائع کی ہے جو ’پیپلز ہسٹری‘ کی شاندار مثال ہونے کے ساتھ ساتھ ”قومی مہا بیانیہ“ میں سے غائب عناصر مثلاً مقامیت اور متنوع زرعی کلچر کی ایک اولیں تصنیف کا درجہ رکھتی ہے۔ تاریخ کے ہونہار طالبعلم نے اپنی لاجواب یادداشت اور تحقیق کی تکنیکی جُڑت سے سالٹ رینج کے کاشتکار گھرانوں اور ان سے پیوستہ دستکار پیشوں کے ساتھ کامل قلمی انصاف کیا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب
قائداعظم یونیورسٹی
یادیں، باتیں، واقعات اور تاثرات

زاہد کاظمی صاحب نے سنگی پبلشرز کے تحت نہایت محبت سے شایع کی ہے۔ اگرچہ ”شہر آشوب“ کے بعد ”شہریاراں“ کا خطاب بھی کافی جچتا! مگر۔

کتاب کا انتساب (تنویر ملک صاحب کی نصف بہتر ین) ڈاکٹر جمیلہ صاحبہ کے نام دیکھنا بھی کافی خوش کُن ہے۔ بیسویں صدی کے برطانوی زرعی پنجاب ( متحدہ) میں یورپ میں چھڑی دو پرائی جنگوں کا خمیازہ کاشتکار پنجابی نوجوانوں اور جوانوں کو بھگتنا پڑا۔ بڑی تعداد میں دور دیس گئے مردوں کی غیرحاضری خواتین کے لئے پیہم محنت اور استقامت کے نئے در وا کرتی گئی۔ فوجی بھرتی سے متاثرہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم اور ویمن امپاورمنٹ کی نئی نئی جہتیں دریافت ہوتی گئیں اور یوں اگلے تین چار عشروں میں سالٹ رینج کی عورت خاندان کی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ تھی۔ اگرچہ وویمن ڈیویلپمنٹ کی اصطلاحیں کافی عرصے تک نامانوس ہی رہیں!

ملک صاحب اور ڈاکٹر جمیلہ اسی پنجابی کاشتکار معاشرے کی دوسری نمائندہ نسل ہیں اعلی تعلیم یافتہ مگر اپنی ثقافتی جڑوں سے مضبوطی سے جُڑے ہوئے لوگ، محنتی اور مستحکم پاکستان کے لئے مستقل محنت کے نظریے پہ کاربند!

اس پس منظر میں اسی کی دہائی کے اولین برسوں میں جامعہ قائد اعظم اور پیپلز اوپن یونیورسٹی کی بنیادیں رکھی گئیں۔ جس کا سارا کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم کو ہی جاتا ہے آکسفورڈ کے گریجویٹ بھٹو خاندانی جاگیردار ہونے کے باوجود بارانی علاقے کی عوام کو ترقی کے بنیادی زینے تعلیم سے روشناس کروا رہے تھے۔

نئی جامعہ جو کہ ملک کے لئے وفاقی اکائی کی حیثیت رکھتی تھی۔ ملک بھر کے نوجوانوں اور آئندہ کئی عشروں کی سول سروس کا مستقبل ٹھہری۔ علم کی شمع روشن ہوتے دیکھ چاروں صوبوں سے کم خواص اور زیادہ عام نوجوان قائد اعظم یونیورسٹی کا حصہ بنے۔

ضیائی دور میں جمہوری ایکٹوزم اور اسٹوڈنٹ یونین کے سرگرم طلباء کی بدولت ایک عرصہ تک اس جامعہ کو ”کلوز اور دوسری کو اوپن“ کہا جاتا رہا مگر رہے نام اللہ کہ توقع کے عین مطابق یہ جامعہ ہر دور میں تعلیم و تحقیق میں پیش پیش رہی!

تنویر ملک نے اپنی حالیہ تصنیف میں مارگلہ کی پہاڑیوں اور اطراف میں بہتی ندیوں کے قُرب میں قائم جامعہ کے قدرتی حُسن، طلباء و تعلیم، ہاسٹلز، کیفے ٹیریاز، کھانے کے ڈھابوں، نیلی بسوں، پیریفری اور اسٹوڈنٹ یونین اور کونسلوں کا احوال اپنی قابل رشک یادداشت، روایتی بذلہ سنجی اور نیک نیتی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جو کسی ادارے کی ذاتی مگر حقیقی یادوں پہ مبنی ہے۔ اگرچہ اُس وقت کے زیر تعلیم طلباء و طالبات کی تعداد محدود تھی مگر ایک متنوع پاکستان کی نظریاتی ساخت، مخصوص ثقافتی شعور اور تعلم و تعلیم کے انفرادی اہداف کی واضح تصویر نظر آتی ہے۔

تنویر ملک کا اسلوب اے حمید کی یاد دلاتا ہے جو امرتسر کی سرد صبحوں کا احوال ایسے لکھتے ہیں کہ جسے پڑھتے ہوئے قاری مشرقی پنجاب کی میدانی یخ صبح میں ”گرم فرد“ کی حدت اور سماوار سے اُٹھتی کشمیری چائے کی مہک بالکل اسی طرح محسوس کرتا ہے۔ جس طرح تنویر ملک مجید کے ہٹس کے کھانے کا ذائقہ اور ہاسٹل فور کے کیفے ٹیریا کا چکن روسٹ!

کتاب کے دس ابواب قاری کو جامعہ کے تقریباً ہر شعبے اور قابل ذکر ہستی سے یوں ملواتے ہیں گویا
’ہم بھی وہیں موجود تھے‘

لکھنے والے نے یوں لکھا کہ ہر صفحہ اُن کی ادارے سے جذباتی جُڑت اور اونر شپ کی غمازی کرتا ہے۔ یوں اپنے اور ہم جیسے کئیوں کی ”زی جنریشن“ ہونے کا ثبوت بھی فراہم کر دیا۔

ہمیں مقدور ہو تو اس سُرعت سے رنگ بدلتے سماج میں ایسی تحریریں اپنائی جائیں جو قدیم زمینوں اور جدید زمانوں کی اصلی رفاقتوں سے دوبارہ آشنائی دیں، جو کارپوریٹ سماج کی عطا کردہ لامکانی اور بے یقینی کے انبوہ گراں بار سے نجات دلائیں۔ اور اگر آپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں تو ذرا یہ کتاب پڑھ کے دیکھیے!

Facebook Comments HS