باجوے تو جماعتیا ہے اور مرزے تو سرخا


اوروں کا تو علم نہیں لیکن میرے لیے نماز کے بعد مانگی جانے والی دعائیں ایک طے کردہ رٹا گیا تواتر ہیں جن میں سے کچھ منفی کرنا ہو تو کئی ماہ لگ جاتے ہیں اور کوئی اضافہ کرنا ہو تو اسے بھی زبان پہ چڑھتے دن یا ہفتے صرف ہوتے ہیں۔ شاید اللہ کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ وہ ریکارڈنگ ہی سن لے اس لیے روز ایک سی دعائیں بڑبڑانا پڑتی ہیں۔

اب اس کو ہی لو کہ یا اللہ فلاں کو فلاں کو فلاں اور فلاں کو صحت دے، ان میں سے بہن نسرین چلی گئی مگر دعا جاری رہی۔ یہی کچھ دوست اور ہم جماعت سعید باجوہ سے متعلق ہو رہا ہے جسے گزرے تو ہفتہ ہوا ہو گا مگر دعا میں قریب آٹھ برس سے شامل رہا۔

اگرچہ میں اکثر کسی ہم جماعت کی رحلت کے ایک دو روز میں تعزیتی مضمون لکھ دیتا ہوں لیکن سعید زندگی سے اس قدر بھرپور تھا کہ باوجود اس بار رحلت سے پہلے چند روز کوما سے بہت پہلے قریب آٹھ سال قبل ایک طبی حادثہ کے نتیجہ میں کئی ماہ وینٹی لیٹر پر اور اس سے بھی زیادہ دیر تک کوما میں رہنے کے بعد بہت حد تک صحت یاب ہو کر اگرچہ اسے آکسیجن لینے کی ضرورت ہمیشہ رہی، وہ پھر سے وٹس ایپ پر اور فون پر بھی اسی طرح فعال اور زندہ باش ہو گیا تھا کہ اسے زندگی سے گیا، سمجھنا آسان نہیں۔

اسے مولانا مودودی، جماعت اسلامی، عمران خان اور تحریک انصاف اسی طرح مرغوب تھے جیسے اسے اعصابی جراحی کا اپنا پیشہ اور سٹاک ایکسچینج سے دولت بنانا۔ ستر سے اوپر کا ہو کر مودودی صاحب اور جماعت کا مخلص ہونا تو درست مگر اسی شد و مد کے ساتھ تحریک انصاف کے جوان کارکنوں کا سا رویہ مجھے جھنجھلا دیتا۔ وہ مجھے نواز شریف، زرداری، بلاول سے متعلق رکیک پوسٹیں بھیجتا گرچہ میں نہ لیگی نہ پپلیا مگر مجھے غصہ آتا، جس کا اظہار کرتا تو کبھی وہ تمسخر والا ای موجی لگا کے مزید چڑاتا تو کبھی معذرت کر لیتا۔

سعید جی سی لاہور سے میرا ہم جماعت، سیکشن فیلو اور ہوسٹل فیلو تھا لیکن ہمارا مشترکہ محور شمعون سلیم تھا جو کلاس فیلو تو تھا لیکن سیکشن فیلو نہیں، ڈے سکالر تھا اور جماعتیا ( جماعت جمعیت بارے مجھے تب ہبہ بھر علم نہیں تھا ) ۔ شمعون سعید کے ساتھ کبھی ہوسٹل آتا تو مجھے اچھا لگتا ویسے ہی جیسے اس عمر میں لڑکوں کو لڑکے لگتے ہیں۔ کیا پتہ تھا کہ شمعون کی موت سے پہلے کی تمام تفصیلات باجوہ ہی دے کے پھر خود چلا جائے گا۔

پھر نشتر میڈیکل کالج ملتان میں ہم تینوں اکٹھے ہو گئے۔ میں اور سعید قاسم ہال کے باسی تھے اور شمعون کسی اور ہال کا۔ دوسرے سال میں وہ بھی قاسم ہال میں آ گیا۔ تب معلوم ہو چکا تھا کہ نشتر میں جمعیت ہے اور این ایس ایف بھی۔ میں کسی میں نہ تھا، شمعون سنا تھا کہ مسجد میں قرآن کے درس دیتا تھا۔

میں نے ایک اور ہم جماعت چوہدری ریاض عرف راجو کے ساتھ مل کے راجو گروپ بنایا۔ سیکنڈ ایر سے کالج یونین کا جوائنٹ سیکرٹری ہوتا تھا تو جناب دونوں طالبعلمی سیاسی تنظیموں کی نفی کی غرض سے ہم نے جمعیت سے اتفاق کر کے اوکاڑہ سے اپنے ہم جماعت اکرم رانا کو امیدوار کھڑا کیا۔ اس انتخابی عمل کے دوران میں اور شمعون نزدیک آئے۔

قصہ مختصر جب کچھ عرصہ بعد میں نے نشتر میں بس یونہی نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد ڈالی تو شمعون کو جمعیت سے گھسیٹ کے بائیں بازو کی جانب لے گیا لیکن شمعون باجوہ کا گہرا دوست رہا اور کچھ عرصہ روم میٹ بھی۔

سعید مجھے سرخا کہتا میں اسے جماعتیا لیکن ہم بہت اچھے دوست رہے۔ شمعون ہم دونوں کو وقت دیتا۔ باجوہ کے ساتھ فلم دیکھنے جاتا اور مجھ سے مل کے سیاسی میٹنگز میں۔

پھر زندگی ادھر ادھر لے گئی۔ ایک عرصہ بعد جب میں روس سے امریکا گیا تو باجوہ کا مہمان ہوا۔ ایسے کہ پہلے اس کے شہر بمنگھٹن سے گزر کر دور کے شہر اولیان میں جمعیت کے ہی منیر سلیمی کے ہاں مہمان اور جمعیت کے ہی ظہیر بابر سے ملنے (ان زمانوں میں نظریات دوستی کے آڑے نہ آتے تھے) کے بعد واپسی پر، جہاں سعید اپنی یہ بڑی جیپ لیے واقعی بانہیں کھولے میرا بس سے باہر نکلنے کا منتظر کھڑا تھا۔

گھٹ کے جپھیاں پا کے سب سے پہلے وہ مجھے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں لے گیا اور کچھ کپڑے یہ کہہ کے خرید کے دیے کہ لوگوں کو پتہ تو چلے کہ منڈا امریکوں آیا اے۔ پھر اپنے مجہز دفتر لے گیا۔ بات 1999 کی ہے تب تک گاڑیوں میں فون سنائی دینے کے آلات روس میں نہیں لگے تھے، یہ آلہ مجھے پہلی بار تب معلوم ہوا تھا جب جیپ چلاتے باجوہ کو دفتر سے فون آیا اور اس نے دونوں ہاتھوں سے سٹیرنگ تھامے جواب دیا تھا۔

پھر باجوہ اپنے دفتر لے گیا۔ یہ سب تفصیل میری آنے والی کتاب ”مثل برگ آوارہ“ میں ہے۔ جب دفتر سے گھر جانے لگے تو میں نے باجوہ کو ضیق کر دیا کہ بیئر پلا۔ وہ منع کرتا رہا لیکن میں مزہ لے رہا تھا۔ مرزے تو نے کبھی ٹھیک نہیں ہونا کہہ کے شریف انسان میرے لیے گاڑی سے اتر کے لے ہی آیا تھا۔

کئی ایکڑوں کی ملکیت جنگل کے بیچ اس کا شاندار گھر، ہماری بہت ہی اچھی بھابی اور تابع فرمان بچے۔ وہ ایک دن اور رات جو باجوہ کے ہاں گزارا ناقابل فراموش ہے۔

دسمبر 2016 میں باجوہ پاکستان آیا ہوا تھا، لاہور میں ملاقات ہوئی تو میں نے کہا یار باجوہ میں نے امریکا میں تجھ سے پانچ سو ڈالر منگوائے تھے، جب ہوں گے تو لوٹا دوں گا۔ حیران ہوا اور مسکرا کے کہا کہ مجھے تو یاد ہی نہیں۔ چلو پھر نہیں دیتا، میں نے کہا تو باجوہ نے مخصوص قہقہہ لگا دیا۔

اب وہ نہیں ہے لیکن اس کے لیے دعائے صحت کو دعائے مغفرت میں بدلنا دشوار ہو رہا ہے

Facebook Comments HS