التوا میں پڑے خواب

جب سفاک نوآبادکار یورپی سوداگروں نے افریقیوں کو غلام بنانے کا پہلا پراگا تیار کیا تھا اور اُنہیں زنجیروں سے باندھ جکڑ کر 1619 ء میں حیوانوں کی طرح امریکہ لایا گیا تھا تو یہیں سے وہ زمانہ بھی آغاز پاتا ہے جب امریکہ کے اصل باسیوں / ریڈ انڈینز کو ٹھکانے لگایا جا رہا تھا۔ تب ڈھٹائی سے ایسے قوانین بنوا لیے گئے تھے کہ غلاموں کی خرید و فروخت جائز ہو گئی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ 1777 ء میں امریکیوں نے کہنے کو جمہوری آئین بنا لیا تھا جس میں سب انسانوں کے بنیادی حقوق برابر تھے مگر اس آئین میں افریقیوں کی غلامی برقرار رہی گویا وہ انسان ہی نہ تھے یہی سبب رہا ہو گا کہ 1793 ء میں قانون بنا کہ کسی غلام کو فرار ہونے میں مدد دینا قبیح جرم ہو گا۔
اگرچہ 1861 ء میں کہیں جاکر غلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا مگر اس نخوت اور رعونت کو شاید یورپی ذہن سے کھرچ کر مکمل طور پر الگ کر دینا ممکن نہ رہا تھا جو اپنا کام کرتی رہی ہے اور نسلی امتیاز کے مظاہرے اب تک دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں امریکہ کے دور غلامی میں سامنے آنے والی شاعری کو پڑھنا بہت اہم ہو جاتا ہے۔ اس کا اردو ترجمے کے ذریعے انصرام ہمارے عہد کے بہت اہم اور عمدہ شاعر غضنفر ہاشمی نے کیا ہے اور ان تراجم کو مرتب کرتے ہوئے جس نظم سے کتاب کا نام اخذ کیا ہے وہ لینگسٹن ہیوز کی ہے۔ یہ نظم یہاں مقتبس کر رہا ہوں :
ذرا سوچیں وہ خواب کیسا ہوتا ہے
جسے التوا میں ڈال دیا گیا ہو
کیا یہ خشک ہوتا ہے
دھوپ میں رکھے انگور کے دانے کی طرح
یا کسی پرانے زخم کی طرح جو پھٹنے سے بہہ نکلے
کیا یہ سٹرے ہوئے گوشت کی طرح تعفن زدہ ہوتا ہے
یا پھر میٹھے شیرے کی طرح
شکر کی مہین تہہ بن جاتا ہے
ہو سکتا ہے یہ کسی بوجھ سے خمیدہ ہو جاتا ہو
یہ شکستہ صورت بھی ہو سکتا ہے
ذرا سوچیں وہ خواب کیسا ہوتا ہے
جسے التوا میں ڈال دیا گیا ہو۔
(التوا میں پڑا ہوا خواب/لینگسٹن ہیوز)
جیمز مرسر لینگسٹن ہیوز ( 1901۔ 1967 ) جو پلن، مسوری سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی شاعر اور فکشن نگار تھے۔ ہیوز نے کم عمری ہی میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔ نیویارک پہنچ کر انہوں نے بہ طور مصنف اپنا کیریئر بنایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ 1926 میں شائع ہوا تھا۔ ہیوز نے ایک سرکردہ سیاہ فام اخبار، شکاگو ڈیفینڈر میں ہفتہ وار کالم لکھے تھے۔
غضنفر ہاشمی کی کتاب میں ہیوز کے علاوہ امریکہ میں پہلی بار شائع ہونے والی خاتون فرانسس ایلن واٹکنز ہارپر، امریکی شاعرہ، کئی کتب کی مصنف اور معروف سماجی کارکن مایا انجیلو ( 1928۔ 2014 ) ، جس کے پہلے شعری مجموعے کا نام تھا: ”میں جانتی ہوں کہ پنجرے میں قید پرندہ کیوں گاتا ہے“ ، نیگرو بائیو گرافک اور ریسرچ سینٹر کی مدیر اور شاعرہ بیٹریس ایم مرفی کیمبل ( 1908۔ 1992 ) اور امریکی خانہ جنگی سے بھی پہلے کینٹکی میں غلام بنائے گئے والدین کے شاعر اور فکشن نگار بیٹے پال لارنس ڈنبر ( 1872۔ 1906 ) کی نظمیں ہیں وہیں نئی نسل کے لکھنے والوں مثلاً افریقی امریکیوں کی کمیونٹی کی سرگرم رکن، بصری فنون کی آرٹسٹ، مصنفہ اور شاعرہ مارگریٹ ٹیلر روروز ( 1915۔ 2010 ) ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں انگریزی کی پروفیسر، امریکی شاعرہ اور افسانہ نگار ہیریٹ مولن (پ: 1953 ) اور نئی نسل میں مقبول ایک امریکی شاعر ڈیوین اورٹیز جیسے شاعروں کا کلام بھی شامل ہے جنہوں نے شناخت اور امریکہ میں سیاہ فام ہونے کے تجربات کو موضوع بنایا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ”التوا میں پڑے خواب“ اُردو دُنیا کے لیے کسی قیمتی تحفے سے کم نہیں ہے۔ امریکی عہد غلامی کی شاعری کے اس انتخاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شاعر اپنی نظم میں جوان لڑکیوں کی نیلامی پر دل گرفتہ ہے تو دوسری نظم میں ایسی زمین میں دفن ہونے کی تمنا کر رہا ہے جس پر غلاموں کے قدم نہ پڑے ہوں۔ کہیں کوئی شاعرہ پورے وجود کے ساتھ کھڑی ہو کر ڈھول پیٹ رہی ہوتی ہے کہ جب سب برابر ہوں گے تب وہ آزاد ہوگی اور کہیں کوئی لکھنے والا ایک اور دنیا کا خواب دیکھتا ہے ؛ ایسی دنیا کا خواب جہاں انسان کسی دوسرے انسان کی تحقیر نہیں کرے گا۔ حیف کہ انسانی تحقیر کا سلسلہ اب تک چلا آتا ہے۔ اس مابعد جدید عہد کے آتے آتے غلامی کی زنجیریں ورچوئل ہو گئی ہیں ؛ یہ کسی دھات کے آنکڑے کی محتاج نہیں مگر ایسے شکنجے میں جکڑتی ہیں جو نظر نہیں آتا۔ ایسے میں آزادی کے احساس کو بیدار رکھنے کے لیے ان نظموں کا مطالعہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ غضنفر ہاشمی چوں کہ خود بھی بہت عمدہ شاعر ہیں لہذا زبان کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ان نظموں کو ایسا رواں دواں اردو روپ دیا ہے کہ اردو تراجم پر تخلیق نو کا گماں گزرتا ہے۔

