ذہنی ختنے
نرس ایلف کمرے میں ہانپتے ہوئے داخل ہوئی تو ڈاکٹر جاوید کرسی پر بیٹھے کسی فائل پر غور و فکر کرنے میں مصروف تھے۔
ڈاکٹر جاوید کا چشمہ ان کی ناک پر چڑھا ہوا تھا، جب نرس ایلف کمرے میں داخل ہوئی تو ڈاکٹر جاوید نے نظریں اٹھا کر اسے بغور دیکھا۔
کیا بات ہے ایلف اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہوں؟
فائل پر نظریں ٹکائے ہوئے سوال کیا۔
ڈاکٹر صاحب ایک مریض بہت ایمرجنسی میں لایا گیا ہے، حالت کافی خراب معلوم ہوتی ہے آپ جلدی سے چل کر دیکھیں۔
ایلف نے سانس پر قابو پاتے ہوئے بمشکل کہا۔
”لگتا ہے صورتحال کافی نازک ہے“
ڈاکٹر جاوید چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کرسی سے اٹھے۔
ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کا رش لگا ہوا تھا، ہر طرف مرد ہی مرد تھے جنہیں رسیوں اور زنجیروں سے باندھ کر بٹھایا گیا تھا، کسی کے منہ کو کپڑے سے باندھا گیا تھا تو کسی کے منہ پر ٹیپ چسپاں تھی تاکہ یہ لوگ شور نا کریں اور بھاگ نا جائیں۔
بھلا ایک پختہ عمر کے بعد ”ختنے“ کرنا کون سا آسان ہوتا ہے۔
ڈاکٹر جاوید اسی مریض کی طرف بڑھے جس کا نرس ایلف بتا رہی تھی۔
مریض کو زنجیر سے باندھا ہوا تھا، اس کی بیوی، سسر اور دو سالوں نے بمشکل پکڑ رکھا تھا۔
ڈاکٹر جاوید فوری سمجھ گئے کہ مریض کو کس طرح کے ”ختنے“ کروانے کے لئے یہاں لایا گیا ہے۔
وہ دس سال سے ”ذہنی ختنے“ کر رہے تھے، اس طرح کے مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوتی، لیکن اس طرح کے لوگوں کو ”ختنے“ کروانے پر قائل کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے تو اس طرح کے مریضوں کو رسیوں یا زنجیروں سے باندھ کر ہی لایا جاتا تھا۔
ان کی یہ علامات کتنے عرصے سے ہیں؟
اور آپ کو کب یہ محسوس ہوا کہ آپ کے شوہر کو ”ختنوں“ کی ضرورت ہے؟
ڈاکٹر جاوید نے مریض کی آنکھوں کی رنگت چیک کرتے ہوئے ساتھ میں موجود لوگوں سے سوال کیا؟
مریض تقریباً کسی بپھرے شیر کی مانند ڈاکٹر جاوید پر لپکا لیکن مریض کے سالے آگے بڑھے اور اسے حملہ کرنے سے روکا۔
ڈاکٹر جاوید نے ایک زور دار مکا پیٹ میں مارا اور مریض اپنی جگہ پر گر گیا۔
اتنے برسوں میں وہ یہ جان گئے تھے کہ اس طرح کے مریضوں سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔
دوسرے مریض بھی یہ کارروائی دیکھ کر سہم سے گئے اور خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔
ہاں تو بی بی بتاؤ ذرا اس کی مزید علامات کیا ہیں اور کتنے عرصہ سے اس مسئلے کی تشخیص ہوئی اور آپ کو پتا چلا کہ آپ کے شوہر کو ”ذہنی ختنوں“ کی ضرورت ہے؟
”ڈاکٹر ساب بمشکل ہی ایک مہینہ صحیح گزرا ہو گا، پھر آہستہ آہستہ مجھے پتا چلا کہ میرے سسرال
والوں نے تو اس کے ”ذہنی ختنے“ کروائے ہی نہیں تھے۔ پہلے پہل تو صرف اونچی آواز میں بولتا تھا اور پھر اچانک سے طیش میں آ جاتا اور اونچی آواز میں گالیوں پر اتر آ تا۔ بات بات پر گالی دینے لگا، ذہنی تشدد سے جسمانی تشدد پر اتر آ یا۔ مار کٹائی کے علاوہ خرچہ دینے سے باغی ہوا اور اب میرے میکے والوں کو گالیاں دیتا ہے۔“
مریض کی بیوی ایک ہی سانس میں بولتی جا رہی تھی۔
ڈاکٹر صاحب میرے داماد کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے اس کے علاوہ وہ اور لڑکیوں سے بھی چکر چلاتا ہے۔ سارا دن فحش ویڈیوز دیکھتا رہتا ہے اور پھر انہیں دیکھ کر گالی بکتا ہے
” عورت ذات تو ہوتی ہی گھٹیا ہے“
ساتھ بیٹھی عورت نے بھی جلدی سے لقمہ دیا اور اپنے مریض کے حالات بیان کرنا شروع کر دیے۔
ڈاکٹر جاوید نے اس کے مریض کی طرف دیکھا جسے رسیوں سے باندھ کر لایا گیا تھا اور منہ پر ٹیپ چسپاں تھی۔ ڈاکٹر جاوید اس کے اپنی ساس کو گھورنے کے انداز سے اندازہ لگا چکے تھے کہ اسے بھی ”ذہنی ختنوں“ کی اشد ضرورت ہے۔
” ایلف مشینیں تیار کرواؤ“
ڈاکٹر جاوید نے پیچھے مڑتے ہوئے نرس ایلف سے کہا۔
جی ڈاکٹر ٹھیک ہے۔
ایلف نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا اور چلی گئی۔
ڈاکٹر جاوید اب تیسرے مریض کی طرف بڑھے، وہ غالباً نشے کا عادی تھا، پچھلے دو مریضوں کی کہانیاں سننے کے بعد وہ سمجھ گئے تھے یہ نکما شخص بھی کچھ کماتا نہیں ہو گا اور بچا کھچا بھی نشے اور جوئے میں اڑا دیتا ہو گا۔
بی بی! تم اس بیمار کو یہاں لے تو آئی ہو کیا یہ درد سہ پائے گا؟
ڈاکٹر جاوید نے فکر مندی سے اس کے ساتھ آئی خاتون سے سوال کیا۔
دیکھو بی بی یہ کوئی گوشت کا لوتھڑا کاٹ کر ایک طرف رکھنے کا کام نہیں ہے، پہلے مریض کو ہم الیکٹرک شاکس دیتے ہیں اور وہ بھی ایک دو سیشن کا کام نہیں ہوتا۔ کچھ مریضوں کے ختنے مکمل ہونے میں ایک سے دو ماہ بھی لگ سکتے ہیں، ہر مریض کی ذہنی سطح کے حساب سے فیصلہ کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جاوید اسے تفصیل سے سمجھا رہے تھے۔
عورت بغور ساری باتیں سن رہی تھی اور اپنے مریض کی طرف دیکھ رہی تھی۔
ڈاکٹر صاحب! بڑی طاقت ہے اس میں، یہ جھیل لے گا، میں عورت ذات صنف نازک ہو کر اس کی مار برداشت کر لیتی ہوں، نیلوں نیل جسم ہو جاتا ہے تو کیا یہ مرد ہو کر ذرا سے بجلی کے جھٹکے برداشت نہیں کر سکتا؟
عورت نے پلو منہ میں دباتے ہوئے جھنجھلاہٹ سے جواب دیا۔
ڈاکٹر جاوید عورت کے جواب سے مطمئن ہو گئے۔
ڈاکٹر صاحب ہمارے مریض کو بھی جلدی سے دیکھ لیجیے، بڑی مشکل سے اس کو یہاں لے کر آئے ہیں۔
ہماری بیٹی کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
ڈاکٹر جاوید نے مریض پر ایک نظر ڈالی، دیکھنے میں ہٹا کٹا نوجوان تھا۔
کیا یہ بھی انہی مریضوں کی طرح مارتا پیٹتا ہے؟
ڈاکٹر جاوید نے مریض کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کیا۔
نہیں ڈاکٹر صاحب یہ ہماری بیٹی کا شوہر نہیں ہے۔
عورت نے وضاحت پیش کی۔
تو پھر یہ کون ہے؟
ڈاکٹر جاوید حیرت سے عورت کی طرف دیکھ رہے تھے۔
یہ تو جیٹھ ہے، ہماری بیٹی کا جینا حرام کر رکھا ہے، الٹی سیدھی حرکتیں کرتا رہتا ہے اور اس کے شوہر کے کان بھی بھرتا رہتا ہے۔ ہماری بیٹی کو بدکردار ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
عورت نے نفرت بھری نگاہ ڈال کر بولا۔
اس کا مطلب ہوا کہ اگر اس کا شوہر اس کی باتوں میں آ جاتا ہے تو اسے بھی ”ذہنی ختنوں“ کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جاوید نے عورت سے کہا۔
جی جی جانتی ہوں اسے بھی ختنوں کی اشد ضرورت ہے۔
لیکن پہلے کلموہے کے ختنے کریں، عورت نے دوبارہ نفرت آمیز لہجے میں کہا۔
یہ کمبخت پتا نہیں کیوں اپنے بیٹوں کے ذہنی ختنے کیوں نہیں کرواتے؟ بیٹے مانگنے کا شوق ہے بس!
بھئی ان کی ذہنی پرورش بھی تو اچھے سے کرو نا! ان کی ذہنی گندگی بھی تو دور کرو۔ کیا ہم لڑکی والے یہ سب بھی کرتے پھریں؟
عورت مسلسل بولے جا رہی تھی۔
جی کہہ تو آپ ٹھیک ہی رہی ہیں، یہاں بیٹے مانگنے کا چلن ہے لیکن ان کی ذہنی تربیت کا رواج نہیں ہے۔
ڈاکٹر جاوید نے لقمہ دیتے ہوئے کہا۔
نرس ایلف کمرے میں داخل ہوئی۔
ڈاکٹر صاحب مشینیں تیار ہیں۔
ٹھیک ہے پھر اور ہاں ساتھ میں پہلوان سرگم کو بھی بلا لو۔ یہاں پر کچھ لوگوں کو علاج کے دوسرے مرحلے کی بھی ضرورت ہے ان کے لیے شاکس کا عمل نا کافی ہو گا۔
ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب۔ ایلف ہدایات سن کر باہر جا چکی تھی۔


