غزل گوئی میں منفرد لب و لہجہ کا شاعر شکیب جلالی
اردو ادب میں جس شاعر کی خودکشی کے واقعہ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ شکیب جلالی تھے۔ ان کا اصل نام سید حسن رضوی تھا لیکن شکیب جلالی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ 1934 کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک شاعر اور مترجم بھی تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز محض 15 یا 16 برس کی عمر میں کیا۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ”روشنی اے روشنی“ ان کی وفات کے چھ برس بعد 1972 ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ اور 2004 ء میں لاہور ہی سے ان کا کلیات ”کلیات شکیب جلالی“ کے نام سے شائع ہوا۔ جس میں 223 غزلیں شامل ہیں۔
ثروت حسین کی طرح آپ کا شمار بھی ادب کے ان شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لی۔ ان کی خودکشی کی وجہ یہی تھی کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی ماں ٹرین حادثہ کا شکار ہو گئیں جس کے الزام میں ان کے والد کو جیل میں ڈال دیا گیا اور وہاں سے انھیں پاگل قرار دے کر پاگل خانے بھیج دیا گیا۔ یہی وجہ ان کی خودکشی کا سبب بنی۔ 1966 ء کو شکیب جلالی نے خودکشی کرلی۔ اور اس کی زندگی کا ٹمٹماتا ہوا چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔ اور یہ شرف بھی سرگودھا کے حصے میں آیا کہ وفات کے بعد شکیب جلالی کو سرگودھا میں ہی دفن کیا گیا۔ اس حوالے سے افضل منہاس لکھتے ہیں :
آج سرگودھا کی مٹی کتنی افضل ہو گئی
اس کے دامن میں شکیب ایسا سخن ور سو گیا
چند غزل گو شعرا جنہوں نے اپنے لہجے اور فکری رویوں سے تازگی اور سلیقہ کا ثبوت فراہم کیا ان کی تعداد بہت کم ہے۔ شکیب جلالی کا شمار ایسے ہی شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی ابتدائی غزلیں ہی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتی ہیں۔ ان کی شاعری کا ایک مختصر مجموعہ ”روشنی اے روشنی“ کے نام سے شائع ہوا۔ جس میں کل ستر غزلیں شامل ہیں لیکن اس اختصار کے باوجود انھیں بہت سے زیادہ لکھنے والے شاعروں پر فوقیت حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کی بنیاد اس مختلف اسلوب پر رکھی جو انھوں نے اپنی ذات کے رنگوں سے ترتیب دیا۔ اور انھیں خود بھی اس کا احساس تھا۔
شکیب جلالی اردو غزل کے آسمان پر چمکتا ہوا وہ ستارہ ہے جس نے نہ صرف اردو غزل کو اپنے اکتسابات سے ثروت مند کیا بلکہ اپنے منفرد اسلوب اور طرز بیان سے اردو غزل میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے کہ آپ کا شمار اردو ادب کے بڑے بڑے شعرا میں ہونے لگا۔ اگر وہ اپنے بچپن میں اپنی والدہ کے ٹرین حادثہ کو نہ دیکھتے تو شاید جدید رجحانات کے حامل یہ شاعر غزل کو مزید مالا مال کرتے۔ انھوں نے اپنے شعروں میں زندگی کے داخلی اور خارجی مسائل کو اس طرح برتا کہ آپ اردو غزل کے افق کا ایسا تابندہ ستارہ بن گئے، جس کی چمک دمک رہ رہ لوگوں کو اپنی طرح کھینچتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل اپنے منفرد اسلوب اور ندرت بیان کے باعث ایک الگ ذائقے اور خوشبو کی حامل ہے۔ اگرچہ ان کی ہنرمندی اردو غزل کے اسلوب میں توسیع و ترقی کے وسیع امکانات رکھتی تھی لیکن ان کی محض 32 سال کی عمر میں وفات کے باعث یہ امکانات پورے طور پر سامنے نہ آ سکے تاہم جتنا انھوں نے لکھا وہ اپنے معیار اور قدرو قیمت کے لحاظ سے نہایت قابل توجہ ہے۔
احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں :
”جب بھی کوئی پوچھتا ہے کہ گزشتہ دس بارہ سال کے اندر کون سا ایسا شاعر ابھرا ہے جس نے صحیح معنوں میں بھر پور غزل کہی ہو تو بغیر کسی تکلف کے میں شکیب جلالی کا نام لیتا ہوں۔“
اردو غزل جو بنیادی طور پر ایک طویل مسافت طے کر چکی تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اردو غزل دم توڑ رہی ہے۔ اس کا سانس پھول چکا ہے اب یہ نہیں چل سکے گی اس پر جمود طاری ہو گیا ہے۔ اگرچہ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ کسی بھی چیز میں یکسانیت ایک لمبے عرصہ تک قائم رہے تو یا تو اس پر جمود طاری ہو جاتا ہے یا پھر اس میں ارتقائی عمل رک جاتا ہے۔ یہی اردو غزل کے ساتھ ہوا۔ غزل کے لیے یہ دور اضطراب، کشمکش اور بے چینی کا دور تھا۔ مسلسل ارتقائی عمل کے بعد بلندی سے پستی کی جانب یہ سفر غزل کی صدیوں پرانی تاریخ کا بہت بڑا المیہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شکیب جلالی کی غزل روایت سے ہٹ کر جدیدیت کی شاہراہ پر بڑی آن بان سے سفر کرنے لگی۔
احمد ندیم قاسمی شکیب جلالی کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”آزادی کے بعد بعض ترقی پسند شعرا نے دم توڑتی ہوئی اردو غزل میں جو نئی روح پھونکی تھی۔ اس نے وہ نئے غزل گو شعرا پیدا کیے جن کی شاعری کو غزل کی نشاۃ الثانیہ قرار دیا گیا مگر پھر نہ جانے کیا ہوا ان میں سے بیشتر شعرا نے کسی نہ کسی کلاسیکل غزل گو کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس کے رنگ میں کہنے اور سوچنے لگے اگر اس دور میں شکیب جیسا شاعر پیدا نہ ہوتا تو عین ممکن تھا کہ اردو غزل ایک دم دو سو سال پیچھے چلی جاتی۔“
جون ایلیا، شہزاد احمد، ناصر کاظمی اور ظفر اقبال جیسے شعرا کے ہوتے کسی نوجوان کا یوں غزل کے میدان میں نام پیدا کرنا انتہائی جان جوکھوں کا کام تھا مگر یہ کام شکیب جلالی نے کیا اس نے اردو غزل میں وہ کار ہائے نمایاں انجام دیے کہ سب ورطہ حیرت میں پڑ گئے۔ اور احمد ندیم قاسمی کو اس طرح کا بیان دینا پڑا کہ شکیب اگر اردو غزل نہ کہتا تو عین ممکن تھا کہ اردو غزل دو سو سال پیچھے چلی جاتی۔
فصیل جسم پر تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
در اصل شکیب جلالی نے نہ صرف روایت سے ہٹ کر غزل کے دامن کو کشادہ کیا بلکہ کئی ایسے الفاظ کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا جو آج تک کسی نے نہ کہے تھے۔ ان الفاظ میں اوس، چٹان، بیل، بطخ، گھاٹی، انگیٹھی، گلدان، روشندان، گھاس، پرندہ اور ایسے ہی بہت سے لفظیات کو اس طور غزل میں لے کر آئے کہ اس سے رنگ تغزل بھی مجروح نہیں ہوا اور نہ ہی غزل میں اجنبیت نام کی کوئی چیز پیدا ہوئی اور معنوی اعتبار سے بھی کلام بلند مرتبہ ہوا ہے۔
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
مرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
میں خاک داں سے نکل کر بھی کیا ہوا آزاد
ہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھیرا تھا
ان کے ہاں موضوعات میں تنوع پایا جاتا ہے وہ لوگوں کے دکھ درد اور مسائل کی بات بھی کرتے ہیں تو ان کے ہاں آفاقی نوعیت کے موضوعات ملتے ہیں۔ ان کے ہاں جمالیاتی عناصر بھی ملتے ہیں مگر بڑے اعلی اور ارفع مقام پر سستے بازاری قسم کے رومانوی اشعار نہیں ملتے انھوں نے رومانوی اشعار بھی کہے ہیں مگر ان کی سطحی جذباتی کیفیات کا اظہار نہیں ملتا بلکہ اعلی جمالیاتی تجربے کا اظہار بن کر سامنے آتے ہیں۔
اقبال منہاس شکیب جلالی کی غزل پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”جہاں تک غزل کے روایتی فنی لوازمات کا تعلق ہے شکیب کے ہاں ایسے کسی بھی انحراف یا بغاوت کی مثال نہیں ملتی۔ شکیب کے ہاں نہ تو لگے بندھے موضوعات کی تکرار ہے اور نہ ہی لب و رخسار، زلف عنبریں کا کل گیسوئے سیاہ اور گل و بلبل کی بھر مار۔ شکیب جلالی کے ہاں ان سب چیزوں کی تلاش سعی لاحاصل کے مترادف ہے۔ روایتی غزل کے پرستاروں کے لیے میرے پاس وہی جواب ہے جو نامور مفکر جبران نے اپنی اولین کتاب کی اشاعت کے وقت اپنے معترضین کو دیا تھا۔“
شکیب جلالی نے اردو غزل کو نئی ڈکشن عطا کی۔ وہ ایسی ایسی لفظیات اردو غزل میں لے کر آئے جس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ الفاظ غزل میں سما سکیں گے۔ لیکن شکیب جلالی نے کمال ہنر مندی سے ان الفاظ کو نہ صرف غزل میں برتا بلکہ اس طور برتا کہ آنے والا ہر شاعر اس کی پیروی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ان الفاظ کے آنے سے غزل کے وقار میں اضافہ ہوا۔
شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
شکیب جلالی کو امیجز کا شاعر بھی کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس نے اپنے اشعار میں مکمل طور پر امیجز تراشے ہیں۔ شکیب جلالی کا کوئی عام سا شعر بھی اٹھا کر دیکھا جائے تو اس میں بھی پیکر تراشی اپنے پورے جوبن پر نظر آئے گی۔
وہ اپنے اشعار میں علامت اور تصویر کشی کی طرف بھر پور توجہ دیتے تھے۔ قاری کے سامنے بنا بنایا پیکر لے آتے۔ ناصر کاظمی کی طرح شکیب جلالی نے بھی حسی تجربات کا ایک الگ جہاں آباد کیا ہے۔ جہاں انھیں خاموشی سنائی دیتی ہے۔ تنہائی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ بدن کی پکار سنائی دیتی ہے۔ خموشی کے انگلیاں چٹخانے کی آواز آتی ہے۔ تو کہیں سناٹا کہرام میں تبدیل ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ کہیں آواز کا پھیلا ہوا غبار ہے۔ یہ تمام چیزیں حسی تجربات کی انفرادیت قائم کرتی ہیں۔ اس طرح شکیب کے یہاں سمعی پیکر، بصری پیکر اور مخلوط پیکر تراشی نظر آتی ہے۔
اس حوالے سے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں :
”ایسے پیکروں کے وہ بادشاہ ہیں، جو آنکھ اور سامعہ کو متاثر کریں۔ کبھی یہ پیکر دونوں حسوں کو بیک وقت بھی متاثر اور محرک کرتے ہیں۔ “
چھپ چھپ کے صدا جھانکتی ہے خلوت گل سے
مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی
میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے
وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا
علامتیں شکیب کی غزل کی آبرو ہیں۔ جہاں تک اردو غزل میں علامتوں کے استعمال کی روایت کا تعلق ہے شکیب نے اس سلسلہ میں سب سے زیادہ دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ شکیب کی علامتیں الفاظ کے حقیقی مفہوم اور ان کے تاثر کو مجروح نہیں کرتیں بلکہ قاری کے ذہن میں موجود کسی خاکے کے نقش و نگار کو اور بھی واضح کر دیتی ہیں۔ نئی نسل کے شعرا جنسی جذبے کے اظہار کے لیے علامتوں کا جو مضحکہ خیز اظہار کر رہے تھے شکیب نے اس کے خلاف بھر پور احتجاج کیا اور اپنے اشعار میں یہ ثابت کر دیا کہ غزل میں علامتوں کا صحت مند استعمال سوچ کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمد ہمدانی نے شکیب کو علامتی شاعری کا بانی کہا ہے۔
شکیب کی اسی منفرد خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے ”فنون“ میں لکھا تھا :
” شکیب کا سب سے موثر ہتھیار اس کے سمبل ہیں۔ یہ روایتی سمبل نہیں ہیں اور نہ ہی جدید تر سمبل ہیں۔ جن کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شاعر نے ہاتھی کے لیے کھڑکی کا سمبل پیش کیا اور وجہ یہ بتائی تھی کہ ہاتھی کے بڑے بڑے کان مجھے ہمیشہ کھڑکی کے پٹ معلوم ہوتے ہیں۔“
شکیب جلالی کی علامت کے حوالے سے اقبال منہاس لکھتے ہیں :
”اگر چہ شکیب کے ہاں علامتوں کی بہتات ہے لیکن اس کے اشعار میں دو علامتیں بار بار ابھرتی ہیں۔ یہ علامتیں“ صحرا ”اور“ پانی ”سے عبارت ہیں۔ صحرا کی علامت شکیب کی شاعری میں موجود مادی دور کی پیدا کردہ گھٹن اور فرد کی بے بسی کے اظہار کے طور پر ابھرتی ہے اور پانی کی علامت تو ذوق صحرا میں زندگی کی تلاش کی علامت بن جاتی ہے۔ ان علامتوں میں نہ صرف شاعر کا ذاتی احساس تنہائی سمٹا ہوا نظر آتا ہے بلکہ ان کے پس منظر میں آج کے ہر باشعور فرد کو اپنا وجود جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔“
یادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھ
صحرا میں لوگ آئے ہیں دیوار و در کے ساتھ
شکیب جلالی کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ انھوں نے غزل میں نئی تراکیب، استعارے، اور نئی ڈکشن کا بھی بھر پور استعمال کیا۔ ان کے اسلوب نے کئی نئے لکھنے والوں سمیت سینیئر شعرا کو بھی متاثر کیا اور انھوں نے شکیب جلالی کے رنگ میں غزلیں کہنی شروع کر دیں۔ دراصل شکیب جلالی نے غزل میں اس قدر غنائیت اور اسلوب پر توجہ دی حتی کہ اس نے محبوب کے تصور کو بھی بدلا ہے۔
اس حوالے سے خالد اقبال یاسر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا:
”اردو شاعری کے مزاج میں شکیب جلالی سب سے بڑی تبدیلی لے کر آیا ہے۔ اس نے محبوب کے تصور کو ہی بدل دیا ہے۔ اس کے اسلوب سے بھی بہت سے شعرا متاثر ہوئے۔ جن میں عدیم ہاشمی، خالد احمد، نجیب احمد، افضل مہناس اور نصرت چوہدری وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں کچھ نے اپنی الگ پہچان بھی بنالی ہے۔ “
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جدید شعرا نے تشبیہات سے گریز کیا ہے۔ کیونکہ تشبیہ سے معنی میں گہرائی پیدا نہیں ہوتی لیکن شکیب کے اشعار پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ شکیب کے ہاں یہ تشبیہ نہ صرف شعر کے حسن کو نکھارتی ہے۔ بلکہ اس کے معنی میں بھی وسعت پیدا کرتی ہے۔ یہ کمال شاید شکیب کے ہم عصروں کو نصیب نہیں ہے۔
کسی کا جسم اگر چھو لیا خیال میں بھی
تو پور پور میری مثل شمع جلنے لگی
شکیب عام طور پر اپنی شاعری میں فطرت سے ہم کلام ہوتے نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انھیں لوگوں کی طرف سے ملنے والی مصیبتوں اور دکھوں کا سامنا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فطرت سے کافی مانوس دکھائی دیتے ہیں۔ فطرت کے بیان میں اور اس ہم کلام ہوتے انھوں نے اپنے کلام میں کافی ندرت پیدا کی۔
وہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندنی کا کنول
وہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کا ٹکڑا تھا
اپنی مختصر زندگی کے باوجود بھی شکیب جلالی نے اپنی شاعری میں تقریباً ہر حقیقی موضوع کو جگہ دی۔ اداسی، مایوسی محرومی اور تنہائی کو خاص موضوع بنایا۔ اور غزل کے مشہور اہم موضوع عشق سے بھی انھوں نے انصاف کیا۔ جس میں ہجر و وصال اور محبوب کی تعریف کو جگہ دی۔ اور سب سے زیادہ چمکدار نکتہ ان کی شاعری کا فطرت کا بیان ہے۔ وطن سے دوری بھی کھلتی ہے۔ اپنوں سے بچھڑنے کا غم بھی ان کے یہاں موجود ہے۔ فلسفیانہ انداز بھی پایا جاتا ہے۔ خودداری، انا پرستی اور اکھڑ پن کی بھی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ اس طرح مختصر عمر میں ہر موضوع کو اپنے کلام میں سمانے کی ان کی کوشش کامیاب رہی۔ اگر یہ اور کچھ سال زندہ رہتے تو ضرور جدیدیت کا قافلہ سالار ہوتا۔


