” التباس“ سے التذاذ
التباس عربی لفظ ہے جس سے مراد ایک جیسی کیفیت کے سبب شبہے میں پڑ جانے کے ہیں۔
”التباس“ معروف شاعر شناور اسحاق کا پہلا شعری مجموعہ ہے، جن سے گجراں والا فخر نسبت رکھتا ہے۔
رنگین سرورق پر ”التباس“ نظام شمسی کے پس منظر میں نمایاں اور پس منظر میں کئی مرتبہ مدہم لکھا آتا ہے۔
فلیپ پر ”یہ 1982 ء کی بات ہے“ کے عنوان سے شاعر نے اپنے دور طالب علمی کی مختصر جھلک دکھائی ہے۔ انھوں نے پرائمری کے بعد دینی مدرسے میں داخلے کے لیے والد کے ساتھ پہنچنے پر ، والد کے پیش امام ہونے کے باوجود ان کی مدرسے کے ماحول سے مایوسی اور سکول میں داخلے کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ بچپن ہی سے والد کی بدولت کتب بینی کا شوق پروان چڑھا، سن انیس سو اکانوے میں شاعری کے آغاز سے ماجد الباقری کی رہ نمائی اور تعلق کا ذکر کرتے ہوئے، غلام محمد قاصر کے شعر کے حوالے سے، وہ شعر کہنے کی حسرت کا اظہار کیا ہے، جو ابھی کہا جانا باقی ہے۔ ان کے بقول ان کا یہ ایمان ہے کہ وہ شعر تا ابد کوئی نہیں کہ سکے گا۔ بیک فلیپ پر منتخب اشعار کے علاوہ تصویر بھی دی گئی ہے۔
درج معلومات کے مطابق اپریل 2003 ء میں علم و عرفان پبلشرز، لاہور سے اشاعت پذیر ہوئی ہے۔
انتساب ماجد الباقری، کشور کمار اور علی عباس جلال پوری کے نام ہے۔ فہرست سے قبل شہاب جعفری کا یہ شعر درج ہے :
چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے
نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے
چوراسی تخلیقات پر مشتمل فہرست کے بعد جاوید اختر بھٹی کی ”جانا تو یہ جانا کہ نہ جانا کچھ بھی“ کے عنوان سے خاکہ نما تحریر ہے، جس میں شاعر کی بطور شناور پیرکوٹی ساکن گجراں والا، ملازم محکمہ ٹیلی فون ملتان، شوذب کاظمی کی تلاش میں ایک محفل میں آمد، پہلی ملاقات، ماجد الباقری کی شاگردی، صاحب تحریر کے مشورے پر شناور پیرکوٹی سے شناور اسحاق بننے، مختار علی کے ساتھ ادبی مجلہ ”میزان“ جاری کرنے، لاہور منتقلی، ملازمت کے چھن جانے، شرمیلی طبیعت اور شناور اسحاق کو جاننے اور نہ جان پانے کی اپنی کیفیت کو بیان کیا ہے۔
اس کے بعد ابرار احمد کا طویل دیباچہ ہے جس میں انھوں نے شاعر کے انفراد کو موضوع بنایا ہے۔ انھوں نے ”ٹین ایجر رومانس کا شکار شعراء“ کے جذباتی رویے کا ذکر کرتے ہوئے ورڈزورتھ، ایلیٹ، اور عسکری جیسے فضلاء کے حوالے سے شناور اسحاق کے فنی خصائص تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ انھوں نے شاعر کے موضوعات، سوالات، کیفیات اور حالات کا شعری تناظرات میں تذکرہ کیا، انھوں نے شناور اسحاق کی غزل کو فرانسس بیکن کے قول کے تناظر میں سٹرینجلی بیوٹی فل قرار دیا ہے۔ بیس جنوری سن دو ہزار تین کی تاریخ میں لکھا یہ مضمون شاعری پر ایک بھرپور تاثر پیش کر رہا ہے۔
” التباس“ کی شعری تخلیقات کا آغاز حمد و نعت کی مخصوص روایت سے ہٹ کر جن اشعار سے ہوتا ہے، ان میں ذکر پیغمبراں کے ساتھ، ذکر خدا بھی ہے، شاعر کا فلسفۂ شعر بھی اور دعوت فکر و عمل بھی :
خمیر ِ خیر دماغ ِ سخن وراں سے اٹھا
تماشا گر کو نشست ِ پیمبراں سے اٹھا
یہ آسمان ترے گھر کا طاقچہ تو نہیں
خدا کو دل میں بٹھا ورنہ آسمان سے اٹھا
آغاز ِ مطالعہ ہی سے ہمیں لفظیات کے حوالے سے، تراکیب اور استعارات کے زیادہ تر مذہبی مصطلحات سے وابستہ ہونے کا احساس ہو نے لگتا ہے۔ تخلیقات کے مجموعی تاثر سے واضح ہوتا ہے کہ شناور اسحاق کو ترکیب سازی کا لپکا ہے۔ منفرد اور نت نئی تراکیب کو وضع کرتے ہوئے تخیل آمیزی، ریاضت اور وسعت ِ علم و فن کی دلیل ہے :
ہمارے ساتھ شناور نظر بھی ہے مصروف
یہ لفظ ڈھونڈتی ہے، ہم خیال سوچتے ہیں
طلسم ِ رونق بازار، خود نوشت ِ شہ ِ معزول، نزاع ِ نا مختتم، رزم گاہ ِ یقین و گمان، آشوب گاہ ِ دہر، پس ِ اشارۂ ِ ابرو، غزل گاہ، انہدام ذات، شہر سیم و زر، باد یخ بستہ، سر ِ باغیچۂ ِ بستر، اہل شرم، تہ ِ اب ِ رواں، رہین ِ عہد ِ آئندہ، سر ِ صحن ِ چمن، جشن ِ سقوط ِ مے کدہ، سحر آرا، غریق ِ آرزو، خانہ بہ خانہ، تعویذ عہد نامۂ ِ جاں، خواب گاہ ِ اساطیر، طناب ابد گیر، ازل مارا، بارش ِ نمکین اور خیمہ گاہ ِ یقین ایسی تراکیب فقط تراکیب ہی نہیں بلکہ ہر ایک اپنے آپ میں جہان ِ معنی آباد کیے ہوئے ہے۔
اگر شاعر ان میں سے بعض تراکیب کا مخترع نہ بھی ہو، تب بھی انہیں بروئے کار لاتے ہوئے مافی الضمیر کے فن کارانہ اظہار کی داد اہل ذوق پر لازم آتی ہے۔ اردو شاعری میں ایسی مثالیں ڈھونڈنا دشوار نہیں ہے کہ مفہوم و معانی الفاظ کے بھاری بھرکم انبار تلے شاعر سمیت دب کر رہ گئے ہوں لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا۔ شناور اسحاق کے کلام میں صناعی نے تصنع کا روپ نہیں دھارا، انھوں نے اپنے تخصص کو برقرار رکھتے ہوئے سادگی کا تاثر بھی مجروح نہیں ہونے دیا اور کام یابی کے ساتھ ابلاغ کیا ہے :
کل شناور بزم ِ نقد ِ شعر عبرت خیز تھی
توبہ توبہ، اک غزل اور ازدحام ِ آ گہی
انھوں نے اپنی آنکھ سے آگے بڑھ کر دیکھنے، ہی پر بس نہیں کیا بلکہ اسے مکمل طور پر دوسروں کو دکھانے کا اہتمام بھی کیا ہے اور یوں بے حد خوب صورتی سے ٫ دھڑکنوں کے قصوں کو حیطۂ ِ گفتار میں، لائے ہیں۔ شناور کے زیادہ تر کلام میں یہ مخصوص انداز تفہیم میں پیچیدگی پیدا کرنے کا موجب نہیں بنا اور نہ بوجھل پن ہی پیدا ہوا، البتہ اس روش سے ہٹ کر کہے گئے اشعار میں کہیں کہیں ایک مخصوص سحر ٹوٹتا ضرور محسوس ہوتا ہے۔ عصری مسائل کی طرف اشارے کرتے ہوئے شناور ذاتی قلبی کیفیات کو فراموش نہیں ہونے دیتے، چنانچہ قلبی کیفیات کو عصری مسائل کے تناظر میں دیکھنے پر بھی آفاقیت کی خصوصیت ابھر ابھر کر سامنے آنے لگتی ہے :
زہر کی جو ساکھ تھی وہ اب بھی ہے
در بہ در تو اعتبار قند ہے
۔ ۔
میں لشکری تھا سپاہ ِ شکست خوردہ کا
میں چپ رہا کہ میں سچا تو ہو نہ سکتا تھا
اس شعری مجموعے میں ایسے کئی اشعار بھی ہیں جنھیں ملکی سیاسی، سماجی حالات کے تناظر میں تازہ ترین آمد خیال کیا جاسکتا ہے :
ہمارے ساتھ شناور عجب معاملہ ہے
ہمیں بقا کے لیے انتشار چاہیے ہے
۔ ۔
ہم ایسے برخود غلط ملیں گے کہاں شناور
کہ روز اول سے خود کو آزاد لکھ رہے ہیں
۔ ۔
برائے خلق ِ خدا آنکھ نم کریں کب تک؟
امیر ِ شہر! ترے کام ہم کریں کب تک؟
اسی کیفیت کے ساتھ درج ذیل شعر کو محاورے کے برمحل استعمال اور سہل ممتنع کی مثال بھی خیال کیا جاسکتا ہے :
یہ اب جو کھود رہے ہیں زمین میرے لیے
میں جی اٹھوں تو کہیں بھی جگہ نہیں دیں گے
ان کے ہاں خود کلامی کے ساتھ ساتھ خدا اور خدائی کے ساتھ مکالمہ بھی ہے۔ وہ ٫ علاج ِ تشنہ لبی باوقار، یعنی ٫ سبیل کی بجائے آبشار، کا مطالبہ کرتے ہوئے کبھی استفہامیہ تو کبھی خطابیہ انداز اختیار کرتے ہیں اور اپنے اس بے تکلفانہ اظہار پر فخر بھی کرتے ہیں، اس حوالے سے ان اشعار کو محاکات کی مثال کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے :
زمیں کو علم ہے کہ ہم نے کس ادا سے بات کی
بدن سے خاک جھڑ رہی تھی جب خدا سے بات کی
۔ ۔
اتر رہے ہیں دھڑا دھڑ ملائکہ نیچے
پھسل رہا ہوں شناور خدا کے ہاتھوں سے
شناور کے کلام میں موضوعات کے اعتبار سے تنوع پایا جاتا ہے۔ وہ خواب، خواہش، خوف، امکان، مکان اور لامکان کی بات کرتے ہوئے حال، ماضی اور مستقبل کی طرف اشارے کرتے ہیں۔ ان کے ہاں مختلف غزلوں کے مسلسل اشعار میں میں بچپن کے زمانے کے ساتھ خشک میووں کی بہار، گاؤں سے شہر آمد، موسم، دیوار و در اور دیے جیسے اشارے نظمیہ کیفیت بھی پیدا کرتے ہیں۔
” شناور“ لفظ استعاراتی معنویت کا حامل ہے۔ اس لفظ کا بطور تخلص استعمال بھی اپنے باطن میں گہرائی اور گیرائی رکھتا ہے۔ شناور اسحاق کے اس مجموعے کی اکثر تخلیقات میں تخلص استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ یہ گریز غالباً دانستگی میں کیا گیا ہے۔ فقط تین مقامات پر تخلص کا یہ استعمال اپنے مکمل پس منظر کے ساتھ نظر آتا ہے جس کی مثال اس شعر سے دی جا سکتی ہے :
شناور ڈوبتی ان بستیوں میں
ہم اپنے فن پہ شرمندہ رہے ہیں
” التباس“ بلاشبہ ان فن پاروں میں شمار ہے، جن کا براہ راست مطالعہ اردو شعری روایت سے لذت آشنا ہونے کے لیے اہم ہے۔
” التباس“ کی اشاعت کو بیس برس سے زائد عرصہ بیت چکا، اردو شاعری تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران میں شناور اسحاق کے دیگر مجموعے بھی اشاعت پذیر ہو کر منظر ِ عام پر آ چکے لیکن ”التباس“ کا سحر دلوں پر ہنوز قائم ہے۔



