پشتو ادب میں چاربیتہ نویسی : مختصر مطالعہ
پاکستانی زبانوں کے روایتی ادب میں رو بہ زوال شعری صنف چاربیتہ پشتو روایتی ادب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ یہ صنف محض ایک تخلیقی عمل اور شعر گوئی نہیں بلکہ پشتو ٹپہ کی طرح متعلقہ ادوار کی سیاسی، مذہبی، ثقافتی، ادبی، اور سماجی تاریخ کو بھی اپنے دامن میں سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ماضی قریب میں جہاں ایک شاعر کے شعری قد و قامت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ اس کی چاربیتہ گوئی سے لگایا جاتا تھا، آج بغیر مطلع و مقطع کی غزل کے پانچ اشعار سے ہوتا ہے۔ یہ صنف اپنی طوالت، چستی، غنائیت اور تنوع و ترنم کی وجہ سے ادبی محافل کی زینت اور سامعین کے دل و دماغ گرم رکھنے کے علاوہ لسانیاتی اعتبار سے لفظیات و افکار کا ایک خزینہ بھی رہی ہے۔
ریختہ کے مطابق ’چاربیت ایک رزمیہ نظم ہے ( جس میں بہادروں کے کارنامے بیان کیے جاتے ہیں ) یہ صنف اردو اور پشتو میں پائی جاتی ہے‘ ۔ یہ تعریف اپنی جگہ مسلم مگر پشتو اور اردو کے علاوہ ہندکو میں بھی چاربیتہ کی تخلیق کا سفر جاری رہا۔ استاد سائیں احمد علی پشاوری سے متعلق شنید ہے کہ آپ حرفی اور چاربیتہ کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ مستشرقین کے علاوہ جن مقامی مؤلفین و مترجمین نے چاربیتہ کو موضوع تحقیق اور بحث و تالیف بنایا ہے ان میں نصر اللہ خان نصر، محمد حسن ضمیر، ڈاکٹر ابوالفیض عثمانی، قاضی عبدالحلیم اثر افغانی، رضا ہمدانی، ہمیش خلیل، لائق زادہ لائق، میاں وکیل شاہ فقیر خیل، پروفیسر ہمایوں ہمدرد، محمد اقبال خان، فرہاد محمد غالب ترین، ڈاکٹر یار محمد مغموم خٹک اور افغانستان کے دیگر محققین و مؤلفین شامل ہیں۔
ڈاکٹر یار محمد مغموم اپنی کتاب ’چاربیتہ فن او تاریخ‘ ( 2020 ع) میں رقمطراز ہیں کہ ’چاربیتہ کے تمام تعریفات اس کا کلی احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ پشتو میں یہ مخصوص صنف اپنا مطلع رکھتی ہے اور اس میں متعدد مصرعے ہوتے ہیں جو ایک بند کی شکل میں ابتدائی مصرعوں سے جوڑے جاتے ہیں۔ اس میں مصرعوں کی تعداد تین سے نو تک، بعض نے کم سے کم سولہ اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی قید ہی نہیں رکھی ہے۔ چاربیتہ کی ساخت کے حوالے سے مزید تحریر فرماتے ہیں‘ چاربیتہ فن کے لحاظ سے دو قسم کا ہوتا ہے، چار مصرعوں، اور آٹھ مصرعوں پر مشتمل۔
پہلی صورت میں مجازا اور دوسری صورت میں حقیقتاً چاربیتہ کہلایا جاتا ہے ’۔ چاربیتہ کی قدامت سے متعلق لکھتے ہیں کہ‘ چاربیتہ کی ابتدا کے حوالہ سے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے تاہم ٹپہ کے بعد یہ قدیم اور مقبول صنف رہی ہے۔ گیارہویں صدی ہجری کے وسط میں اس صنف نے شہرت پائی۔ میسر چاربیتوں میں زیادہ تر سکھا شاہی کی بربریت کے خلاف تحریر کردہ ہیں۔ اس دور میں یہ صنف فنی بلوغ کو پہنچ گئی تھی اور زیادہ ارتقائی مراحل طے کر چکی تھی ’۔ آپ چاربیتہ کے انیس اقسام کا ذکر کرتے ہیں۔ ملحوظ خاطر رہے کہ اس کے اقسام پچاس سے زائد تصور کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر موصوف اردو چاربیتوں کے حوالے سے ابوالفیض عثمانی کے طویل اردو عبارات نقل کرتے ہوئے چندن بھارتی کے چاربیتوں کے مجموعے‘ بہار چندن ’ ( 1962 ع) کا ذکر کرتے ہیں۔
محمد اقبال خان اپنی تحقیقی کتاب ’دچار بیتی پوہنہ‘ ( تفہیم فنِ چاربیتہ) میں ہندکو چاربیتہ سے متعلق حیدر زمان حیدر کی کتاب ’رنگو رنگ ندارے‘ کا ذکر کرتے ہیں جس میں سائیں غلام دین، خانم جان ( تربیلہ ) ، محمد اسرائیل مہجور، خادی خان ( دھمتوڑ ) اور دیگر ہندکو چاربیتہ نویس شعراء کے کلام منقول ہیں۔ ہزارہ کے مزدور کسان پارٹی سے متعلق اسرائیل مہجور کی ہندکو مزاحمتی شاعری بڑی شہرت کی حامل رہی ہے۔ مولف گوجری چاربیتہ کا ایک نمونہ بھی اپنی کتاب کی زینت بناتے ہیں۔
لیکن پشتو منظوم ادب میں اس دور سے بہت پہلے بڑے آب و تاب اور فنی و فکری پختگی کے ساتھ تخلیق کیے گئے چاربیتہ کا وجود ثابت ہے۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس فنی پختگی کے پیچھے ایک منظم اور مسلسل ارتقائی سفر کار فرما رہا ہے۔ اور متعین قدامت سے بہت آگے تک چاربیتہ کے موجودگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آپ چاربیتہ طویل نظم سے مماثل قرار دیتے ہوئے ہیئتی لحاظ سے اس کو مسمط اور مستزاد نظم سے ماخوذ سمجھتے ہیں اور اس کے مختلف اقسام کو مثنوی، مثمن، مربع، مسبع، مثمن مجاز، معشر مجاز اور مستزاد چاربیتہ کے نام دیتے ہیں۔ جس سے جزوی اختلاف ممکن ہے۔
منظوم روایتی ادب میں چاربیتہ صرف شعری صنف نہیں بلکہ فرانسیسی مستشرق جیمز ڈرمَسٹٹیر کی تالیف ’د پشتونخوا د شعر ہار و بہار ( 1888 ع)‘ کے الفاظ میں ’پشتونوں کے ہاں اخبار نہیں ہوتے عوامی گیت اخبارات کے مماثل ہیں اور ان کے تمام سیاسی واقعات انہی گیتوں میں منعکس ہوتے ہیں۔ اور بایں قیاس فرہاد محمد غالب ترین کے خیال میں لفظ چاربیتہ کا سابقہ چار بمعنی چہار کے نہیں بلکہ کار ( کام ) کے مترادف ہے جو بمعنی کام کاج کے ہیں۔
جیمز 1886 ع سے 1887 ع تک پشاور اور متحدہ ہندوستان میں مقیم رہے۔ اور پشتو روایتی ادب ٹپہ، ضرب الامثال، چاربیتہ اور شاعری کو ایک کتاب کی شکل میں تالیف کی ہے۔ صنف چاربیتہ ایک مزاحمتی اور حماسی تاریخ بھی رقم کرتی آئی ہے۔ موضوعاتی طور پر دینی سماجی اور رومانی موضوعات کے علاوہ چاربیتہ نویسی ہمیں سکھا شاہی کے جبر و ستم کے خلاف بر سرِ پیکار مقامی اور خارجی سیاسی، مسلح اور غیر مسلح تحریکوں، خصوصاً تحریک شہیدین کے اتار چڑھاؤ اور جاری رزم بزم سے بھی آشنا کراتی ہے۔
ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا کہ اس وقت کے سرحدی علاقے میں سید احمد شہید اور ان کے رفقا کی تحریک کی حمایت میں بہترین رزمیہ چاربیتہ تخلیق کیا گیا۔ فرنگی استعمار اور جاری ظلم و ستم کے خلاف مزاحمتی فکر بھی صنف چاربیتہ ہی میں خون کو گرماتی نظر آتی ہے۔ اسی طرح تحریک اصلاح الافاغنہ کے پیغام کی تشہیر کے علاوہ لسانیاتی، قبائلی اور واقعاتی موضوعات بھی چاربیتہ میں نظم ہوتے آ رہے ہیں۔ جواں سال محقق رئیس خان نے پشتو چاربیتہ اور چاربیتہ نگار : تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘ کے عنوان سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، سے ایم فل کا تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے۔ مرحوم پروفیسر ہمایوں ہمدرد نے ’قومی آزادی کے مبارزے اور پشتو چاربیتہ : تاریخی و تحقیقی مطالعہ‘ کے عنوان سے پشتو اکیڈمی، پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا ایک بے مثل علمی مقالہ تحریر کیا لیکن رسمی طور پر پیش کرنے سے قبل سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔
عصر حاضر میں بھی اس صنف میں تخلیق کا سفر رکا نہیں۔ میاں محمد زمان کی حال ہی میں چاربیتوں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔ اسی صنف کے بے بدل شاعر تاج محمد مہمند کا گزشتہ مہینے انتقال ہو چکا ہے۔ نثار خان، خیال گل خیال، محمد اقبال خان، فرہاد محمد غالب ترین اور دیگر تا حال عمدہ چاربیتہ لکھتے ہیں۔
گل محمد بیتاب کے مطابق شانگلہ کے منشی قدرمند کو اپنی کتابوں کے علاوہ ایک ہزار چاربیتے ازبر تھے۔ اور کوئٹہ میں کان کنی کے پیشہ سے متعلق تھے۔ افغانستان کے ملنگ جان وغیرہم چاربیتہ کے حوالے سے معتبر نام ہیں۔


