سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی گِٹ دِم (get them) پالیسی


پاکستان کے افغانستان میں ہوائی حملہ، آج ڈیورنڈ لائن کے آر پار حملے، پاکستانی وزیر دفاع کا محمود غزنوی کو لٹیرا کہنا، سب ایک سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔

پاکستان میں اگر حکومت چلانے کے معاملات گمبھیر اور جمہوری حکومت کی اختیار مندی کی مندی ہے، تو افغانستان میں تو سرے سے کوئی مرکزی حکومتی انتظام ہی موجود نہیں۔ یہاں کچھ چہرے اقتدار کے طاقچوں میں پڑے جل بجھ رہے ہیں تو وہاں کی حکومت، مختلف مسلح اور طاقتور گروہوں کے آپس میں ڈالی ہوئی کمیٹی جیسی ہے، جس کو مزید جاری رکھنے پر تمام حصہ دار تنگ آئے ہوئے ہوں۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز ایک طرف دہشت گردی کے خلاف (اب خوارج کے خلاف) اندرون ملک، ایک غیر مقبول جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف افغانستان کے خلاف ایک کم طاقت اور محدود جنگ پاکستان کے فائدہ میں جاتی ہے، ٹھیک اسی طرح جنگ (جس شکل میں بھی ہو) افغان حکومت کی بڑھتی ہوئی مشکلات کے لئے بھی تیر بہدف نسخہ ہے۔ ریاست سب کچھ مذہبی لفافوں میں بیچنے کی اتنی عادی ہو گئی ہے کہ اب دہشت گردوں کو خوارج کہنا شروع کر دیا ہے، جو برسوں سے دہشت گرد لفظ کے ساتھ نتھی ہوئی ہوئی کراہت بھری قومی یاداشت کو دھونے اور مٹانے میں لگی ہوئی نظر آتی ہے۔ خوارج لفظ کبھی بھی دہشت گرد جیسے کروڑوں بار رٹے رٹائے الفاظ جیسی ذہنی کراہت کی کیفیت پیدا نہیں کر سکتی۔

افغانوں کو اکٹھا صرف بیرونی جنگ کرتی آئی ہے، لیکن پاکستان میں جنگ آپریشن اور دہشت گردی اتنی بار وقوع پذیر ہو چکی ہے کہ ان کو اب جنگ جیسی ڈراونی صورت حال بھی یکجا نہیں کر سکتی۔ افغانستان میں اب جب اندرونی گروہ بندی، حکومتی ساجھے داروں کے درمیان موجود فالٹ لائنوں کو مزید گہری اور ظاہر کرنے پر تلی ہوئی ہے، تو انہوں نے سرحدی تنازعات کو وقتی حل سمجھتے ہوئے تنگ آتی ہوئی مایوس قوم کو پیش کردی ہے۔

ہم آپ کو روزگار، تعلیم، آزادی اور تمام ضروریات زندگی نہیں دے سکتے، لو جی ایک اور جنگ انجوائے کریں۔

افغانستان میں ہونے والے حالیہ ہوائی حملوں اور جواب میں افغانستان کی طرف سے سرحدی حملوں کے بارے کچھ شکی طباءع یہ بھی کہتی ہیں کہ میرج آف کنوینس ہے، جس کا باہمی فائدہ فریقین کو ملے گا، وہ اس لیے کہ جب افغانستان پر حملے ہوئے تو اس دوران پاکستان کی اعلیٰ سطحی وفد افغانستان میں مذاکرات میں موجود تھا اور اسلام آباد میں اسی قسم کی سرگرمیاں افغان سفیر اور پاکستانی عہدیداروں کے درمیان بھی جاری تھیں۔ اگر یہ باہمی رضامندی سے نہیں ہوا، تو پھر حکومت کی صلح کی کوششوں کو سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے حملے کر کے سبوتاژ کر دیا ہے۔

ہوائی حملوں کے ردعمل میں افغان وزیر اطلاعات نے اپنے ہاں مقیم پاکستان مخالف گروہ کو اپنا مہمان قرار دیا جبکہ کل کسی اور وزیر نے ان کو مہاجرین قرار دیا تھا، جس کا انہوں نے یہ کہہ کر برا منایا تھا، کہ ہم اپنی سر زمین (افغانستان) پر موجود ہیں، ہم مہاجرین نہیں ہیں۔ آج مہمان کہلائے جانے پر دیکھنا ہو گا، کہ وہ خود کو مہمان کہلانا بھی پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ کو یاد ہو گا طالبان کی پچھلی حکومت بھی ایک مہمان کی عدم حوالگی کی وجہ سے ختم کردی گئی تھی۔ اس لیے پاکستان مخالف گروہ کو مہمان کہہ کر افغان حکومت کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کی سنگینی کا احساس ضرور ہو گا۔

افغان حکومت کے درمیان گروہی فالٹ لائن روزبروز واضح اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اب واضح نظر آنے لگا ہے کہ حکومتی طریقہ کار پر واضح پالیسی اختلافات کی موجودگی کے علاوہ، ان کے درمیان پاکستان اور امریکہ کے ساتھ اپنے موجودہ تعلقات پر بھی اتفاق موجود نہیں رہا۔ قندہاری اور حقانی، جدید اور ازمنہ رفتہ، اور جمہوری و مولویت الگ الگ نظر آنی شروع ہو گئی ہے۔ اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ایک حقانی کا قتل جس کو مزید سوالیہ بنا چکا ہے۔ تعلقات کے لحاظ سے حقانی پاکستان سے دور جا چکے ہیں، لیکن جغرافیہ کی بدقسمتی کی وجہ سے ان کے علاقے پاکستان کے ساتھ متصل ہیں اور وہی سے پاکستان کے اندر حملہ آور آنے کی شکایات آتی ہیں، جس کی وجہ سے جہاں پر افغانستان میں ہوائی حملے ہوئے ہیں وہ حقانیوں کا علاقہ ہے، جہاں سے جوابی سرحدی جھڑپیں کی گئیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ قندہاری گروہ پاکستان کے ساتھ ہے، لیکن حقانیوں کے علاقے افغانستان میں ہونے کے باوجود ان کے قابو میں نہیں ہیں۔

پاکستان کے جوابی حملوں پر امریکہ کی واضح پوزیشن کو دیکھنا ہو گا۔ اگر امریکہ اپنے بٹھائے گئے دوحا معاہدہ کے ساجھے داروں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے، تو پھر پاکستان اور خصوصاً ڈیورنڈ لائن کے آرپار مسائل مزید بڑھیں گے، لیکن اس نے افغان حکومت کو دوحا معاہدہ میں موجود ایک شق ”افغان سرزمین کو غیر ملکی حملہ آوروں کی پناہ گاہ میں تبدیل نہیں کیا جائے گا“ کی یاد دہانی کرا دی تو پھر صورت حال تبدیل ہو جائے گی۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ویسے بھی فی الحال نارمل نہیں ہیں۔ پاکستان امریکہ کی خواہشات کو نظرانداز کر کے مستقبل کے لئے اپنی بارگیننگ پوزیشن بہتر کرنے میں مصروف ہے، جو پاکستان کے سیاسی، معاشی، مالی اور امن و امان کی صورتحال دیکھ کر کافی تشویشناک ہیں، لیکن پاکستان پہلے بھی اسی طرح کی صورتحال سے اپنے موجودہ رویے کی وجہ سے نکل چکا ہے۔ قارئین کو صدر کارٹر اور ضیاء الحق کا ابتدائی دور یاد رکھنا چاہیے۔

چالیس پینتالیس سال سے افغانستان میں پاکستان کی پالیسی رہی ہے کہ وہ وہاں پر موجود دوسری اقوام کے مقابلے میں پختونوں کو سپورٹ کرتا آیا ہے اگرچہ وہ پختون قوم پرستی کی بجائے مذہبی شناخت رکھتے تھے لیکن افغان مذہبی ہو، کمیونسٹ ہو، شاہ پرست ہو یا جمہوریت پسند، حکومت میں آ کر صرف افغان بن جاتا ہے، جس کی مثال حکمت یار، ملا عمر، حامد کرزئی، اشرف غنی اور اب ملا ہیبت اللہ ہے، جن کے قومی بیانئے اور ڈاکٹر نجیب کے قومی بیانیہ میں سرِ مو فرق نہیں۔

ٹی ٹی پی افغان حکومت کی دور مار مسلح بازو ہے، جس کو وہ کبھی نہیں کاٹے گی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات کو نارمل کرنے کے لئے چین فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ اسے اس خطے میں امن کی شدید ضرورت ہے، وہ اس لئے کہ اس کم قوت جنگ کے طول پکڑنے یا پھیل جانے کی صورت میں اس کے مفادات پر ضرور زد پڑے گی۔

پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو افغانستان کے خلاف سخت اقدامات اس لیے لینے پڑے کہ افغان سرزمین سے متصل علاقوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر متواتر مہلک حملے ہو رہے ہیں، جو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ پاک افغان سرحد پر دھند، برف باری اور سردی کی وجہ سے پاکستان مخالف گروپوں کی پاکستان آمد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے پاکستان میں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی اس وقت کی پالیسی ”گِٹ دِم“ ہے۔

جب سے جنرل عاصم منیر نے کمانڈ سنبھالی ہے، تب سے پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے تقریباً ہر محاذ (پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی) پر مفاہمت کی بجائے ”گِٹ دِم“ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، جو دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani