ناولٹ ”لندن کی ایک رات“ بطور ترقی پسند ادب و سماج کی صورت حال کا منعکس
سجاد ظہیر 1905 کو ریاست اودھ میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ادب کی تعلیم حاصل کی۔ بیرسٹر بن کر واپس آئے تو اس سے ساتھ ساتھ انھوں نے ادب کا مطالعہ بھی جاری رکھا۔
اگر ہم اس حوالے سے بات کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سجاد ظہیر کی کتاب روشنائی دراصل ترقی پسند تحریک و ادب کا تاثراتی جائزہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجاد ظہیر نے جیل میں رہتے ہوئے یہ کتاب لکھی۔ 1931 میں سجاد ظہیر نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس ترقی پسند تحریک کی بنیاد ڈالی ولد تحریک کے ذریعے ہندوستان کے پسماندہ انسانوں میں شعور پیدا کرنا چاہتے تھے جو کہ ان کو غلامی سے آزاد کروانے میں مدد دے گا۔ سجاد ظہیر کے ہاں یہ خیال بھی ہمیں عام طور پر نظر آتا ہے کہ ادب کا تعلق عوام اور اس کی زندگی کے ساتھ ہونا چاہیے۔
ان کے خیال میں ادب کا بنیادی منتر سیاست کو بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس منتر کے بغیر ادب کو سمجھنا تو دور کی بات ادب تصور بھی نہیں کیا جاتا۔
یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بیسویں صدی میں عالمی سطح پر جنگ کے اثرات واضح ہونے لگے تو اس وقت برطانیہ حکومت حکمران تھی اور اس کے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے صرف ایک ہی راستہ تھا جنگ کی صورتحال کو اختیار کرنا۔ وہ راستہ دراصل یہ تھا کہ ترقی پسند در تحریک کو استعمال کرتے ہوئے حساس ادیبوں کو بیدار کیا جائے اس وقت اردو ادب کو سماج میں ایک نئی شکل کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔
ناولٹ کے آغاز میں ہی یہ بات بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس ناول کا زیادہ تر حصہ پیرس اور ہندوستان واپس آتے وقت جہاز میں تحریر کیا۔ مارکس کے اشتراکی فلسفہ اور نظریات کی روشنی میں ایک ایسا خواب دیکھا جس میں یہ بتایا گیا کے امیر اور غریب میں کوئی بھی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں کو سماج میں ایک جیسی عزت اور مقام و مرتبہ حاصل ہو۔ کوئی ایک دوسرے کو یہ نہ کہہ سکے کہ تم مجھ سے نیچے اور میں تم پر حاکم ہوں۔ یہ نہیں کہ کوئی انسان ایک دوسرے کو قصے کمتر سمجھ کر اس کو اپنا غلام متعین کرے۔
جب ہم ناول لندن کی ایک رات کی بات کرتے ہیں تو اس ناول میں ترقی پسندی کی ایسی لہریں بھی ہمیں نظر آتی ہیں۔ جن کی نشاندہی پہلے ہی سجاد ظہیر کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مارکس کا فلسفہ حیات اور روسی انقلاب کا اثر ہندوستانی فلموں کے زیر اثر بھی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات سے فرار ہونے کا نام صرف ادب نہیں ہے بلکہ ادب کا اصول ہے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے عالمی سطح پر اس پر غور و فکر کیا جائے ہر لمحہ۔ روس کی خواہش کے مارکسی نظام پر پوری دنیا عمل کرے اور ترقی پسند تحریک بھی اس کی ادبی شکل تھی۔
مارکسی تنقید کو سمجھنے کے لئے جدلیت اور مادیت کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے۔ ترقی پسند تحریک نے حسن کے معیار کو تبدیل کر دیا آہستہ آہستہ جاگیردارانہ نظام کے ساتھ مل کر آواز بلند کی تاکہ مزدور طبقہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف اپنے تمام جائز حقوق کی آواز بلند کرے ادب کی مقصدیت اور اس طرح اشتراکی نظریے کے حوالے کیا یہ ایک ایسا ادب ہے جس میں تفکر اور آزادی ہو اور اس کی روح میں تعمیر کا جذبہ موجود ہوں زندگی کے حقائق بھی موجود ہونا چاہیے۔
سجاد ظہیر کا ناول پڑھتے ہیں تو دیگر ناقدین کے مطابق اس میں پیش کی گئی تصویر کا ایک رخ لندن میں پڑھنے والے ہندوستانی طالب علموں کی عادات روزمرہ کی مصروفیات ہیں کہ وہ کس طرح سے وقت فضول کاموں میں اور گفتگو کر کے ضائع کرتے ہیں۔ وہ اپنے مقرر کردہ وقت پر ڈگری حاصل نہیں کر پاتے بلکہ اضافی وقت لگا کر ڈگری حاصل کرتے ہیں۔
اس ناول کو لکھنے سے پہلے وہ محض خیالات کی حد تک مارکسی نظریے کے قائل تھے لیکن اس وقت وہ عملی طور پر میدان میں سامنے نہیں آئے تھے۔ جب کوئی بھی انسان ایک بات سوچتا ہے تو وہ صرف کاغذ کی حد تک ہی محدود رہتی ہے۔ دوسری طرف اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کا کام بھی انتہائی مشکل ہے لیکن سجاد ظہیر نے قلم کے ذریعے آواز کو بلند کیا اور کمزور طبقے کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف ان کی مذمت کرے۔ سجاد ظہیر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ آہستہ آہستہ مارکسی نظریہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ذہنی طور پر اسے قبول کرنے لگے جس کو بعد میں عملی شکل میں سامنے لانے کے لئے وہ دراصل ایک درمیانی میں شامل ہو گئے مارکسی نظریے کے حوالے سے ان کا یہ بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
سجاد ظہیر نے اپنے ناول میں کرداروں کے ذریعے سے اشتراکیت کی تبلیغ کی اور ذہنی لحاظ سے بھی اشتراکی نظریے کی طرف متوجہ ہوتے نظر آتے ہیں۔ اور وہ دوسروں کو بھی اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اس پر عمل کروں اور اپنی زندگی میں ہونے والے مسائل کے خلاف مل کر آواز بلند کرو۔ ناولٹ لندن کی ایک رات میں موجود طالب علموں کی ظاہری صورت حال کی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے ان کا یہ ناول جس میں بیان کیا گیا ہے تمام کردار فکری کے عالم میں ہیں اور ان کی باتیں بھی بے فکری کے کئی گناہ گہری ہیں کبھی کبھی طنز اور احسان میں سجاد ظہیر کے خود عکاس نظر آتا ہے۔
اس ناولٹ میں چند نسوانی کردار موجود ہیں جیسے کہ کریم ہیں جو کہ ہندوستان کے علاقے کے فرد کی طرح کا ہے لیکن ناولٹ میں لندن کی مغربی تہذیب کا رنگ نہیں ہے اور نہ ہی یہ اپنی تہذیب کے حوالے سے کوئی نمائندگی کرتا ہے اس میں انہوں نے شعور کی رو کی تکنیک کو استعمال کیا ہے۔
جب میں نے یہ ناول پڑھا تو اس کا ایک نچوڑ نکالا اور اس نے توڑ کے چند سطریں درج ذیل ہیں۔ یہ سارا ناول سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کا عکاس ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں سماج میں طبقاتی تقسیم کس طرح سے ہے کس طرح سے غریب کو مزید بہتر بنانے کے لئے اور اس کی نظروں میں گرانے کے لیے لیے امیر کس حد تک ناجائز طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ مارکسزم ایک تحریک اور فلسفہ ہے اور اس کا بنیادی مقصد لوگوں کے اندر ان کے حقوق اور اہمیت کے ذریعے ان کے ساتھ ہونے والے ان کے استحصال کا ادراک کرنا ہے ایک ایسی ہستی ہے جو کہ ہر دور میں اہم رہی ہے آج بھی طبقاتی تقسیم اسی طرح کے استحصالی نظام کو اہمیت دے رہی ہے جس میں اشرافیہ اور غریب شامل ہیں۔


