موسم سرما کے بچپن کی حسین یادیں


muhammad salim gujranwala

انسان کا بچپن جیسا بھی گذرا ہو وہ اسے بہت ہی پیارا لگتا ہے اور اس کی یادیں ذہن سے محو نہیں ہوتی ہیں کہ بچپن ہوتا ہی ایسے ہے۔
آج موسم سرما کی سختیوں کو برداشت کرنے کے لئیے انواع و اقسام کے گرم اور دلفریب ملبوسات، گرم پانی با آسانی مہیا کرنے اور گھروں کو گرم رکھنے کےلئے کئ اقسام کی
برقی اور گیسی مصنوعات موجود ہیں۔
کوئی پچاس سال قبل گرم پانی کے لئیے گھروں میں گیزر کی سہولت میسر نہیں تھی۔لکڑی،کوئلہ اور اوپلے بنیادی ایندھن کے ذرائع تھے۔مٹی کا تیل، بجلی اور کسی حد تک گیس کی سہولت بھی میسر آچکی تھی۔ اچھے حجاموں کی دکانوں کے باہر دیسی ساخت کے گیزر ہوتے تھے جن کے نیچے لکڑیاں جلا کر گرم پانی حمام میں پہنچایا جاتا تھا اور دکان کے باہر بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوتا کہ گرم حمام کی سہولت موجود ہے اور ایک لمبی الگنی پر گیلے تولیے لٹکے ہوتے تھے۔اس وقت اعلی حجام بطور معیار اپنی دکان کے باہر دیسی گیزر اورایک دو خالی دیگیں رکھنے کا لازمی انتظام کرتے تھے۔
گھر میں والدہ جمعہ المبارک کو ہم سب بہن بھائیوں کو نہلانے کےلئے کسی بڑے دیگچے، گھی کے خالی کنستر یا ڈبے میں پانی گرم کرتیں اور سب کو باری باری نہلا کر ہمارے پیٹ پر پھرکڑا مار کر کہتیں۔۔۔’ہائے پالیا تیری نانی مرے’ اور پھر ہمیں رنگ برنگی اون کے ہاتھ سے بنے سویٹزر پہناتیں اور گرم دودھ اور ابلے ہوئے انڈے کھلا کر بستروں میں دبکا دیتیں۔اس وقت کمال کے بستر ہوتے تھے۔رنگیلے پائیوں والی سوت سے بنی چارپائیاں ،ان کے اوپر دری،کھیس،گدے اور سب سے اوپر گل ٹیکس کی موٹی سوتی چادر ہوتی۔
ساری رات کروٹیں بدلتے رہیں،بستر پر سلوٹ نہیں پڑٹی تھی۔اوپر اوڑھنے کے لئیے کھدر، شہنگائی،ساٹن اور شنیل کی اعلی روئی سے بھری ہوئی رضائیاں دیتیں جن سے واقع ہی پالے کی نانی مر جاتی تھی۔اماں کے جہیز کے اتنے بستر تھے کہ ہم سب بہن بھائیوں میں تقسیم ہوکر بھی بچے رہے۔ مہینے میں دو تین بار والدہ باری باری ہم سب کے پاؤں کچھ دیر گرم پانی کے تسلے میں رکھ کر ان کو جھانویں سے رگڑتیں اور صاف کرکے نارنجی رنگ کی تبت ویزلین لگا کر جرابیں چڑھا دیتیں۔اب بچوں اور بڑوں کے لئیے انواع و اقسام کے بادام ، شہد اور دودھ سے تیار کردہ لوشن، کریمیں، پیٹرولیم ویزلین اور خوشبودار پوڈر دستیاب ہیں لیکن پچاس برس قبل کوہ نور کیمیکل کمپنی کی تیار کردہ تبت سنو ، نارنجی رنگ کی تبت پومیڈ اور گول ڈبے میں پف کے ساتھ والے تبت بوکیٹ پوڈر کی خوشبو آج بھی ناک اور دماغ سے ختم نہیں ہوسکی ہے۔
موسم سرما میں گھر میں سب سے زیادہ مزے والی جگہ باورچی خانہ ہوتی، ہر کوئی چولہے کے قریب بیٹھنا چاہتا تھا۔کسی چھمک یا تار کے ساتھ چولہے میں جلتی ہوئی لکڑیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا بہت مزہ آتا۔صبح و شام باورچی خانے کی رونقیں عروج پر ہوتیں،عام طور ناشتے میں پراٹھوں کے ہمراہ رات کا بچا ہوا سالن ہوتا،ایک دو دن چھوڑ کر آلو اور مولی والے پراٹھے بنتے،کبھی مکئ کی روٹی اور کبھی کبھی انڈے پیاز یا انڈے آلو کی بھجیا بنتی۔ رات کو کھانے میں ساگ سےبات شروع ہوتی تو شلجم، آلومٹر، دال چاول،ملغوبہ سبزیوں سے پھر ساگ کی باری آ جاتی۔کبھی کبھار صحن میں چلتے پھرتے ککڑ کی باری آجاتی اور کبھی کبھار گؤشت اور مچھلی کے ڈولوں سے بھی آمنا سامنا ہوجاتا۔ ہم چوکیوں اور پیڑھیوں پر بیٹھ کر اکٹھے کھانا کھاتے اور کچھ کھسر پھسر بھی کرتے۔باروچی خانے کے نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لئیے اماں کے پاس دست پناہ، پھونکنی اور ڈوئی ہوتی تھی۔رات کو کھانے کے بعد رضائیوں میں دبک کر مونگ پھلی اور ملوک کھانا۔ میٹھے رس والے کاٹھے اور پونے گنے چوسنا بھی بہت مزہ دیتا۔جب کبھی کوئی گنا نہ چھیلا جاتا تو اماں ابے یا بڑے بہن بھائی نے گنا چھیل کر اس کی گلیاں بنا کر دیتے۔
فریج کی جگہ لکڑی اور لوہے کی جالی سے بنی ہوئی ایک ڈولی ہوتی تھی جس میں اشیاء خورونوش ، سبزیات اور پھل تازہ اور محفوظ رکھنے کے لئیے رکھتے تھے۔
موسم سرما کی خاصے کی چیزیں دال اور گاجر کا حلوہ، گاجر چاول اور دودھ سے بنا گجریلا، گنے کے رس اور چاولوں سے بنی روہ کی کھیر جو صبح ناشتے میں دہی ڈال کر کھائی جاتی تھی،سوجی اور خشک میوہ جات کی پنجیری ہوتی تھیں۔ چاول کے آٹے اور السی گندم کے آمیزے سے بنائی گئ پنیاں جو بطور سوغات بہنوں،بیٹیوں اور عزیزوں کو بیجھی جاتیں تھیں۔ایسے پکوان تیار کرنے میں سب سے مزےوالا کام کاٹھے باداموں کو ہتھوڑی سے توڑ کر گریاں نکلانا ہوتا تھاجس میں ہر دس بارہ گریوں کے بعد ایک گری مونہہ میں چلی جاتی تھی۔ ایک بہت ہی اعلی قسم کا میٹھا گندم کے نشاشتے کا حلوہ تھا۔موسم گرما میں اماں دس پندرہ کلو گرام گندم کو مٹکوں میں ڈال کر دس دن کے لئیے پانی میں بھگو دیتں۔
جب گندم پھول جاتی تو اس کو کونڈی میں ڈال کر کوٹتیں اور پانی ڈال کر نشاشتہ نکال کر خشک کرکے رکھ دیتیں۔موسم سرما کی شدت ہوتے ہی نشاشتے کو دیسی گھی،چینی اور خشک میوہ جات میں بھون کر حلوہ تیار کرکے مختلف برتنوں میں ڈال دیتیں، حلوہ جم کر سخت اور کرکرا ہوجاتا جو کھانے میں نہایت ہی ذائقے دار ہوتا جس کا مزہ زبان کی ذائقہ کلیوں میں آج تک محفوظ ہے۔بعد میں کئ بار نشاشتہ کا حلوہ بنایا لیکن اماں کے ہاتھ کا ذائقہ نہیں پایا۔
گھر کے پچھلے کمرے میں اماں رات گئے تک چرخا کاتتی۔بازار سے روئی لاکر اس کو پنجنی سے پنجا کر نرم و نازک کراتے اور پھر کانے میں لپیٹ کر اس کی پونیاں بناتے۔اماں ایک ایک پونی کو تکلے پر چڑھا کر باریک دھاگے کی چھلی بناتی جس سے وہ چادریں اور کھیس تیار کرواتیں۔ کئ بار تین چھلیوں کے دھاگے کو ملا کر سوت تیار کرتی جس سے چارپائیاں بنتی۔میں تکلے کی دوسری جانب بیٹھ کر کاغذ یا گتے کی پمبھیری بنا کر چلاتا اور چرخے کی میٹھی میٹھی کوک کانوں میں رس گھولتی، ساتھ ہی اماں کسی پنجابی لوک داستان کے اشعار بھی زیر لب گنکناتی۔آج نصرت فتح علی خاں کا گایا ہوا گیت "سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک، ماہیا مینوں یاد آوندا”اس پس منظر میں سن کر آنکھیں نم آلود ہوجاتی ہیں۔
اماں تہجد کے وقت جاگ لگے دودھ کو ہاتھ کی مدھانی سے بلوتی، صبح اٹھتے ہی سب کو تازہ لسی میں تازہ مکھن ڈال کر پلاتیں اور پھر ناشتہ تیار ہوتا۔
زندگی میں ایسے کئ بچپن گزرے۔ پھر ہم سب بڑے ہوگئے اور والدین خلد مکانی۔ اب اپنے اپنے گھروں میں چند افراد ہیں جو اپنے اپنے جھمیلوں اور موبائل میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔کہنے کو ایک گھر یا ایک کمرے میں موجود ہیں،لیکن اپنے اپنے موبائل میں ڈوبے ہوئے ہیں۔نہ باورچی خانے کی وہ رونقیں ہیں اور نہ وہ گہماگہمی۔نہ پکانے کا شوق اور نہ کھانے کا۔جس کا دل چاہتا ہے گھر سے کھا لیتا ہے یا پھر بازار سے منگوا لیتا ہے۔میں محو حیرت ہوں کہ ہمیں جنم دینے والی ماؤں جیسی مائیں اب کہاں ملیں گی۔
سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک ماہیا مینوں یاد آوندا
میرے دل وچوں اٹھ دی اے ہوک ماہیا مینوں یاد آوندا ۔
Facebook Comments HS