جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم
ڈاکٹر خالد سہیل کا سوال۔ محترمہ معظمہ سارہ علی صاحبہ سیمینار کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے اور ان کا فرق ان کی چند مثالوں کے ساتھ ایک مضمون میں قلمبند کر کے اپنی رائے سے آگاہ کریں؟
میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل،
ڈاکٹر صاحب آپ کے سوال کا تیسرا حصہ کمیونزم پر میری رائے پر مشتمل ہے یہ وہ danger area ہے جس میں داخل ہوتے وقت آپ کو خیال کرنا پڑتا ہے کہ اس کے حامی اور مخالف دونوں آپ کے ہر لفظ کے بخیے ادھیڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اس کی مخالفت کے کہ مزیدار اور ہولناک دونوں واقعات میں نے ذاتی طور پر ایکسپیرینس کیے۔ میرے والد ڈاکٹر کرامت علی اکانومسٹ تھے امریکہ کی ایسی یونیورسٹی سے پڑھے تھے جو اکنامکس کا گڑھ سمجھی جاتی ہے اور پکے لیفٹ کی اکنامکس پالیٹکس کے داعی تھے۔
مجھے یاد ہے میرے والد کا سب سے بلند قہقہہ مجھے اس وقت سنائی دیتا تھا جب لوگ کہتے کہ کمیونزم میں یہ شادی کا کوئی کانسیپٹ نہیں اور ایک کی بیوی سب کی بیوی ہوگی اور ان کا جواب ہوتا تھا کہ ہمیں آپ کی بیوی بھی نئیں آپ کی اقتصادی حالت میں دلچسپی ہے اسی طرح میں نے اپنی امی سے پوچھا کہ یونیورسٹی کے لوگ ابو سے اتنے خفا کیوں ہیں تو ان کا جواب بہت مزیدار تھا ان کو لگتا ہے کہ آپ کے ابا اپنی جیکٹ کے نیچے بم لے کر پھرتے ہیں اور بس ابھی نکال کر پھینکیں گے اور انقلاب آ جائے گا مجھے اپنے ابا بہت ہی خوش مزاج اور زندہ دل لگتے تھے کہیں سے خون آشام کمیونسٹ نہیں لگتے تھے لیکن ابا کی جس چیز سے میں تنگ ہوتی تھی وہ یہ تھا کہ وہ اپنے وسائل میں سے جتنا زیادہ سے زیادہ دوسروں پر خرچ کر سکتے کرتے جب کہ میرا خیال تھا کہ ہمیں بھی دوسروں کی طرح اپنے وسائل صرف اپنے پر خرچ کر نے چاہئیں۔
البتہ وہ باقی لیفٹ کے لوگوں سے بہت جدا تھے ان کے لیے سوشلزم اور کمیونزم روس چائنا یا کیوبا کا نام نہیں تھا وہ اس کو ایک ایسا فلسفہ سمجھتے تھے جس کو خطے اور وقت کے مطابق عوام کی ضروریات کے حساب سے ڈھالا جا سکتا تھا اس لیے وہ روس کے ٹوٹنے سے بالکل دلبرداشتہ نہیں تھے ان سے میں نے سیکھا کہ کمیونزم ایک سائنسی فلسفے کی مانند ہے جس کو ہر خطے کے لوگ اپنی کے مطابق adapt کر سکتے ہیں اور میرے مطابق آج تک دنیا اس کو صحیح روشنی میں نہیں دیکھ سکی۔
کیونکہ امریکہ اور روس کے درمیان جو کولڈ وار ہوئی اس میں امریکہ نے اپنے تمام تر وسائل اس چیز پر خرچ کیے کہ کسی طرح سے کمیونسٹوں کو اتنا بدنام کر دیا جاٹ کہ ان کو ایک بوگی مین بنا دیا جائے اور اس کے بعد ورکنگ کلاس کا ہر استحصال اس بوگی مین سے ڈرا کر کیا جاتا ہے۔ اس کولڈ وار کو ختم ہوئے صرف تیس چالیس سال گزرے ہیں اس لیے وہ نفرت آمیز پراپیگنڈا ابھی زندہ ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک لمحے کی حیثیت رکھتا ہے کہ انسانی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔
ڈاکٹر صاحب ابھی تک کوئی بھی ملک کمیونزم تک نہیں پہنچ پایا اور وہ سب جو اس کے نام پر کام کر رہے ہیں وہ بھی اپنی سوسائٹی کی early stage میں ہیں جو سوشلزم ہے۔ ڈاکٹر صاحب میں نے اقتصادیات نہیں پڑھیں اس لیے میری کچھ limitationsہیں جو میرے والد بطور ماہر معاشیات آپ کو بتا سکتے شاید وہ زیادہ intellectually soundہوتا اس لیے میں اس کی intellectual ایکسپلینیشن میں نہی ان جاؤں گی بلکہ بطور لے مین میں کیوں اس سسٹم کی حامی ہوں اس کی وضاحت کرنا چاہوں گی۔
ڈاکٹر صاحب سوشلزم میں ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق کام کرتا ہے اور جو وہ کام کرتا ہے اس کے مطابق اس کو اجرت ملتی ہے لیکن اس میں ایسے اصول بنائے جاتے ہیں بطور معاشرہ کے وہ امیر غریب سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں اور اس میں ٹریڈ یونین سٹوڈنٹ یونین فعال کردار ادا کرتی ہیں اور بنیادی انسانی ضروریات سب تک یکساں پہنچائی جاتی ہیں جیسے صحت اور تعلیم اور قانون جرائم کی صورت میں سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے اس میں حکومت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اصول وضع کرنے میں کاروبار اور انڈسٹری میں کہ وہاں پر کام کرنے والوں کے حقوق محفوظ رہیں لیکن یہ پرائیویٹ اونڈ رہتا ہے بہت حد تک جس کی مثال Scandinavian ممالک اور کینیڈا ہیں لیکن کمیونزم میں ہر بندہ اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرتا ہے اور اس کو اس کی ضرورت کے مطابق ملتا ہے اس میں معاوضے کا کوئی تعلق اس کے کام سے نہیں رہتا کیونکہ یہاں پہ معاشرے نے وسائل کی Abundance کا لیول achieves کر لیا ہے اس میں کارل مارکس کے مطابق کاروبار انڈسٹری نہ ہی ایک کیپٹلسٹ سرمایہ دار کے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی اس کو گورنمنٹ کے نمائندے چلا رہے ہیں بلکہ یہ ان ٹریڈ یونین کے ہاتھ میں ہے جو وہاں کے کام کرنے والے لوگوں پر مشتمل ہے اور وہ democratically یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے اس کے لیے سوسائٹی کو ایک ٹرانزیشن سے گزرنا پڑتا ہے جس کا پہلا اسٹیج سوشلزم ہے۔
میرے لیے حیرت اس میں لوگوں کا سوشلزم اور کمیونزم سے بدکنا ہے کمیونزم کا لفظ خود کمیون مطلب مل جل کر رہنے سے ہے اور اس لفظ کی اولین تاریخ آپ کو عیسائی مذہبی کتب میں ملے گی جس میں لوگوں کو مل جل کو وسائل کی تقسیم کی ہدایت کی گی ہے۔ یہ سارا نظام اس لیے تشکیل دیا گیا ہے تاکہ فیوڈلزم جس میں کام کرنے والے ہاری ساری عمر بے زمین گزارتے اور بے زمین مر جاتے ہیں اور ایک لارڈ، چوہدری، وڈیرا سردار کی سو مربعوں کا مالک بن کر سارے وسائل ہڑپ کر جاتا ہے اس فیوڈل نظام سے بھی ان لاوارثوں کی زندگی گزارنے والے لوگوں کی جان چھڑائی جا سکے اور دوسری طرف کاروبار اور انڈسٹری کے سرمایہ داروں سے بھی مزدوروں کو تحفظ دیا جا سکے جو below minimum wage ساری عمر بغیر کسی پینشن الاؤنس بونس میڈیکل اور بچوں کے ایجوکیشن پلان کے کام کرتے ہیں اور اس دوران اگر مر جائیں تو سیٹھ چند پیسے بطور ہڈی پھینک کر اپنی جان چھڑا لیتا ہے اس استحصال کو آپ امریکہ اور پاکستان دونوں جگہ ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔
سٹار بکس اور ایمازون جیسے منافع بخش کاروبار اپنے کام کرنے والوں کو یونین بنانے کی اجازت نہیں دیتے کہ جس دن یونین بنے اس دن ان کو مناسب اجرت اور میڈیکل کا تحفظ دونوں دینے پڑیں گے اور پاکستان تو پھر سیارے دنیا کا ملک ہے۔ برنی سینڈرز آج بھی اسی سال کی عمر میں شہر شہر جا کر ان یونین کے قیام پر زور دیتے ہیں کیونکہ اسی سے ورکنگ کلاس کا تحفظ کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر صاحب کمیونزم آپ کے یا میرے گھر کے مالکانہ حقوق چھیننے کے درپے نہیں بلکہ وہ کاروبار، انڈسٹری اور زمین پر کام کرنے والوں کو وہاں کا مالک سمجھتا ہے اور بنیادی انسانی ضروریات کو سب کے لیے یکساں کرتا ہے اور سب انسانوں کو یکساں حقوق دیتا اور ان کے حقوق کا یکساں تحفظ کرتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کیونکہ بیشتر ممالک جو اس نظام کے ہمنوا ہیں ان کو کبھی بھی سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں نے نہ کھل کر جینے دیا اور نہ ہی کھل کر اپنا کاروبارِ مملکت چلانے دیا اور اس کے ساتھ میں پہلے ہی عرض کر چکہ ہوں ستر اسی سال اس دنیا کی تاریخ میں ایک سیکنڈ کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے چاہے وہ روس ہو، کیوبا، چین یا یورپ کے سیمی سوشلسٹ ممالک میرے لیے ان کی تمام achiemwnts بہت قابل فخر ہیں کہ نہ صرف وہ اس نظام کو اپنانے کے دوران اس کو سیکھنے کے عمل سے گزرے بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے امریکہ اور دیگر سرمایہ درانہ ممالک کی ریشہ دوانیاں کا مسلسل سامنا کیا۔
میرے لیے چین کی کامیابی اس کے جی ڈی پی سے نہیں بلکہ اس امر میں مضمر ہے کہ کووڈ وبا کے دوران اس کے شہری اس لیے وینٹی لیٹر سے انکار نہیں کرتے تھے کہ ان کے پاس انشورنس نہیں اس کے بل کو کور کرنے کے لیے۔ کیوبا میں بھوک اور مہنگائی سب کو نظر آتی ہے لیکن یہ کسی کو نظر نہیں آتا کہ جس قسم کی معاشی پابندیاں کیوبا پر ہیں کسی بھی ملک کا اس کو sustain کرنا مشکل ہے اس کے باوجود نائم الیون کے فرسٹ ریسپانس ٹیم کے ممبرز کو ایک این جی او کی مدد سے کیوبا کا کر علاج کرانا پڑا کہ امریکہ میں ان کی انشورنس ان کے علاج کے اخراجات کور کرنے سے قاصر تھی۔
ڈاکٹر صاحب چین اس وقت زیر عتاب ہے اس کے ہر طرح کے منصوبوں کے اوپر پابندیوں کی تیاریاں ہیں جس قسم کی پابندیاں ان سوشلسٹ کمیونسٹ ممالک پر لگائی جاتی ہیں میرا سوال ہے یہ اگر امریکہ یا برطانیہ پر عائد کر دی جائیں تو کیا وہ سروائیو کر پائیں گے ایک دن بھی نہیں اس لیے مجھے کاسترو کے یہ الفاظ ہمیشہ زندہ لگتے ہیں
” ہمیشہ سوشلزم کی ناکامی کا قصہ سنایا جاتا ہے کیپٹلزم کی کامیابی کہاں ہے افریقہ ایشا یا لاطینی امریکہ کہاں پہ“
ڈاکٹر صاحب یہ جو بھری تجوریاں دیکھ کر ہمارے سر خم اور ہاتھ سلام کے لیے اٹھ جاتے ہیں یہ خم سر یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا میں بلیئنرز کی بہار ہے اس وقت میں افریقہ میں بچے بھوک سے مر رہے فلسطین میں قہر برپا ہے عراق میں شام میں لیبیا میں تیل کے ذخائر اور خطے میں بالادستی کی جنگ نے ان ممالک کو قبرستان میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے اور افغانستان امریکہ کی مہربانی سے خون آشام طالبان کے ہاتھ میں ہیں جن کو مجاہدین کا نام دے کر پروان چڑھایا گیا یہ کیپٹلزم کی کامیابی ہے۔
آج بھی فلسطین کے لیے آواز بلند کرنے اور احتجاج کرنے والوں میں سب سے اونچی آوازیں سوشلسٹ اور کمیونسٹ خیال رکھنے والوں کی ہیں سو کالڈ مسلم امہ یا انسانی حقوق کے جھوٹے علمبردار امریکہ یا برطانیہ کی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب سوشلزم اور کمیونزم کوئی مذیب نہیں کہ ان میں ایڈیشن سبٹریکشن نہ کی جا سکہ یہ ایک سیاسی اور اقتصادی نظریے کا نام ہے جس کو زمانے اور ہر ملک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سرمایہ درانہ نظام کی طرف پیدا ہوتی نفرت دوبارہ دنیا کو سوشلزم اور کمیونزم کے نظریات پر غور و فکر کی طرف دھکیل رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے ان نظریات کی ترویج کو آسان کیا ہے اور جو کچھ ہم امریکہ کینیڈا اور یورپ کی یونیورسٹیوں کے کیمپس میں آگاہی کی لہر دیکھ رہے ہیں اس میں سوشل میڈیا کے ذریعے متبادل اقتصادی اور سیاسی نظام کی تعلیم کا بڑا کردار ہے۔
ڈاکٹر صاحب آپ کا سوال ایک پی ایچ ڈی کے تھیسز کی بنیاد بن سکتا ہے میں بطور لے مین جتنا ان تین نظاموں کے بارے میں سمجھ رکھتی تھی میں نے اس سے آگاہ کیا لیکن اس کا جواب لکھنے میں میں نے خود بہت سیکھا پڑھا اور سنا مجھے آپ کے اگلے سوال کا انتظار رہے گا تاکہ میری کم علمی میں کچھ کمی واقع ہوتی رہے۔

