سوکھا دریا، شاعر، عورت اور بٹوارہ


پنجابی کلینڈر کے مطابق انگریزی (جارجین) کلینڈر کے اگست اور ستمبر کے مہینے ”ساون“ اور ”بھادوں“ کہلاتے ہیں یعنی بارش کے مہینے۔ اگست 1947 میں بھی خوب جم کر موسلا دھار بارشیں ہو رہی تھیں۔ 14 اور 15 اگست 1947 دو ایسے تاریخ ساز دن تھے جب ہندوستان آزاد ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ دونوں ممالک کے باشندے آج تک ان تاریخوں میں خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں لیکن 1947 میں یہ خوشیاں فوراً ہی ماند پڑ گئی تھیں کیونکہ متحدہ ہندوستان کے ہندو، مسلمان اور سکھ آپس میں گتھم گھتا ہو گئے تھے اور خون خرابے کا بازار گرم ہو گیا تھا خاص طور پر پنجاب، ایک طرف تو مسلسل موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے پانی میں نہایا ہوا تھا اور دوسری طرف آپس کے پرتشدد تصادم کی وجہ سے خون میں بھی نہا گیا سینکڑوں سال سے ایک رہنے والا پنجاب اب دو پنجابیوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔

مغربی پنجاب مشرف بہ اسلام ہو کر نوزائیدہ مملکت خداداد پاکستان کا حصہ بن گیا اور مشرقی پنجاب کافروں کے دیس بھارت ماتا کا حصہ ہی رہا۔ دونوں طرف سے لٹے پٹے قافلوں کا سیل رواں چل پڑا۔ مغربی پنجاب سے ہندو اور سکھ مشرقی پنجاب کی طرف بے سرو سامانی کی حالت میں نکل کھڑے ہوئے اور مشرقی پنجاب سے مسلمان گرتے پڑتے، مرتے کھپتے مغرب کی جانب دوڑ پڑے دونوں طرف کے متحارب گروہ ایک دوسرے کے پیدل قافلوں اور ریل گاڑیوں پر منظم لوٹ مار اور قاتلانہ حملے کرنے لگے۔

اگست 1947 میں مسلسل ہونے والی بارشیں ستمبر 1947 میں بھی نہ تھمیں۔ بٹوارے کے اس غلیظ رزمیے میں 28 ستمبر 1947 کو دونوں طرف کے دو گھر بدر قافلوں کی اچانک ملاقات کا خاتمہ اس بپتا پر ہوا جسے ”بیاس کی آفت ناگہانی“ کا نام دیا گیا۔ یہ ایک ایسی تباہی کی داستان ہے جو انسانوں کے بجائے قدرت کی طرف سے لکھی گئی۔ لگتا ہے قدرت بھی اس سال انسانیت کی تباہی پر تلی ہوئی تھی جتنی انسانیت خود اپنی تباہی پر۔ پنجاب کے پانچ دریاؤں میں سے ایک دریا جو دریا بیاس کہلاتا ہے کے کنارے سڑک پر جو دریا بیاس اور اس کے معاون پر برساتی نالے کے درمیان واقع تھی۔

مخالف سمتوں سے آنے والے لٹے پٹے دو قافلوں نے تیز بارش کی وجہ سے آمنے سامنے پڑاؤ ڈالا۔ 29 ستمبر 1947 کی رات کے پچھلے پہر دریا بیاس اور معاون برساتی نالے میں طغیانی آ گئی۔ یہ طغیانی سینکڑوں انسانوں اور ڈھور ڈنگروں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔ سیلاب کا پانی انسانوں کے مذہب اور مویشیوں کی بے بسی کو بھی خاطر میں نہ لایا۔ اس دور ابتلا میں انسان اور مویشیوں کی لاشیں اٹھانے کی کس کو فرصت تھی اگلے کئی ہفتوں تک اس علاقے سے گلی سڑی لاشوں کی سڑانڈ اٹھتی رہی۔

دریا بیاس کوہ ہمالیہ سے نکلتا ہے اور مشرقی پنجاب بھارت کے اضلاع امر تسر اور جالندھر کے درمیان سے گزرتا ہوا فیروز پور کے راستے قیام پاکستان سے قبل مغربی پنجاب ”پاکستان“ میں داخل ہوتا تھا اور کئی علاقوں جس میں جہانیاں اور اوکاڑہ وغیرہ شامل تھے کو سیراب کرتا تھا۔ بھارت نے بٹوارے کے بعد بیاس کو فیروز پور کے مقام پر دریا ستلج میں شامل کر دیا اب پاکستانی علاقوں میں یہ دریا مکمل طور پر خشک ہو گیا ہے۔ پاکستانی علاقے میں اس دریا کی خشک گزر گاہ کو دریا سکھ (سوکھا ) بیاس کا نام دے دیا گیا ہے اور علاقے کی ہزاروں ایکڑ زمین بنجر ہو چکی ہے۔

البتہ جب بھارتی علاقے میں دریاؤں میں سیلاب آتا ہے تو فاضل پانی کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی علاقے میں سیلاب کی تباہی آجاتی ہے۔ کوئی وقت تھا پاکستانی علاقے میں اس دریا سے ٹنوں کے حساب سے مچھلی کا شکار کیا جاتا تھا۔ جبکہ یہ دریا سائبیریا اور دیگر ممالک کے آنے والے پرندوں کا مسکن بھی رہا ہے۔ دریا میں بلا مبالغہ لاکھوں مرغابیاں بسیرا کرتی تھیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بھارت کی جانب سے دریاؤں پر ڈیم بنانے کی وجہ سے جہاں دیگر دریا خشک ہوئے وہیں دریائے سکھ بیاس بھی اپنی بے بسی کی داستان بن گیا۔

بٹوارہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو آج بھی لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ بھارت کے ایک مقبول شاعر ندا فاضلی، جو پاکستان کے مشہور شاعر تسلیم فاضلی کے بھائی تھے۔ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں :

”وراثت کے اتفاقات اور تجربات و مشاہدات کے تصادم میں میری شرکت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب میں اچانک گھر سے بے گھر ہوا۔ یہ بے گھری میرا ذاتی انتخاب تھا۔ اس انتخاب کی وجہ میرے والدین کی گوالیار سے پاکستان ہجرت تھی اور میں اس ہجرت کا مخالف تھا۔ ان کی اپنی دلیلیں تھیں اور میرے اپنے جواز وہ آزادی کے بعد سے سن 64,65 ء کے فسادات تک ہندوستان کو مسلمانوں کا دشمن سمجھتے تھے۔ پاکستان کو ایک قومی مسکن سمجھتے تھے۔

میں دو قومی نظریے کو سیاست کی بھول اور تبدیلی زمین کو بے اصول سمجھتا تھا۔ وہ اپنے فیصلے کے مطابق چلے گئے اور میں یہیں رہ گیا۔ اب میں گھر سے بے گھر تھا۔ بے گھری کا عذاب اس وقت میرا نصیب بنا جب گھر اور گھر والے میری مادی و روحانی ضرورت تھے۔“ اس تمام کے باوجود اپنی مٹی سے جڑے اس انسان کو 1992 کے سانحہ بابری مسجد کے تناظر میں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات میں کئی دن تک ایک ہندو دوست کے گھر پناہ لینی پڑی۔

بٹوارے کے 77 سال بعد آج بھی تقسیم کے ان زخموں سے خون رس رہا ہے۔ پچھلے ہفتے ایک خبر سوشل میڈیا اور اخبارات کی زینت بنی کہ پاکستان میں مقیم بھارتی خاتون حمیدہ بانو 22 سال بعد اپنے وطن واپس لوٹ گئی۔ حمیدہ بانو سے ایک انسانی اسمگلر نے غیر قانونی راستے سے بمبئی سے دبئی بھجوانے کے لیے پیسے اینٹھے اور بجائے دبئی کے براستہ کراچی، حیدرآباد سندھ پہنچا دیا۔ حمیدہ بانو کسی نہ کسی طرح ان انسانی اسمگلروں کے چنگل سے نکل بھاگی۔

وہ بتاتی ہے اس کے ساتھ چار پانچ جوان لڑکیاں بھی ان انسانی اسمگلروں کے قبضے میں تھیں ان کا کیا بنا یہ کسی کو معلوم نہیں۔ دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے حمیدہ بانو ہندوستان واپس نہ جا سکیں۔ تن تنہا اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے انہوں نے پاکستان میں شادی کرلی۔ ان کے پاکستانی شوہر کا کوویڈ 19 کے دوران انتقال ہو گیا۔ وہ اب اپنے سوتیلے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ سال 2022 میں ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے حمیدہ بانو کی ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ حمیدہ بانو کا تعلق ممبئی انڈیا سے ہے اور انہیں نوکری کا جھانسا دے کر ایجنٹ نے دبئی کے بجائے پاکستان پہنچا دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو نشر ہونے کے بعد حمیدہ بانو کے خاندان کا سراغ ملا اور ممبئی میں مقیم ان کی بیٹی نے رابطہ کیا۔ سال 2022 میں یہ معاملہ حکومت پاکستان کے نوٹس میں آیا تو حمیدہ بانو کی شہریت کی تصدیق کے لئے بھارتی حکام سے رابطہ شروع ہوا، بھارت کی طرف سے حمیدہ بانو کی شہریت کی تصدیق کے بعد انہیں بائیس سال بعد بھارت واپس بھیج دیا گیا۔ حمیدہ بانو کے مطابق وہ بھارت واپسی سے مایوس ہو چکی تھیں لیکن آج وہ خوش ہیں کہ واپس اپنے خاندان کے پاس جا رہی ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ 1945 میں ہوا اس جنگ کی زد میں تمام یورپی ممالک بھی آ گئے اور باہم دست و گریباں ہو گئے نتیجہ پانچ کروڑ انسانوں کی موت اور یورپ کے بڑے شہر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ جنگ ختم ہونے کے 12 سال کے اندر ہی یورپی ممالک میں یہ احساس جاگ اٹھا کہ آپس میں اتحاد و اتفاق ہی پرامن بقائے باہمی کی چابی ہے۔ چنانچہ 1957 میں، جنگ عظیم کے بارہ سال بعد ہی انہوں نے یورپی مشترکہ منڈی کی بنیاد ڈالی اور مزید 36 سال بعد یہ 27 ممالک ایک ایسے خطہ میں ڈھل گئے جن کے درمیان کوئی ویزا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تجارتی بندش بلکہ بھانت بھانت کی کرنسیوں کی جگہ تمام ممالک میں صرف ایک کرنسی جس کا نام یورو رکھا گیا ہے رائج ہو گئی ہے۔

حالانکہ ان ممالک میں رائج زبانیں بھی الگ الگ ہیں لیکن اب ان کے درمیان باہمی آویزش کی ذرا سی رمق بھی باقی نہیں۔ ہماری اور بھارت کی ثقافت ایک، زبان ایک رسم الخط الگ ضرور ہے لیکن بول چال ایک، محاورے ایک، حتی کہ گالیاں بھی سانجھی ہیں۔ ہم 77 سال بعد بھی ایک بن کر نہیں رہ پا رہے۔ ذرا سوچئے اس ہمہ وقت رنگ بدلتی دنیا میں ہم خطہ کے 2 ارب انسانوں کی قسمت کی چابی لئے کہاں کھڑے ہیں۔ کاش تاریخ کا دھارا بدلنے میں نئی نسل کوئی کردار ادا کر سکے۔

Facebook Comments HS