سرزمینِ بلوچان کا الگ نوجوان
میں کہوں زُلفِ درخشاں میں تیرے عکس کی مانند
ڈوبے ہوئے دیوانے وطن دوست ہزاروں ہیں
دسمبر کی سرد شامیں جب مختصر دن کے نرم و نازُک سورج کو خُدا حافظ کے پیغام دے رہے ہوتے ہیں تو جدید دور کے بنتے بِگڑتے حالات سے بے خبر ایک نوجوان اس سورج کو کچھ الگ انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس ڈوبتے سورج کو وہ ایک ایسے ڈوبتے ہوئے کشتی سے جوڑ رہا ہوتا ہے جس کے مُسافر گہری نیند میں مد ہوش ہیں۔ وہ نہ جانے کیوں خُشک آنکھوں میں ایک ہلکی نرم و نازُک اشک کے ایک چھوٹے سے قطرے میں ایک دلفریب دنیا کی بے پناہ رنگوں بھرے نادانیوں کو ظُلم کے پنجرے میں بند اس قدر بے بس دیکھتا ہے کہ جو سخت اذیتوں کو ہنسی مذاق میں اُڑا دیتے ہیں۔
وہ اس قطرے میں رقص و سرور کرتے وہ نوجوان دیکھ رہا ہوتا ہے جن کے سامنے جنازے اور ہاتھ میں دُشمن کی تلوار جس کی نوک پر اُس کا اپنا خون ٹپک ٹپک کے اُسی سرزمین کے سینے کو سیراب کر رہی ہوتی ہیں۔ جس پر سالوں پہلے اُس کے آبا و اجداد نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کی تھی۔ ستم ظریفی تو یہ کہ وہ اپنے اُن دشمنوں سے داد لے رہا ہوتا ہے جن کی تلوار اُس کے اپنے ہاتھ سے اپنے ہی خون میں تر محفلِ رقص کی نظروں کا مرکز ہے۔
ڈوبتے سورج کو دیکھتے نوجوان کی آنکھوں سے یہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے اور سرزمینِ بلوچان کے سینے میں غائب ہوجاتا ہے۔ اور پھر ایک آنسو ایک چھوٹے سے قطرے میں الگ دنیا بسائے اُس کے سوچوں کا محور بن جاتا ہے۔ اس قطرے میں نوجوانوں کا ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جو وطن عزیز کی آزادی کے نام پر نکلے تھے مگر اُنہیں آزاد وطن سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ نواب اکبر بُگٹی کا نظریہ بھول گئے، وہ بابا خیر بخش کے فلسفے بھول گئے۔ وہ سرزمینِ بلوچان کے بلوچوں سے نبرد آزما ہوئے اور ہر شخص سے بھاری بھرکم محصول وصول کر کے خود پر فخر کرنے لگے مگر بے بنیاد محلیں کب اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں۔ نوجوان کی آنکھ سے یہ قطرہ بھی نکل کر زمین کی گود میں غائب ہوجاتا ہے۔
اور پھر ایک قطرہ اُس کی جگہ لے لیتی ہے جس کے نمکین وجود میں اُن نوجوانوں کا خاکہ رقص کرنے لگتا ہے۔ جس کا قصور گُزرے تمام لوگوں سے بڑا اور افسوسناک ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کے ہاتھ میں قلم اور کتابیں دور سے پڑھے لکھے نوجوانوں کا پتا دیتے ہیں مگر ان سکھوں کے دامن میں ایک الگ تاریک وجود بھی ہے جو سرزمینِ بلوچان کے تمام محرومیوں کے واحد ذمہ دار ہیں۔ یہ وہ نوجوانوں کا گروہ ہے جو ہاتھ میں قلم اور کتاب تو لیے پھرتے ہیں مگر ان کے دماغ اپنے مستقبل کے سِوا کسی چیز پر سوچنے سے قاصر ہیں۔
یہ ظُلم کو دیکھ کر خاموش رہنے والے وہ سپاہی ہیں جو اپنے ہتھیاروں کو استعمال کرنا نہیں جانتے۔ یہ وہ بد نصیب مُسافر ہیں جو سمندر کی سخت لہروں کا مقابلہ کرتے کشتی پر سُوراخ کر کے خود اپنے سمیت تمام مسافروں کو گہرے پانی میں ڈبو دیتے ہیں۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ قطرہ بھی پُر نم آنکھ سے جُدا ہو کر ان سرد ہواؤں میں جھومتے ہوئے سرزمینِ بلوچان کو دسمبر کی سرد شاموں کو الگ انداز میں دیکھنے والے ایک نوجوان کے دل کا وہ آگ بیان کر رہا ہوتا ہے جس کی ایک چنگاری دنیا کے تمام ظُلمتوں پر بھاری پڑ جائے۔

