دریائے موزلے کے کنارے ریمیش کی سیاحت
دو تین دنوں سے ہم مسلسل ایک سروس سٹیشن پر گاڑی کی سروس کروانے کے لیے جا رہے تھے لیکن وہاں پر پہلے ہی کچھ رش اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ ہمیں واپس آنا پڑتا کیوں کہ پہلے دن ہی ہم نے سروس چارجز کی ادائیگی کر کے ٹوکن خرید لیا تھا۔ اس لیے اب سروس یہیں سے کروانا لازمی تھا۔ ورنہ پندرہ یورو میں خریدا گیا ٹوکن ضائع ہو جاتا۔
ایک دن وہاں گئے تو تین چار گاڑیاں ہی پہلے سے لائن میں لگی ہوئی تھیں۔ ہم بھی لائن میں لگ گئے کیوں کہ گاڑی میں بیٹھ کر بے کار میں انتظار کرنے کے علاوہ اور کوئی دوسرا کام تو تھا نہیں اس لیے یہاں پر بیٹھنے کی بجائے میں تانکی جھانکی کرنے کے لیے کار سے باہر آ گیا۔ سب سے پہلے تو میں اس جگہ پر گیا جہاں پر گاڑیوں کی سروس کی جا رہی تھی۔ وہاں پر ایک گاڑی کھڑی ضرور تھی لیکن اس کی سروس نہیں ہو رہی تھی۔ میں حیران تھا کہ کسی بھی گاڑی کی سروس نہیں کی جا رہی تھی۔
اس کے باوجود سب لوگ اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے بڑے صبر کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد میرے سامنے لگا ہوا لوہے کا ایک شٹر ایک شور کے ساتھ خود بخود ہی اوپر اٹھنا شروع ہو گیا۔ جب شٹر مکمل طور پر اُوپر اٹھ گیا تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک گیراج تھا۔ جس کے اندر ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ میرے پاس ہی کھڑا ہوا ایک گورا اس گیراج میں داخل ہوا۔ اندر کھڑی ہوئی گاڑی کا گیٹ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی سٹارٹ کی جونہی گاڑی سٹارٹ ہو کر تھوڑا سا آگے بڑھی تو اس کے سامنے لگا ہوا دوسرا شٹر خود بخود ہی اوپر اٹھ گیا۔ اس نے گاڑی گیراج سے باہر نکالی اور یہ جا وہ جا۔
اس کے بعد جو گاڑی لائن میں سب سے آگے تھی اس نے حرکت کی اور گیراج میں داخل ہو گئی اور گاڑی کا مالک اسے وہاں پر کھڑی کر کے خود باہر نکل آیا جونہی وہ باہر نکلا شٹر اپنے آپ ہی بند ہو گیا۔ اتنی دیر میں عمیر بھی گاڑی سے اُتر کر میرے پاس آ گیا اور مجھے بتانے لگا کہ یہاں پر گاڑی کی سروس خود کار طریقے سے کی جاتی ہے۔ یہاں کوئی بھی فرد موجود نہیں ہوتا۔ اب اس گیراج کے اندر گاڑی کی سروس خود بخود ہو رہی ہے۔ سروس چارجز دس یورو سے لے کر بیس یورو تک ہیں۔
آپ گاڑی کو صرف باہر سے پانی ہی مروانا چاہتے ہیں یا اس کے ساتھ واشنگ پاؤڈر کا استعمال بھی چاہتے ہیں۔ اس کے ٹائر، رم وغیرہ کو برش سے صاف کروانا چاہتے ہیں اس کے چارجز الگ الگ ہیں۔ جونہی اس گاڑی کی سروس ہو جائے گی تو یہ گیٹ خود بخود کھل جائے گا۔ ڈرائیور جب اندر جا کر گاڑی کو سٹارٹ کرے گا تو سامنے والا گیٹ بھی کھل جائے گا۔ وہ اپنی گاڑی کو نکال کر لے جائے گا اور نئی گاڑی اس کی جگہ لے لے گی اور اُس گاڑی کا مالک سروس ٹوکن وہاں پر لگی ہوئی ایک مشین میں ڈالے گا۔ یہ مشین ٹوکن کو پڑھ کر سروس مشین کو میسج دے گی کہ سروس میں کون کون سے کام کرنے ہیں اور اس طرح گاڑی کی سروس خود بخود ہی اندر لگی ہوئی مشین شروع کر دے گی۔
اس سارے عرصے کے دوران میں نے دو تین بار اپنی ساری جیبوں کو ٹٹولا مگر مجھے اپنا موبائل کہیں نہ ملا میرا خیال تھا کہ وہ گاڑی میں کہیں پڑا ہوا ہو گا۔ اتنی دیر میں گھر سے آمنہ کا فون آ گیا۔ اس نے پوچھا، کہ آپ کو کتنی دیر ہے ہم نے بتایا کہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگ سکتا ہے تو وہ کہنے لگی کہ آپ لوگ واپس آجائیں۔ گاڑی کل سروس کروا لیں گے۔ ہمیں پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔ آج ہم نے ایک سرحدی قصبے ریمیش جانا تھا جو یہاں سے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
ہم جب گاڑی میں آ کر بیٹھے تو میں نے اِدھر اُدھر اپنے موبائل کو دیکھا لیکن وہ کہیں بھی دکھائی نہ دیا۔ تو میں نے عمیر سے کہا کہ وہ میرے فون پر رنگ کرے۔ اس نے میرا نمبر ملایا تو رنگ کی آواز مدھم سی آ رہی تھی میں نے پھر گاڑی میں دیکھا، اپنی جیبوں کو ٹٹولا فون کہیں بھی نہیں تھا۔ لیکن رنگ برابر سنائی دے رہی تھی۔ اب میں گاڑی سے نیچے اُتر آیا اور گاڑی کے پیچھے کی سمت چلنا شروع کر دیا تاکہ کم ازکم اس بات کا تو پتہ چل سکے کہ فون گاڑی میں ہی کہیں بج رہا ہے یا باہر میں تھوڑا سا اور پیچھے آیا تو رنگ کی آواز اور زیادہ واضح ہو گئی میں نے آواز کا تعاقب کیا تو میرے عین سامنے زمین پر پڑا ہوا میرا موبائل مجھے بلا رہا تھا۔ میں نے اُسے اُٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔
بہرحال ہم یہاں سے واپس گھر آ گئے۔ ضوحا اور آمنہ کو ساتھ لیا اور ریمیش کی طرف چل دیے۔ دُھوپ نکلی ہوئی تھی، موسم اچھا تھا لیکن چاروں طرف خزاں کے اثرات غالب نظر آرہے تھے۔ اکثر و بیشتر درختوں کے پتے زرد ہو کر بڑی تیزی سے زمین پر گر رہے تھے۔ پت جھڑ کا موسم پورے عروج پر تھا۔ راستے میں ایک جگہ پر واش روم جانے کے لیے رُکے۔ وہاں پر تین چار بڑے بڑے ٹرالر بھی رُکے ہوئے تھے۔ عمیر نے وضاحت کی، ٹرالر کے ڈرائیور کو دن میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈرائیونگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جونہی ٹرالر سٹارٹ ہوتا ہے اس کے مالک کو پتہ چل جاتا ہے اور آٹھ گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد ڈرائیور نے باقی وقت آرام کرنا ہوتا ہے۔ ڈرائیور کے ڈرائیونگ کیبن کے عین پیچھے ایک اور کیبن بنا ہوتا ہے جس میں ڈرائیور کا بستر لگا ہوتا ہے۔ بقیہ وقت ڈرائیور یہاں لیٹ کر سو لیتا ہے یا چل پھر لیتا ہے۔
ہم لوگ آدھ پون گھنٹے کے بعد ریمیش میں تھے۔ ہم ریمیش کی گلیوں اور سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے اسے جھانک رہے تھے لیکن یہاں پر کوئی غیر معمولی چیز دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ چلتے چلتے اچانک ہی ہم لوگ ایک میلے میں جا نکلے جو قصبے کے ایک طرف تین چار ایکڑ کے گراؤنڈ میں لگایا گیا تھا۔ چھوٹی چھوٹی بہت سی دکانیں تھیں۔ جن میں بہت ہی روایتی اشیاء فروخت کی جا رہی تھیں۔ یہاں پر سیاحوں اور مقامی لوگوں کا بہت بڑا رش تھا۔ ہم بھی گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے اس ہجوم کا حصہ بن گئے۔
یہاں کے میلے ٹھیلے بھی ہمارے ہاں لگنے والے میلوں سے ملتے جلتے ہیں۔ ایک طرف ایک جادوگر اپنا جادو دکھا رہا تھا اور جو وہ کرتب دکھا رہا تھا وہ میں پاکستانی جادو گروں سے بھی دیکھ چکا تھا۔ تقریباً سبھی کرتب انہی سے ملتے جلتے تھے۔ ایک طرف اوپر نیچے گھومنے والے پنگھوڑے اور گول گول دائرے میں گھومنے والے پنگھوڑے تھے۔ ان پنگھوڑوں میں لکڑی سے بنے ہوئے مختلف جانوروں مثلاً ہاتھی، گھوڑے، شیر اور دوسرے جانوروں پر بیٹھ کر بچے گول دائرے میں گھومتے ہوئے جھولے لے رہے تھے۔ ضوحا نے ان جھولوں پر جھولے لینے کی خواہش کا اظہار کیا تو اُسے بھی جھولے پر بٹھا دیا گیا۔ جب وہ گھومتی ہوئی ہمارے پاس سے گزرتی توہم لوگ باقاعدہ طور پر تالیاں بجا کر اور شور مچا کر اُس کی حوصلہ افزائی کرتے اور جواباً وہ بھی شور مچاتی۔
یورپ میں لوگ بات بھی بہت دھیمی آواز میں کرتے ہیں۔ اُن کے لیے ہمارا یہ شور شرابا شاید ناپسندیدہ بات ہوگی لیکن ہم لوگ بغیر کسی جھجک اور شرمندگی کے اپنے شور شرابے سے محظوظ ہوتے رہے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم نے دیکھا کہ پنگھوڑوں میں جھولے لینے والے بیشتر بچوں کے والدین بھی ہماری دیکھا دیکھی اپنے اپنے بچوں کی ہماری طرح حوصلہ افزائی کر رہے تھے اور باقی سب لوگ اس نئے منظر کو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے بالکل اسی طرح ضوحا کے سکول میں بھی ایک نئے رواج کو فروغ دیا ہے۔
دو تین دنوں سے میں اُسے سکول سے لینے جا رہا تھا سکول کے اردگرد چار ساڑھے چار فٹ اُونچی اور تقریباً دو فٹ چوڑی دیوار ہے۔ ایک دن اس نے دیوار پر چلنے کی خواہش کا اظہار کیا میں نے اُسے اٹھا کر دیوار پر کھڑا کر دیا اور میں اس کے ساتھ ساتھ سڑک پر جب کہ وہ دیوار پر چلتی رہی۔ باقی لوگ ہمیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے لیکن میں نے لاپرواہی سے اس کام کو جاری رکھا۔ دوسرے دن بھی ہم اسی طرح ہی سکول سے چلتے ہوئے گھر آئے۔
تیسرے دن اس کی کلاس کے دو اور بچے بھی اسی طرح دیوار پر چل رہے تھے اور اب اس طرف آنے والی تقریباً پوری کلاس ہی دیوار پر دوڑ رہی ہوتی ہے اور والدین اُن کے ساتھ ساتھ آرہے ہوتے ہیں اور کسی کو اس حرکت پر کوئی حیرانی نہیں ہوتی۔ ہاں تو بات میلے کی ہو رہی تھی۔ پنگھوڑے، مداری، جادوگر، موسیقار، گلوکار، داستان گو سبھی لوگ اپنے اپنے فن کا ایسے ہی مظاہرہ کر رہے تھے جیسے ہمارے ہاں ایسے موقعوں پر کیا جاتا ہے۔
اسی طرح یہاں پر ہیلو وین ڈے منایا جاتا ہے۔ جس میں چھوٹے چھوٹے بچے خوفناک چہروں والے ماسک پہن کر دوسروں کے گھروں میں مانگنے جاتے ہیں۔ ہمارے دیہات میں بھی یہ رسم اس سے ملتے جلتے طریقے سے ادا کی جاتی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بچے گرمیوں کے موسم میں جب خشک سالی کا سماں ہوتا تو اپنے چہروں کو کالک مل کر کالا کر لیتے۔ پھر وہ اجتماعی طور پر سب گھروں میں مانگنے جاتے او ر اس طرح جو بھی آٹا دانے اکٹھے ہوتے انہیں بیچ کر دلیا پکانے کا اہتمام کیا جاتا۔
پھر وہ دلیہ بچے خود بھی کھاتے اور اگر باقی بچ جاتا تو اُسے گاؤں میں تقسیم کر دیا جاتا۔ جب وہ گھروں سے مانگ رہے ہوتے تو وہ باقاعدہ طور پر کورس کی شکل میں یہ مصرعہ بھی گایا کرتے تھے کہ ڈھوڈے دامنہ کالا، ڈھوڈھا مینہ منگ دا۔ گویا کہ یہ سارا کام بارش برسوانے کے لیے کیا جاتا تھا اور عموماً اس سارے عمل کے کسی بھی مرحلے یا اختتام پر بارش ہو بھی جایا کرتی تھی۔ یہی ہمارا ہیلودین ڈے ہوا کرتا تھا۔
اسی طرح میں یورپ کی تاریخ دیکھ رہا تھا۔ اس میں 8000 ء قبل مسیح میں اس کے اولین خانہ بدوش قبائل کا ذکر آتا ہے۔ جو اجتماعی طور پر شکار کیا کرتے تھے اور اس شکار کا گوشت خشک کر کے محفوظ کر لیا کرتے تھے اور اسی گوشت کو اپنی خوراک کے کام میں لاتے۔ میں نے پچھلی صدی کے آخر تک ان خانہ بدوشوں کو اپنے گاؤں میں آتے اور اجتماعی طور پر شکار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ انہیں ساہنسی کہا جاتا تھا۔ یہ گیڈر، گوہ، سیہ، سانپ، سور، بھیڑیے، بلے کچھوے، مینڈک غرض کہ جو بھی جاندار نظر آتا اُسے شکار کرتے اس کا گوشت رسیوں میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں پرو کر انہیں خشک کرتے اور بعد میں انہیں اپنی خوراک کے استعمال میں لاتے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ یورپ میں یہ لوگ آٹھ ہزار قبل مسیح میں یہاں پر موجود تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اپنی اس حالت کو بہتر کرنے لگے اور آج وہ دُنیا کی مہذب ترین اقوام سمجھی جاتی ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں شاید آج بھی وہ خانہ بدوش اسی طرح ہی موجود ہیں۔ اسی ایک مثال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم لوگ ان مہذب اقوام سے کتنا عرصہ پیچھے ہیں۔ غالباً یہ عرصہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سالوں میں بنتا ہے۔
میلے میں ہم کافی دیر تک گھومتے پھرتے رہے۔ یہاں دکانوں پر فروخت کی جانے والی چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی اشیاء کا جائزہ لیتے رہے۔ لوگ باگ اس سارے عمل کے دوران بڑے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جی بھر کر میلہ دیکھنے کے بعد ہم دریائے موزلے کے کنارے چلے آئے جو پاس ہی بہہ رہا تھا۔ اس دریا کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ آبادی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔
ہمارے پنجابی زبان میں ایک ضرب المثل ہے، جس کا اُردو میں مطلب یہ ہے کہ دریا کے بہاؤ کو کون قابو میں کر سکتا ہے۔ لیکن یورپ نے اس ضرب المثل کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ ان لوگوں نے دریاؤں کے بہاؤ کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔ یہاں پر اکثر شہروں کے عین درمیان میں سے دریا گزرتے ہیں۔ مجال ہے کہ یہ آبادی کو کوئی نقصان پہنچاتے ہوں۔ جب کہ ہمارے قریب سے دریائے ستلج گزرتا ہے عام دنوں میں اس میں جو پانی بہتا ہے اس کی مقدار ایک کھال میں بہنے والے پانی سے زیادہ نہیں ہوتی ہے لیکن جب موسم برسات میں اس میں سیلاب آتا ہے تو یہی دریا اپنے اردگرد میلوں تک بستیوں اور فصلوں کو اجاڑ دیتا ہے۔
دریا کے کنارے کو صفائی ستھرائی، گھاس، پودوں، پھولوں اور درختوں سے خوب آراستہ کیا ہوا تھا۔ جگہ جگہ پر لکڑی کے بنچ پڑے ہوئے تھے۔ جن پر اکثر نوجوان جوڑوں نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ دریا میں کشتیاں چل رہی تھیں۔ یہ کشتیاں سیاحوں کی تفریح طبع کے علاوہ نقل و حمل کے لیے بھی استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ ہر سانس کے ساتھ جسم کے اندر اُترنے والی صاف، تازہ اور خوشبو سے مہکی ہوئی ہوا جسم و روح کو فرحت بخش رہی تھی۔ ہم کافی دیر یہاں پر گھومتے پھرتے رہے۔ ایک جگہ پر آئس کریم کا سٹال لگا ہوا تھا۔ وہاں سے آئس کریم لے کر کھائی گئی۔
موسم اور ماحول اس قدر خوبصورت اور پرکشش تھا کہ یہاں سے جانے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن ہم لوگوں نے رات کا کھانا عمیر کے ایک پاکستانی دوست ذیشان کے ہاں کھانا تھا۔ جس نے ہمیں پہلے سے مدعو کر رکھا تھا۔ اس لیے بادل نخواستہ ہم نے ذیشان کے گھر کی راہ لی۔ پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم ایک قصبے مونڈروف (Mondorf) میں پہنچ چکے تھے۔ جہاں ذیشان رہائش پذیر تھا۔ ہم اس کے گھر کے سامنے جاکر رُکے۔ وہاں سے تقریباً دو سو فٹ آگے مین روڈ اس گلی کو کراس کرتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ عمیر نے وضاحت کی کہ اس مین روڈ کے پار فرانس شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ہم گاڑی کو سڑک کے پار پارک کریں تو ہم کہہ سکیں گے کہ گاڑی ہم نے فرانس میں پارک کی اور کھانا لکسمبرگ میں کھایا لیکن ہم نے گاڑی کو ذیشان کے گیراج میں کھڑا کیا اور اس کے گھر چلے گئے۔
یہاں پر رہائش تقریباً سبھی لوگوں کی اپارٹمنٹس میں ہی ہے۔ شاید یہ موسم کے لحاظ سے یہاں کی ضرورت بھی ہے۔ اس وقت پانچ ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت پر میں آدھے بازوؤں کی شرٹ پہنے بیٹھا ہوا یہ آرٹیکل لکھ رہا ہوں اور مجھے کسی بھی قسم کی کوئی سردی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔ کیوں کہ اپارٹمنٹ کی بیرونی کھڑکیاں بند کی ہوئی ہیں اور اندر کا موسم بڑا آرام دہ ہے۔ ہیٹر کی ابھی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔
ذیشان یہاں پر اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ ان لوگوں نے کھانے میں بہت تکلف کیا ہوا تھا۔ کھانے کے ساتھ ساتھ گپ شپ بھی چلتی رہی بلکہ آنے والی جمعرات کو دونوں خاندانوں نے تین دن کے لیے پیرس گھومنے پھرنے کا پروگرام بھی فائنل کر لیا۔ رات گئے یہاں سے واپسی ہوئی۔



ماسٹر صاحب آپ نے لکھا:
یہ گیڈر، گوہ، سیہ، سانپ، سور، بھیڑیے، بلے کچھوے، مینڈک غرض کہ جو بھی جاندار نظر آتا اُسے شکار کرتے اس کا گوشت رسیوں میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں پرو کر انہیں خشک کرتے اور بعد میں انہیں اپنی خوراک کے استعمال میں لاتے۔۔۔۔۔۔۔اب یہ لوگ مہذب ہوچکے ہیں ؟
–
یہ تمام جاندار اور حشرات تو یورپ سے لے کر چین اور مشرق بعید سے لے کر افریقہ تک متعدد ممالک کے ترقی یافتہ ممالک بھی اب تک کھارہے ہیں۔ تو اس میں تہذیب کہاں سے آگئی ؟
اس کے علاوہ عام طور پر خانہ بدوش لوگ الہامی مذاہب کی قیود سے عاری ہوتے ہیں ان کے اپنے دکھڑے ہوتے ہیں۔ اسی لئے خانہ بدوش چاہے پاکستان کے ہوں یا انڈیا یورپ یا چین کے ان کے لئے اپنی اور اپنے پالتو جانوروں کے لئے روٹی روزی کا حصول ہی زندگی کا ماحصل ہوتا ہے۔ مینڈک یا گوہ ہمارے لئے حلال حرام ہوتی ہے ان کے لئے نہیں۔