اگر اداکارہ تبّو بطور بھارتی وزیرِ اعظم پاکستان آتیں


جِنّات کا بادشاہ حاضر ہو۔ دو منٹ کا وقفہ۔ جنّات کا بادشاہ اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ حاضر ہو۔ پھر دو منٹ کا وقفہ۔ جنّات کا بادشاہ اپنی ساری فوج جرنیلوں کرنیلوں کے ساتھ حاضر ہو۔ اچھا تو تم آ گئے جنّات کے بادشاہ! دیکھو، یہ چوہدری وسیم اور ملک ارشد آئے بیٹھے ہیں۔ ان دونوں کے کام کرنا ہیں۔ اچھا اچھا، ٹھیک ہے یہ لوگ تمہارے قبیلے کی دعوت کے لیے بکرا لا کر دیں گے۔ اصلی عود، زعفران اور کستوری بھی لائیں گے۔ اگر خود نہ لا سکے تو رقم اوطاق کے چراغ کے قریب تمہارے پاس رکھ دیں گے تم اپنے جنّات کو بھیج کر خود ہی منگوا لینا۔

بہاول پور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع اس ڈیرہ پہ رہائش پذیر شاہ صاحب اپنے معتقدین میں ”بابا ملائیت والا“ کے نام سے مشہور تھے۔ ٹھیٹھ سرائیکی زبان میں ملائیت سے مراد وہ جِنّات ہوتے ہیں جو کسی بزرگ یا عامل کے تابع ہوں۔ بابا جی اپنے حجرہ کے اندر دیوار کے اندر بنائے گئے اوطاق میں ہر وقت ایک چراغ کو جلائے رکھتے اور جب مریدین خاص طور پہ خواتین تعویز دھاگہ کے لیے آتیں تو چراغ پہ نگاہ جما کر بار بار دہراتے ”جِنّات کا بادشاہ حاضر ہو“ ۔

بابا جی نے رج کے جائیداد بنائی۔ ہر بیٹے کے لیے الگ الگ شاندار مکان بنائے اور تمام بیٹوں کو اچھے کاروبار کرا دیے۔ ان کا ایک بیٹا وی سی آر پہ انڈین فلمیں دیکھنے کا بہت شوقین تھا۔ یار باش اور شغلی آدمی تھا۔ انتہا درجہ کا مزاحیہ تھا۔ ہر وقت دوستوں کی محفلیں جمائے رکھتا اور مزاحیہ چٹکلے چھوڑتا رہتا۔ باپ کے مریدین روزانہ جو رقم اور نذرانے انھیں دے جاتے وہ باقاعدگی سے اپنا حصّہ لے آتا۔ بس شغل میلہ کے طور پہ بہاول پور ریلوے اسٹیشن کے ریلوے پھاٹک کے قریب چائے کا ڈھابہ کھول لیا جہاں رات کے وقت ہر نئی آنے والی انڈین فلم وی سی آر پہ چلائی جاتی اور ہم جیسے ویہلے دوست وہاں موجود ہوتے۔

ایک دن فون آیا۔ ”اکبر بھائی! تبّو کی نئی فلم ماچس مارکیٹ میں آئی ہے۔ کرایہ پہ کیسٹ لے آیا ہوں۔ آپ آجانا“ ۔ ماچس فلم نے تبّو کے ساتھ ساتھ رائٹر اور ڈائریکٹر گلزار کو بھی شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا۔ راکھی کے شوہر گلزار کو شاعری کے مخصوص حلقوں میں بھی شہرت ملی لیکن اُس پہ تنقید کرنے والے کچھ حلقوں کے نزدیک گلزار دہری شخصیت کا حامل اور پلانٹڈ شاعر اور ادیب تھا ایسے ہی جیسے فیض احمد فیض کے بارے میں ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ جینوئن انقلابی نہیں بلکہ پلانٹڈ ”انقلابی“ تھے جنہوں نے انقلاب کا نعرہ لگا کر اُسے اس طرح سے کیش کیا کہ اپنے لیے وہ تمام آسائشیں اور لگژریز حاصل کیں جو ایلیٹ کلاس کے پاس ہوتی ہیں۔

ادبی حلقوں میں ان کے مخالفین کو یہ بولتے بھی سنا کہ فیض احمد فیض بیک وقت دو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کام کرتے تھے۔ ایک طرف وہ مقامی انٹیلی جنس کو رپورٹ کرتے تھے تو اسی وقت وہ ایک سپر پاور ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی سے بھی رابطہ میں ہوتے۔ الزام لگانے والے تو یہ بھی کہتے کہ وہ جس ”مخصوص پانی“ کے عادی تھے وہ بھی انھیں ایک سپر پاور ملک کی حکومت کی طرف سے مہیا کیا جاتا تھا۔ ویسے تو انڈیا اور پاکستان میں بیک وقت شہرت رکھنے والے ایک بہت بڑے شاعر کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کوٹھے پہ جانے کے عادی تھے جہاں ایک طوائف سے عشق ہو گیا۔

طوائف کو کسی اور چاہنے والے کے ساتھ دیکھ کر انھوں نے طوائف کو قتل کر دیا۔ انگریز کا دور تھا مقدمات کو چالیس چالیس سال تک لٹکانے کا رواج نہ تھا۔ پھانسی کا پھندا لہرایا تو اس بڑے شاعر کو جھوٹی گواہی کے ذریعہ سزا سے بچایا گیا۔ اصل میں انڈیا اور پاکستان جیسے ممالک میں باوردی اور بے وردی اشرافیہ اور ”مقدس ذات پات“ والے مذہبی اور روحانی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ شاعروں اور ادیبوں کے بھی بت تراش لیے جاتے ہیں اور عوام کے سامنے انھیں ایسی ہستیوں کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے جو خامیوں سے مبرّا ہوں۔ ان کے عیبوں کو قومی فریضہ سمجھ کر چھپایا جاتا ہے۔

بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ ہاں تو ہم کہہ رہے تھے کہ ماچس فلم نے تبّو کو ہمارے تحت الشعور کے نہال خانے میں لے جا کے پھینک دیا اور ہم یہ بھی بھول گئے کہ وہ تحت الشعور کے کس لاکر نمبر میں پڑی ہوئی ہیں؟ میرے دوستوں میں ہم عمر کے ساتھ ساتھ بُڈّھے بابے بھی شامل ہیں۔ پچیس دسمبر 2024 کو اپنے بزرگ دوست چوہدری کے ساتھ شہر سے باہر اسلامیہ یونیورسٹی کے بغداد کیمپس سے تھوڑا پہلے سر سبز کھیتوں کے درمیان کھڑے ایک ڈھابہ پہ چائے پینے کا پروگرام بنا۔

جب ہم شہر کے آخر میں بہاول پور شہر کے دوسرے ریلوے اسٹیشن بغداد ریلوے اسٹیشن کے پاس سے گزر رہے تھے تو چوہدری نے کہا ”سی پیک کے ایک پراجیکٹ کے تحت سمہ سٹہ سے بہاولنگر امروکا جانے والی ریلوے لائن کو جو بغداد ریلوے اسٹیشن کے سامنے گزر رہی ہے ڈبل کیا جا رہا ہے تاکہ اسے انڈیا سے کنیکٹڈ کیا جا سکے۔ مقصد یہ کہ کراچی کی اردو اسپیکنگ آبادی کو انڈیا میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی سہولت دی جا سکے۔ دوسرا پہلو یہ کہ انڈین پنجاب، ہریانہ اور وہ ریاستیں جو بمبئی کے سمندر سے کافی دور ہیں انھیں اپنے تجارتی سامان کی یورپ، افریقہ اور عرب ممالک کو شپمنٹ دینے کے لیے کارگو ٹرین کی سہولت مل سکے جس کے بدلہ میں پاکستان انڈیا سے راہداری کرایہ اور ٹیکس کی مد میں کھربوں روپے وصول کرے گا۔

تیسرا پہلو یہ کہ چین کے وہ علاقے جو بھارتی ریاست آسام اور لدّاخ وغیرہ کے ساتھ بارڈر رکھتے ہیں ان کا تجارتی سامان بھی انڈیا سے ہوتا ہوا اس کارگو ٹرین کے ذریعے کراچی پورٹ تک پہنچے گا تاکہ وہاں سے امریکہ، یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطٰی کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرے یعنی اس سارے منصوبہ کے پیچھے چین ہی ہے“ ۔

جب چوہدری یہ سب کہہ رہا تھا تو نا جانے کس لمحے میرے تحت الشعور کے ایک لاکر سے اداکارہ تبّو باہر نکلی اور مجھ سے ہاتھ ملانے کے بعد بولی ”ہاں وَل اکبر! کِتھاں جُلوں؟“ (ہاں تو اکبر! کہاں چلیں؟ ) میں بے خیالی میں خود کلامی والے انداز میں بول گیا ”موٹر سائیکل تے نال بہہ ونج۔ ڈھابے تے چاہ پیون“ (موٹر سائیکل پہ ساتھ بیٹھ جاؤ۔ ڈھابہ پہ چائے پینے ) ۔

ڈھابہ پہ بیٹھے مخمور ہوا سے ”نشئیوں“ والی نیم غنودگی میں چلا گیا۔ اس دوران محسوس ہوا۔ اسلام آباد سے کوئی فون پہ مجھے کہہ رہا تھا ”اکبر! بھارتی وزیرِ اعظم تبّو کو گزشتہ دورہ اسلام آباد میں پولن الرجی ہو گئی تھی اور ہوائی سفر سے ان کے بائیں کان میں درد اُٹھ پڑا تھا۔ بذریعہ ٹرین وہ اچانک دورہ پہ بہاول پور پہنچ رہی ہیں۔ جب تک وزیرِ اعظم پاکستان اسلام آباد سے بہاول پور پہنچتے ہیں تم بطور گورنر بہاول پو ر، انڈین وزیرِ اعظم محترمہ تبّو صاحبہ کا بغداد ریلوے اسٹیشن پہ استقبال کرو“ ۔

میں خود کلامی میں ہی جواب دیتا ہوں ”سر! میں تاں نکا جِیا جونئیر صحافی ہاں کوئی گورنر تاں کائینی“ (سر! میں تو چھوٹا سا جونئیر صحافی ہوں کوئی گورنر تو نہیں ) تو حکم دینے والا جھنجھلا کے کہتا ہے ”بہتر گھنٹوں کے لیے تمہاری گورنری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے جب تبّو صاحبہ واپس انڈیا چلی جائیں تو واپس اپنی اوقات میں آجانا“ ۔ میں کہتا ہوں ”سر! میرے پاس تو شیروانی بھی نہیں۔ شلوار قمیض بنانے کے لیے میں نے کپڑا اپنے پرانے درزی کو نومبر میں دیا تھا ظالم نے دسمبر کے اواخر میں واپس کیا“ تو بڑا صاحب بو لا ”فی الحال سابق شاہی خاندان کے فلاں شہزادے سے شیروانی ادھار لے لو“ ۔ بے ساختگی میں میری زبان سے نکل جاتا ہے ”سر! وہ تو شیخوں سے بھی آگے کی چیز ہے۔ اپنا بخار تک کسی کو نہیں دیتا شیروانی ادھار کیسے دے گا؟“ ۔

ہوٹر بجاتی گاڑیوں کا کانوائے ڈھابہ کے سامنے رکا۔ پروٹوکول بلیک مرسڈیز کار سے تبّو باہر نکلی اور میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ میرے گال کی چٹکی بھر کر بولی ”دو سو روپے والے شیونگ ریزر کو تین چار ماہ تک چلانا تو کوئی تم شیخوں سے سیکھے“ پھر ایک ادا سے بال لہرا کر بولی ”مانگ شیخ! کیا مانگتا ہے“ ۔ میں نے کہا پہلا مطالبہ یہ کہ بھارتی حیدر آباد میں یاہو نے جو اپنا ہیڈ کوارٹرز بنایا، بل گیٹس نے انڈیا میں جو اپنے دفاتر بنائے، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھارت میں جو فیکٹریاں لگائیں، ان سب کے دروازے پاکستانی طلباء پہ کھول دو۔

جواب آیا ”کھول دیے“ ۔ دوسرا مطالبہ ”انڈیا اور پاکستان کے طلباء کو ایک دوسرے کے ممالک کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہو۔ بولی“ آ جائیں ”۔ تیسرا مطالبہ“ انڈیا اور پاکستان کے مریضوں کو ایک دوسرے کے ممالک کے مشہور اور اچھے ہسپتالوں میں دل، جگر، گردوں اور دیگر بیماریوں کے علاج کرانے کی بڑے پیمانہ پہ اجازت ہو اور اس کے لیے ویزہ کی پابندی ختم کر دی جائے بس راہداری ہو۔ بولی ”ٹھیک ہے“ ۔

چوتھا مطالبہ یہ کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جنگ کا خوف دونوں ممالک کے اوپر تیرتا رہتا ہے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دو۔ تبّو مسکرائی اور بولی ”کیوں سرحد کے دونوں اطراف کی کچھ قوتوں کے“ کھابوں ”پہ لات مارنا چاہتے ہو“ ۔ اس پہ میں نے کہا کہ راولپنڈی والا شیخ رشید بھی تمہاری طرح سدا بہار کنوارہ رنڈوا چلا آ رہا ہے، تم اگر مسئلہ کشمیر حل نہیں کرا سکتی تو شیخ رشید کی شادی انڈیا میں کرا دو۔ تبّو جھینپی اور تھوڑا شرمائی۔

ابھی وہ ہاں یا ناں میں جواب دینے ہی والی تھی کہ بابے چوہدری کی آواز میرے کانوں میں پڑی ”اُٹھ شیخا! شاماں پے گئیاں۔ کار نو ں چلیے“ (اُٹھ شیخ! شام ہو گئی۔ واپس گھر کو چلیں ) ۔

ہڑبڑا کر میری آنکھ جو کھلی تو دیکھا نہ تبّو ہے اور نہ گورنری۔ سامنے ہوٹر والی گاڑیوں کی بجائے اسلامیہ یونیورسٹی کی بس گزر رہی تھی جس میں لڑکے لڑکیاں بھیڑ بکریوں کی طرح بھرے ہوئے تھے۔ ”صدمہ“ سے کرسی سے اُٹھا نہیں جا رہا تھا۔ باقی تو سب برداشت کر گئے بس یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ اپنے شیخ رشید کی شادی کا جو تھوڑا بہت چانس تھا وہ بھی گیا۔ بڑے افسردہ دل کے ساتھ لوٹ کے بُدھو گھر کو آئے۔

Facebook Comments HS

4 thoughts on “اگر اداکارہ تبّو بطور بھارتی وزیرِ اعظم پاکستان آتیں

  • 30/12/2024 at 12:25 صبح
    Permalink

    وہ جس قاتل شاعر کا تذکرہ کیا گیا اسے محمد اقبال لاہوری کے نام سے افغانی اور ایرانی بھی مانتے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ کالج کے دور کا ہے جب لونڈے لپاڑے اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ اقبال اس وقت پہلوانی بھی کرتے تھے تو کوئی بعید نہیں۔
    قتل کے الزام سے بچانے میں ان کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد کا ہاتھ تھا جو وکیل تھے اور انہوں نے گواہ پیش کیا کہ وقوعہ کے وقت اقبال کالج کی کلاس میں موجود تھے کیونکہ حاضری رجسٹر پر موجود تھئ۔
    بہرکیف اس جھٹکے کے بعد اقبال کی زندگی تبدیل ہوگئی اور ہمیں ایک اچھا شاعر مل گیا۔

    • 30/12/2024 at 6:47 صبح
      Permalink

      چند اور باتیں۔
      اقبال کی متعدد حرکتیں گھر والوں کو شروع ہی سے ناپسند تھیں۔ پہلوانی، بدمعاشی اور کبوتر / بٹیر اڑانا وغیرہ۔
      پڑھائی میں بھی کچھ خاص نہیں تھے اسی لئے پہلی شادی 15 سال کی عمر کے آس پاس ہی ہوگئی تھی۔
      کہا جاتا ہے کہ اقبال پہلی شادی کے لئے جب گھوڑی پر بیٹھے تھے اس وقت ان کے میٹرک کا نتیجہ آیا تھا۔
      لیکن کالج میں آنے کے بعد اقبال کی حرکتوں کو مزید پر لگ گئے اور 1892 کے آس پاس جب اقبال کی عمر (اکتوبر 1875 کے حساب سے 17 سال) کے لگ بھگ تھی (نومبر 1877 نہیں) اقبال مجرے شوق سے دیکھنے دوسرے کالج کے لڑکوں کے ساتھ جاتے تھے۔

      یہاں تک تو بات ایک حقیقت اس لئے ہے کہ اس کو اقبال اور اس کے دوستوں نے زمانہ جاہلیت کے کرتوت کہہ کر خود مانا لیکن قتل کا معاملہ اس لئے اس طرح بیان نہیں کیا جاسکتا جیسا آپ نے لکھا کیوں کہ عدالت سے ثابت نہیں ہوا۔ گواہی سچی تھی یا جھوٹی اس کا فیصلہ ہم نہیں کرسکتے اور یہ کہنا کہ قت اقبال نے ہی کیا تھا ایک ایسا الزام اور گناہ ہے جس سے بچنا چاہئے۔ بہرحال اقبال کی کہانی پڑھیں تو اس واقعہ کے بعد اقبال تبدیل ہوجاتے ہیں اور چھوٹی موٹی شاعری جو وہ پہلے بھی کرتے تھے اب مزید کرنے لگتے ہیں۔

    • 30/12/2024 at 1:46 شام
      Permalink

      اقبال سے جڑی ایک اور دل چسپ بات۔
      علامہ نے ایم اے فلسفہ میں گولڈ میڈل لے کر ٹاپ کیا تھا۔ ساتھ بمشکل پاس ہوئے تھے کیوں کہ تھرڈ ڈویژن تھی۔ اور ٹاپ اس لئے کیا چوں کہ کلاس میں واحد طالب علم تھے۔
      لیکن ان تمام باتوں سے اقبال کے شاعرانہ مرتبے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

  • 30/12/2024 at 11:38 صبح
    Permalink

    علامہ اقبال پر لکھتے ہوئے ایک اہم پہلو کو تنگی وقت کے سبب میں نے چھوڑ دیا تھا کیوں کہ مجھے یہ بھی علم نہیں تھا کہ "چوہدری کا نئی ریلوے لائن کا تصور” حقیقت ہے یا مذاق۔

    بہرحال کراچی کے اردو اسپیکنگ لوگوں کے لئے آپ کا درد اپنی جگہ لیکن ایک بہت اہم معاملہ شاید آپ کے علم میں نہیں اس لئے تحریر کر رہا ہوں۔

    آپ نے لکھا:

     ”سی پیک کے ایک پراجیکٹ کے تحت سمہ سٹہ سے بہاولنگر امروکا جانے والی ریلوے لائن کو جو بغداد ریلوے اسٹیشن کے سامنے گزر رہی ہے ڈبل کیا جا رہا ہے تاکہ اسے انڈیا سے کنیکٹڈ کیا جا سکے۔ مقصد یہ کہ کراچی کی اردو اسپیکنگ آبادی کو انڈیا میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی سہولت دی جا سکے۔

    تبصرہ :

    اوؒل تو دونوں ممالک کے درمیان ویزا سروس ہی لگ بھگ معطل ہے اور براہ راست پروازیں بھی عرصہ ہوا بند ہیں تو عام شہریوں کے لئے ویزا ہی نہیں تو ٹرین یا بس سروس کا کیا کہنا۔

    مزید یہ کہ کراچی والوں کے لئے ایک ٹرین کراچی حیدرآباد مین لائن سے اتر کر میرپور خاص اور وہاں سے عمر کوٹ ہوتے ہوئے تھرپارکر میں اندین سرحد کے پاس "ایک اٹاری یا واہگہ” جیسا ریلوے اسٹیشن ایک صدی سے موجود ہے جسے "کھوکھروپار” کہا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ ریاست جودھ پور کا حصہ تھا اور انگریز دور میں بھی ایک ٹرین یہاں یعنی آج کے سندھ مگر اس وقت کے جودھ پور سندھ سے وسطی ہندوستانی ریاست جودھ پور تک جاتی تھی۔ 1947 میں کراچی آنے والے زیادہ تر لوگ جو لکھنو ۔ دہلی ۔ بمبئی یا ہندوستانی گجرات کاٹھیاواڑ وغیرہ سے پاکستان آئے وہ اسی ٹرین اور بارڈر کے ذریعہ حیدرآباد کراچی پہنچے۔ اسی سرحدی ریلوے اسٹیشن کی یاد میں ملیر کراچی میں ایک نئی آبادی کا نام "کھوکھراپار” رکھا گیا تھا۔

    1965 کی جنگ کے دوران یہ ٹرین سروس "جو ابتدا میں راجہ کی ریل” کہلاتی تھی بند ہوگئی تھی۔ جس سے کراچی میں ہندوستان سے آکر آباد ہونے والے لوگوں کو ایک سستی اور کم وقت میں پہنچنے کا ذریعہ ختم ہوگیا تھا۔ اکتالیس سال بعد مشرف دور میں 2006 میں یہ ٹرین "تھر ایکسپریس” کے نام سے پاکستانی کھوکھراپار اور قریب ترین انڈین اسٹیشن موناباؤ کے درمیان دوبارہ چلنی شروع ہوئی جو محض چھ مہینے بعد ہی بند ہوگئی۔ اس وقت وجہ انڈیا کی طرف سیلاب سے پٹڑی بہہ جانا تھا۔ مگر اس کے بعد سے اب تک سب کچھ ویسے ہی پڑا ہوا ہے۔

    موناباؤ سے روزانہ کئی ٹرینیں چلتی ہیں جن میں سب سے بہتر راجھستان میں محض دو گھنٹے کی مسافت پر "بارمر” اسٹیشن ہے۔ یہاں سے ہندوستان میں کہیں بھی جایا جاسکتا ہے۔

    ویزا سروس بحال ہونے کے بعد بھی شاید یہ اسٹیشن اور ٹرین نہ چل سکے جس کی ایک وجہ اس کی انتہائی کم آمدنی اور بے تحاشہ خرچے بھی ہیں۔ اس سروس سے کراچی حیدرآباد ہی نہیں سندھ میں آباد "ہندو” برادری سب سے زیادہ فیخ یاب ہوتی تھی۔

    آپ نے مزید لکھا:

    دوسرا پہلو یہ کہ انڈین پنجاب، ہریانہ اور وہ ریاستیں جو بمبئی کے سمندر سے کافی دور ہیں انھیں اپنے تجارتی سامان کی یورپ، افریقہ اور عرب ممالک کو شپمنٹ دینے کے لیے کارگو ٹرین کی سہولت مل سکے جس کے بدلہ میں پاکستان انڈیا سے راہداری کرایہ اور ٹیکس کی مد میں کھربوں روپے وصول کرے گا۔

    تبصرہ:

    پہلی بات تو انڈیا کسی بھی ایسی تجارت کو پاکستان سے ہونے نہیں دیتا جس سے پاکستان کو ٹیڈی پیسے کا فائدہ ہوسکے۔ پاکستان کو اگر انڈیا سے سب سے آسان پیسہ کمانا ہوتو محض پاکستان کی فضائی حدود سے انڈین جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دیں۔ اور واقعتاً اربوں کمالیں اور بھی ڈالروں میں۔

    انڈین فضائی کمپنیاں اس ریٹ سے زیادہ راہ داری کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں جو وہ پہلے پاکستان کو دیتی تھیں۔ اور اس معاملے میں کوئی سیکیوریٹی مسائل میں موجود نہیں۔

    اسی طرح انڈیا ایک طویل عرصے سے افغانستان کے ساتھ زمینی راستے سے تجارت کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم نے پیسہ ہی کمانا ہے تو اس تجارت کو کنٹرولڈ طریقے سے کھول لیں اور پیسہ بنائیں۔ سیکیوریٹی کے مسائل کو حل کرنا اتنا مشکل نہییں اگر دونوں ممالک کرنا چاہیں۔

    چین کی تجارت بہت دور کی بات ہے۔

    ویسے اگر آپ نے جغرافیہ نہیں پڑھا تو انڈیا کے پاس صرف ایک بندرگاہ نہیں سینکڑوں سرکاری اور پرائیویٹ بندرگاہیں موجود ہیں۔

    انڈین پنجاب، ہریانہ اور وہ ریاستیں جو بمبئی کے سمندر سے کافی دور ہیں انھیں اپنے تجارتی سامان کی یورپ، افریقہ اور عرب ممالک کو شپمنٹ دینے کے لیے کارگو ٹرین کی سہولت مل سکے

    خدا جانے اس جملے کا کیا مطلب ہے ؟ اگر یہ سارا سامان بہاول پور کے بغداد اسٹیشن یا امرتسراٹاری یا میرپور خاص کے کھوکھروپار سے مال گاڑی میں آبھی جاتا ہے تو کارگو ٹرین یورپ افریقہ یا عرب ممالک کیسے جائے گی؟

    یہ مال بذریعہ ٹرین چین افغانستان یا ایران نہیں جاسکتا تو اور آگے کہاں جائے گا۔

    یادرہے پاکستان سے ایرانی بارڈر کے ذریعہ محدود کارگو ٹرین چلنی شروع ہوئی تھی جو ترکی اور وسطی ایشیا کے ممالک کے لئے تھی لیکن اس میں سب سے بڑا مسئلہ براڈ گیج اور میٹر گیج پٹڑی اور بوگیوں کا ہے۔

    فی الوقت پاکستان سے ایران ترکی وسطی ایشیا یورپ اور روس کے لئے ٹرک چلنا شروع ہوچکے ہیں کیوں کہ اگر ٹرین اتنی ہی آسان یا کامیاب ہوتی تو چلتی رہتی۔

    یاد رہے ایک دو سال میں پاکستان ۔۔۔ افغانستان ازبکستان اور تاجکستان قازقستان سے بذریعہ ٹرین منسلک ہونے والا ہے جس کے لئے وسطی ایشیا کے ممالک افغانستان تک ٹرین خود بچھارہے ہیں جب کہ یہ ٹرین پاکستان میں پشاور کی بجائے کرم پاراچنار کے سرحدی علاقے سے داخل ہوگی اور کوہاٹ ٹل سے ہوتی ہوئی مین لائن سے کراچی پہنچے گی۔ اس سے دس سے پندرہ دن پھر بھی بچ جائیں گے۔ یقیناً یہ کارگو ٹرین اگر ہندوستان سے منسلک ہوجاتی ہے تو خطے میں بہت بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ خود افغانستان کو ہوگا۔

    آپ نے مزید لکھا:

    تیسرا پہلو یہ کہ چین کے وہ علاقے جو بھارتی ریاست آسام اور لدّاخ وغیرہ کے ساتھ بارڈر رکھتے ہیں ان کا تجارتی سامان بھی انڈیا سے ہوتا ہوا اس کارگو ٹرین کے ذریعے کراچی پورٹ تک پہنچے گا تاکہ وہاں سے امریکہ، یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطٰی کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرے یعنی اس سارے منصوبہ کے پیچھے چین ہی ہے“ ۔

    تبصرہ :
    ان علاقوں کے سامان کو اگر کوئی بندرگاہ چاہئے تو انہیں کراچی آنے کی ضرورت نہیں یہ علاقے یعنی سکم اور آسام سے لداخ وغیرہ بنگلہ دیش کی بندرگاہیں بھی استعمال کرسکتے ہیں اور ہندوستان کی کلکتہ سے لے کر بمبئی اور گجرات کی سینکڑوں بندرگاہیں استعمال کرسکتے ہیں جو پہلے ہی ریلوے لائن کے ذریعے کارگو ٹرین سروس چلارہی ہیں۔ ایسے میں بہاول پور سے ٹرین کی تک سمجھ سے بالاتر ہے ؟

Comments are closed.