کیا خیبر پختون خواہ اور افغانستان میں فوجی آپریشن ضروری ہے؟


چند روز قبل صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ جہاں وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ اور بنوں کے علاقے جانی خیل میں سکیورٹی کی تازہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ ان علاقوں میں پچھلے کچھ عرصے سے عسکریت پسندی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور قیامِ امن کے لیے فتنہ خوارج کے خلاف آپریشن ناگزیر ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر کی گئی ائر اسٹریک پر رد عمل دیتے ہوئے عمران خان صاحب نے اس اقدام کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مذاکرات اور بات چیت کی مدد سے افغان حکومت کے ساتھ معاملات کو حل کرنے پر زور دیا۔

2014 میں آپریشن ضرب عضب کی ممکنہ کارروائیوں سے بچنے کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان کے بہت سے افراد افغانستان منتقل ہوئے۔ یہ افراد قابل پر قبضے تک افغانستان میں امریکہ اور افغان فورسز کے خلاف بر سر پیکار رہے۔ اسی دوران پاکستان میں موجود اپنے نیٹورک کی مدد سے مختلف دہشتگردی کے واقعات بھی سر انجام دیتے رہے۔ یہ افراد پاکستان میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان کو اسلحہ لاجسٹکس مالی معاونت اور تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرتے تھے۔ جن کی ذمے داری یہ افراد یہ کارروائیاں اپنے مفاد یا بعض اوقات غیر ملکی عناصر کی مدد سے سر انجام دیتے تھے جو زیادہ تر پاکستان میں جاری سی پیک اور چینی منصوبوں کو ختم کرنے اور پاکستان کو غیر مستحکم رکھنے کے لیے امریکہ اور بھارت کی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔

2020 تک آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے باعث تحریکِ طالبان پاکستان کا پاکستان میں موجود تنظیمی ڈھانچہ کافی حد تک نیست و نابود ہو چکا تھا اور ان یہ عناصر کمزور ہو چُکے تھے۔ افغانستان میں طالبان نے حکومت سنبھالتے ہی پاکستان سے تحریکِ طالبان پاکستان کے افراد کی پاکستان واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ افغان حکومت کے ترجمان نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں صورتِ حال بیان کرتے ہوئے اشارہ دیا افغانستان ابھی غیر مستحکم ہے اور وہ پاکستان سے امید رکھتا ہے کہ پاکستان اپنا وعدہ پورا کرے گا۔

یہ بات پہلی دفعہ منظرِ عام پر آئی کہ اقتدار کی منتقلی کے مرحلے میں جنرل فیض حمید صاحب حکومت پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان کی طرف سے یہ معاہدہ کر چُکے تھے کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے افراد کو امریکی انخلا کے بعد پاکستان منتقل کرے گا اور قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ امریکہ اور چند اسلامی دوست ممالک کے دباؤ پر کیا گیا تھا۔

تحریکِ طالبان افغانستان تحریکِ طالبان پاکستان کی مناسب تعداد میں افغانستان میں موجود ہونے کو اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔ شاہ محمود قریشی عمران خان اور جنرل فیض حمید کی باہمی ملاقات میں ان افراد کو افغانستان سے پاکستان منتقل کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی گئی جسے جنرل باجوہ صاحب کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ عمران خان نے انہی دنوں مختلف ٹی وی چینلز پروگرامز میں ان افراد کی واپسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اظہارِ خیال کیا کہ یہ چالیس ہزار افراد ہیں جن میں پانچ سے دس ہزار جنگجو جب کہ باقی ان کے فیملی ممبرز ہیں یہ افراد پاکستانی ہیں اور وطن واپسی ان کا قانونی اور انسانی حق ہے۔ ان ہی دونوں پارلیمنٹ کا ان کیمرہ جوائنٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب اور جنرل فیض حمید صاحب نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو تحریکِ طالبان پاکستان کے افراد کی وطن واپسی پر اعتماد میں لیا گیا۔ یوں تحریکِ طالبان پاکستان کی ایک بڑی تعداد واپس پاکستان منتقل ہوئی۔

ان افراد نے پاکستان منتقل ہونے کے فوراً بعد ہی ریاستِ پاکستان سے وفادار رہنے کے وعدوں کو فراموش کرتے ہوئے دوبارہ فعال کرنا شروع کیا۔ یہ جہاں جہاں مقیم ہوئے وہاں نفاذ شریعت کے نام پر دوبارہ ہتھیار اٹھا کر منظم ہونے لگے۔ کچھ افراد واپس افغانستان منتقل ہوئے اور پھر پہلے کی طرح یہاں موجود جہادی یونٹس کو آپریٹ کرنے لگے۔ ریاستِ پاکستان افغان حکومت کو ڈائریکٹلی اور اسلامی دوست ممالک کے تعاون سے متعدد مرتبہ ان مسائل کے بارے میں آگاہ کر چکی ہے۔ مگر افغان حکومت کی عدم دلچسپی اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے خاص طور پر پاکستان میں مقیم چینی انجنیئرز پر داسو ڈیم پر ہونے والے حملے نے ریاستِ پاکستان کو مجبور کر دیا ہے کہ ان پاکستان دشمن عناصر سے سختی سے نمٹا جائے اور دہشت گردی اور عدم استحکام کے خطروں کو پنپنے نہ دیا جائے۔

Facebook Comments HS