دسمبر کی آخری رات


faisal karim khuzdar

جامعہ کے ہاسٹل کا ماحول سردی کی شدت کے باوجود گرمجوشی سے بھرپور تھا۔ دسمبر کا آخری دن تھا، اور ہاسٹل کے تین قریبی دوست۔ عالمگیر، فیصل، اور امتیاز علی۔ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ باہر کہر چھایا ہوا تھا، اور اندر ایک پرانی ہیٹر کے گرد بیٹھ کر چائے کے کپ تھامے، وہ اپنے مخصوص انداز میں محفل سجائے ہوئے تھے۔

عالمگیر کو سب ہاسٹل میں ”سر“ کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ عمر میں ان سب سے بڑا تھا اور ایک خاص وجہ سے دوبارہ تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اس کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ تھا کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں خوشی ڈھونڈنے کا ہنر جانتا تھا۔ عالمگیر ہمیشہ کہتا، ”زندگی جتنی ملی ہے، اسے خوشی سے جیو، ورنہ یہ گزر ہی جائے گی۔“

فیصل اور امتیاز دونوں عالمگیر کی صحبت کو بہت پسند کرتے تھے۔ فیصل نے کئی بار اپنی پریشانیوں میں اس سے مشورہ لیا تھا، اور امتیاز کی سنجیدگی عالمگیر کے مزاح میں گھل کر مزید خوشگوار ہو جاتی تھی۔

اس رات، چائے کی چسکیوں کے دوران، فیصل اچانک خاموش ہو گیا۔ عالمگیر نے محسوس کیا اور پوچھا، ”فیصل، کیا بات ہے؟ آج تمہارے چہرے پر مسکراہٹ نہیں۔ خیریت؟“

فیصل نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، ”سر، اگلے سال کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ کیا میں اپنے خوابوں کو حاصل کر سکوں گا؟ یا یہ سب بس ایک خیال ہی رہ جائیں گے؟“

عالمگیر نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، ”فیصل، تم جوان ہو، تمہارے پاس ہمت بھی ہے اور وقت بھی۔ خواب پورے کرنے کا بہترین وقت وہی ہے جب تمہارے دل میں ان کی تڑپ ہو۔ لیکن یاد رکھو، خواب پورے کرنے کے لیے خود پر یقین ضروری ہے۔ اگر ابھی پریشان ہو گئے، تو نئے سال کی شروعات کیسے ہوگی؟“

امتیاز نے سر ہلاتے ہوئے بات میں حصہ لیا، ”سر بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ خواب پورے کرنے کے لیے ہمت اور استقامت ضروری ہیں۔ ہم سب یہاں ایک دوسرے کے لیے ہیں، اور اگر کوئی مشکل آئی، تو ہم سب مل کر اس کا سامنا کریں گے۔

عالمگیر نے ماحول کو مزید خوشگوار بنانے کے لیے ایک پرانی کہانی سنانی شروع کی۔

”یار، تمہیں پتہ ہے، ایک دفعہ میں نے امتحان میں پروفیسر کو مذاق سمجھ کر ایک خالی پرچہ دے دیا تھا اور نیچے لکھ دیا تھا، ’پروفیسر صاحب، اگلی بار سوال آسان دینا!‘ “

یہ سنتے ہی فیصل اور امتیاز ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ عالمگیر کی کہانیاں نہ صرف مزاح سے بھرپور تھیں بلکہ ان میں زندگی کے سبق بھی چھپے ہوتے تھے۔ فیصل، جو چند لمحے پہلے پریشان تھا، اب عالمگیر کی باتوں سے حوصلہ پا رہا تھا۔

رات گہری ہو چکی تھی، لیکن ان تینوں کے درمیان باتوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ چائے کے خالی کپ میز پر پڑے تھے، اور ہیٹر کی گرمی انہیں سردی سے بچا رہی تھی۔ عالمگیر نے کہا،

”دیکھو، دسمبر کی آخری رات ہے۔ پرانی یادوں کو دل میں رکھو، لیکن نئے سال کے لیے نئے ارادے باندھو۔ اور یاد رکھو، جو بھی ہو، ہم تینوں ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔“

فیصل نے مسکراتے ہوئے کہا، ”سر، آپ واقعی کمال کے انسان ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ جیسے دوست اور رہنما ملے۔“

امتیاز نے سنجیدگی سے کہا، ”سر، آپ کی باتیں زندگی کے سب سے بڑے سبق ہیں۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔

دسمبر کی وہ آخری رات ان تینوں کے لیے یادگار بن گئی۔ فیصل کی پریشانی ختم ہو چکی تھی، امتیاز کی سنجیدگی مسکراہٹ میں بدل گئی تھی، اور عالمگیر کی موجودگی نے ماحول کو گرم جوش بنا دیا تھا۔

وہ رات نہ صرف دوستی کا جشن تھی بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی تھی کہ زندگی میں اچھے دوست اور رہنما کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔ ہاسٹل کی اس سرد رات میں چائے، ہنسی، اور خلوص نے سردی کو بھی مات دے دی۔

Facebook Comments HS