ڈاکٹر شاہد منیر وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے نام خط


سلام گرو جی

مجھے اپنا مدعا لکھنے سے پہلے خاصا سوچنا پڑا۔ سوچ کا تردد اس لیے کرنا پڑا کہ خطوط کی روایت اب ختم ہو چکی ہے اور یہی سوچتا رہا کہ خط لکھ کر اپنا اظہار کروں یا اس کی کوئی دوسری صورت پیدا کی جائے۔ مراسلے کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں مکتوب نگار اگلے بندے سے باتیں کر سکتا ہے اور اس وقت مجھے آپ سے یہی کرنا ہے۔ اکیسویں صدی میں میرا یہ پہلا خط ہے جو آپ کو لکھ رہا ہوں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں آپ ایک عرصے سے بہت مصروف ہیں۔ پہلے آپ جھنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے پھر آپ پنجاب ہائر ایجوکیشن میں چیئرمین تعینات ہوئے اور اب آپ کو کسی اور جامعہ کا مدارالمہام بنا دیا گیا ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آپ چنیدہ لوگوں کی فہرست میں بھی شامل ہو چکے ہیں، جن پر فطرت مہربان ہوتی ہے۔

سنا ہے لاہور آپ کو بڑا پسند ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ کی گفتگو سننے کا اکثر اتفاق رہتا ہے۔ ، تاہم مجھے یہ اندازہ ابھی تک نہیں ہو سکا کہ لاہور آپ کو کیوں کر پسند ہے؟ یہ بات درست ہے لاہور شہر کی ایک تاریخی و علمی حیثیت ہے۔ ہزاروں برس پر مبنی اس شہر کی تاریخ صفحہ قرطاس پر رقم ہے۔ قطب الدین ایبک کا مزار، بادشاہی قلعہ اور کئی تاریخی مقامات کی باقیات اب بھی اس شہر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ کئی لوگوں کو اس شہر سے عروج حاصل ہوا، ممکن ہے آپ کو بھی یہ شہر اسی لیے پسند ہو۔ آپ کو جو عہدے مل رہے ہیں اگر اس میں اس شہر کا کردار ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں لاہور کا شہری ہونے کے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے وہ میرے اندر بھی موجود ہیں۔ مجھے اگر وہاں رہنے کا موقع مل جائے تو اس مقابلے میں شاید ایسے عہدے مجھے بھی عطا ہو جائیں۔

بڑے شہروں کی دوڑ دھوپ میں بہاولپور بھی اب کسی شہر سے پیچھے نہیں رہا۔ اگر آپ شاہی قلعے کے قرب میں جگہ پاتے ہیں تو میں بھی نوابوں کے شہر بہاولپور میں رہتا ہوں اور دربار محل کے سامنے سے روز میرا گزر ہوتا ہے جب کہ نور محل میری بغل میں واقع ہے۔ آپ اس بات سے یقیناً واقف ہوں گے اس شہر کی تاریخی حیثیت بھی مسلم ہے۔ نواب، بہاولپور ریاست کے حکمران تو تھے ہی لیکن ان کی ترجیحات کچھ اور بھی تھیں۔ انہوں نے تعلیمی ادارے اور کتب خانے قائم کیے جن کی شہرت اب کافی دور تک پھیل چکی ہے۔

یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کے شہر لاہور کے دو نامور اداروں پنجاب یونیورسٹی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو زمین بھی انہی نوابوں کی عطا کردہ ہے۔ نواب روشن خیال اور علم دوست تھے اور ان کی انہی دو باتوں نے مجھے متاثر کیا۔ لہذا اس بنیاد پر میں لاہور میں آ کر بڑے عہدوں کے حصول کا مقابلہ کر سکتا ہوں۔

لیکن گرو جی، میرا آپ کا مقابلہ ہی کیا ہے۔ اس وقت آپ بڑے عہدے پر فائز ہیں، اور میں ایک معمولی استاد ہوں۔ اس سے قبل آپ ایک غیر معمولی استاد ہونے کا رتبہ بھی رکھتے ہیں جب کہ میں ابھی اس کوشش میں ہوں کہ بڑا منصب نہ سہی ایک غیر معمولی استاد ہونے کا رتبہ ہی حاصل کر لوں۔ اگر اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہوں تو یہی سمجھوں گا کہ میں نے بھی ایک اہم درجہ حاصل کر لیا ہے۔ بہرحال ہم دونوں میں ایک چیز مشترک ہے آپ استاد ہیں اور میں بھی۔

آپ پنجابی ہیں تو میرا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔ پنجابی ہونے کا دوسرا مطلب زندہ دلی اور میل جول ہے، اور زندہ دلی اور میل جول کا مطلب ابھی تک میں نہیں سمجھا۔ کافی مدت سے میری خواہش تھی کہ آپ سے ملوں۔ آپ کو یاد ہو گا کچھ عرصہ قبل میری آپ سے ایک خوشگوار ملاقات ہو چکی ہے۔ اس ملاقات کی مٹھاس ابھی تک محسوس کرتا ہوں۔ میری حسرت ہے کہ آپ سے دوبارہ ملاقات کروں تاکہ بے تکلفی کی راہ پیدا ہو۔ میں کئی بار لاہور آیا لیکن کوئی ایسی صورت نہ بنی کہ آپ سے دوبارہ ملاقات ہو سکے۔

یہ کیسا المیہ ہے کہ ابھی تک میں آپ سے بے تکلفی نہیں پیدا کر سکا، شاید ہو بھی جائے۔ جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ میری خواہش ہے کہ آپ سے میرا بے تکلفی کا رشتہ پیدا ہو۔ اسی لیے کہ آپ کا اور میرا پنجاب کا رشتہ ہے۔ لیکن اب سوچتا ہوں ایک پنجابی کو اگر یہ بتانا پڑ جائے کہ پنجابی ہونے کا مطلب یہ ہے تو اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ آپ لاہور میں آباد ہوئے تو لاہوری کہلائے اور میں یہ سوچتا ہوں کہ میں بہاولپوری کیسے ہو گیا۔

شاید اس لیے کہ اب میں بہاولپور میں رہتا ہوں۔ کبھی کبھار یہ خیال بھی آتا ہے کہ جب ہم کسی روز سرراہ یا چوک چوراہے میں مل گئے تو زندہ دلی اور میل جول عود کر آئیں اور بے تکلفی کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ آپ پنجابی زبان جانتے ہوں گے اگر اس کا جواب لکھنے کی آپ زحمت فرمائیں گے تو مجھے یہ ضرور لکھیے کہ پنجابی ہونے کا مطلب زندہ دلی اور میل جول کے علاوہ کچھ اور بھی ہے تاکہ میں بہاولپور سے نکل کر لاہوری ہونے کی کسی ترکیب پر غور کروں۔

زندہ دل مگر بے قرار

ثقلین سرفراز

Facebook Comments HS