جنسی ہراسانی کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ”انٹرویو“ کتاب ”سربریدہ سائے“
نجمہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس کا والد فوت ہو چکا تھا جبکہ والدہ اکثر بیمار رہتی تھی۔ بہن بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ سکول میں پڑھ رہے تھے۔ اس لئے گھر کی ساری ذمہ داری نجمہ کے کاندھوں پر آ پڑی تھی۔ چونکہ جمع پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی، اس لئے وہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد کوئی نوکری مل جائے تاکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی تعلیم حاصل کرسکیں اور بیمار ماں کی دوائی بھی آتی رہے۔
اس نے اچھے نمبروں کے ساتھ ماسٹرز کیا تھا لیکن باوجود کوشش کے ابھی تک نوکری نہیں مل سکی تھی۔ کئی جگہ انٹرویو دے چکی تھی لیکن لیکن کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
وہ آج بھی کوئی انٹرویو دے کر آئی تھی۔ اس کے پژمردہ چہرے کو دیکھ کر ماں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ نتیجہ کیا نکلا ہو گا۔ پھر بھی ماں نے پوچھ لیا ”بیٹا انٹرویو کا کیا بنا؟“ ۔
یہ سنتے ہی وہ پھٹ پڑی ”اماں! یہ انٹرویو وغیرہ سب بکواس ہے۔ نوکری اس کو ملتی ہے جس کے پاس پیسہ اور سفارش ہو۔ انٹرویو سفارشی بندوں کو رکھنے کا اک بہانہ ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی طریقہ ہے کہ سولہ سال کی محنت کو پانچ منٹ میں جانچا جائے؟ میرٹ پر اگر رکھنا ہوتا تو تعلیمی کیرئیر کے نمبروں کو بنیاد بنا کر تقرر نامہ لیٹر جاری کر دیا جاتا“ ۔
بیمار ماں اس کی باتیں سن کر اور پریشان ہو گئی۔
روٹی نجمہ کے آگے اسی طرح پڑی ہوئی تھی۔ کھانے کو اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ وہ ماں کو بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھی۔ وہ بولی ”ماں! ظلم تو دیکھو٫انٹرویو کمیٹی کے چیئرمین کا ہمارے مضمون سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس نے کیا سوال پوچھنے تھے۔ ہاں! البتہ وہ لڑکیوں کے جسموں کے نشیب و فراز کو بغور دیکھ رہا تھا۔ ان کی آنکھوں کی گہرائی اور قد و قامت ناپ رہا تھا۔ زلفوں کے پیچ و خم پر بھی اس کی نظر تھی۔ چہرے کے اتار چڑھاؤ سے بھی محفوظ ہو رہا تھا۔ ماں! اس کی آنکھوں کی ہوس مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی“ ۔
اس کی باتیں سن کر ماں کے چہرے پر مایوسی چھا گئی تھی۔ ایک دم ہی اس پر کھانسی کا دورہ پڑا۔ نجمہ جلدی سے اس کے لئے پانی لائی۔ ماں نے اپنی سانسیں بحال کیں اور بیٹی کو سمجھاتے ہوئے بولی ”بیٹا! اکثر مرد ہوس پرست ہوتے ہیں۔ ہم نے انہی حالات میں جینا ہے۔ لڑکیوں میں مردوں کی نظروں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ تمہیں کیا معلوم کہ بیوہ ہونے کے بعد مجھے کتنے مردوں کی تیز نظروں کا سامنا کرنا پڑا تھا“ ۔ ماں کی بات نجمہ غور سے سن رہی تھی۔
وہ مخمصے میں پڑ گئی کہ ماں کو اصل بات بتائے یا نہ بتائے۔ کچھ سوچ بچار کے بعد اس نے اصل بات بتا دی ”ماں! میں نظروں کو تو برداشت کر لیتی لیکن جب میں انٹرویو دے کر باہر نکلی تو صاحب کے اسسٹنٹ نے کہا کہ آپ کے آرڈر ہوجائیں گے لیکن آرڈر وصول کرنے کے لئے شام کو بڑے صاحب کے گھر اکیلے جانا ہو گا۔ یہ سن کر میں نے غصے سے اس کے منہ پر تھوک دیا“ ۔
یہ سن کر ماں کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ رہا۔ وہ خاموش ہو گئی۔ نجمہ اٹھی اور ماں کی دوا لینے کمرے میں چلی گئی۔ الماری میں دیکھا تو دوا ختم ہو گئی تھی۔ پریشان ہو گئی کیونکہ اس کے پاس دوا خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ اور ماں دوائی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔
اس نے یکایک ایک فیصلہ کیا اور ماں کو بتائے بغیر گھر سے نکل گئی۔ شام ہو رہی تھی۔ وہ سیدھی بڑے صاحب کے گھر پہنچ گئی۔ اس کو دیکھ کر صاحب کی باچھیں کھل گئیں۔
وہ نوکری کے آرڈر لے کر رات کو دیر سے گھر پہنچی۔ ماں اس کے انتظار میں پریشان بیٹھی تھی۔ اس نے جھٹ سے پوچھا ”کہاں چلی گئی تھیں؟“ ۔
نجمہ نے ماں سے نظریں ملائے بغیر جواب دیا ”نوکری کے آرڈر لینے گئی تھی“ ۔
ماں سمجھ گئی تھی٫اس لئے اس نے نہ تو خوشی کا اظہار کیا اور نہ کچھ مزید استفسار کیا۔
اب وہ باقاعدگی سے صاحب کے دفتر میں کام کرنے لگی تھی۔
ایک دن وہ صاحب کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ باس کی بیٹی کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ باپ سے لپٹ کر خوشی سے بولی ”پاپا! میری نوکری لگ گئی ہے۔ صاحب نے کہا ہے کہ شام کو میرے گھر آ کر آرڈر لے جانا“ ۔
یہ سنتے ہی باس غصے میں کھڑا ہو گیا اور چیخ کر بولا ”نہیں۔ نہیں۔ مجھے تمہارے لئے یہ نوکری نہیں چاہیے۔“ ۔


