پنجاب کے وزیر تعلیم کی 2024 میں کارکردگی

سال ختم ہوتا ہے تو ہر فرد اور ادارہ پلٹ کر دیکھتا ہے کہ اس نے گزشتہ سال کیا ایسا کیا کہ جسے فخر سے پیش کیا جا سکے۔ اپنی کوتاہیوں پر بھی نظر دوڑاتا ہے اور نئے سال کے لئے عزائم بھی کیے جاتے ہیں۔ پنجاب کے نوجوان وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی قیادت میں محکمہ تعلیم کی 2024 ء میں کیا کارکردگی رہی اور گزشتہ ادوار کے مقابلے میں وہ اپنا آپ منوانے میں کس حد تک کامیاب رہے، اس پر نظر ڈالتے ہیں۔ میری رانا سکندر حیات کے ساتھ اس موضوع پر طویل گفتگو ہوئی اور میں نے جانا کہ ان میں بطور وزیر تعلیم کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ مسلم لیگ نون کی موجودہ حکومت کے آغاز یعنی مارچ 2024 ء سے دسمبر 2024 ء کے دوران رانا سکندر حیات کی قیادت میں پنجاب کی تعلیمی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات ہوئے اور بے شمار نئی اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔
رانا سکندر حیات نے بطور وزیر تعلیم جب ذمہ داریاں سنبھالی، انہیں بے شمار چیلنجز درپیش تھے۔ اس سے قبل انہیں صوبے کے انتظامی امور کا تجربہ نہیں رہا، کیونکہ وہ پہلی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور منتخب ہوتے ہی ایک اہم وزارت ان کے سپرد کر دی گئی تھی۔ وزارت میں پہلی انٹری ہو تو سیاستدان معاملات کو سمجھتے ہی 5 سال گزار دیتا ہے، لیکن رانا سکندر حیات شاید دیگر سے مختلف تھے، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنا انتخاب درست ثابت کیا۔
یہاں تک کہ مخالف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی ان کی کارکردگی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ میں نے وزیر تعلیم سندھ کی زبانی بھی پنجاب کے وزیر تعلیم کی تعریف سنی اور پختونخوا کے وزیر تعلیم کو بھی رانا سکندر حیات کا معترف پایا۔ جب ناقدین ہی کسی کی تعریف پر مجبور ہوں تو ایسے شخص کو کارکردگی دکھانے کا مزید حوصلہ ملتا ہے۔ یہی ”سانحہ“ رانا سکندر حیات کے ساتھ بھی ہوا۔ انہوں نے ہر تنقید کو مثبت لیا اور صرف 10 ماہ میں کئی سال جتنا کام کیا۔ وزیر تعلیم یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ ان کے 10 ماہ کا مقابلہ گزشتہ حکومت کے 4 پارلیمانی سالوں سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
سال 2024 پنجاب میں جہاں تعلیمی اصلاحات کا سال رہا، وہیں کئی انقلابی اقدامات بھی اٹھائے گئے۔ پنجاب حکومت نے اپنے ابتدائی 10 ماہ گزشتہ حکومت کی غلطیوں کو درست کرتے گزارے۔ تحریک انصاف حکومت کے دور میں 13 سے 14 ارب روپے میں شائع ہونے والی درسی کتب 7 ارب روپے میں شائع کر کے دکھائی، یوں قومی خزانے کے اربوں روپے کی بچت کرتے ہوئے پبلشرز سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز کی ”حصہ داری“ کا خاتمہ کیا۔ بوٹی مافیا کا مضبوط نیٹ ورک کامیابی سے توڑا اور امتحانی سنٹرز میں سیکورٹی کیمروں کی تنصیب کے ذریعے نقل مافیا کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ قبل ازیں یہ بوٹی مافیا امتحانی سنٹرز خریدا کرتا تھا اور ”زباں بندی“ کے لئے انتظامی و سیاسی پوسٹوں پر براجمان شخصیات کو مہنگے ترین تحائف بھی دیا کرتا تھا۔ یہی لالچ رانا سکندر حیات کو بھی دیے گئے، لیکن ان کے صاف انکار نے اس مافیا کی حوصلہ شکنی کی۔
دورِ حاضر کی ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے سکولوں کی سطح پر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو وسعت دی گئی۔ مڈل، میٹرک اور انٹر ٹیک کا آغاز کیا۔ وزیر تعلیم کی دعوت پر پہلی مرتبہ گوگل فار ایجوکیشن پاکستان آئی۔ گوگل کے تعاون سے پنجاب کے 3 لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی سرٹیفائیڈ کورسز کرانے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ آؤٹ آف سکول بچوں کی انرولمنٹ کے لئے موثر مہم چلائی گئی۔ پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کے لئے تاریخ کی سب سے بڑی سکالرشپ سکیم لانچ کی جس سے سالانہ 30 ہزار طلباء استفادہ کر رہے ہیں۔
سال 2024 ء میں اکسیس ٹو ہائر ایجوکیشن اور اڈلٹ لٹریسی پر بھی توجہ دی گئی اور تعلیمِ بالغاں کے سنٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ جنوبی پنجاب کے بچوں کی غذائی ضروریات کے پیشِ نظر سکول نیوٹریشن پروگرام کا آغاز کیا جس سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 4 لاکھ بچے مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی طرح تحصیلوں میں لڑکیوں کو ٹرانسپورٹ فراہمی کے لئے بسیں دینے کی سہولت شروع کرنے کے علاوہ ان کے لئے سکوٹی سکیم کا اجراء ہوا۔
مسلم لیگ نون کی موجودہ حکومت سے قبل محکمہ تعلیم کی انتظامی پوسٹوں پر میرٹ سے بالاتر ہو کر افسران کو محض سیاسی بنیادوں پر تعینات کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے اہل افراد کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل پاتا تھا۔ لیکن موجودہ حکومت نے اس روایت کو توڑا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتظامی تعلیمی پوسٹوں پر بذریعہ امتحان، ٹیسٹ اور انٹرویوز انتخاب کا نظام لے کر آئی۔ وائس چانسلرز، ڈائریکٹر کالجز، پرنسپلز، چیف ایگویکٹو ایجوکیشن افسران ، ڈپٹی ایجوکیشن افسران ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران، تمام تعیناتیوں میں شفافیت و میرٹ کی بالادستی اور رشوت و سفارش کی حوصلہ شکنی یقینی بنائی گئی۔ اساتذہ کے تبادلوں کے لئے پنجاب کی پہلی ای ٹرانسفر پالیسی متعارف کرائی گئی جس میں تھرڈ پرسن کو بھی ”کردار“ ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ای ٹرانسفر پالیسی کا تمام عمل آٹومیٹک طریقے سے ہوا۔ یہ اقدام بھی رشوت اور سفارش کلچر کی حوصلہ شکنی کا باعث ٹھہرا۔
رانا سکندر حیات کی قیادت میں سال 2024 میں فیک انرولمنٹ کے خاتمے اور ڈیٹا ہیلتھ کی ایکوریسی کے لئے نادرا ویری فیکیشن لازمی قرار دی گئی۔ بدلتے رجحانات کے پیش نظر کامرس کالجز کو ای کامرس کالجز میں تبدیل کیا گیا۔ سکولوں کی مانیٹرنگ، تعلیمی سسٹم کی بہتری اور سہولیات کا فقدان دور کرنے کے لئے ڈویژنل سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جنہیں ہر ماہ 4 سکولوں کے دورے اور ان کی بہتری کا ٹاسک دیا گیا۔ اسی طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لو پرفارمنگ سکولوں کو آؤٹ سورس کیا گیا جس سے انرولمنٹ ڈھائی لاکھ سے بڑھ کر سوا 4 لاکھ پر چلی گئی۔
آؤٹ آف سکول بچوں کے لئے ایڈ ٹیک ماڈل پر سکولوں کا پائیلٹ پراجیکٹ بھی اسی سال لانچ کر دیا گیا ہے جسے محکمہ تعلیم 2025 میں پورے پنجاب میں پھیلانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ اسی سال لیپ ٹاپ سکیم پر بھی حتمی ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ جبکہ سال 2025 کے پہلے مہینے میں ہی طلباء کو لیپ ٹاپ فراہمی کا بھی آغاز کر دیا جائے گا۔
وزیر تعلیم نے آئندہ 2 سالوں میں ”سرکاری سکول معیاری سکول“ بنانے کے خواب کو پورا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آئندہ 2 سالوں میں سرکاری سکولوں کا معیار اس لیول پر لے جائیں گے کہ وزراء اور بیوروکریسی بھی بچے بھی پبلک سکولوں میں پڑھنے کو ترجیح دیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ رانا سکندر حیات اس دعوے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں پارلیمانی سال کے مکمل ہونے کا انتظار ہے۔

