نیویگیٹنگ ڈیجیٹل چیلنجز : پاکستانی میڈیا کو درپیش مسائل
حالیہ برسوں میں پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے میڈیا لینڈ سکیپ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ جہاں ایک طرف اس نے ملک میں صحافیوں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں دوسری جانب نئے چیلنجز کو بھی جنم دیا ہے۔ جن میں سائبر کرائم، آن لائن ہراساں کرنا، آن لائن سنسرشپ اور مواد پر پابندی، اور ڈیجیٹل لٹریسی کی کمی جیسے چیلنجز نمایاں ہیں۔
سائبر کرائم میں ہیکنگ، آن لائن ہراساں کرنا اور غلط معلومات فراہم کرنا شامل ہے۔ پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا آؤٹ لیٹس کو ہیکنگ اور ڈیٹا کی خلاف ورزی سمیت دیگر سائبر حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان سے آزادیٔ رائے کا حق چھن جاتا ہے۔ آن لائن ہراساں کرنے میں دھمکیاں، بد سلوکی اور نفرت انگیز تقاریر کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کو ٹرولنگ کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، جس کا مقصد صرف ان کے کام کو بدنام کرنا اور ان کی ساکھ کو کمزور کرنا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) نے میڈیا آؤٹ لیٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سمیت متعدد ویب سائٹس تک رسائی روک دیتی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ ان پلیٹ فارمز پر عارضی طور پر پابندی عائد کر سکتے ہیں جس سے میڈیا آؤٹ لیٹس اور صحافیوں کی اپنے ناظرین تک پہنچنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ میڈیا آؤٹ لیٹس اور صحافیوں کو ایسے مواد کو ہٹانے پر مجبور بھی کیا جا سکتا ہے جو پاکستان یا اس کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل لٹریسی ریٹ کم ہونے کی وجہ سے صحافیوں اور میڈیا اہل کاروں کو میڈیا لینڈ سکیپ کو موثر طریقے سے نیویگیٹ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کو وسائل تک بھی محدود رسائی حاصل ہے۔ پاکستان میں بہت سے میڈیا آؤٹ لیٹس اپنے اہلکاروں کو ڈیجیٹل خواندگی اور آن لائن سیفٹی پر مناسب تربیت فراہم نہیں کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کو آن لائن سیفٹی اور سائبر حملوں سے بچاؤ کی مناسب تربیت فراہم نہیں کرتے۔
پاکستان میں میڈیا کو در پیش ڈیجیٹل چیلنجز پیچیدہ ہیں۔ آن لائن لینڈ سکیپ کو موثر طریقے سے نیویگیٹ کرنے کے لیے میڈیا آؤٹ لیٹس اور صحافیوں میں ڈیجیٹل لٹریسی اور مہارتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو آن لائن حفاظت، اظہار آزادیٔ رائے اور ڈیجیٹل حقوق کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔


