نئے سال کا عزم
ویسے تو سال کا آنا جانا چند ہندسوں کی کمی بیشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہر گزرتا دن، ہر آتی رات ویسی ہی رہتی ہے لیکن یہ ہندسوں کا کھیل ہمیں گزرتے وقت کا احساس ضرور دلاتا ہے۔
ہمیں بتاتا ہے کہ یہ لمحے کیسے ہماری بند مٹھی سے سرکتے جا رہے ہیں اور ہر گزرتا لمحہ کیسے تیزی سے اپنا وجود کھوتا جا رہا ہے۔
حال سے بڑی سچائی کوئی نہیں لیکن یہ حال ماضی کے نقوش اور مستقبل کی امیدوں سے ہی مزین ہوتا ہے۔ تو ان ماضی کے نقوش کو خوشنما بنانے کے لیے، مستقبل کی امیدوں کو روشن رکھنے کے لیے ہمیں اپنا احتساب کرتے رہنا چاہیے۔
ان ہندسوں کے کھیل میں سال کے اختتام پہ اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ اس گزرتے برس میں میں نے کیا کھویا، کیا پایا۔ اس گزرتے برس نے میرے اندر کیا بہتری لائی، میرے اندر کون سی خامی پیدا کی۔ اس برس میرے لیے بہترین یاد کیا رہی، بہترین انسان کون ملا۔ میں نے بہترین کام کیا کیا۔ میری زندگی میں کتنی آسانی، کتنی مشکل آئی۔
اور یہ بھی کہ میری وجہ سے دوسروں کی زندگی میں کتنی آسانی اور مشکل آئی۔ کیا میرا وجود دوسروں کے لیے خوشگوار رہا یا میں کانٹا بن کر اپنے اردگرد والوں کو زخمی کرتا رہا۔ لوگ مجھے دیکھ کر دور بھاگتے رہے یا میرا اخلاق انھیں میری طرف کھینچتا رہا۔
یاد رہے ہم انسان ایک سال میں نئی دنیا نہیں تعمیر کر سکتے، ایک سال میں سب کچھ بدل کر نہیں رکھ سکتے لیکن ہر سال اپنے وجود میں، اپنے حالات میں تھوڑی تھوڑی بہتری لا کر کامیابی تک پہنچ سکتے ہیں۔ تو اگر کوئی بہت بڑی کامیابی نہیں ملی، کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن سال بھر میں کچھ تو بہتری آنی چاہیے۔
اس لیے اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ تعلیم میں، شعور میں، رشتوں میں، مال و دولت میں، میں جہاں ایک سال پہلے کھڑا تھا، کیا اس سے کچھ آگے بڑھا ہوں یا وہیں کا وہیں کھڑا رہ گیا۔ یہ آگے بڑھنا بس ایک قدم کے برابر بھی ہو تو آپ نے سال ضائع نہیں کیا لیکن اگر وہیں کے وہیں کھڑے رہ گئے ہیں تو اگلے سال کے لیے عزم کیجیے کہ زیادہ نہ بھی سہی تو میں اپنی موجودہ حالت سے ایک قدم آگے ضرور بڑھوں گا۔
نئے رشتے بناؤں گا، نئی منزلیں سر کروں گا۔ اپنی تعلیم، اپنا شعور بڑھاؤں گا۔ اپنے مال و دولت میں، اپنے رزق میں اضافہ کروں گا۔ میں اپنے ساتھ ساتھ اپنے وجود سے منسلک لوگوں کو بھی آسانیاں دوں گا، سہولتیں دوں گا۔ میں کانٹا بن کر دوسروں کو چبھوں گا نہیں، پھول بن کر دوسروں کی دنیا مہکاؤں گا۔
جو گزر گیا، سو گزر گیا۔ اس پہ رنج لاحاصل ہے۔ جو آ رہا ہے اسے بہتر سے بہترین بنانے کا عزم کیجیے۔


