ہوادان سے : اُس شہر ِخوباں سے گزر گیا
ہر شہر منفرد پہچان رکھتا ہے۔ پرانا ہو تو بلند دروازے، پکے قلعے، اونچے برج، مقدس معبد، میناروں اور گھنٹہ گھروں کے علاوہ مخصوص اطوار اور چال چلن والے جان دار کردار بھی شہر کی پہچان بن جاتے ہیں۔ بات اندرون شہر کردار سازی، بلکہ کردار سوزی کی ہوتو جہاں دلی و لاہور کے رنگ باز، احمد آباد اور لکھنؤ کے پتنگ باز اور قاہرہ و لندن کے نوسرباز مشہور ہیں وہیں فیصل آباد کے جگت باز، پیرس کے شوباز، نیویارک کے آتش باز، آگرے کے ہلڑ باز اور کراچی کے چکری سنگ باز اپنے شہروں کی پہچان ہیں۔
پس ہمارا شہر بھی پس ماندہ نہیں جہاں کے بھرم باز اپنے انداز میں یکتا و یگانہ ہیں۔ آسرا دیتے شروع ہوا بھرم، ان پر ختم ہے۔ بجلی کے بل میں تخفیف کی یقین دہانی سے لے کر جیل سے رہائی کی تدبیر تک دنیا کا کوئی کام سرانجام دینا ہو، لاینحل مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہو، مشکل ہدف کا بیڑہ اٹھانا ہو، ناممکن کو ممکن کرنا ہو یا گل بکاؤلی کا حصول، ان کا اصول انکار کی بجائے اقرار ہے۔ گٹکا بھرے پکے منہ ایسا بھرم دیں گے کہ الاماں۔
یہ رضاکاروں اور ریاکاروں کا شہر ہے جہاں ہر موڑ پر ایک چھوڑُو، ہر نکڑ پر لال بجھکڑ اور اگلے چوک پر کوئی اچکا شوق سے اپنے کاندھے خم کیے موجود ملے گا۔ کسی کام پر ”ناں“ ان کے ہاں نہ ملے گی۔ اپنے وسیع سماجی جائز و ناجائز تعلقات کے حوالے دیتے، حوالات و برے حالات سے باہر نکال لینے کے دعوے کرتے ان بھرم بازوں کے دعووں میں دلیل ذلیل اور انہونی ہونی دکھائی دیتی ہے۔ اپنے منہ اتنے میاں مٹھو، گویا سورج ہر روز مشرق سے نہیں بلکہ یہ اپنا بایاں ہاتھ پھیرتے پشت زیریں سے نکال طلوع فرماتے ہیں۔ تاہم ان دعووں اور وعدوں کا نتیجہ صفر، حاصل لاحاصل رہتا ہے۔ بھرم باز مشتری ہشیار سے آسان باش اور پھر آرام باش۔ دعوا اور دعویدار دونوں فارغ باش۔
نرم گرم مزاج والے شہرِ بھرم باز کے روزمرہ معمولات سے دنگ عقل خیالات کے دنگل میں الجھی رہتی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک جام اور فٹ پاتھ پر گٹکا مین پوری سرعام ملتا ہے۔ شہر واسیوں کی کہی کہانیاں سن سن کر سوچ کا مین سوئچ آف اور ان کی داستان کان کے فیوز اڑا دیتی ہیں۔ ایسا دل نشیں لہجہ اور انداز ِدل ربائی کہ ڈھونڈو تو کہیں اور نہ ملے۔ بھرم بازوں کا کلام پریشان اور لب و لہجہ اس قدر متحیر کہ الفاظ خود گُنگ رہ جاتے ہیں۔
ان کی گفت گو کے اپنے آداب ہیں۔ جملے میں طنز چھلکتا ہے اور قرینہ پاس نہیں پھٹکتا۔ ادائیگی یگانہ، لہجہ کاٹ دار اور آواز پاٹ دار۔ شہر آئے نووارد مہمان کو تعارف کراتے ایک بھرم باز جتلاتے ہیں کہ یہ شہر کبھی سندھ کا پیرس کہلاتا تھا اور سڑکیں روز عرق گلاب سے دھلتی تھیں۔ دوسرے گویا ہوتے ہیں کہ یہاں کے تعمیراتی حسن میں لندن کی جھلک ہے۔ تیسرے ذرا زیادہ بھرم باز واقع ہوئے، فرمانے لگے کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد سب سے بڑا شہر ہے جو 5 ہزار سال قبل دنیا کے سب سے بڑے شہر موئن جو داڑو کی میراث ہے۔
مہمان جو ریلوے اسٹیشن سے قاسم آباد لندن ٹاؤن تک رکشے کے سفر میں ذائقۃ الموت چکھ چکے تھے فوراً اپنی سلامتی پر ایمان لے آئے۔ ذکی حس تھے اور مرنج مرجاں بھی، کہا کہ بالکل! کھنڈرات دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ موئن جو دڑو کے کسی بزرگ مرد کی پیشن گوئی تھی کہ 5 ہزار سال بعد بھی ایک شہر تمہاری مثل برباد رہے گا۔ پس جو تمہارے کھنڈرات نہ دیکھ سکا وہ اس آبادی میں جا نکلے تو ذرا فرق نہ پاوے گا۔
شہر عزیز کے اطراف جو بستیاں آباد ہیں ان کے نام ہیں لطیف آباد، قاسم آباد ، حسین آباد اور پریٹ آباد۔ ان ناموں سے آباد کا لاحقہ نتھی ہونے کے باوجود یہ سب دراصل برباد ہیں۔ اس بربادی کا سبب کوئی اور نہیں، اپنی بلدیہ ہے جس نے نظام کو ایسا بل دیا ہے کہ ہرکس و ناکس بلبلا دیا ہے۔ گلیاں اندھیری ہیں۔ فٹ پاتھ پر دکانیں قائم ہیں۔ آدھی سڑک پر پتھارے ریڑھے اور ٹھیلوں کا قبضہ رہتا ہے۔ بلدیہ خصوصی طور پر کچرا کنڈی سڑک کے عین درمیان رکھتی ہے جب کہ شہری کوڑا کرکٹ اس سے بچا کر اطراف میں پھیلاتے ہیں۔
کاریں رینگتی، رکشے لہراتے جب کہ موٹر سائیکل والے دندناتے فراٹے بھرتے ہیں۔ یہاں کے مستری اور کاریگر مجموعی طور پر سست، دکاندار عمومی طور پر چور اور ملازم پیشہ حتمی کام طور بن چکے ہیں۔ ساٹھ مربع گز کی کھولی پر چھ منزلہ پلازے جب کہ سو 100 گزے پلاٹ پر دس بارہ منزلہ عمارات قائم ہو چکی ہیں، اور سب کی سب غیر ضروری۔ آڑھتیوں کا جم غفیر ہے جو معزز بنے پھرتے ہیں۔ ہر سیانا بلڈر بننے کی ضد لگائے دوڑا پھرے ہے۔ خالی رقبے، باغات، مسافر خانے حتی ٰ کہ جانوروں کے پیاؤ اور چوراہے ہضم کرنے کے بعد کوئی پرانا مکان دیکھ کر فراڈی بلڈرز کی آنکھ میں بال ( وہی والا) اتر آتا ہے اور وہ انتہائی سرعت کے ساتھ اس جگہ کی فرنٹ پر دکانیں‘ سائیڈ پر زینہ اور اوپری منازل پر دو دو یا چار چار فلیٹ بنانے کے منصوبے پیش کرتے دیکھے جاتے ہیں۔
اس کاسہ لیسی اور حرام پائی کی بدولت شہر روز بروز افقی سمت پھیلنے کی بجائے عمودی سمت بڑھ رہا ہے، بلکہ اٹھتا چلا جا رہا ہے۔ تنگ وننگ تعمیرات نے شہر کے حسن کو گھن لگا دیا ہے۔ ہواؤں سے منسوب یہ شہر اب حبس کا شکار ہے۔ جہاں رعنائی کا دم گھٹتا اور کشادگی تڑپتی ملتی ہے۔ اس قسم کی بیہودگیاں اب بڑھ کر سرطان بن چکی ہیں جس سے چھٹکارا آسان نہیں۔
دھیمے سُر سماچار والے اس شہر بے اماں میں وقت اتنا بے وقعت ہے کہ صبح صادق دن کے ایک بجے ہوتی ہے۔ دسمبر جنوری کی خنکی میں گناہ گار و ناہنجار کان غافل موذن کی صبح سات 7 سات بجے تھکی تھکی آواز میں فجری اذانیں سنتے اور کسمساتے ہیں۔ مجال ہے کہ اہل علاقہ کے کان پر جوں تک رینگتی ہو۔ چوروں کا ٹائم صبح سات تا 12 بجے مقرر ہے جس دوران مکین بے سدھ سو رہے ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے کسی اور شہر کی ایسی واردات سنی ہے؟ جی ہاں!
جب پورے پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق جب گھڑیاں عین دوپہر کے بارہ 12 بجا رہی ہوتی ہیں یہاں صبح کا پہلا گھنٹہ بج رہا ہوتا ہے۔ بازار میں دکانیں سہ پہر تین بجے کھلتی، بلکہ کھلنا شروع ہوتی ہیں، ساتھ ہی چہرے بجھنا۔ ناشتہ ساڑھے 3 بجے اور دو پہر کا کھانا ایک بجے کھایا جاتا ہے۔ لیکن رات ایک بجے۔ آپ پوچھیے گا کہ رات کے کھانے کا وقت؟ جناب! سویرے پانچ 5 بجے جابجا سجے بریانی کے ٹھئیوں پر دیگیں چٹ کر کے سوتے ہیں۔ پاکستان کے معیاری وقت سے گھڑیاں 5 کلاک پست کر کے سوئیاں گرینوچ مین ٹائم سے ملا لی جائیں تو اوقات پر آ جائیں گے۔ یہ ایک معیار ہے ؛ بین الاقوامی معیار کے قدم سے ملایا گیا واحد قدم۔
بھلا اس روئے ارض پر کوئی اور خطہ بھی ہو گا جہاں ناشتے میں بریانی مرغوب ہو۔ چاٹ مصالحہ یہاں کی قومی اور عوامی غذا ہے۔ دہی بڑوں، پکوڑوں اور حلیم کی تو خیر ہے، بھرم باز تلی مچھلی اور چپلی کباب بھی چاٹ مصالحے سے ڈھک کر کھاتے ہیں تاکہ بدہضمی نہ ہو۔ اس خاک پاک پر بسنے والی دنیا کی قابل ترین قوم میں ایسا دو سرا نابغہ شہر کہاں ہو گا، جہاں یہ چلن ہو۔ شرط لگا لیجیے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مل پائے۔ پائے، نہاری، برگر، اچار، کھچڑی، کارن سوپ اور حد تو یہ ہے کہ تہہ دار بریانی پر چاٹ مصالحہ بہ اصرار چھڑکوا کر اسے تہہ بہ تہہ اور مزید تہہ دار کروایا جاتا ہے۔
غذائی ماہرین نے اس کیس کو ناقابل سماعت قرار دیا بلکہ خود اپنے ہاں گڑگڑی سی سنتے ہوئے بلا وقت اجابت کی کیفیت پیدا ہونے کی شکایت کرتے خارج ہی کر دیا۔ یہاں کی المشہور بریانی دروں اندریں پلاؤ ہے جو کراچی کی مشہور بریانی سے یکسر مختلف ہے۔ اب کراچی بھی بریانی کے معاملے میں یہاں کی تقلید پر تیزی سے گامزن ہے۔ شہر کا شہر فوڈ اسٹریٹ ہے۔ ہر ایک دوسرے کو کچھ نہ کچھ ملا کر کھلا رہا ہے۔ ریستوراں کی بجائے دکانوں، ٹھیلوں، ریڑھیوں اور چنگچیوں پر بریانی کے اڈے کھلے ہیں جو راہ چلتے دعوت طعام دیتے ہیں۔
سرِعام بوس و کنار کے واسطے ہر نکڑ پر پان سگریٹ اور پنی پیک گٹکوں کے کھوکے موجود ہیں۔ گناہِ بے لذت کا اہتمام تھلوں پر باربی کیو کے نام پر سینکی جانے والی ان فارمی مرغیوں سے ہے جو حال ہی میں طبعی موت یا کسی ناگہانی بیماری کے باعث وفات پا گئی ہوں۔ کپڑوں اور موبائل مارکیٹس میں برابر تعداد میں گول گپوں، بن کبانوں، دہی بھلوں اور چنے کی چاٹ کے آؤٹ لیٹس دھندے میں لگے ہیں۔ سو جوتوں کی تو ایک دکان کتابوں کی ملے گی نیز ہمارے ہاں پرنٹنگ پریس میں کتب کی کی بجائے صرف تعارفی اور شادی کارڈ چھپتے ہیں۔
ای کارڈز کے مروج ہونے کے بعد یہ نامعلوم کیا چھاپیں گے اور کیا کیا چھپائیں گے؟ عجب شہر دل پذیر ہے جہاں سب کے سب بیک وقت ایک دوسرے کے قرض دار بھی ہیں اور قرض خواہ بھی۔ یہاں حساب کتاب کے بہی کھاتوں پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے ”آپسی لین دین میں بھول چوک معاف“ ۔ لہذا شہر کا شہر ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے ڈھونڈتا اور دوڑے پھرتا ہے۔ ادھار کی درخواست سے معاملہ واپسی تقاضے پر گھومتا گھماتا گالم گلوچ تک جا پہنچتا ہے اور آخر معافی تلافی۔ پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگتے اور ایک دوسرے سے دھوکے دھندے میں جتے رہتے ہیں۔
یہ شہر بے بدل ہے۔ اس کی سماجیات و اخلاقیات بدلنے کی کوئی تدبیر اب تک کارگر نہ ہو سکی ہے۔ بڑے بڑے جغادری اور نابغۂ روزگار طالع آزمائی کرچکے ہیں۔ انتظامی طبیب مختلف طریقے آزما کر تھک گئے اور بیماری لاعلاج قرار دے چکے ہیں۔ بڑے آپریشن سے ہی جانبر ہو سکے تو ہو۔ ناکام طرائق میں طبِ یونانی، ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی سب نسخے آزمائے جا چکے ہیں۔ علاج کے ان طریقوں کی تفصیل ایک الگ مضمون میں، فی الوقت یہ جاننا ہو گا کہ یہاں کی بلدیہ شہری مسائل کے یونانی طریقۂ علاج پر یقین رکھتی ہے۔
گھسے پٹے خاندانی نسخوں کی طرح چند خاکروب گھسی ہوئی جھاڑو سے کثیر آبادی کا گند صاف کرنے پر جتُے ہیں۔ سست اور تھکا دینے والا طریقۂ علاج۔ حکمت صرف معدے کی صفائی اور ڈکار دلوانے تک محدود۔ اس کے مقابل مقابلے کا امتحان پاس کیے ہوئے ضلعی و انتظامی افسران ایلوپیتھی طریقۂ علاج اپناتے ہیں۔ تشخیصی ٹیسٹ ٹرائل اور فزیبلٹی رپورٹس کے بعد بڑے بڑے بلز کی کیپسول اور فنڈز ہڑپ خوراک۔ جیسے شہر کے ڈاکٹر آخر دم نکلتے مریض کو آغا خان یا لیاقت نیشنل بھیج دیتے ہیں جہاں سے لواحقین مہنگے بل کے عیوض مریض کی لاش ایمبولنس میں ڈالے واپس آ جاتے ہیں اسی طرح ان مہنگے ترقیاتی منصوبوں کا نتیجہ بھی وہی ڈھاک کے تین پات۔
حکمت اور ڈاکٹری کے بیچ خاندان کا کوئی سیانا ہومیوپیتھک علاج کا ضرور مشورہ دیتا ہے۔ یہ طریقۂ علاج ایک ٹوٹکا ہے۔ شہر کی بھرم باز بولی میں ”بنی تو بنی ورنہ عثمان غنی (مشہور ٹرانسپورٹ گڈز فارورڈنگ)“ ۔ بلدیہ اور شہری انتظامیہ کی نالائقی پر پردہ ڈالتی صوبائی یا وفاقی حکومت کوئی پیکیج لئے آن وارد ہوتی ہے جو کہ ہومیوپیتھی ٹوٹکے ثابت ہوتے ہیں۔ بھرم باز منہ میں پان کی پیک گڑگڑاتے بڑبڑاتے ہیں کہ بس اب تو ایلائیٹ سینما کے سامنے مجمع لگائے عطائی سے ہی رجوع باقی ہے۔ یعنی ڈنڈا ڈولی۔ شاید اس کے اوندھے پڑے کلبلاتے سانڈھوں کا کارگر تیل کھڑاک کر کے نظام کو کھڑا کردے، یوں پھر روز عرقِ گلاب سے دھلائی ہو۔
ہزار بیماریوں کی نشان دہی کے باوجود جب ہم اپنے پیارے شہر کو دل کی آنکھ سے دیکھیں تو اندر یکسو موجود پاتے ہیں۔ ذہن دوڑائیں تو ہر سو جمود۔ چاہتِ من سے یہ وہ ”جائے قرار“ ہے جس چاہِ زنداں سے ”جائے فرار“ نہیں ملتی۔ ٹوٹے پھوٹے راستوں، ابلتی نالیوں ’مرجع خلائق، انبوہ کثیر اور فور سیٹرز کے شور سے مزین محبتوں کا امین یہ شہر اپنا دامن ایسے پھیلاتا ہے کہ اپنے تو اپنے، کوئی غیر بھی ایک مرتبہ یہاں آ کر رہ لیا پھر وہ یہیں کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔
خود واپس چلا بھی جائے مگر دل یہیں چھوڑ جاتا ہے۔ اس کی ہوادار فضائیں سب پر یکساں اپنائیت نچھاور کرتی ہیں۔ مشہور ہے کہ کسی تعیناتی ہونے پر باہر سے آنے والا ہر کس یہاں روتا ہوا آتا ہے اور ناکس جب واپس جا رہا ہو تب بھی روتا جاتا ہے۔ گویا دل اور دماغ میں یہ تضادِ سوئے دار سے کوئے یار اور پھر سوئے دار والی والی بال کی کیفیت میں مبتلا رکھتا ہے۔ اپنا ہو یا غیر، یہ شہر امان ہر ایک کے لئے دامن پھیلائے رکھتا ہے۔ جی ہاں، درست پہچانا۔ یہ ہے اپنا ”حیدرآباد“ ۔ جس میں ”ہے در آباد“ ۔


