گاہ کا موہنا
بظاہر جمعہ کے دن گاہ گاؤں میں کسی شخص کی موت نہیں ہوئی تھی لیکن گاؤں کے لوگ صبح سے ہی راجہ محمد علی مرحوم کی رہائش گاہ پر آنا شروع ہو گئے تھے۔ نمازِ جمعہ کے بعد تو پورا گاؤں ہی راجہ محمد علی کی بیٹھک پر امڈ آیا۔ ”ایسے لگتا ہے ہمارے گھر کا کوئی فرد فوت ہو گیا ہے“ ، گاؤں کے سکول کے ہیڈ ماسٹر الطاف حسین نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔
26 دسمبر کو ہندوستان کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کا انتقال تو دہلی میں ہوا لیکن دہلی سے سینکڑوں میل دور ان کے آبائی گاؤں گاہ میں گاؤں کے لوگوں نے ان کی موت کا سوگ منایا۔ جمعہ کا دن گاہ میں ایک انوکھا دن تھا جب گاؤں میں اس وقت ایک خلافِ معمول منظر دیکھنے کو ملا جب گاؤں کے مرد من موہن سنگھ کے ہم جماعت اور بچپن کے دوست راجہ محمد علی مرحوم کی بیٹھک پر من موہن سنگھ کی موت کا سوگ منانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔
گاؤں کے لوگوں نے من موہن سنگھ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی آخرت کی منازل کی آسانیوں کے لیے دعا کی اور ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر من موہن سنگھ کے بچپن کے دوست راجہ محمد علی مرحوم کے بھتیجے راجہ عاشق حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے چچا ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بہت قریبی دوست تھے۔ ”گاؤں کے اور بھی دس بارہ لوگ من موہن سنگھ صاحب کے ہم جماعت تھے۔ ان سب کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ اپنے گاؤں گاہ آئیں۔ راجہ محمد علی تو من موہن سنگھ کو دہلی میں مل آئے تھے لیکن باقی دوستوں کی یہ حسرت ادھوری ہی رہی“ ۔
راجہ عاشق حسین نے مزید بتایا کہ اگر ڈاکٹر صاحب بھارت کے وزیرِ اعظم نہ بنتے تو آج نہ گاہ گاؤں کی کارپٹ سڑک ہوتی، نہ بچیوں اور بچوں کے سکول ہائی ہوتے۔ ”من موہن سنگھ صاحب کی وجہ سے ہمارے گاؤں میں 2004 میں شمسی توانائی کا نظام متعارف ہوا جس کا اس وقت کسی دیہاتی علاقے میں تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا“ ۔
من موہن سنگھ کی تاریخ پیدائش یوں تو 26 ستمبر 1932 سمجھی جاتی ہے لیکن گورنمنٹ پرائمری سکول گاہ کے ریکارڈ کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 4 فروری 1932 ہے۔ من موہن سنگھ 1932 میں گاہ کے ایک دکاندار گرمکھ سنگھ کوہلی کے گھر پیدا ہوئے۔ من موہن سنگھ کی پانچ بہنیں اور تین بھائی تھے۔ ان کے بچپن میں ہی ان کی والدہ امرت کور انتقال کر گئی تھیں اور ان کو ان کی دادی جمنا دیوی نے پالا۔ من موہن سنگھ گاہ کے پرائمری سکول میں 17 اپریل 1937 کو داخل ہوئے جہاں انہوں نے چار سال تک پڑھا۔
من موہن سنگھ کے ہم جماعتوں میں مسلمان، ہندو اور سکھ طالب علم شامل تھے۔ ان کی جماعت میں ایک لڑکی بخت بانو بھی تھی۔ من موہن سنگھ کو ان کے ہم جماعت موہنا کہہ کر بلاتے تھے۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد ان کے والد انہیں پشاور لے گئے جہاں من موہن سنگھ خالصہ ہائی سکول میں داخل ہوئے اور 1947 کی گرمیوں میں میٹرک کا امتحان دیا لیکن پندرہ سال کے موہنے کے وہم و گماں بھی نہ تھا کہ اگلے چند ہفتوں کے بعد ان کے خاندان اور گاہ کے باقی سکھوں اور ہندوؤں پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
1947 کے خونی بٹوارے نے موہنے کے گاہ کو بھی خون میں نہلا دیا۔ ایک طوفان اٹھا۔ وحشیوں کے ہجوم میں گاہ کے چند شر پسندوں کے ساتھ آس پاس دیہات سے آئے ہوئے جتھے گاہ کے سکھوں اور ہندوؤں پر ٹوٹ پڑے۔ گاہ کے 91 سالہ محمد خان بتاتے ہیں کہ سترہ سے بیس سکھ اور ہندو بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔ ان کے گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا اور ان کی جمع پونجی کو لوٹ لیا گیا۔ گاہ کے کئی سکھ اور ہندو قریبی گاؤں چاولی بھاگ گئے جہاں انہیں چاولی کے لوگوں نے پناہ دی۔
ان میں دو سکھ جن میں ایک تارہ سنگھ شامل تھے کو گاہ کے لوگ یہ قسم دے کر واپس لائے کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ لیکن جیسے ہی وہ گاہ پہنچے تو ان کو بھی یہ کہہ کر مار دیا گیا کہ انہوں نے کئی سال پہلے قاتلوں کی ماں سے بدتمیزی کی تھی۔ تارہ سنگھ نے قاتلوں سے کہا کہ اگر ہمیں قتل کرنا تھا تو اس وقت کرتے جب ہم نے آپ کی ماں کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ آج تو ہم ویسے ہی مر چکے ہیں۔
محمد خان بتاتے ہیں کہ جہاں ایک طرف گاہ کے سکھوں اور ہندوؤں کو قتل کر کے ان کے گھروں کو جلایا اور لوٹا جا رہا تھا وہاں گاؤں کے کچھ لوگ سکھ اور ہندو عورتوں اور بچوں کو ہجوم سے بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے تھے۔ جب گاہ کو جلایا گیا تو من موہن سنگھ کے دادا سنت سنگھ بھی اس بلوے میں بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔ اس خونی بلوے کی کربناک یادیں مرتے دم تک من موہن سنگھ کے دل سے نہ نکل سکیں۔ 47 میں صرف گاہ اکیلا ہی لہو لہان نہیں ہوا تھا بلکہ اس خونی رت میں پورا پنجاب پاگل ہوا تھا۔ ادھر اگر مسلمانوں نے سکھوں کا قتلِ عام کیا اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کی تو سرحد پار سکھوں نے کئی درجے زیادہ سفاکی کے ساتھ انتقام لیا۔ ہر طرف پاگل پن اور وحشت کا راج تھا۔
من موہن سنگھ کا لٹا ہوا خاندان بھارتی ریاست اترا کھنڈ کے شہر ہلدوانی میں جا بسا جہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد 1948 میں گاہ کا یہ خاندان امرتسر مقیم ہو گیا۔ من موہن سنگھ امرتسر کے ہندو کالج میں داخل ہوئے اور اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی جو اس وقت ہشیار پور میں تھی سے 1954 میں معاشیات میں ماسٹر کیا۔ من موہن سنگھ نے اپنے تعلیمی کیریئر میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لی۔ ایم اے کرنے کے بعد برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کی۔
1957 میں برطانیہ سے واپسی کے بعد من موہن سنگھ نے کچھ عرصہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھایا اور 1960 میں پھر برطانیہ گئے جہاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ ہندوستان واپسی پر پنجاب یونیورسٹی میں دوبارہ تعینات ہوئے۔ گاہ کا موہنا جلد ہی ہندوستان کا بہترین معیشت دان بن کر ابھرا جس نے اقوامِ متحدہ میں کام کیا، بیرونی تجارت کی وزارت میں مشیر رہا، یونیورسٹی آف دہلی کے دہلی سکول آف اکنامکس میں پروفیسر رہا، وزارت خزانہ کا پہلے مشیر اور پھر سیکرٹری رہا، ریزرو بینک آف انڈیا کا گورنر بنا، پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین تعینات ہوا، بین الاقوامی ادارے ساؤتھ کمیشن جس کا ہیڈ آفس سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں تھا کا سیکرٹری جنرل رہا۔
جنیوا سے واپسی کے بعد گاہ کا موہنا وزیر اعظم چندرا شیکھر کی کابینہ میں معاشی مشیر رہا اور بعد میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا چیئرمین بنا۔ من موہن کے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز 1991 میں ہوا جب ان کو وزیرِ اعظم نرسیما راؤ نے وزیرِ خزانہ لگایا۔ یہ وہ دور تھا جب بھارتی معیشت خسارے میں تھی۔ یہ گاہ کا موہنا تھا جس نے ڈوبتی ہوئی بھارتی معیشت کو نہ صرف سنبھالا بلکہ معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔ من موہن سنگھ پانچ دفعہ راجیہ سبھا یعنی سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ لوک سبھا یعنی قومی اسمبلی کا الیکشن 1999 میں لڑا لیکن جیت نہ سکے۔
من موہن سنگھ نے 1958 میں گرشرن کور سے شادی کی جس سے ان کی تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ان کی بڑی بیٹی 65 سالہ اپندر سنگھ مشہور مورخ ہیں اور ہریانہ یونیورسٹی میں ڈین ہیں جبکہ ان کی منجھلی بیٹی 61 سالہ دامن سنگھ بھی مشہور مصنفہ ہیں جنہوں نے اپنے والدین کی زندگی پر کتاب سمیت کئی اور کتابیں لکھی ہیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی 55 سالہ امرت سنگھ ایک وکیل ہیں جو امریکہ میں وکالت کرتی ہیں۔
من موہن سنگھ کی سیاسی زندگی میں اہم موڑ مئی 2004 میں آیا جب کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ہر کسی کو یقین تھا کہ وزیرِ اعظم سونیا گاندھی ہوں گی لیکن سونیا گاندھی اچانک وزیرِ اعظم بننے سے دستبردار ہو گئیں اور انہوں نے من موہن سنگھ کو وزیرِ اعظم نامزد کر دیا۔ اسی وجہ سے من موہن سنگھ کو حادثاتی وزیرِ اعظم (Accidental Prime Minister) کہا جاتا ہے اور ان کی زندگی پر Accidental Prime Minister کے نام سے فلم بھی بنی۔
1947 سے 2004 تک ہم چکوالیوں کو یہ خبر تک نہیں تھی کہ بھارتی معیشت کا معمار وہ شخص ہے جو گاہ کے پرائمری سکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتا تھا اور گاہ کے تالاب میں اپنے دوستوں کے ساتھ نہاتا تھا اور تالاب پر لگے پیپل اور بوہڑ کے صدیوں پرانے درختوں پر چڑھ کر دن گزارتا تھا۔ 2004 میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وزیرِ اعظم بنتے ہی ہم پر یہ کھلا کہ نیا بھارتی وزیرِ اعظم چکوال کے گاؤں گاہ کا موہنا ہے۔ ساتھ یہ راز بھی افشا ہوا کہ موہنے کی بیوی گرشرن کور کا آبائی گاؤں ڈھکو ہے۔
مجھے یاد ہے کہ 2004 میں کچھ سرکاری افسر ہمارے گاؤں من موہن سنگھ کے سسر سردار چتر سنگھ کوہلی کی حویلی کے آثار دیکھنے آئے۔ ساتھ یہ نوید بھی سنائی گئی کہ من موہن سنگھ اور ان کی بیوی گرشرن کور جلد پاکستان کا دورہ کریں گے اور گاہ اور ڈھکو آئیں گے۔ میرے تایا چوہدری محمد نواز اور چوہدری محمد افضل نے گاؤں کی کچھ عورتوں سے چھکوریں (چنگیریں ) بنوائیں جو کجھور اور سروٹ کے پتوں سے بنائی گئیں جو بطور تحائف من موہن سنگھ اور ان کی اہلیہ کو دی جانی تھیں۔ لیکن گاہ اور ڈھکو والے من موہن سنگھ اور گرشرن کور کی راہ ہی دیکھتے رہ گئے۔
کل ”دی نیوز“ میں معروف صحافی اعزاز سید کے ایک مضمون میں مشاہد حسین سید کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ 2007 میں من موہن سنگھ نے پاکستان آنا تھا لیکن مشرف کے خلاف وکلا تحریک کی وجہ سے یہ ممکنہ دورہ منسوخ ہو گیا۔ مشاہد حسین سید کے مطابق 2006 میں دہلی میں من موہن سنگھ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے پنجابی میں من موہن سنگھ سے کہا تھا کہ ”ہنڑ دل وڈا کرو“ (اب دل بڑا کرو)۔ اس وقت کے وزیرِ اعظم چوہدری شجاعت حسین نے پنجابی میں من موہن سنگھ سے کہا تھا کہ ”ہنڑ وقت آ گیا اے کوئی ایگریمنٹ کریئے۔ تسی وی اگے ودھو“ (اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی ایگریمنٹ کریں، آپ بھی آگے بڑھیں)۔ من موہن سنگھ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ”تسیں مینوں مروا نہ دینڑاں“ (آپ مجھے مروا نہ دینا)۔
سوال یہ ہے کہ دو بار وزیرِ اعظم رہنے کے باوجود بھی گاہ کا موہنا اپنے گاؤں کیوں نہ آیا باوجود اس کے کہ انہیں کئی پاکستانی حکمرانوں نے پاکستان آنے کی دعوت دی؟ اگر بطور وزیرِ اعظم کوئی ریاستی رکاوٹیں حائل تھیں تو وزیرِ اعظم کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی من موہن سنگھ گاہ کیوں نہ آئے؟ 2009 میں وہ کرتار پور ماتھا ٹیک کر وہاں سے ہی واپس چلے گئے اور وزیرِ اعظم بننے سے پہلے بھی دو دفعہ پاکستان آئے لیکن گاہ نہ آئے۔
اس سوال کا جواب من موہن سنگھ کی بیٹی دامن سنگھ نے اپنے والدین پر لکھی ہوئی کتاب ”Strictly Personal“ میں دیا ہے جبکہ بھارتی پنجاب کے سابق وزیرِ خزانہ من پریت سنگھ بادل نے بھی ”دی انڈین ایکسپریس“ میں شائع ہونے والے حالیہ مضمون میں اس سوال کا جواب دیا ہے۔ من پریت سنگھ بادل لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ من موہن سنگھ کو کہا کہ بطور وزیرِ اعظم پاکستان میں آپ کا بھر پور سواگت کیا جائے گا۔ لیکن من موہن سنگھ نے آگے سے جواب دیا، ”یاداں بڑیاں تلخ ہن“ (یادیں بہت تلخ ہیں)۔ دامن سنگھ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ جب ان کی بہن نے اپنے ابا سے گاہ جانے کے متعلق سوال کیا تو من موہن سنگھ نے کہا، ہر گز نہیں۔ کیونکہ اس جگہ میرے دادا کو قتل کیا گیا تھا ”۔
من پریت سنگھ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ برطانیہ میں زمانہ طالب علمی کے دوران من موہن سنگھ انگریزی ادب کے امام شیکسپیئر کے آبائی علاقے میں شیکسپیئر کا کوئی ڈرامہ تھیٹر میں دیکھنے گئے۔ وقفہ کے دوران ایک انتہائی وجیہہ اور خوبصورت شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ہم پاکستان میں ہندوؤں اور سکھوں کو بہت یاد کرتے ہیں۔ من موہن سنگھ نے اس نوجوان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس وجیہہ شخص نے جواب دیا، ”میں متحدہ پنجاب کا وزیرِ اعظم رہا ہوں اور میرا نام خضر حیات ٹوانہ ہے“ ۔
من پریت بادل لکھتے ہیں کہ من موہن سنگھ نے انہیں کئی بار یہ واقعہ سنایا اور ہر دفعہ یہ ہی کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اتنا خوبصورت مرد نہیں دیکھا۔ پنجاب یونینسٹ پارٹی کے رہنما سر ملک خضر حیات ٹوانہ 1942 سے 1947 تک متحدہ پنجاب کے وزیرِ اعظم رہے اور وہ اور ان کی جماعت ہندوستان کے بٹوارے کے شدید خلاف تھے۔
من موہن سنگھ بٹوارے کی خوفناک یادوں کی وجہ سے خود تو گاہ نہ آئے لیکن اپنی مٹی سے محبت اور عقیدت کی چنگاریاں ان کے دل میں مرتے دم تک دہکتی رہیں۔ یہ مٹی سے محبت ہی تھی جس کی وجہ سے گاہ کے موہنے نے اس گاؤں کی تین مساجد میں اس خیال سے گیزر لگوائے کہ اس کے گاؤں کے لوگ سردیوں میں گرم پانی سے وضو کر کے نماز ادا کر سکیں۔
سنہ 2004 میں من موہن سنگھ کی وجہ سے چکوال کے پسماندہ گاؤں گاہ کی قسمت جاگ اٹھی۔ پاکستانی حکومت نے گاہ کو ماڈل ویلج قرار دے کر 90 کروڑ کے ترقیاتی کام شروع کیے۔ بلکسر سے گاہ تک کارپٹ روڈ بنی۔ بنیادی مرکز صحت بنا، ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بنا، لڑکوں اور لڑکیوں کے پرائمری سکولز ہائی سکولز بنے۔ ویٹرنری ڈسپنسری بنی۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ ہمارے حکمرانوں نے ان ترقیاتی منصوبوں پر 90 کروڑ لگا کر عمارتیں تو بنا دیں لیکن آج تک گاہ کا بنیادی مرکز صحت، ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اور ویٹرنری ڈسپنسری فنکشنل نہ ہو سکے۔ دوسری طرف بھارتی حکومت نے گاہ کی تین مساجد میں شمسی توانائی پر چلنے والے تین گیزر لگائے اور گاہ کی گلیوں میں لائٹیں نصب کیں۔ آج بھی یہ گیزر اور لائٹیں کامیابی سے چل رہے ہیں۔
گاہ والوں نے بھی گاہ کے موہنے سے اپنی محبت کا کئی بار عملی ثبوت دیا۔ 2006 میں پہلے گاہ کے راجہ عاشق حسین جو بیگال یونین کونسل کے ناظم تھے بھارت گئے لیکن ان کی من موہن سنگھ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ پھر ان کے چچا راجہ محمد علی مئی 2006 میں حاجی محمود کے ہمراہ گاہ گئے اور اپنے دوست موہنے کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملے۔ راجہ محمد علی موہنے کے لیے گاہ کی مٹی، پانی، گاؤں کی تصویر، دو جوڑے زری کھسوں کے، پہلوان ریوڑی اور چادر لے کر گئے۔ جب من موہن سنگھ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو گاہ کے لوگوں نے ڈھول کی تھاپ پر جشن منایا۔ 2014 کے بھارتی انتخابات کے دوران جب میں گاہ گیا تو موہنے کے دوستوں کو ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کانگریس کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگتے دیکھا۔
تین دن پہلے یعنی 27 دسمبر کو جب میں گاہ گیا تو عجب منظر دیکھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد پورا گاؤں راجہ محمد علی مرحوم کی بیٹھک پر امڈ آیا۔ بظاہر جمعہ کو گاہ میں کسی شخص کا انتقال نہیں ہوا تھا لیکن گاہ کے لوگ راجہ محمد علی کی بیٹھک پر جمعرات کو دہلی میں 92 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والے گاہ کے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی موت کا سوگ منا رہے تھے۔ یہی آواز آ رہی تھی کہ ایسے لگتا ہے ہمارے گھر کا کوئی فرد فوت ہو گیا ہے۔ کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ گاہ کا کوئی سربراہ انتقال کر گیا ہے۔
آج گاہ میں سکھوں کے گھروں کے آثار تک مٹ چکے ہیں لیکن گاہ کا سکول اور سکول کے پاس سکھ خاندان کا ایک گھر اور گاہ کے سوکھے تالاب اور تالاب کے کنارے لگے پیپل، بوہڑ اور بیر کے درخت آج بھی گاہ کے تابناک ماضی کی گواہی دیتے ہیں۔ سکول کے پاس سکھ خاندان کا بچ جانے والا واحد گھر آج کل کمیونٹی سینٹر کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس گھر کے دروازے پر پنجابی زبان کے گرمکھی رسم الخط میں سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کا ایک اشلوک کچھ اس طرح لکھا ہوا ہے، ”اک اونکار ستنم“ ۔ یعنی اللہ ایک ہے اور اللہ ہی سچ ہے ”۔ سکھ خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں۔
2004 میں جب گاہ کا موہنا وزیر اعظم بنا تو پاکستانی حکومت نے گاہ میں جہاں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا وہاں یہ بڑھک بھی ماری کہ گاہ میں موہنے کے پرائمری سکول کا نام من موہن سنگھ کے نام پر رکھا جائے گا۔ لیکن آج بیس سال گزرنے کے باوجود بھی نہ تو گاہ کے سکول کا نام من موہن سنگھ کے نام پر رکھا گیا ہے نہ ہی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں جہاں دیوار پر قائدِ اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تصویریں لگی ہوئی ہیں وہاں من موہن سنگھ کی کوئی تصویر نظر نہیں آتی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جہاں گاہ کے سکول کا نام من موہن سنگھ کے نام پر ہوتا اور ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں ان کا پورٹریٹ لگا ہوتا وہاں گاہ کے داخلی مقام پر ان کا ایک مجسمہ بھی نصب ہوتا۔
دھیمے مزاج اور شرمیلی طبیعت کے من موہن سنگھ ایک عظیم رہنما تھے جنہوں نے بھارت کو دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں لا کھڑا کیا۔ وہ ماڈرن بھارت کے بانی تو تھے ہی، ان کی زندگی انسانی جدوجہد، حوصلے اور بہادری کا ایک شاندار نمونہ بھی ہے۔


