اردو میڈیم (1)
جب میرے جیسے بچے اس فرسودہ اور پیچیدہ نظام کو شکست دے کر زندگی کے سفر میں کچھ بن جاتے ہیں یا بننے کے درپے ہوتے ہیں تو یقیناً پیچھے مُڑ کے دیکھنے اور اپنے ماضی کو یاد کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ بہت سے وہ مقام اور موڑ رہ رہ کے یاد آتے ہیں جہاں ہار جانے کے بہت چانس تھے مگر آپ کو آفاقی قوت اور اپنوں کی دعاؤں نے گرنے نہیں دیا ہوتا۔ میری کہانی پڑھ کے اگر آپ کو اپنا بچپن مسکراتا ہوا ملے یا آپ کو پرانے ماشٹر جی یاد آئیں تو میں سمجھوں گا حق ادا ہو گیا۔
تو چلئے شروع کرتے ہیں اس اردو میڈیم والے لونڈے کی کہانی یعنی کہ میری کہانی۔ پاکستان کے 70فی صد بچوں کی طرح میری عصری تعلیم کا آغاز بھی ٹاٹ اسکول سے ہوا۔ یہ اسکول میرے گاؤں کے شمال جانب واقع ہے۔ بنیادی سہولیات جیسا کہ، کرسی، ڈیسک، تختہ سیاہ، لیٹرین اور چاردیواری سے محروم دو کمروں پہ مشتمل تھا (جس میں بیٹھنے کے کاپی رائٹ بس چوتھی اور پانچویں جماعت کے طلبہ کو حاصل تھے ) اور باقی سب لونڈے لپاڑے کسی درخت کی چھاؤں پہ قبضہ کر کے اپنی جماعت کے لیے قلعہ فتح کرنے جیسی خوشی محسوس کرتے تھے۔
یہ وہ دور تھا کہ جب 14 سال کی عمر میں بچے پرائمری پاس کرتے تھے۔ چونکہ بڑے بھائی پہلے ہی اسکول میں زیر تعلیم تھے تو میں ناسمجھ بھائی کی نقل میں خود ہی اسکول جانا شروع ہو گیا۔ جسے میرا شوق اور پڑھائی کی لگن کا نام دے کے مجھے قریباً 4 سال کی عمر میں ہی کچی جماعت میں داخل کر لیا گیا۔ جس کا خمیازہ آج تلک بھگت رہا۔ پڑھائی میری گلے کا تعویز بن گئی۔ اب ان دانش وروں کو کون سمجھاتا کہ بھائی یہ شوق ووق نہیں بس رِیس ہے۔
خیر وقت گزرتا گیا اور روایتی انداز میں ترقی کرتے کرتے اگلے 4 سالوں میں چوتھی کلاس میں آن پہنچا۔ اس وقت تک میرے ایک بھائی میٹرک کر چکے تھے اور تب یہ دستور تھا کہ انگریزی کی تعلیم جماعت ششم سے شروع ہوتی تھی مگر چونکہ وہ اس نظام کا تجربہ کر چکے تھے اور انہیں بڑا ہونے کا فرض بھی نبھانا تھا تو ان پہ لازم تھا کہ وہ اپنے تجربے کا ہم پہ اطلاق کریں۔ لہٰذا انہوں نے ہمارے استاد سے کہہ کر چوتھی کلاس میں اے۔ بی۔
سی۔ ڈی کا اضافی بوجھ بھی ہمارے نحیف کندھوں پہ ڈال دیا۔ جو کہ اضافہ ہی ثابت ہوا کیونکہ باقی جماعت کے بچے وہ سبق پڑھتے نہیں تھے، استاد پڑھانا اور ہم پڑھنا نہیں چاہتے تھے لہٰذا جلد ہی ہماری گلوخلاصی ہو گئی۔ اور یہ اس لیے بھی تھا کہ انگریزی کا لفظ ہمارے دماغ کے لیے انگریز کی طرح غیر شناسا تھا کہ اس وقت ہم دونوں سے ہی نابلد تھے، ”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“ اور ہم نے سُکھ کی سانس لی کہ چلو ہم بھی باقی بچوں کی طرح انگلش فری تعلیم حاصل کریں گے۔
جب چوتھی جماعت کے سالانہ امتحان ہوئے تو ابا مجھے ماموں کے ہاں لے گئے۔ ماموں چونکہ پٹواری تھے اور ان کے بچے شہر میں پڑھتے تھے اور سبھی ہائی اسکول اور کالج لیول پہ تھے۔ تو میں ان کے لیے ایک پکا پینڈو اور گوار قسم کا بچہ تھا جسے قومی ترانے اور ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ کے سوا کچھ نہیں آتا تھا۔ وہاں پہ دو دن کا ہمارا قیام تھا جو اتنا خوشگوار اور قابل ذکر نہیں مگر ایک سوال مجھے آج بھی یاد ہے ”میری کزن نے پوچھا آپ کی کوئی پوزیشن آئی ہے؟
“ حالانکہ میں ہر سال اول آتا تھا مگر پوزیشن کے لفظ سے ہی ناواقف تھا اور اُس وقت بس ٹیوشن کا نام سُن رکھا تھا کہ بڑے بھائی میٹرک میں ٹیوشن جاتے تھے۔ پوزیشن کو ٹیوشن سمجھ کے جھٹ سے ہیرو بنتے ہوئے بولا ”نہیں“ ۔ تو انہوں نے ابا جی سے کہا کہ آپ کا بچہ نالائق ہے اس کی تو کلاس میں پوزیشن ہی نہیں ہے۔ جب کہ ابا جی اصرار کرتے رہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے ہمارا بچہ بہت ذہین ہے مگر وہ ”میں نہ مانوں“ کی راگ الاپتے رہے۔ اور میں دل ہی دل میں کُڑھتا رہا کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی ٹیوشن تو نالائق بچے پڑھتے ہیں اور جو ٹیوشن نہیں لیتے وہ اپنے بل بوتے پہ پاس ہوتے ہیں مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔ مجھ معصوم کو ٹیوشن نہ پڑھنے کی وجہ سے نالائق کا خطاب دے دیا انگریز کے متوالوں نے۔
جاری ہے


