پی ایچ ڈی یورپ اور ہم (1)
پی ایچ ڈی کرنے کا جنون ہم پر اپنے بی بی اے کے دوران ہی سوار ہو گیا تھا، سندھ یونیورسٹی جامشورو میں بی بی اے کے دوران ہم دو محترم اساتذہ سے بہت متاثر ہوئے ایک پروفیسر غلام رسول صاحب کہ جن کی وجہ سے ہمیں انٹرپرینیورشپ پڑھنے کے لئے دلچسپی ہوئی اور دوسرے پروفیسر ڈاکٹر انور علی شاہ صاحب سے بہت متاثر ہوئے انہوں نے ہمیں منیجمنٹ پڑھائی اور وہ ہمارے ادارے کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ اس کے بعد اسلام آباد، قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم بے اے، پھر اسوہ ایجوکیشن سسٹم، پھر نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں درس و تدریس کی ملازمت، اسلامک یونیورسٹی سے ایم ایس اور پھر 2015 میں یعنی سندھ یونیورسٹی سے تعلیم کے تقریباً ڈیڑھ دہائی بعد ہم اسکالرشپ پر یورپ کے لئے عازم سفر تھے۔ ہمارے ہمراہ ڈاکٹر اشتیاق احمد صاحب، ڈاکٹر سحر ذوالفقار صاحبہ، عمیر صاحب اور حافظ محمد اسماعیل صاحب بھی تھے۔
ہم نے قطر ائرویز پر اسلام آباد سے بوڈاپسٹ کی فلائٹ بُک کروا لی، اور پھر بوڈاپسٹ سے تقریباً 3 گھنٹے کی مسافت پر ہنگری کے دوسرے بڑے شہر دیبرسن ہماری منزلِ پی ایچ ڈی تھی۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد اور میں بہت گہری دوستی کے تعلق کی بنا پر اکثر فُون پر طویل باتیں کیا کرتے، منصوبہ بندی کرتے کورس ورک کتنا ہو گا، پبلیکیشنز کتنی کرنی ہوں گی، اسکالرشپ میں گزارا ہو جائے گا یا نہیں، خانوادے کے متعلق کہ ان کی دیکھ بھال اور سامان کیا لے کر جانا ہے کہاں رہنا ہے، بہت سارے خدشات ہوتے کہ ماحول کیسا ہو گا، کھانا کہاں سے ملے گا، کون پکائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اشتیاق صاحب نے فیس بک کے ذریعے دیبرسن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالبعلم سے رابطہ قائم کیا، ان صاحب کا نام میں مصلحتاً صیغہ راز میں رکھ رہا ہوں انہیں میں ’کمال‘ کہے دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی اور یہ جو ہماری مصلحت ہے یہ بھی آپ پر آئندہ کی سطور میں منکشف ہو جائے گی۔ خیر کمال صاحب نے ہمیں دیبرسن میں رہائش اور یونیورسٹی کی رجسٹریشن وغیرہ کی بھرپور تسلی دے دی۔
مسٹر لِیو کے واٹس ایپ نمبر سے بھی نواز دیا، مسٹر لیو رومانیہ کے شہری تھے اور بوڈاپسٹ سے دیبرسن ائرپورٹ پک اینڈ ڈراپ سروس چلاتے تھے، ہماری فلائٹ 15 ستمبر 2015 کو علی الصبح اسلام آباد سے اڑان بھر چکی تھی، دوحہ قطر سے ہم فلائٹ بدل کر بوڈاپسٹ کے جہاز میں سوار ہو چکے تھے، اس فلائٹ میں قریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے کا سفر بہت اچھا گزرا مگر اس کے بعد اشتیاق بھائی کی طبیعت بگڑ گئی، قے اور میگرین نے انہیں گھیر لیا فلائٹ سٹیورڈ کہ جن کا تعلق بھارت سے تھا انتہائی وجیہ و شکیل و خوش گفتار جوان تھے انہوں نے دوا کے طور پر 2 گولیاں دیں کمال دوا تھی صاحب کہ چند ہی لمحوں میں اشتیاق صاحب کے جسم کے ساتھ ساتھ دماغ بھی ہوا میں سیر کرنے لگا، اشتیاق صاحب تو نیند کی گہری وادیوں میں گھومنے لگے۔ ہماری فلائٹ تو ماشاءاللہ خیریت سے بوڈاپسٹ ائرپورٹ پر اتر گئی مگر ہم پریشان تھے کہ اشتیاق بھائی کو نیچے کیسے اتاریں گے، اُنہی بھارتی جوان نے بارِ دیگر ہم پر احسان کر کے ہمیں تسلی دی کہ وہیل چیئر سے اتار لیں گے۔ ہماری سِیٹ جہاز کے دروازے سے کافی دور تھی اور جہاز کے اندر وہیل چیئر آ نہیں سکتی تھی، حافظ اسماعیل صاحب اور میں نے اشتیاق صاحب کو بمشکل تھام کر جہاز کے دروازے پر پہنچایا اور پھر وہیل چیئر سے نیچے اتار لیا۔ بہت مشکل سے امیگریشن وغیرہ کروائی باہر نکلے تو مسٹر لِیو موجود تھے جب انہوں نے اشتیاق بھائی کو دیکھا کہ ہم ایک نیم بیہوش شخص کہ جس کا سر شدتِ غنودگی سے ایک طرف کو ڈھلکا ہوا ہے ان کو لا رہے ہیں تو مسٹر لِیو نے چِلّانا شروع کر دیا کہ میں اِن کو نہیں لے جا سکتا، بیمار ہیں مسئلہ بن جائے گا، خیر جوں توں کر کے مسٹر لیو کو ہم نے قائل کر لیا اور ان کی ویگن پر سوار ہو گئے۔ مسٹر لیو نے ہمیں انٹرنیٹ کا پاسورڈ عنایت کر دیا اور ہم کمال صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش میں مگن ہو گئے۔ کالیں مسلسل جا رہی تھیں میسج بھی جا رہے تھے مگر جواب ہنوز ندارد۔
تقریباً آدھی مسافت کے بعد ہم کمال صاحب کے کمال سے نا امید ہو کر رہائش کے لئے مزید طریقہ کار سوچنے لگے مسٹر لیو نے کچھ ہوٹل سٹی سینٹر میں بتائے اور نمبر بھی دیے اور ساتھ ہی ڈسکاؤنٹ دلوانے کا بھی کہا، مجھے راولپنڈی سے مری لے کر جانے والے ٹیکسی ڈرائیور یاد آنے لگے کہ جو سیاحوں کو مری اور دیگر سیاحتی علاقوں میں ہوٹل دلواتے ہیں اور کمیشن بھی لیتے ہیں۔ ویگن میں ہمارے علاوہ 3 اور مسافر تھے ان کا تعلق بھی بیرونی ممالک سے تھا اور دیبرسن یونیورسٹی کے طالبعلم تھے ان تینوں نے ہمیں آگُستا ہاسٹل کا مشورہ دیا۔ ہم دیبرسن پہنچ کر آگُستا ہاسٹل کے سامنے اتر گئے۔ جب ہاسٹل کی ریسیپشن پر گئے تو کاؤنٹر پر موجود ہنگیرین دوشیزہ نے فرمایا کہ ہم تو فُلی بکڈ ہیں، نو ویکینسی اور یہ کہ ہمیں ایڈوانس بکنگ آنلائن کروانی چاہیے تھی، ہم نے بھی اپنی داستانِ درد بیان کی کہ کیسے ہمیں ہمارے ایک ہم وطن طالبعلم نے اعتماد دلوایا اور ہم نے بھروسا بھی کر لیا اور جھانسے میں آ گئے مگر نہ ان صاحب نے کال اٹینڈ کی اور نہ میسج کا جواب دیا ہم نے اُن خوش شکل خاتون سے اپنی حالت زار کو بیان کیا اور درخواست کی کہ ہماری حالت یوں تھی کہ پروین شاکر کے بقول
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
ان خاتون نے ہمیں انتظار کرنے کا کہا اور فون پر مصروف ہو گئیں قریباً آدھ گھنٹے بعد انہوں نے ہمیں کورین ہاسٹل میں کمروں کی موجودگی کی نوید سنائی۔ ہم نے 3 کمرے بُک کروا لیے، ایک کمرے میں اشتیاق بھائی اور میں، دوسرے میں حافظ اسماعیل اور عمیر صاحبان اور تیسرے کمرے میں ڈاکٹر سحر ذوالفقار صاحبہ۔
کمروں میں سامان رکھ کر ہم تازہ دم ہو گئے اور اشتیاق صاحب نیند کی گھاٹیوں میں چل دیے۔ اب مسئلہ کھانے کا تھا ہم نے ہاسٹل کی ریسیپشن سے کھانے کے متعلق پوچھا تو وہ سب ہمارے کھانے سے تعلق نہیں رکھتا تھا، پھر ہاسٹل والوں سے کریانہ کی دکان کا پوچھا تو انہوں نے ڈوبیرڈو اے بی سی کا بتا دیا ٹیکسی لے کر مشکل سے ڈوبیرڈو پہنچے، مشکل اس لئے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو انگریزی نہیں آتی تھی اور ہم ہنگیرین زبان سے نابلد تھے تقریباً اتنی ہی مشکل سے ہم نے ڈوبیرڈو اسٹور کے سیل مین سے آلو انڈے سبز مرچ کوکنگ آئل اور بریڈ خریدے واپس آئے اور کمرے میں موجود الیکٹرک چولہے پر جیسا تیسا سالن بنا کر جب کھانے لگے تو انہی ’کمال صاحب‘ کا پیغام آیا کہ معذرت میرا پیپر تھا اور میں سینٹرل لائبریری میں پڑھ رہا تھا، اُن کا یہ بیان کمال درجہ جھوٹ پر مبنی تھا، ہمارے تین سالہ قیام میں کبھی بھی دیبرسن یونیورسٹی میں اس موسم میں امتحانات نہیں ہوا کرتے تھے دراصل وہ ہمیں گھیر کے شکار کرنا چاہتے تھے جو ہم نہ ہوئے، ان کے اگلے پیغام میں انہوں نے اپنے ایک حَواری کا نمبر دیا کہ ان سے رابطہ کر لیں یہ آپ کو سب کچھ کر دیں گے، اور جب جناب کے حواری سے رابطہ ہوا تو انہوں نے مستقل رہائش کی تلاش، یونیورسٹی رجسٹریشن اور امیگریشن سے ریزیڈنسی کارڈ سب کچھ کروانے کے فی کس 150 یورو مطالبہ کر لیا، جیسے ہی ہم نے یہ پیغام سنا تو تن بدن میں جیسے آگ سی لگ گئی، مسئلہ یہ نہیں تھا کہ پیسے کیوں مطالبہ کیے بلکہ ہمیں غصہ دلانے والی بات یہ تھی کہ یہ سب کچھ پہلے کیوں نہیں بتایا اور یوں گھیر کر پھنسا کر دبوچ کر شکار کرنا، جھانسا دینا بھلا کیا طریقہ ہوا۔ ہمیں بوڈاپسٹ سے دیبرسن کے سفر میں مسلسل پریشان اسی لئے رکھا کہ ریٹ بڑھایا جا سکے۔ ہم نے ان کی خدمات حاصل کرنے سے معذرت کر لی، کھانا کھایا نماز پڑھی اور سو گئے، صبح جب جاگے تو اشتیاق بھائی کی طبیعت ماشاءاللہ بہت بہتر تھی، ہم دونوں باہر سیر کو نکلے، لوگ ہمیں دیکھ کر ڈرنے لگے دُور ہونے لگے، فُٹ پاتھ چھوڑ سڑک پر تیزی سے چلے جاتے اور آپس میں کچھ کہتے جو ہمیں سمجھ نہ آتا کہ جیسے ہم جِپسی یا ریفیوجیز ہوں ہم تشویش میں تھے کہ مسئلہ کیا ہے جب واپس کمرے میں آ کر خود ہم نے اپنا حلیہ ٹھیک سے دیکھا تو سب سمجھ آ گیا، حُلیہ ہمارا کچھ یوں تھا کہ شلوار کے اوپر ٹی شرٹ اور جیکٹ اور سر پر گرم ٹوپی، پاؤں میں موزے مگر چپل۔ اب ہنگیرین بے چارے ہم سے ڈرتے نہ تو اور کیا کرتے بھلا۔
(جاری ہے)



It’s a great honor for me to go through your journey and learn so many things that never trust on any one blindly and how to achieve your goal and prepare your self for your aim.
Nowadays, AIr BnB and other facilities are easily available and accessible to everyone, from cheapest to most reliable (just read their reviews). Some owner also extend pick and drop from Airport to visitor / guest at some extra cost which is worth
Book these setups for few days and after that the Univ or office, where you visit people will extend all such facilities
In Europe there are many old people who lives alone and badly need a company instead of money // If you are really a good sensible person / human being there is no harm in living as Paying Guest with families (also look after them) instead of settling in Hostel etc
سر، آپ کی یہ تحریر بہت مؤثر اور دلچسپ ہے۔ آپ نے بیرون ملک تعلیم کے دوران پیش آنے والے چیلنجز کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ خاص طور پر ذاتی مشاہدات اور واقعات نے کہانی کو بہت جاندار بنا دیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک بہت متاثر کن اور سبق آموز مضمون ہے، جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔