فوڈ انسکیورٹی کا عفریت اور مڈل کلاس
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
بچپن میں دیکھی تمام اچھی بری تصویریں ساری زندگی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔
مجھے یاد ہے کہ جنوبی پنجاب کے چھوٹے سے ضلع میں جہاں نانا ابا کا گھر تھا ہم چھٹیاں گزارنے جاتے، گرمیوں کی مصروفیات میں تھا آم کے باغ میں مٹر گشت، ٹیوب ویل میں نہانا، ٹیوب ویل میں ہی آم ٹھنڈے کر کے تندور کی روٹی، دیسی مرغے کے شوربے سے کھانا اور آم کے درختوں پر چڑھ کر کینن کے کیمرے سے تصویریں بنوانا۔
سردیوں میں پاکستان آتے تو ایک بڑے ہال کمرے میں بہت سے بستر، گدے، روئی کی رضائیاں ہوتیں ( کہ گھر میں لگ بھگ 30 افراد ہر وقت موجود ہوتے سمیت چھٹیاں گزارنے آئے نواسے نواسیاں، پوتے پوتیاں ) ۔
رات کو انگیٹھی میں کوئلے دہکتے، اور نانا جان ( جو کہ ملازمت پیشہ رہے اور برٹش پیٹرولیم سے کب کے ریٹائر ہوچکے تھے ) ۔
ہمیں ڈرائی فروٹ ساتھ بٹھا کر کھلاتے۔ اتنے افراد اور بچوں کے لئے بادام و اخروٹ چھوٹی بوری میں آتا، جسے پنجاب میں ”کَٹو“ کہتے ہیں۔
غضب خدا کا چلغوزے بھی تو بوری میں آتے تھے اور ہم دیر رات چلغوزے چھیل کر کھاتے، اکثر نانا جان خود چھیل کر دیا کرتے، یہاں تک کہ چلغوزے، بادام، اخروٹ، پستے سے نیت بھر جاتی۔
نوکر ہمارے ساتھ ہی بیٹھ کر چلغوزے اڑاتے۔ نوکرانی بھی ایسی رکھی تھی جس کے 7 بچے تھے، اور ایک خاتون مائنارٹی کوٹہ پر تھی، جو صرف غسل خانے دھوتی باقی وقت باتیں کرتی، دودھ پتی پیتی اور لطیفے سناتی۔
الائچی بھی ہمارے گھر میں ایسے ٹکا ٹوکری تھی جیسے اپنے معاشرے میں آج کل اچھا شریف النفس آدمی، کہ الائچی کو برتنے میں کوئی سنجیدگی نہ احتیاط، کہیں پاندان میں پڑی ہے، کہیں طاق میں رکھی ڈبیا میں بند ہے، باورچی خانے میں مسالے کے ڈبے میں موجود اور کہیں نانا جان کے رومال سے نکل رہی ہے، بڑی اماں نے ڈبہ نکال کر کھیر میں مٹھی بھر ڈالی اور ڈبے میں پڑی باقی الائچی سب گھر والے تبرک کے طور پر چباتے پھرے۔
سانچی پان کے پتے لاہور سے آتے اور ہر آتے جاتے کو کھلائے جاتے۔
۔ ۔
پچھلے ہفتے ہم پشاور گئے۔ ڈرائی فروٹ کی دکان پر چلغوزہ دیکھ کر قیمت پوچھی تو خان صاحب کمزور سے چلغوزوں کی طرف اشارہ کر کے بولا یہ 10 ہزار اور اچھی صحت والوں کی طرف اشارہ کر کے بولا یہ 12 ہزار۔
الائچی والے کے پاس رکے تو اس نے الائچی کی تھیلی ایسے کھولی اور اس میں ڈالنے کو ننھا سا scoop ایسے نکالا جیسے سنار ترازو میں سونے کی پتری رکھنے کے لئے چھوٹا چمٹا نکالتا ہے۔
ایک سبز بانکی الائچی چکھنے کو دی، الائچی کیا تھی، بھرپور خوشبو اور ذائقے کا طوفان تھا۔ گھنٹہ ہمارا سر جُھنجُھناتا رہا اور منہ مہکتا رہا۔ پوچھا بھائی کتنے کا؟
بولا 14 ہزار کلو سے ایک روپیہ کم نہیں۔ یہ پرانی، باسی الائچی نہیں، کھا کر پتا چل گیا ہو گا۔ کمال فریش آئٹم ہے۔
بھلا ہو عدیل کا کہ باقی ڈرائی فروٹ کے ساتھ الائچی اور چلغوزے جیب کے مطابق خرید ڈالے لیکن میرا دل بجھا سا تھا۔
واپسی پر میں نے شمائم سے کہا کہ
پاکستان کے مسائل تو گنواؤ؟
اس نے لمبی لسٹ سنائی
میں نے کہا بیٹے۔ مجھ سے پوچھو یہاں کا اولین مسئلہ بن چکا ہے
بے ہنگم بڑھتی ہوئی بے دماغ و بے ہنر آبادی اور فوڈ انسکیورٹی۔
اپنی زندگی میں ہم نے چلغوزے کی بوریوں سے کلو چلغوزہ 12 ہزار روپے ( کچھ دوستوں کے مطابق لاہور میں 18 ہزار کلو تک) اور بے قدری الائچی سے 14 ہزار کلو تک کا سفر طے کیا ہے۔
تمہارے بڑے ہوتے تک اللہ کرے کہ یہ خاص نعمتیں / خالص میوہ جات و مسالے مڈل کلاس کو مہیا رہیں۔
نہ رہیں، تو ہماری نسل کے ان صاحب حیثیت لوگوں کو کوسنا جنہوں نے آنے والی نسلوں کو آرگینک زراعت کے بجائے بے ہنگم آبادیاں دیں اور تم سے بن پڑے تو آرگینک زراعت کو بچانے اور اس ملک میں فوڈ سیکیورٹی کے لئے جو ہو سکے کرنا۔



آپ کی تحریر میں کچھ باتیں ناگوار لگیں۔
ایک حد سے زیادہ اور لگ بھگ غیر ضروری انگریزی الفاظ کا استعمال۔
–
الائچی چلغوزہ ہرجاء کے مقامی طور پر بھی پیدا ہوتے ہین لیکن ان کی ایک بڑی مقدار افغانستان اور ایران سے بھی پاکستان میں آتی ہے۔ پھر وہی ڈالر کا مسئلہ۔
مشرف کے دور یعنی 2008 تک یہ ڈالر 60 روپے پر تھا۔
–
مونگ پھلی بھی بے شک مقامی پیداوار ہے مگر بیرون ملک سے آنے والی مونگ پھلی ہو یا کوئی اور میوہ جب ڈالر (درآمدی) میوے پر لگتا ہے تو مقامی پیداوار کی قیمت بھی خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ ویسے بھی ڈالر اور مہنگائی کی شرح بڑھنے سے مقامی کھاد سے لے کر پٹرول (رسد کے ذرائع) بھی مہنگے ہونے سے مقامی چیزوں نے مہنگا ہونا ہی ہونا ہے۔
اگر آج ڈالر پونے تین سو کا ہے تو دس ہزار والا چلغوزہ مشرف کے دور تک 2 ہزار کا پڑے گا۔
اسی طرح اگر ہم اپنے بچپن کی کسی بھی کھانے پینے کی چیز کی قیمت کو اج سے موازنہ کرنا چاہیں تو آسان حل وہی ڈالر ہے۔ یہ اور بات کہ آج لوگوں کی تنخواہ بھی بڑھ چکی ہے لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ پہلے ہماری ضروریات حد درجہ کم ہوتی تھیں اور اللے تللے اتنے نہیں ہوتے تھے۔
گھروں میں بچہ بچہ بیس پچیس ہزار کا موبائل یا ٹیبلٹ لئے بیٹھا ہے تو یہ اخراجات خوراک تعلیم اور کپڑے لتے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
موبائل انٹرنیٹ اور کیبل کے بل اب گھر کے اخراجات میں لازم ہوچکے ہیں یہ اور بات کہ اخبار۔ جرائد اور رسائل ساتھ غیر نصابی کتابیں اب ہماری عام زندگیوں سے دور ہوچکیں سو وہ خرچ بچ گئے۔