ہم ایک سال اور پرانے ہو گئے
عمر رفتہ کی مانند سن دو ہزار چوبیس بھی قصۂ پارینہ ہوا اور ہم ایک سال مزید پرانے ہو گئے۔ سال مہینوں میں، مہینے ہفتوں میں، ہفتے دنوں میں اور دن گھنٹوں میں ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی پیچھے لگا ہو۔ کوئی صاحب تدبیر ایسا نہیں جو وقت کو روکے۔ صبح و شام کا اس تیزی سے ہونا، زندگی کے تمام ہونے کا پیش خیمہ ہی تو ہے۔ بے کار کی مصروفیت اور خود ساختہ عجیب و غریب لائف سٹائل نے ہم سے وقت گزرنے کا احساس بھی چھین لیا ہے۔ احباب کا خیال ہے کہ اب سال، ایک سال سے زیادہ چلتا نظر نہیں آتا مگر ہمارے مطابق تو اب ایک سال تین ماہ کے برابر ہی چل پاتا ہے۔ بھلے وقتوں میں سال گزرنے کا ایک ایک لمحہ یاد رہتا اور دن گن گن کر عیدوں تہواروں کا انتظار کیا جاتا تھا۔ اب تو کسی تقریب کے آفٹر شاکس باقی ہوتے ہیں کہ پھر سے عود کر آجاتی ہے۔ یوں اب زندگی گزاری نہیں بس بھگتی جا رہی ہے۔ گزرے لمحات خواب خواب سے دِکھتے ہیں۔ بچپن کا جگنو، کاغذ کی کشتی، بارش کا پانی اور وہ خوابوں کھلونوں کی جاگیریں کون بھولے؟ جب رشتوں کے بندھن اور دنیا کے غم اجنبی تھے۔ مگر ان گزرے لمحوں، بچھڑے لوگوں اور بچپن کے لَوٹنے کی حسرتِ ناکام لئے انسان خود زمین اوڑھ کر سو جاتا ہے۔ کبھی تو اپنی بے بسی پہ ترس آتا ہے۔ کسی نے دنیا میں آتے پوچھا نہ جاتے اور تقدیر بھی لکھی تو کاتب نے۔ سچ ہے کہ جیسے ریل کو اس کا انجن زور لگا کر پٹڑی پر چھوڑ دیتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی کسی طاقت نے زندگی کی پٹڑی پر دھکیل دیا ہے۔ ہم چلے جا رہے ہیں مگر وقت کے ساتھ ہماری رفتار دھیمی پڑ رہی ہے اور ہم اس ریل کی طرح کسی ایسے مقام (سٹیشن) پر رکنے والے ہیں جو شاید ہمارا دیکھا بھالا نہ ہو۔ وقت بھی عجیب شے ہے۔ ظالم بھی ہے، منصف بھی اور مرہم بھی۔ اچھا ہو تو نہ ٹھہرے، برا ہو تب بھی گزر جائے۔ ڈوبتے سورج کو دیکھ کر زیست کے بوجھ کا احساس تھکاتا ہے تو کبھی بالوں میں آئی چاندی ڈرا دیتی ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ناسٹلجیا کا کرب گمبھیر ہوتا جاتا ہے۔ ہر نئی رُت اور خوشی کے موقع پر جانے والے کس شدت سے یاد آتے ہیں اور ہر نیا موسم پرانی یاد لے کر آ جاتا ہے۔ جس قافلے کے ساتھ ہم نے زندگی کا سفر شروع کیا تھا اب اس کے منظر کتنے بدل چکے ہیں۔ بہت سے پیارے اس کارواں میں دکھائی نہیں دیتے۔ بقول شاعر
پھوٹ پڑتا ہے درد کا چشمہ یاد جب ایڑیاں رگڑتی ہے
یہ ہر انسان کا المیہ ہے تاہم اگلے جنم یا جنت میں پھر سے ملنے کی آس ضرور ہے۔ ہندو سات جنم کی بات کرتے ہیں کہ انسان مرنے کے بعد کسی نہ کسی روپ میں دنیا میں پھر آتا ہے۔ انسان مسلسل سفر میں ہے اور اسے کوئی مقام جچ نہیں پاتا۔ روح سے ماں کے پیٹ میں منتقل ہو کر نو ماہ کی کامل حیات گزارنا اور پھر اس جہان رنگ و بو میں حیات مستعار گزار کر چل دینا۔ یوں ایک دنیا سے دوسری دنیا میں انتقال کا عمل جاری رہتا ہے۔ اک لمحہ سوچئے کہ جب اپنے گھر یا محل سے چار کہار جنازہ اٹھانے آتے ہیں تو جانے والا گھر کے در و دیوار کو کس حسرت سے تکتا ہو گا اور یہی انسان کی بے بسی کی معراج ہے۔ مگر یہی موت کبھی نجات بھی ہے جو نہ ہو تو آدم سے اب تک کتنے لوگ بے یارو مدد گار ملیں۔ میڈیکل سائنس کی بدولت بعض ضعیف مصنوعی تنفس کے سہارے عالم نزع کی اضافی تلخیاں برداشت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے کنجِ مزار میں پاؤں پھیلا کر سونے کی بات کی تھی۔ زندگی کے سبھی ادوار charmful ہوسکتے ہیں مگر بڑھاپا صرف harmful ہی ہوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں کوئی خوشی اور امید باقی نہیں رہتی۔ تب انسانی روح دنیا کی خباثتوں، پریشانیوں اور دکھوں سے تنگ آ جاتی ہے۔ جیسے ایک ننھا بچہ گھر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کا بے حد شوق رکھتا ہے۔ اس کا سارا انہماک کھیل میں ہوتا ہے اس کی ماں بار بار دروازے پہ آ کے جھانکتی ہے، اُسے بُلاتی ہے مگر وہ مگن رہتا ہے آخر چند گھنٹوں بعد وہ تھکنے لگتا ہے اب وہ بار بار گھر کی جانب دیکھنے لگتا ہے اور بھاگ کر گھر آ جاتا ہے جہاں ماں کی آغوش میں سب تھکن بھول جاتا ہے۔ گویا ہماری روح بھی تھک جاتی ہے جو کسی پر امن پناہ کی متلاشی ہوتی ہے۔ ہم سب اس بچے کی طرح اپنے اپنے دھندوں، تماشوں اور کاموں میں مشغول ہیں۔ وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھومتا ہے۔ زندگیاں بیت جاتی ہیں اور کانوں کان خبر نہیں ہو پاتی۔ آخر ہم اک روز تھک جاتے ہیں اور ستر ماؤں جیسے اللہ کی محفوظ پناہ میں جاکر ابدی سکون پا لیتے ہیں۔ خدا کرے ہماری زندگی کی شام بِن شام نہ گزرے۔ یقین ہے کہ ہر جان نے مر جانا ہے لہٰذا مرنے تک اسے زندہ رہنے کا حق اور موقع ضرور ملنا چاہیے۔
جس پہ احباب بہت روئے فقط اتنا تھا
گھر کو ویران کیا قبر کو آباد کیا


