یونیورسٹی طالب علم کا آخری خط
”ابا میں ایک ایسی کیفیت میں ہوں جسے میں بیان نہیں کر سکتا۔ نہ کسی سے محبت ہے، نہ عشق معشوقی کا کوئی قصہ ہے۔ میں اس معاشرے میں زندگی نہیں گزار سکتا، مجھے معلوم نہیں ایسا کیوں ہے“
——————————–
ہم انسان ہی تو ہیں، گوشت پوست کے بنے، احساسات کے بوجھ تلے دبے، نازک سے انسان۔
ہمارے وجود کے اندر بیک وقت کئی جنگیں چل رہی ہوتی ہیں، حالات کی جنگ، معاشی معاملات کی جنگ، ہمارے جذبات کی، ہماری نفسانی خواہشات کی جنگ۔
معلوم نہیں اس نوجوان کے وجود میں کیسی کیسی جنگیں چل رہی ہوں گی۔ ان جنگوں میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ہم تھک جاتے ہیں، مایوسی ہمارے وجود میں پنجے گاڑنے لگتی ہے۔ ہماری آس، ہمارے بھرم اپنا وجود کھونے لگتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، کسی بھی معمولی سے سہارے کی۔ جس سے ہمیں لگے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ کوئی ہو جو ہمیں دلاسا دے سکے، جو ہماری باتیں سن سکے، ہمیں سمجھ سکے۔ جس کے ہونے کا احساس ہمیں تنہائی کے عذاب سے نکال سکے۔
آپ جب تھکنے لگیں تو اپنے اردگرد دیکھ لیجیے، کوئی ہو گا جو آپ کی بات سن لے گا، آپ کے دکھ بانٹ لے گا۔ جس کے ہونے سے آپ اپنا وجود قائم رکھنے کے قابل ہو سکیں گے۔ اگر کوئی نہیں ملتا تو قرآن پاک میں سورة الضحى کی تیسری آیت پڑھ لیجیے، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی
ترجمہ : نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہو گیا ہے۔
یا پھر سورة الشعراء کی اکیسویں آیت، جہاں درج ہے :
اِنَّ مَعِىَ رَبِّىۡ سَیَھۡدِیۡنِ
ترجمہ: میرا رب میرے ساتھ ہے، جو ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔
کیا پھر بھی آپ کو اپنا آپ اکیلا لگتا ہے؟ خدا سے بڑھ کر اچھا سہارا تو کوئی نہیں۔ اگر اپنے گھر میں، اپنے دوستوں میں کوئی سہارا نہیں مل رہا، دنیاوی سہاروں سے کام نہیں چل رہا تو اپنے خدا کو اپنا آسرا بنائیے۔ اس سے امیدیں لگائیے، اس سے سے اپنی باتیں، اپنے دکھ بانٹ لیجیے۔
اپنے آپ کو ٹوٹنے نہ دیجیے، اپنے آپ کو مایوسی کے حوالے مت کیجیے۔ اپنے آپ کو ضائع مت کیجیے۔
سورۃ التوبۃ کی چالیسویں آیت میں لکھا ہے۔
لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللَّھَ مَعَنَا
ترجمہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یہ آیتیں ہمارے لیے ہی ہیں، یہ آیتیں ہمیں مایوسی کے گڑھے سے نکالنے کے لیے ہی تو ہیں۔ یاد رکھیے خدا ہم پہ اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے، جتنا ہم برداشت کر سکیں۔ اگر ہم پہ بوجھ زیادہ ہے تو خدا نے ہمیں مضبوط بھی زیادہ بنایا ہو گا۔ ہمیں کئی دفعہ اپنی مضبوطی کا احساس نہیں ہوتا۔ اگر ہمیں تکلیف اپنے بس سے باہر لگ رہی ہے تو ہمیں اپنی مضبوطی کو جاننے کی، سمجھنے کی، محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔
سورة البقرة کی آیت نمبر 286 میں درج ہے۔
لَا یُکَلِّفُ اللّٰھُ نَفْساً اِلَّا وُسْعَھَاؕ
اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق
اس لیے یقین رکھیں، آپ پہ وہی بوجھ ڈالا جائے گا جو آپ اٹھا سکیں۔ اگر اس سب کے باوجود بھی آپ کو اپنا بوجھ اپنی بساط سے بڑھ کر لگتا ہے تو کوئی ایسا مسئلہ ہو گا، جس کا حل موجود ہو گا جو آپ سمجھ نہیں پا رہے۔ ہمارے اندر دکھوں پریشانیوں کے علاوہ کئی قسم کے جسمانی اور نفسیاتی مسائل چل رہے ہوتے ہیں۔ جو ہمارے لئے تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔ اگر تکلیف بساط سے بڑھ کر لگ رہی ہے تو کوئی جسمانی یا نفسیاتی بیماری ہمارے وجود میں ڈیرہ ڈال کر بیٹھی ہو گی۔
اس کا علاج کروائیے، تکلیف سے نجات پائیے لیکن اپنی زندگی کو ختم کرنے کی طرف مت جائیے۔ مایوس ہو کر حرام موت کا انتخاب مت کیجیے۔ اپنے خدا پہ بھروسا رکھیے، وہ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
ابھی اس نوجوان ضیاء الدین کے خودکشی کرنے کی خبر پڑھی۔ معلوم نہیں اس کے اندر کون کون سی جنگ چل رہی تھی، اس نے کتنی تکلیف سہی ہو گی۔ سہارے کے لیے کہاں کہاں بھٹکا ہو گا۔ معلوم نہیں اس کے وجود میں کیسے مسائل چل رہے ہوں گے کہ جن سے تھک ہار کر اس نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن کاش وہ جان پاتا کہ وہ اکیلا نہیں، کاش وہ جان پاتا کہ اس کا خدا اس کے ساتھ ہے اور اس پہ اس کی بساط سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا تو شاید۔ شاید وہ اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ نہ کرتا کیونکہ ابھی تو اس کی جینے کی عمر تھی، ابھی اس کے مرنے کے دن کہاں آئے تھے۔
اس نے جان دینے سے پہلے پشتو میں خط لکھا، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ
”ابا میں ایک ایسی کیفیت میں ہوں جسے میں بیان نہیں کر سکتا۔ نہ کسی سے محبت ہے، نہ عشق معشوقی کا کوئی قصہ ہے۔ میں اس معاشرے میں زندگی نہیں گزار سکتا، مجھے معلوم نہیں ایسا کیوں ہے“
(خط کے ترجمے میں کوئی غلطی ہو تو کوئی پشتو دان دوست تصحیح کر سکتا ہے )
اللہ اس نوجوان کی اگلی منازل آسان فرمائے۔ اس کی اپنی جان لینے والی غلطی کو درگزر کر کے اس کو ان ساری تکلیفوں، مشکلات کا بہترین بدل دے جو اسے دنیا میں سہنی پڑیں۔
اپنے اردگرد نظر رکھا کریں، کوئی تھک ہار کر گرنے لگے تو اس کو سہارا دیا کریں۔ اس کو یہ احساس دلایا کریں کہ وہ اکیلا نہیں، آپ اس کے ساتھ ہیں۔ اس کا خدا اس کے ساتھ ہے۔ اللہ سب کی مشکلات دور فرمائے، سب کے لیے اس زندگی کو آسان بنائے۔


