پس آئینہ کوئی اور ہے


انسان کا ہر عمل ایک سوچ کا محتاج ہوتا ہے جو محرک ہوتی اور کسی عمل کی جیسے سافٹویئر ہارڈویئر کو ہدایات فراہم کرتا ہے۔ شعور جس کی بابت بڑے لوگ حجت فرماتے رہتے ہیں، ماحول کے مطابق پروان چڑھتا ہے۔ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں، والدین سے باتیں چھپاتا ہُوں میری عادات میرے مشاہدے کا پرتو تو ہیں لیکن میرا لاشعور کثیر عوامل کے تحت اس نہج تک پہنچا ہے۔ شعوری ذہن کو لاشعور میں چھپی چیزوں کا ادراک نہیں ہوتا۔ وہاں خوف رہتے ہیں، چند ٹوٹے پھوٹے نیورل لنکس، ناخوشگوار یادیں، جینیاتی رجحانات اور پس پردہ چلنے والی ڈیپ لرننگ جسے کبھی الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا گیا۔ فرائیڈ کی سائیکو تھراپی میں خواب کی تحقیق بہت اہمیت کی حامل تھی۔ ان تمام تجربات کا سبجیکٹ کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

روز مرہ کی گفتگو میں طعن و تشنیع اور ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی جذبات کا اظہار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو انسان کی لسانی کامیابی بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو اس درجہ تک کمینگی حاصل کرنے میں شاید سالوں لگ جائیں۔ باوجود اس کے قدرت نے تحت الشعور کے دروازے بند رکھے ہیں۔ وہاں رسائی پانے والے عام زبان میں ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ سنگین جنگی حالات اور زیر زمین جیلوں میں گزرے اذیت نک لمحات بطور قیدی کسی بھی انسان کے ہوش و حواس زائل کر سکتے ہیں۔ میں کسی میٹا فزکس کو نہیں مانتا اور مردہ جسم کے گل سڑ جانے کو ہی قوانین فطرت کا نام دیتا ہُوں تو مایوسی کے لمحات میں عرفان الہٰی اور اپنے پیاروں سے دوبارہ ملنے کی چاہ کو کیا نام دوں گا۔ گہری نیند کی پریشان خیالی بھی حقیقت کا ایک روپ ہی ہے بصورت دیگر اظہار کا موقع نہیں ملتا شاید یہ ہمیں خطرات سے باز رکھنے کے جینیاتی چال ہے۔ بہرحال حقیقی دنیا بھی کم بھیانک نہیں۔ ایک عام سا سماجی رویہ ”آئی کانٹیکٹ“ کو ہی دیکھ لیں۔ میرے طرم خان باپ سے لے کر تعلیم یافتہ ڈاکٹرنیوں تک کسی میں آنکھ ملا کر بات کرنے کی ہمت نہیں۔ مریض تو درکنار کوئی مرتبہ ڈاکٹر صاحب بھی غش کھا کر گرتے گرتے بچے۔ یہ خوف کہاں سے آیا۔ ہمارے دیسی لوگ سر اٹھا کر چلنے سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے شریف خاندان کے لونڈے ہونے کی وجہ سے مجھے ہمیشہ گردن اور نظریں جھکا کر چلنے کی تلقین کی گئی جو آج گردن کے مہروں میں بگاڑ کی شکل اختیار کر گئی ہے اس کو تاہ ہمتی میں اسکول کالج کے بے جا رعب ڈالنے اور ہراساں کرنے والے لڑکے سے ڈرنا، شکایت نہ لگانا بھی شامل تھا۔ ہم جیسے لوگ بڑے ہو کر بہت آسانی سے بلیک میل بھی ہوتے ہیں اور اپنی لائف سوینگز سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتے ہیں۔

خواب ہمارے تحت الشعور کی پکار ہیں۔ یہ ہماری باؤنڈریز ہوتی ہیں جنہیں چھونے سے انا کے سارے سیفٹی الارم بجنے لگتے ہیں۔ ہم کبھی بھی ان دیواروں کے پار جھانکنا نہیں چاہتے۔ آخر ہے کیا ان دیواروں کے پار۔ شاید کوئی قتل، جسمانی تشدد، بے چارگی کا احساس، کسی اپنے کو کھو جانے کا خوف، بھوکے مر جانے یا مافوق الفطرت اکائی کے زیر عتاب آنے کا ڈر۔ ہم خواب آور ادویہ یا ہپناسس کے ذریعے ان دروازوں پر دستک تو دے سکتے ہیں لیکن باہر آنے والی چیز ہمیں نفسیاتی بحران میں مبتلا کر دے گی۔ الفاظ کا چناؤ، کوئی خاص منظر، خوشبو یا لمس ٹروما کی جھلکیاں دکھا کر دفنائے ہوئے کتنے ہی جن بھوت جگا دیتا بے۔ ڈاکٹر نیورو ٹرانسمیٹر سے کھیلنے والی خواب آور دوائی دے گا جس سے شعور کی آواز مزید کمزور ہو کر وجدان کے وحشی گھوڑے کو بے لگام کردے گی۔ ہم اس گمراہ کن گھاٹی میں بہت جھانک کر مرض کا پتہ تو چلا سکتے ہیں لیکن اس کا علاج نہیں کر سکتے۔ نا آسودہ خواہشات کا انبوہ حیوانی جبلتیں اس قید خانے سے مترنم آوازیں نکالتی ہیں۔ ہر انسان کی تخیلاتی دنیا یونیک ہے جیسے اُسکی زمانے کی سیکھ لیکن ضرورتیں سب کی یکساں۔ سب ہی کو امن، خوراک اور بہترین جینیاتی ویری ایشن کی حامل نسل چاہیے لیکن ایکو سسٹم صرف بہترین خوبیوں کے حامل جاندار کو موقع دیتا ہے۔ پیٹ کی بھوک اعلیٰ افکار پر بھاری ہے۔

گھر کے بہتر وسائل کی رسائی کسی تیسرے سیندھ مار کو مل جائے تو ایک طبقہ بندوق اٹھائے جنگ کا ایندھن بن جاتا ہے۔ عالمی امن اور خوشحالی کا خواب کہاں ہے۔ یہ ہمارے کولیکٹو شعور میں سما ہی نہیں سکتا بہرحال ہم ممالیہ خاندان کے تہذیب یافتہ جانور ہیں۔ ہر گروہ کا ایلفا نر باقیوں کو کھدیڑنا چاہتا ہے۔ جس کے لیے وہ مالی، ذہنی اور جسمانی قُویٰ کی خوب شعبدے بازی بھی کرتا ہے۔ بھلے ہی وہ اپنے کرتب کو پروٹوکول کا نام دے اور اس کی آڑ میں اپنی ضرورتوں کا سامان بھی کر لے اس کی فطرت ضرور ایک نیا گل کھلائے گی جسے دیکھ کر کرہ ارض کے دیگر باسی اس کی نیوکارٹیکس کے وہم پر تین حرف بھیجیں گے۔ اس حقیر جھینگر کے پلے ہے ہی کیا عالمی جنگیں، منافعے کے نام پر چھینی ہوئی چند دن کی خوراک، افلاس اور بیماری سے لڑتی مفلوج تحقیق۔ بریڈنگ سیزن میں تو مور بھی ناچ ناچ کر اپنی مادہ کو متاثر کرتا ہے۔ انسان نے عقل کا استعمال اپنی ہستی کو پلیدنے کے علاوہ کم ہی کیا ہے۔ اس کی یہ خوشنما کلرکی کتنے دن چلے گی۔ یقین نہیں آتا تو اخبار پڑھ لیں۔ ان عقوبت خانوں سے کون سے نخلستان کے خواب برآمد ہوں گے جو ہمارے آنے والے کل کی آبیاری کریں گے؟ کوئی امید نہیں۔

Facebook Comments HS