فرحت عباس کو شاعروں سے کیا مسئلہ ہے؟


فرحت عباس شاہ اُردو شاعری میں جانا پہچانا نام ہے۔ بطور شاعر انھیں عرصے سے اپنی شاعر برادری سے کچھ تحفظات رہے ہیں، جن پر گاہے گاہے تحریر و تقریر میں ان کی رائے سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہتی ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد سے جہاں رابطوں میں سہولت کی گنجائش پیدا ہوئی ہے، وہاں ایک قباحت یہ در آئی ہے کہ جسے نہیں سننا چاہتے، اُسے زبردستی سنوایا جا رہا ہے، جسے نہیں پڑھنا چاہیے اُس کی تحاریر بار بار دکھائی جاتی ہیں اور جسے دیکھنا پسند نہیں ہے وہ ٹرینڈنگ میں وائرل رہتا ہے۔ سوشل میڈیا کی سہولت اپنی جگہ، حقائق اپنی جگہ ہیں۔ فرحت عباس شاہ نوے کی دہائی کے شاعر ہیں۔ انھوں نے حلقہ ادب میں خود کو اپنی شاعری کے زور پر منوایا ہے۔ نوے کی دہائی میں مشاعرے پوری طرح مینج ہوتے تھے جیسا کہ آج بھی ہوتے ہیں۔ یہ روایت صدیوں سے رہی ہے کہ نو آموز شاعر کو منہ لگانا تو دور، فٹے منہ کہنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔

میر ؔ، غالبؔ، داغؔ، حسرتؔ، فیضؔ، اقبالؔ، ناصرؔ، فرازؔ و جونؔ سے لے کر آج تک مشاعروں کی یہی روایت ہے کہ کسی شاعر کو اس کی ابتدائی غزل پر داد دینا سنجیدہ شاعر اپنی ہتک سمجھتے ہیں اور یہ اندیشہ پالے رکھتے ہیں کہ داد و تحسین کی شہ پا کر کہیں ہماری مسند پر قبضہ نہ کر لے۔ اغماز و منافقت کا یہ سلوک فرحت عباس شاہ اور ان ایسے سینکڑوں شعرا کے ساتھ روا رکھا گیا جنھوں نے کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کیا۔ موسم بدلا، بادل برسا، بھینی بھینی پھوار میں شام کے بعد کا منظر جب نکھر کر سامنے آیا تو ہر طرف شام کے بعد کا چرچا سنائی دیا۔ مدتوں جس شاعر کو مردود قرار دے کر نظر انداز کیا جاتا رہا، اُسی کو سر آنکھوں پر بٹھایا بھی گیا۔ یہ کوئی کرامت نہیں تھی اور نہ ہی کسی سنجیدہ شاعر کی دستِ شفقت کا نتیجہ تھا۔ یہ فنی لیاقت، شعری استعداد اور آمد کی منہ زور بوچھاڑ کی برکھا تھی جس نے دردِ دل کے سوتوں کو ایسے راہ دی کہ ہر چیز بھیگ کر شرابور ہو گئی اور شام کے بعد ملنے کی آرزو ٹرینڈ بن گئی۔

فرحت عباس شاہ کے چالیس کے قریب شعری مجموعے اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ شاعر گرہ باز اور مصرع تراش نہیں ہے بلکہ اس کے اندر، ایک ہی منظر، جذبے، کیفیت، احساس اور آلام کو کہنے کی دسیوں صورتیں موجود ہیں۔ فرحت عباس شاہ نے نظم و نثر دونوں میں لکھا، اُردو، پنجابی سرائیکی اور انگریزی زبان میں بھی لکھا۔ اس شاعر کے ہاں شاعرانہ فنکاری کا تلاطم اس کی شاعرانہ لیاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرحت عباس شاہ نے گزشتہ ماہ ہومیو پیتھی کے شعبہ میں فارن یونیورسٹی سے پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری کی تحصیل کی ہے۔ علاوہ ازیں اُردو تنقید کے میدان میں ان کی کتاب ”اُردو تنقید کا ادراکی دبستان“ بنیادی حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرحت عباس شاہ نے شاعر کی حیثیت سے جو لکھا، سو، لکھا، بہ حیثیت نقاد ان کے مضامین اس قدر عمدہ اور دل آویز ہیں کہ انھیں پڑھ کر کوئی یہ نہیں پہچان سکتا کہ یہ ایک حساس شاعر کا سخت گیر نکتہ نظر ہے۔ فرحت عباس شاہ کا مختصر تعارف اس لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ قاری کو یہ مضمون پڑھتے ہوئے جھجک اور احتمال محسوس نہ ہو کہ فرحت عباس شاہ تو معمولی شاعر ہے جو سوشل میڈیا کی وجہ سے اُسی طرح مشہور ہو گیا ہے جس طرح عباس تابش اینڈ گروپ ہو چکا ہے۔

بات یہ ہے کہ فرحت عباس شاہ آج کل شاعروں کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ یہ آئے روز شعرا کی پگڑیاں اُچھالنے اور ان پر طنز کے نشتر چلانے کی مذموم کوشش کیوں کرتا ہے؟ اس لیے کہ انھیں مشاعروں میں بلایا نہیں جاتا۔ انھیں ایک شاعر کی حیثیت سے وہ عزت، مقام اور مرتبہ نہیں دیا جاتا، جس کی یہ خواہش کرتے ہیں۔ نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ فرحت عباس شاہ دراصل اپنے ساتھ ہونے سلوک کو نظر انداز کرتے ہوئے نو آموز شعرا کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ یہ شاعر چاہتا ہے کہ جس طرح میرے دور کے سنجیدہ شعرا نے مجھے نظر انداز کیا اور میرے کلام کو سامنے نہیں آنے دیا۔ اب یہ نہیں ہو سکے گا کہ میری طرح کچھ نیا کہنے والا سنجیدہ شعرا کے تلوے چاٹنے اور منشی گیری کرنے میں اپنا ہنر ضائع کر ڈالے۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان و ہندوستان میں یہ روایت برسوں سے جاری ہے کہ جب تک بڑا شاعر کلام پیش کرنے کی اجازت نہیں دے گا، مبتدی کے کلام پر کوئی تحریری و تقریری رائے نہیں دے گا، اس کا کلام کتابی صورت میں سامنے نہیں آ سکے گا، اس کا کلام معیاری رسائل و جرائد میں برابر شائع نہیں ہو سکے گا نیز جب تک پیڈ قسم کے نقاد اس کے کلام پر مفصل تنقیدی و تجزیاتی مضامین شائع نہیں کریں گے، کسی سنجیدہ شاعر کی پشت پناہی اور نام نہاد گروپ کی حمایت حاصل نہیں ہوگی تب تک یہ شاعر کسی کام کا نہیں ہے خواہ اس کے کلام میں میرؔ و غالبؔ اور فیضؔ و فراقؔ سے بڑھ کر شاعرانہ لیاقت موجود ہو۔

فرحت عباس بارہا اس ستم کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہمارے سنجیدہ شعرا کو اپنے رویے پر نظر ِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، ایک وقت تھا جب شاعر اپنے سامعین متعین کرتا تھا، اب سامعین اپنا شاعر منتخب کرتے ہیں۔ شاعر ایک بار مشاعرے میں جو کلام پڑھ چکا۔ وہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد کسی صورت کہیں جانے والا نہیں ہے۔ چند دنوں میں یہ کلام سننے والوں تک با آسانی پہنچ جاتا ہے۔ اب فیس بک، یوٹیوب وغیرہ پر شاعر کو سن کر ادبی حلقے اور سماجی تنظیمیں یہ طے کرتی ہیں کہ کس شاعر کو بلانا ہے اور کس کو نہیں بلانا ہے۔ مصنوعی گروپ بندی پالنے کی ضرورت قریباً ختم ہو چکی ہے۔ جس شاعر کے کلام میں جان ہوگی، توجہ طلب صفت ارتکاز موجود ہو گا اور جدت و ندرت کے ساتھ تازگی ہوگی وہ باقی رہ جائے گا جبکہ بقیہ فالتو سامان کی طرح سٹور روم میں دھرا رہے گا۔ پاکستان میں اس وقت شعرا کی پذیرائی اور ہم نوائی کا یہ حال ہے کہ ہر سال نومبر سے مارچ تک مختلف ادبی میلوں اور سیمینارز کا باقاعدہ اہتمام و انعقاد کیا جاتا ہے جس پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ یہ بھاری معاوضہ مختلف کمرشل کمپنیز پراڈکٹ کی مشہوری کے لیے منتظمین کو دیتی ہیں۔

علاوہ ازیں حکومتِ پاکستان ان پروگرامز کے انعقاد کے لیے کروڑوں روپے کا فنڈ جاری کرتی ہیں جس سے یہ سارا تماشا اور ہلہ گلہ کیا جاتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ ہر سال وہی پرانے دس پندرہ چہرے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں جن کا کم و بیش جملہ کلام سامعین بارہا سن سن کر اُکتا چکے ہیں۔ کوئی نیا چہرہ ان مشاعروں اور ادبی میلوں میں دکھائی نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ ان میلوں اور مشاعروں میں گزشتہ پچاس برس سے پڑھنے والے سنیئر شعرا کیا کرنے آتے ہیں۔ ان کے لیے صدارت کی کرسی تو بجا ہے کہ اس پر جلوہ افروز ہوں لیکن خود کچھ سنانے کی زحمت گوارا نہ کریں تو زیادہ بہتر ہے۔

ہوتا یہ ہے کہ صدرِ مشاعرہ کی آشیر باد کے بغیر نظامت کے چیلے کو ہرگز اجازت نہیں ہوتی کہ کسی نووارد شاعر کو زیادہ اہمیت اور وقت دے سکے۔ صدر مشاعرہ کی مرضی سے شعرا کا انتخاب کیا جاتا ہے اور وہی بار بار کے چبائے ہوئے اشعار دوبارہ چبانے کے لیے پیش کر دیے جاتے ہیں۔ افتخار عارف صاحب گزشتہ بیس برس یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ کب تماشا ختم ہو گا۔ انھیں کون سمجھائے کہ آپ نے بیس برس سے گروپ بندی و تعصب نگری کی صورت جو تماشا لگا رکھا ہے وہ کب ختم ہو گا۔ اسی طرح عباس تابش ایک شاعر ہیں۔ بلاشبہ اچھے شاعر ہیں بہت عمدہ کلام انھوں نے کہا ہے، یہ بھی گزشتہ بیس برس سے پرندوں کو سوکھے تالاب پر لا، لا کر مارتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ احمد شاہ صاحب کراچی آرٹس کونسل میں اپنے مرنے کے بعد بھی صدارت کی کرسی پر جمے رہیں گے۔ انھیں اس کرسی سے ہلانے والا کوئی نہیں ہے۔ اس قماش کے راقم سینکڑوں قصے جانتا ہے۔

لاہور، فیصل آباد، بہاولپور، اسلام آباد، مری، پشاور، مری وغیرہ میں جو ادبی میلے سرکاری وسائل سے منعقد کروائے جاتے ہیں ان میں بھی وہی دس پندرہ شعرا کے نام شامل و شمار ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں پندرہ بیس شعرا کے علاوہ کوئی اور شاعر موجود ہی نہیں ہے جسے اس لائق سمجھا جائے کہ وہ کچھ نیا پیش کر سکے۔

دُنیا آرٹیفشل انٹیلی جنس سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایلون مسک جانے کیا کچھ بناتا جا رہا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے شاعری ہونے لگی ہے۔ آئی ٹی کی دُنیا میں ہیجان انگیز بدلاؤ آ چکا ہے جس نے دُنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ایک ہمارے شاعر ہیں جو ابھی تک ستر، اسی اور نوے کی دہائی کے سیاسی و سماجی اور خانگی مسائل و اُوہام کے نوحے الاپ رہے ہیں۔ انھیں کون بتائے کہ آپ کے سامعین تبدیل ہو چکے ہیں۔ آج کے اینڈرائڈ بچے آپ کو سننا نہیں چاہتے۔ یہ جون ایلیا کو سن رہے ہیں۔ اس شاعر کو اتفاقاً اس لیے سنا جا رہا ہے کہ یہ شاعری سے زیادہ اپنے اسٹائل کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج کی یوتھ وفاداری بشرطِ اُستواری کی قائل نہیں ہے۔ یہ پھٹی جینز میں ڈھلکتی بل کھاتی پیٹھ کے اُبھار کو دیکھ کر مہمیز ہوتے ہیں۔ یہ چوما چاٹی اور بوس و کنار سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں۔ آج کی یوتھ جنسی شاعری کو سننا، پڑھنا اور شیئر کرنا پسند کرتی ہے۔ گویا یہ نوجوان نسل ریختی کے دور کی جنسی شاعری کو سننا اور شیئر کرنا پسند کر رہی ہے۔ انھیں اخلاق، معاشرت، سیاست، تہذیب، اقدار، سماج، اندازِ فکر اور جملہ نظامِ حیات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ یہ وزن، بحر، قافیہ اور زمین و بندش کی شناسائی سے لاعلم ہیں۔ انھیں وہی شعر اچھا لگتا ہے جس میں اجسام کے ملاپ کی حدت اور جذبے کی شدت محسوس ہوتی ہے۔

کسی مشاعرے کی کامیابی کا انحصار اشعار پر دی جانے والی داد پر منحصر ہوتا ہے۔ آج کے مشاعرے کو سطحی اور لایعنی کرنے میں سنجیدہ شعرا کی بار بار ایک ہی رنگ کی غزلوں کا شد و مد سے راگ الاپنا ہے۔ انھوں نے نوجوان نسل کو ان کے موضوعات سے آگاہ کیا نہ ہی شعر کہنے کی روش کو وقت کے ساتھ تبدیل کیا۔ جو شعر کہہ لیے اور جو غزلیں ہو گئیں انھیں کو مشاعروں میں سنا سنا کر اس قدر باسی کر دیا کہ نوجوان نسل پوری طرح اُوب گئی۔ شاعر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جب تک کچھ نیا نہیں کہے گا، توجہ اور پذیرائی نہیں ملے گی۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ بیس تیس سال سے کہی ہوئی غزلوں کو تازہ کلام کہہ کر مشاعروں میں سنایا جاتا ہے۔ یوتھ اس طرح کی غزلوں اور اشعار سے متنفر نہیں ہوگی تو کیا داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گی۔

فرحت عباس کی دُہائی اسی بات پر ہے کہ خدا کے لیے نوجوان نسل کو کتاب کی طرف لائیے۔ شاعری اچھی چیز ہے، مشاعرے ضرور ہونے چاہیے لیکن فقط مشاعروں کے انعقاد اور شاعری کے زور سے نوجوان نسل کو متوجہ نہیں کیا جاسکتا۔ نوجوان نسل یہ چاہتی ہے کہ انھیں ان کے مسائل و معاملات سے متصل شاعرانہ اظہار فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاعر پہلے اپنی نیت ٹھیک کریں اور اپنی تربیت کریں پھر شاعری کو نوجوان نسل کی آبیاری کے لیے بطور ہتھیار استعمال کریں نہ کے سستی شہرت کے لیے۔

مزے کی بات یہ کہ چند برس سے ویوز لینے اور یو ٹیوب چینل مونی ٹائیز کروانے کے چکر میں ایک خاص گروہ نے یہ اہتمام بقدر مقدور یوں کیا ہے کہ نوجوان نسل کے کچے پکے جذبات کو مہمیز کرنے کے لیے ویسی ہی اوٹ پٹانگ اور اقدار سے گری ہوئی شاعری شروع کر دی ہے۔ چند دنوں میں اس گروپ نے سوشل میڈیا پر ایسی شہرت حاصل کی ہے کہ اب انھیں کے رنگ کو اصل رنگِ شاعری قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا یہ حال اپنی جگہ، پوری دُنیا میں جہاں بھی اُردو زبان بولنے، سمجھنے والے موجود ہیں وہ بھی جذبات و احساسات سے عاری شاعری کو جنسی جذبات کی تسکین کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

بھٹیار خانے میں جہاں ہر طرف شوروغوغا کا اُودھم مچا ہو، وہاں حق و صداقت کی نحیف آواز کوئی نہیں سنتا۔ فرحت عباس شاہ اپنی طرف سے مشاعروں کی سمت کو درست راہ پر گامزن کروانے کے لیے اپنی توانائی صرف کر رہے ہیں۔ انھیں جہاں موقع ملتا ہے وہاں ببانگِ دہل مصنوعی مشاعروں اور مصنوعی بلکہ جعلی قسم کے شاعروں کے گروہ کے ذاتی مفادات کا بھانڈا پھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں مگر لشکر کے سامنے ایک بندے کی کیا بساط ہے۔

فرحت عباس شاہ نے اس مقصد کے لیے اپنی ذات، شاعری اور جملہ ادبی خدمات کو بہت نقصان پہنچایا ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ بندہ اپنے بیانیے کی تشہیر سے باز آنے والا نہیں ہے۔ خدا کرے کہ اس کا پیغام اوروں تک پہنچے اور وہاں تک بھی جائے جہاں یہ اپنی صدا پہنچانا چاہتا ہے۔

Facebook Comments HS