خاموش چیخیں
ہم ہر چیز میں شدت چاہتے ہیں, اور ہر چیز میں آخری حد تک جاتے ہیں,سابقہ قبائلی خطے میں خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیاں خودکشیاں کرنے میں پیش پیش ہیں, البتہ رواج, شرم, صنفی امتیاز وغیرہ کی وجہ سے ایسے واقعات درج نہیں ہوتے,ایسی خبریں پرنٹ, الیکٹرانک, سوشل میڈیا پر نہیں آتے,کیونکہ اس کے ساتھ مختلف پیچیدہ پہلوؤں بھی پیوست ہیں.یہاں پر صنف نازک عنوان پر روشن فکری کے زاویے سے لکھنا, بولنا آ بیل مجھے مار والی بات ہے.
قبائلی خطے میں شرح خوشی بدقسمتی سے ہماری شرح خواندگی کی طرح کم ہے, بقول شاعر
ارادہ تو نہیں ہے خودکشی کا
مگر میں زندگی سے خوش نہیں ہوں
اکثریت زندگی سے خوش نہیں ہے, ہمارے اجتماعی مسائل پیچیدہ بھی نہیں ہے البتہ ثقافتی گھٹن کی وجہ سے ہے. قبائلی سماج میں خواتین کے بڑھتی ہوئی شرح خودکشی کو میں صرف نفسیاتی یا حیاتیاتی پہلوؤں سے نہیں دیکھتا بلکہ عمرانیات پہلو کو بھی شامل کرتا ہوں. ہم اس کے وجوہات تلاش کرنے اور روک تھام کی بجائے ایسے واقعات چھپاتے ہیں.
تو کون اس کے متعلق بولیں گے, لکھیں گے, آواز اٹھائے گے, تحقیقات کرے گے وغیرہ وغیرہ, اس طرح کئی سوالات جوابات کے منتظر ہیں. ہم منطق سے نفرت کرتے ہیں مگر جب بات عورت کے متعلق ہو تو عجیب بے منطق دلائل کو منطقی طریقے سے پیش کرتے ہیں.میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ مرد اور لڑکے قبائلی خطے میں خودکشیاں نہیں کرتے مگر ہاں یہ ضرور کہتا ہو کہ خواتین کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں اور زندہ رہنے والے خاموش چیخیں مارتے ہیں کہ ہمیں توجہ دیں.
بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہم ذہنی تناؤ, ڈپریشن کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے, بالخصوص خواتین میں,ذہنی صحت کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے.جذباتی کیفیت رکھنے والے خواتین پر عجیب توہمات لگاتے ہیں, یعنی اس کیفیت کو مزید تیز کرنے میں ہم پیش پیش ہیں. مسائل کو حل کرنے کی بجائے صاف صاف ذہنی تناؤ میں مبتلا انسان کو خودکشی کرنے کو کہتے ہیں کہ "جاؤ پھر پھندا لگا کر خود کو ماریں” اس کی روک تھام مکمن ہے, صنفی امتیاز کی بجائے صنفی مساوات کو دل سے تسلیم کریں,ریاستی ,سماجی ,معاشرتی ذمہ داری کے ساتھ خود کو ذمہ دار ٹھہرائے, ذہنی صحت آگاہی میں کردار ادا کریں,خاندان میں ایسے افراد کے لیے جذباتی طور پر سہارا بنے,بروقت تشخیص اور علاج کرنے میں خواتین کی مدد کریں,قبائلیت کے خول سے نکل کر سوچیں ہاں زرا ہٹ کے.نوٹ خاموشی علاج نہیں ہے.


