صحیفوں کا سفر ( 100 سے زائد کتابیں پڑھنے کی کتھا)
چند روز قبل ہارورڈ بزنس ریویو میں ایک مضمون پڑھا۔ عنوان تھا:
How I Read 100 Books in a Year!
یقیناً آپ کے طبق روشن ہوئے ہوں گے ۔ میرے بھی ہوئے تھے۔ جلدی سے پورا مضمون پڑھا۔ مصنف یوٹیوبرز سے متاثر تھا، لہٰذا اس نے آئیں بائیں شائیں تو خوب کی مگر کہیں بھی ایک سو کتابیں، پوری ایک سو وہ بھی ایک سال میں، جو پڑھیں ان کا ذکر نہ کیا۔ میں نے اس دن کے بعد سے بطور احتجاج ایچ بی آر پڑھنا بند کر دیا۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں بھی مذکورہ شخص کی پیروی کروں گا۔ میں آپ کو ایک کتابوں کے رسیا کی داستان سناؤں گا اور یہ بھی کہ اس نے کتنے برس میں ایک سو کتابیں پڑھیں۔ اس کے لئے واجب ہے کہ سکرول کرتے ہوئے آخر تک جائیں۔ ٹک ٹاک والے حضرات تو چھوڑ کر جا بھی چکے۔ اگر آپ ہنوز ساتھ ہیں تو شاید آپ پڑھنے اور سیکھنے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ چلئے شروع کرتے ہیں۔
کتاب دوست کا جنم:
اماں۔ آج وہ کہانی سناؤ جس میں شہزادی کی سوتیلی ماں بیماری کا ناٹک کرتی تھی اور اپنے بستر تلے خشک روٹیاں بچھا کر جب لیٹتی تو کہتی کہ میری ہڈیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ میری بہن یا خالہ زاد میں سے کوئی دادی جی سے فرمائش کرتا۔ گھر میں سب چھوٹے بڑے دادی جی کو اماں کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔
نہیں اماں۔ کل پرسوں ہی تو یہ کہانی سنی تھی۔ آپ اس بچے والی کہانی سنائیں جو ہوائی جہاز میں اپنے والدین کے ہمراہ جنگل کے اوپر سے گزر رہا ہوتا ہے تو بلند و بالا درختوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ سبھی مر جاتے ہیں صرف وہ بچہ زندہ بچ جاتا ہے پھر اس کی پرورش ایک شیر کرتا ہے۔ میرے چچا زاد بھائیوں میں سے کوئی خواہش کا اظہار کرتا۔
یہ سب کہانیاں پرانی ہو چکی ہیں۔ اماں۔ کوئی نئی کہانی سناؤ، میں کسی قدر ضد اور التجائیہ لہجے میں مطالبہ کرتا۔
میں تمہارے لئے روز نئی کہانیاں کہاں سے لاؤں؟ جی نہیں بھرتا تمہارا کہانیاں سن سن کر۔ وہ مصنوعی غصے سے جواب دیتیں جس میں مٹھاس اور محبت البتہ اصل ہوتی جو چھپ نہ سکتی تھی۔ میں بڑبڑا کر ان کے گھٹنوں سے چمٹ جاتا جس پر وہ دھمکی دیتیں کہ آج کوئی کہانی نہیں سنائی جائے گی لہٰذا سب اپنے بستر پر واپس لوٹ جاؤ۔ اماں کی یہ دھمکی ہمیشہ کارگر ثابت ہوتی اس پر دوچند یہ کہ میرے تمام کزنز میرے خلاف اتحاد کرلیتے اور مجھے بادل نخواستہ سرنڈر کرنا پڑتا۔ اکثر و بیشتر کہانی ختم ہونے سے پہلے ہی زیادہ تر بچے سو چکے ہوتے تھے۔ گہری اور بے فکری نیند۔ جو اب خود ایک خواب بن چکی ہے۔ خیر
اماں! آج میں آپ کے پاس لیٹ جاؤں؟ میں ہر چند روز کے بعد میں استفسار کرتا۔ وہ میری اس عادت سے بخوبی واقف تھیں۔ اس لئے وہ مجھے قصے کہانیوں کے علاوہ خود پر بیتی زندگی کی داستان سے کچھ واقعات سناتیں۔ اپنے بڑوں سے سنے ہوئے قصے۔ ہجرت کے سانحے اور پھر پاکستان میں گزرنے والے عذابوں، دکھوں اور مسرتوں کے واقعات جو میرے لئے برابر مسحورکن ہوتے۔ دل میں اتر جانے والے۔ سوچوں میں بس جانے والے، جنہیں سنتے ہوئے میں سو جایا کرتا تھا۔
جب سے ہوش سنبھالا تھا اماں جی کو کبھی زندگی و زمانے کی تلخیوں کا تذکرہ کرتے نہ سنا تھا۔ وہ محبت و شفقت کا سورج تھیں جس کا اجالا اپنے پرائے سب کے لئے یکساں تھا۔ پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو وہ لمحے کسی افسانے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں کہ جب میں ایک دو دن چھٹی گزار کر ان سے ملنے کے بعد واپس لاہور پلٹتا تو وہ آنکھوں میں آس و انتظار لئے اکیلی کیکر تلے کھڑی اس وقت تک مجھے تکتی رہتیں جب تلک میں آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جاتا۔ ہجرت اور اس کے بعد انھوں نے اتنی زندگیاں بچھڑتے دیکھیں تھیں کہ اب ہر مانوس و غیر مانوس زندگی انھیں عزیز تھی۔ مجھے سنائے جانے والے قصے شاید ان کی زندگی کا کتھارسس تھے۔
یہ ذکر تقریباً تیس برس قبل کا ہے۔ کشادہ صحن میں کھلے آسمان تلے سونے کا رواج تھا۔ سورج ڈھلتے ہی چار پائیاں بچھ جاتی تھیں۔ آسمان ٹمٹماتے ستاروں سے اٹا ہوتا تھا کہ ابھی ابر آلودگی سے ناآشنا تھا۔ اک روز میں نے اماں جی سے پوچھا کہ دنیا میں کتنی کہانیاں ہیں؟ انھوں نے ان گنت ستاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنے یہ ستارے ہیں۔ ہر تارہ ایک کہانی ہے۔
اماں مجھے ان سب ستاروں کی کہانیاں سننی ہیں۔
میرے ایسے کہنے پر انھوں نے ہوں کیا اور چپ سادھ لی۔ میں نے پھر پوچھا ”اور یہ ستارے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ چلتے ہوئے گم ہو جاتے ہیں، یہ کیا ہیں؟“
یہ ہجرت کرنے والے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ وہ سرد آہ بھر کر جواب دیتیں۔
بات طویل ہو گئی۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ شاید کہانیاں سننے و پڑھنے کا شوق گھٹی میں شامل تھا۔ جب خود پڑھنے کا اہل ہوا تو پھر ایک سیلِ رواں تھا جو دائم بڑھتا ہی چلا گیا۔ جیب خرچ رسالوں پر صرف ہوتا۔ دنیا جہاں کی کتابیں پڑھنے کا من چاہتا۔ ایک روز موقع پا کر ابرار احمد بگوی صاحب سے گزارش کی کہ جامع کی لائبریری سے کتابیں پڑھنے کے لئے اجازت دے دیں۔ بھیرہ رہتے ہوئے یہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے کتب بینی کی حوصلہ افزائی کی اور بہت سی کتابیں مستعار فرمائیں۔
تاہم البیرونی کی ”کتاب الہند“ پھر بھی نہ دی کہ ابھی میں طفل مکتب ہوں اور یہ کتاب پڑھنے کا اہل نہیں۔ ایک درویش جس کا نام راقم کو یاد نہیں، ڈیوٹی پر مامور تھا جو بگوی صاحب کی اجازت کے بعد خوبصورت اور آراستہ لائبریری سے بچوں کی دلچسپی پر مشتمل کتابیں ڈھونڈ کر دیتا۔ تاہم کبھی میرے اصرار پر بددیانتی کرتے ہوئے مرضی کی کتاب بھی دے دیتا۔
سلسلہ بڑھتا گیا۔ ایک روشن دن میرا نام بچوں کے رسالے میں شائع ہوا تو خوشی و فخر سے چچا کو جا دکھا یا۔
ہاں بیٹا ٹھیک ہے مگر اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز رکھو۔ یہ رسالے کہانیاں وقت کا زیاں ہے بس اور کچھ نہیں۔
گھر کے بقیہ افراد کو بھی میری اس ادنٰی سی کامیابی سے کوئی سروکار نہ تھا۔ اس کارِخیر میں خاندان کے علاوہ سکول کے اساتذہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ ہوا یوں کہ میرے ایک استاد محترم بازار سے گزر رہے تھے اور میں کرایہ پر لئے ہوئے ناول کو پڑھتے ہوئے چلا جا رہا تھا۔ ان کی شان میں گستاخی ہو گئی کہ میں نے انھیں دیکھا نہ سلام کیا۔ اگلے روز انھوں نے میری آن کو ٹھیس ایسے پہنچائی کہ استاد محترم ندیم شیخ صاحب کو ماجرا کہہ ڈالا اور طنزیہ بولے کہ ”آپ کا چہیتا شاگرد بازار سے رسالے کرایہ پر لے کر پڑھتا ہے۔“ مجھے یاد ہے کہ ندیم صاحب کئی روز تک ناراض رہے جب تک کہ اگلے ٹیسٹوں میں سو فیصد نمبر نہ آ گئے۔
آٹھویں جماعت کے بعد ماڈل ہائی سکول میں داخلہ لے لیا۔ چند ہفتے گزرے تو نئے اساتذہ کرام کی خاص نظر کرم حاصل ہو گئی۔ ایک دن گھر پیغام موصول ہوا کہ کل بارہ بجے تک ہر صورت ڈاکخانہ پہنچ کر منی آرڈر وصول کر لو ورنہ رقم واپس کراچی ہمدرد ”نونہال“ کے دفتر بھیج دی جائے گی۔ یہ رقم مجھے ایک مضمون لکھنے کے عوض بطور ستائش اور حوصلہ افزائی عطا ہوئی تھی۔ یہ میرے لئے کسی گراں قدر انعام سے کم نہ تھی۔ مگر شومئی قسمت۔
۔ ہوا کچھ یوں کہ اچانک ڈی ای او صاحب سکول تشریف لے آئے۔ مقصد طلباء کا ٹیسٹ لے کر معیار تعلیم جاننا تھا۔ صاحب وقت پر تشریف نہ لائے۔ گھڑی تھی کہ بارہ کے ہندسے سے ملاقات کے لئے دوڑے چلی جا رہی تھی۔ میں نے فاروق صاحب (پی ای ٹی) سے التجا کی کہ مجھے رقم وصول کرنے جانا ہے لہٰذا چھٹی عنایت فرمائیں۔ تمام جماعتوں کو منظم رکھنا انہیں کی ذمہ داری تھی۔ میرے خاندان سے راہ و رسم بھی تھی اس پر یہ کہ اچھا طالبعلم ہونے کے ناتے لگاؤ بھی رکھتے تھے۔
رقم کا سبب اور ذریعہ بتایا تو مسکرائے اور اپنے مخصوص لہجے میں کہنے لگے ”تم نہ جاؤ۔ ڈی ای او پہنچنے ہی والے ہیں“ ۔ قلیل وقت کی نزاکت اور میرے جذبات کو وہ اپنی مجبوری کے تحت سمجھ نہ سکے اور مجھے اجازت نہ ملی۔ ساڑھے گیارہ بجے صاحب تشریف لائے اور سیدھا نہم (جوہر) میں آ نکلے۔ خواجہ قیصر صاحب بھی ہمراہ تھے۔ پوری جماعت ساکت و جامد بیٹھی تھی۔ سانسیں بھی روک رکھیں تھیں تبھی تو اتنی گہری خاموشی تھی۔ خیر۔ صاحب نے جھٹ سے سوال داغ دیا ”ہاں جی کون بتائے گا کہ کاسٹک سوڈے کا سائنسی نام اور فارمولا کیا ہے؟
کسی طالبعلم نے خاموشی نہ توڑی کیونکہ وہ طالبعلم ہی کیا جسے خاموش رہنے کا کہا جائے اور وہ بولے نہ۔ بولنے کا کہا جائے تو چپ نہ رہے۔ فاروق صاحب کے چہرے سے اضطراری واضح جھلک رہی تھی جبکہ قیصر صاحب مطمئن تھے۔ دونوں کی نگاہیں اپنے اپنے انداز میں مجھ سے مخاطب تھیں۔ میں نے ہمت پکڑی اور صحیح جواب بتلا دیا۔ صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور دوسرا سوال پوچھا! میٹھے سوڈے کا سائنسی نام اور فارمولا؟ میں نے دوبارہ درست جواب دیا تو شاباش بول کر ڈائری میں کچھ نوٹ کیا اور واپس ہو لئے۔ فاروق صاحب کے چہرے پر طمانیت بھری مسکراہٹ تھی۔ جیسے ہی سب کمرہ جماعت سے باہر نکلے، میں بھی چپکے چپکے پیچھے چل پڑا۔ ابھی پندرہ منٹ کا موقع میرے پاس تھا۔ فاروق صاحب سب سے پیچھے تھے۔ میں نے آہستہ سے انھیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ ٹھہر گئے۔ جب فاصلہ اتنا بڑھ گیا کہ دیگر حضرات سن نہ سکیں تو جھٹ سے بولے :
دیکھا۔ اس لئے میں تمہیں جانے نہیں دے رہا تھا۔
سر یہ سوڈے والے سوالات پوچھ رہے ہیں، مطلب انھیں پیاس لگی ہے سوڈا واٹر پلائیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ وہ کھِل کر ہنسے اور مجھے جانے کی اجازت دے دی۔
موقع پا کر میں نے ڈاک گھر کا رخ کیا۔ اگر یہ اولمپک کا مقابلہ ہوتا تو میں طلائی تمغہ ضرور جیت جاتا۔ رقم موصول ہو گئی۔ نجانے کب تک سنبھال کر رکھی اور خرچ نہ کی۔
دہم جماعت کے امتحانات قریب آرہے تھے۔ ایک دن قیصر صاحب ریاضی پڑھا رہے تھے۔ میرے ہاتھ میں ناول دیکھ لیا جو کہ ساتھ بیٹھا دوست پڑھنے کے بعد واپس کر رہا تھا۔ انھوں نے گہری و ترچھی نگاہوں سے دیکھا اور محض اتنا دریافت کیا کہ یہ ناول کس کا ہے؟ میں مہر بلب تھا۔ دوست نے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے فوراً جواب دیا کہ یہ راقم کا ہے۔ انھوں نے مزید کچھ نہ کہا مگر دیگر اساتذہ نے بہت کچھ کہا۔ فاروق صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں ڈانٹا ”اوئے۔ (میں وہ لفظ لکھنا نہیں چاہتا جو اس وقت ان کا تکیہ کلام تھا) حیا کر لو کچھ“ ۔ ایک اور استاد نے سرزنش کرتے ہوئے کہا، ”خود پر رحم نہیں کر سکتے تو سکول پر رحم کر لو۔ امتحانات کے بعد جی بھر کر ناول پڑھ لینا“ ۔
دسویں جماعت کو امتحانات کے پیش نظر جلد ہی فارغ کیا جا رہا تھا کہ باقی دن گھر بیٹھ کر تیاری کریں۔ اس روز سکول میں کرنے کو کچھ خاص نہ تھا۔ سوچا گھر جا کر کوئی ناول پڑھا جائے۔ میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے روبرو حاضر ہوا اور چھٹی کی عرضی ڈالی۔ وہ پیار سے بولے۔ اچھا بیٹا! ذرا گھر کا ٹیلیفون فون نمبر بتلاؤ۔ میرے بتانے پر وہ سخت لہجے میں بولے : اگر ناول پڑھنے سے باز نہ آئے تو گھر فون کر کے اطلاع کردوں گا۔
پہلے پہل تو میں سٹپٹا یا اور دنگ رہ گیا۔ پھر روہانسی صورت بنا کر بولا: ٹھیک ہے سر آئندہ بالکل نہیں پڑھوں گا۔ من ہی من میں مسکرا رہا تھا۔
امتحان گزر گیا۔ نتیجہ بھی نکل آیا۔ مجھے کالجوں کے شہر لاہور میں داخلہ مل گیا۔
خدا گواہ ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور کے در و دیوار میں یہ گھٹن نہ تھی۔ یہاں میں فکری و شخصی آزادی سے روشناس ہوا۔ ادبی روایات کے علمبردار اس ادارے نے ذہنی افق پر نئے سورج متعارف کروائے۔ ابھی تک چند ایک انگریزی ناول اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ ایک دوست کی بدولت میں ہیری پوٹر سے واقف ہوا۔ اب مجھے ایک نئے دریا کا سامنا تھا۔ کہتے ہیں کہ بادہ خوار اپنی خصلت سے باز نہیں آتا۔ بقول استاد ذوق:
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
صبح کیمسٹری کا پیپر تھا اور میں آرڈر آف دا فینکس پڑھ رہا تھا۔ مجھے ڈاکٹر بننے کی تمنا نہ تھی۔ البتہ اوروں کو میرے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا۔ لہذا میں نے ان کا یہ شوق پورا نہ ہونے دیا۔
اگرچہ لاہور شہر دل میں سما چکا تھا، مگر یہ محبت یک طرفہ تھی۔ لاہور کے من میں، میں نہ سما سکا۔ اسلام آباد نے صدا دی تو ہجرت کر لی۔
یونیورسٹی کی لائبریری گزشتہ سے بھی بڑھ کر تھی۔ وقت اور حالات کے مطابق جس قدر مستفیض ہو سکتا تھا وہ ہوا۔ یونیورسٹی کے میگزین ”سپیکٹرم“ میں سب ایڈیٹر بھی رہا۔
زندگی قسمت کے کھیل کا میدان ہے۔ میں اپنی باری کے انتظار میں دھوپ میں سینچا جا رہا تھا۔ عملی زندگی کا ایک پر آزمائش پہلو روزگار ہے جس کے سبب بسا اوقات انسان وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتا جو اس کے من کی خواہش ہوتی ہے۔ تبھی تو فیض نے کہا تھا کہ
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
اسی کشاکش میں انسان خدا کو حاصل کر پاتا ہے نہ صنم کا وصال۔ بس اسی سبب وہ نہ اِدھر کا رہتا ہے نہ اُدھر کا۔ بارہ برسوں کی عملی زندگی کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ اپنے من کی کر گزرنی چاہیے تھی۔ اسی خلا کو پر کرنے کے لئے اک دن میں نے ٹھانی کہ پہلے قدم کے طور پر سو کتابیں پڑھی جائیں۔
میں نے ایک سو کتابیں کیسے پڑھیں؟
چار برس پہلے ایک تہیہ کیا، خود سے وعدہ کہ دو سالوں میں ایک سو کتابیں پڑھنی ہیں۔ ابتدا میں تو یہ ٹارگٹ سہل معلوم ہوا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ مشکل بڑھتی گئی۔ گرہستی کی ذمہ داریاں، نوکری کی مصروفیات اور روزمرہ کے معاملات نے جہاں دشواریوں میں اضافہ کیا وہیں قوت فہم نے نئی راہیں کھول دیں۔ اگرچہ مقررہ وقت پر نہ سہی مگر میں نے اپنا ہدف حاصل کر لیا۔ آپ لوگ خود بھی مصروف افراد ہیں اور یقینی طور پر اس تاخیر کا سبب سمجھ سکتے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں، میں اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔
سال اول یعنی 2021 میں تمام تر کاوشوں کے بعد میں نے تیس (30) کتابیں پڑھیں۔ جبکہ دوسرے برس (2022) میں صرف اٹھارہ (18) کتابیں پڑھ سکا۔ اگلے سال یعنی 2023 میں تو ایسے لگا کہ قحط الکتاب آ گیا ہو۔ محض دس (10) کتابیں۔ تاہم برسوں کے تجربے کے بعد اب میں خود کو منظم کرنے کے علاوہ چند داؤ پیچ بھی سیکھ چکا تھا۔ وقت کو مینج کرنے اور خود کو ڈسپلن کرنے کے سبب رواں برس (2024) اکتالیس (41) کتب پڑھ کر اپنا ہدف حاصل کر لیا۔
بلاشبہ ہم سب کار حیات میں اس قدر مصروف ہیں کہ کتاب پڑھنا بھی چاہیں تو وقت، یکسوئی اور خلوت میسر نہیں آتی۔ اس پر یہ کہ موبائل نے بے توجہی کا شکار کر دیا ہے۔ باوجودیکہ اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کوئی عذر آڑے نہیں آ سکتا۔ عزم پختہ اپنا رستہ خود ڈھونڈ لیتا ہے۔ آپ کے ارد گرد ایسی بیش بہا مثالیں موجود ہیں۔
مجھے کہیں بھی وقت میسر آتا، کسی کا انتظار ہو یا نیند کوسوں دور ہو تو میری پہلی ترجیح کتاب ہوتی۔ سوشل میڈیا ضرورت کے تحت استعمال کرنے سے روزانہ کا سکرین ٹائم بہت کم ہو گیا تھا۔ چھٹی والے دن گھر والوں سے کم و بیش ایک گھنٹہ پہلے جاگ جاتا اور بچوں کے شوروغل سے پہلے کئی صفحات پڑھ چکا ہوتا۔
مثل مشہور ہے کہ کتابیں پڑھنے کے لئے بہترین جگہ ہوائی جہاز، ساحل سمندر اور پارکس ہیں۔ اس علامتی مثل کو آپ اپنے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ اپنے موبائل فون میں ہمیشہ کتابیں محفوظ رکھیں (ای بک / آڈیو) جانے کب اور کہاں پڑھنے کا موقع میسر آ جائے۔
زوجہ محترمہ نے کئی مرتبہ کتابوں کو سوتن کا درجہ دیا باوجودیکہ کی وہ خود بھی کتابوں سے شغف رکھتی ہیں۔ مگر بچوں، گھریلو اور بطور استانی ذمہ داریوں کے سبب کبھی کبھار زچ ہو جاتیں۔ اس لئے ان کی ہمت و صبر کو داد کہ مجھے پڑھنے کے لئے سہولیات فراہم کیں۔ وہ آپ نے سنا ہو گا کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے مگر یہ نہ سنا ہو گا کہ خربوزی بھی رنگ پکڑ سکتی ہے۔ محترمہ نے بھی تمام تر مصروفیات کے باوجود دو ماہ میں چار کتابیں پڑھ ڈالیں۔
کتابوں کا انتخاب کیسے کیا؟
بہت سے پڑھنے والوں کی مانند مجھے یہ الجھن درپیش نہ تھی کہ کون سی کتاب پڑھی جائے۔ اب تو پڑھتے ہوئے بیسیوں سال ہو گئے ہیں۔ اس لئے میری فہرست میں صرف وہ کتابیں شامل تھیں جو صدیوں اور دہائیوں سے ہمیشہ زیر مطالعہ رہی ہیں۔ ایسی کافی کتابیں میں پڑھ چکا تھا اور بہت سی رہتی تھیں۔ لہٰذا میں نے اول کام یہ کیا کہ مشہور ذرائع جن میں نیویارک ٹائمز، بی بی سی، نوبل لاریئیٹ، نیشنل بک کے علاوہ آرٹ آف مینلینیس اور ستار طاہر کی کتاب دنیا کی سو عظیم کتابیں، وغیرہ شامل ہیں سے رہنمائی لی۔
وقتاً فوقتاً ان کتابوں میں سے کچھ خرید لیتا اور جو مہیا نہ ہوتی انٹرنیٹ سے حاصل کر لیتا۔ اس طرح بنائی گئی فہرست پہ میں مکمل طور پر عمل پیرا نہ ہو سکا۔ وجہ یہ تھی کہ کسی اچھی کتاب میں کسی دوسری کتاب کا حوالہ یا متعدد بار ذکر مجھے تجسس میں ڈال دیتا اور میں وہ کتاب پڑھنے بیٹھ جاتا۔ اسی طرح ایک مصنف کی کوئی کتاب پسند آ گئی تو اس کی دوسری کتاب بھی پڑھ لی۔ آپ اپنی فہرست بناتے وقت دلچسپی کو ملحوظ خاطر ضرور رکھیں۔ اگر آپ کو فکشن پسند ہے تو نان فکشن میں پولیٹیکل اکنامکس کی کتاب پڑھنے نہ بیٹھ جائیں۔ تاہم وہ حضرات جو ہمہ جہت دلچسپی رکھتے ہیں ان کا معاملہ اور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کتابیں وہ پڑھیں جو عشروں اور صدیوں سے پڑھی جا رہی ہیں، ان میں کوئی تو ایسی خاص بات ہے جو زمانے گزرنے کے باوجود بھلائی نہ جا سکیں۔
اگر کوئی کتاب پسند نہیں آ رہی تو اسے ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ زبردستی کا تو اسلام بھی قبول نہیں۔
مجھے ان کتابوں سے کیا فائدہ حاصل ہوا؟
بہت سے احباب یہی سوال دریافت کرتے ہیں۔ ہر کتاب پڑھنے کے بعد میں خود سے بھی یہی سوال دہراتا۔ ایک دن مصری ادیب طحہ حسین کی خودنوشت (الایام۔ دی ڈیز) پڑھتے ہوئے مندرجہ ذیل جملوں نے مجھے مسحور کر دیا جو شاید اسی سوال کا جواب ہے :
بالآخر اسے یہ احساس ہوا کہ اس نے علم کے بحر بیکراں کے پانی (کا مزہ) چکھنا شروع کر دیا ہے۔
”Thus he came at last to feel that he had begun to taste the water of the boundless ocean of knowledge.“ (Stream of Days-31)
ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں :
یہ (واقعی) کتنی سچی (بات) تھی کہ علم ایک ساگرِ لامتناہی ہے جو کسی بھی غور و فکر کرنے والے شخص کے لئے، جو کہ اس میں غوطہ زن ہونے کے لئے تیار ہو، ناقابل تصور نفع سے لبریز ہے۔
”How true it was that knowledge is boundless ocean full of unimaginable benefit for any thoughtful being who is ready to plunge into it.“ (Stream of Days-30)
لوگ مادہ پرستی کے زاویے سے فائدے کے متعلق پوچھتے ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ قارون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ افلاطون کو؟ اگر آپ کے پاس کہنے کو نرالی کہانی ہے تو آپ جے کے رولنگ کی مانند دنیا کی امیر ترین عورت بن سکتی ہیں۔ گبریل گارسیا مارکیز کے پاس دولت کا انبار نہ تھا مگر عزت و احترام کا کہسار ضرور تھا۔ میں کتابوں سے فکری حَظ اٹھاتا ہوں۔ میری روح و وجود کو طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔
ایک کتاب زندگی نہیں بدل سکتی مگر روز پڑھنا سب کچھ بدل سکتا ہے۔ دس، بیس یا سو کتابیں پڑھنے سے کوئی حکیم لقمان نہیں بن جاتا۔ بلکہ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ نے ساحل سمندر سے ایک چٹکی ریت چُرا لی ہو۔
اگر آپ سکرول کرتے ہوئے اور پڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو میری اس تحریر کے مخاطب آپ ہی تھے۔ بلاشبہ آپ میں کتاب دوستی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ کتابوں کی فہرست نیچے دی گئی ہے۔ آپ کے قدم چومے۔
30 دسمبر 2024
غفران خلیل
2021
1. Fallen Leaves by Will Durant
2. The Promised Land by Barack Obama
3. Gul Meena by Zaif Syed
4. Raseedi Ticket by Amrita Pritam
5. Mahabharat by
6. Sapiens by Yuval Noah Harari
7. Republic by Plato
8. The Anarchy by William Dalrymple
9. Malcolm X (Biography)
10۔ Shakuntala by Kaali Daas۔ شکنتلا از کالی داس
11. Pride and Prejudice by Jane Austin
12. Analects (Sayings of Confucius)
13. Myth of Sisyphus by Albert Camus
14. Poetics by Aristotle
15۔ Raamain (رامائن by Valmiki
16. Audacity of Hope by Barack Obama
17. Heroes of History by Will Durant
18۔ Unbearable lightness of Being by Milan Kundera 19۔ مہابھارت کتھن مالا مترجم عبدالعزیز خالد
20. Brief Answers to the Big Questions by Stephen
Hawking
21. Secrets of Life by Osho (Guru Rajneesh)
22. The Dhammapada translated by Valerie
23. A Bend in the River by V. S. Naipaul
24. Upanishad
25. Aesop ’s Fables
26. Fairy Tales by Christian Hans Anderson
27. Brave New World by Aldous Huxley
28. Thus Spoke Zarathustra by Friedrich Nietzsche
29. Meditations by Marcus Aurelius
بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ۔ 30
2022
31. Aeneid by Virgil
پنجر از امریتا پریتم۔ 32
33. Siddhartha by Hermann Hesse
رات از عبداللہ حسین۔ 34
35. Boss by Maxim Gorky
36. Tao Te Ching by Lao-Tzu / Laozi
37. Common Sense by Thomas Paine
38. The Metamorphosis by Franz Kafka
38. Divine Comedy, Inferno by Dante Alighieri
39. The Little Red Book by Mao Zedong/ Mao Tse Tung
40. Jules and Jim by Henri Pierre Roche
41. The Captain ’s Daughter by Alexander Pushkin
42. Hadji Murat by Leo Tolstoy
43. The Diary of a Nobody by George Grossmith
44. Ikigai by Hector Garcia & Francesc Miralles
45. Rudin by Ivan Turgenev
46. Fathers and Sons by Ivan Turgenev
47. The Art of War By Sun Tzu
48. The Prince by Niccolo Machiavelli
2023
49. The boy, the mole, the Fox and the Horse by
Charlie Mackesy
50. Short stories by Rajinder Singh Bedi
51. Politics by Aristotle
52. Short Stories by Ismat Chughtai
ہنزہ کی لوک کہانیاں از عبداللہ جان ہنزئی 53
54. Anna Karenina by Leo Tolstoy
55. The History by Herodotus
56. The Epic of Gilgamesh Translated by Maureen
Gallery Kovacs
57. Guns, Germs and Steel by Jared Diamond
58. The Silk Roads by Peter Frankopan
2024
59. Zen and the Art of Motorcycle Maintenance by
Robert M. Pirsig
60. Who Rules the World by Noam Chomsky
61. The Tipping Point by Malcolm Gladwell
62. The Richest Man In Babylon by George S.
Clawson
63. World Order by Henry Kissinger
64. I capture the castle by Dodie Smith
65. A Short Account of the Destruction of the Indies
By Bartolome De Las Casas
66. Silk Road by Jonathan Tucker
67. Why Nations Fail by Daron Acemogulu and
James Anderson
68. Rape of the lock by Alexander Pope
69. Can ’t We Just Print More Money? Economics in
Ten Simple Questions by Jack Meaning and
Rupal Patel
70. Prometheus Bound by Aeschylus
71. The Ancient Near East by Amanda H. Podany
72. Conquest of Happiness by Bertrand Russell
73. Confessions of an Economic Hit Man by John
Perkins
74. Identity by Francis Fukuyama
75. A Theory of Everything by Stephen Hawking
76. Oedipus by Sophocles
77. Man ’s search for Meaning by Viktor E. Frankl
78. Things Fall Apart by Chinua Achebe
79. Prisoners of Geography by Tim Marshall
80. Homo Deus by Yuval Noah Harari
81. The Little Prince by Antoine de Saint-Exupéry
82. A Separate Peace by John Knowles
83. Discourse on the Method by René Descartes
84. The Book of Genesis
85. Exodus & Ruth
86. One Hundred Years of Solitude by Gabriel Garcia
Marquez
87. The New Silk Roads by Peter Frankopan
88. Medea by Seneca
89. Military Inc. By Ayesha Siddiqa
90. The Bell Jar by Sylvia Plath
92. Leviticus
93. The Great Delusion by John J. Mearsheimer
94. The Narrow Corridor by Daron Acemogulu and
James Anderson
95. An Egyptian Childhood by Taha Hussein
96. The Stream of Days by Taha Hussein
97. How Democracies Die by Steven Levitsky and
Daniel Ziblatt
98. The Road by Cormac McCarthy
99. Master and Margarita by Mikhail Bulgakov
الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری۔ 100



Keep it up
سال 2002 تھا اور میرے بیٹے کی عمر بمشکل چار سال سے کچھ زیادہ تھی اور پریپ ٹائپ کی کسی کلاس کے طالب علم تھے۔
ہم دونوں حجامت کرانے گئے۔ صاحب زادے کے ہاتھ میں ایک انتہائی موٹی کہانیوں کی کتاب تھی۔
اور وہ اس دوران سکون سے کتاب پڑھتا رہا۔ لوگ آتے دیکھتے ٹھٹھک جاتے مگر کچھ بولتے نہیں۔ وقفے وقفے سے صفحات پلٹنے سے اندازہ بھی ہورہا تھا کہ بچہ کتاب واقعی پڑھ رہا ہے۔
لطیفہ اس وقت ہوا جب جانے سے پہلے "باربر صاحب” یعنی حجام نے پوچھا سر بچہ کس اسکول میں پڑھتا ہے۔
میں ہنس پڑا اور اسے بتایا کہ اس حرکت کے پیچھے اسکول نہیں ماں باپ کا ٹی وی پر فلمیں دیکھنے کی بجائے رات کو کتاب پڑھنے اور بچوں کو سنانے سے تعلق ہے۔
یعنی گربہ کشتن روز اول ۔۔۔۔۔
اب کچھ نہیں ہوسکتا۔