کراچی پورے پاکستان کا ”ٹوپی رکھ“ ہے


حال ہی میں ہمیں اپنے ہم زلف کی طرف سے بذریعہ واٹس ایپ ان کی بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ وصول ہوا۔ ہمارے ہم زلف راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ دعوت نامے میں شادی کی تقریب کا مقام ”ٹوپی رکھ کمپلیکس“ درج تھا۔ ہمارے لیے یہ نام کچھ اجنبی تھا۔ یہ نام پڑھ کر ہماری رگ تجسس پھڑک اٹھی اور ہم اس نام کی ”شان نزول“ جاننے کے بے چین ہو گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں یہ عقدہ کھلا کہ ”ٹوپی رکھ کمپلیکس“ دراصل راولپنڈی میں واقع وسیع و عریض ”ایوب نیشنل پارک“ کا حصہ ہے اور راولپنڈی کے جہلم روڈ پر واقع ہے۔

یہ کمپلیکس تین وسیع و عریض ہال، ایک مارکی اور لان پر مشتمل ہے۔ جس میں مختلف قسم کی تقریبات منعقد کی جا سکتی ہیں۔ عام طور پر شادی کی تقریبات ہی منعقد کی جاتی ہیں۔ ٹوپی رکھ کمپلیکس 2007 میں بنایا گیا اور اس کا انتظام و انصرام ”آرمی ہیریٹیج فاؤنڈیشن“ کے پاس ہے۔ پوٹھوہاری زبان میں ٹوپی ”اسٹوپے“ کو کہتے ہیں۔ عام طور پر اسٹوپے کا مطلب بودھ مذہب کی عبادت گاہ ہے۔ ایک لوک داستان کے مطابق جب اس علاقے میں بودھ مذہب عروج پر تھا۔ تو یہاں ایک راجہ کی حکومت ہوتی تھی۔ جس کا نام سارگن تھا اس کی بیٹی نے خودکشی کر لی تھی اس بیٹی کی یاد میں راجا سارگن نے اس مقام پر ایک ”اسٹوپا“ بنوایا تھا لیکن اب اسٹوپے کا نام و نشان تک مٹ گیا ہے۔ ”رکھ“ اس جنگلی علاقے کو کہا جاتا ہے۔ جسے سرکار ایسا جنگل قرار دے دیتی ہے اور جو بادشاہوں، نوابوں اور امراء کے لیے شکار گاہ کا کام دیتا ہے۔ زمانے قدیم سے ہی یہ علاقہ ایسی شکار گاہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس لیے اس کو ”ٹوپی رکھ“ ہی کہتے ہیں۔

سن 80 کی دہائی سے جب تخت راولپنڈی پر ضیا الحق جلوہ افروز تھے، کراچی متحرک تنظیموں اور متحارب تشدد پسند گروہوں کے لیے ایک ”ٹوپی رکھ“ یعنی شکار گاہ بنا ہوا ہے جہاں ہر رنگ نسل اور مذہب کے لوگوں کا خونی شکار کھیلا جاتا ہے جب ایران میں تازہ تازہ خمینی صاحب نے شاہی حکومت کا تخت الٹ کر عنان حکومت سنبھالی اور اعلی سطح پر پھانسیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تو بہت سے سابق شاہ کے وفادار کراچی آ کر پناہ گزین ہو گئے۔

اس زمانے میں آئے دن کراچی میں مختلف ایرانی متحارب گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ جس میں انسانی جانیں بھی ضائع ہو جاتی تھیں۔ اس کے بعد افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ بھی کو چلتا کر دیا گیا اور افغان مہاجرین کا ایک سیل رواں پاکستان میں داخل ہو گیا اس وقت بھی ”ٹوپی رکھ“ کراچی پر خاص عنایت کی گئی اور کئی لاکھ افغانیوں کی ایک سے زیادہ غیر قانونی بستیاں قائم ہو گئیں جہاں آج بھی غیر قانونی اسلحہ، نشہ آور اشیاء کا کھلے عام کاروبار ہوتا ہے حتی کہ بردہ فروشی بھی ہوتی ہے۔

یہاں کے مکین شہر میں ہونے والی ڈکیتیوں لوٹ مار میں بھی ملوث ہوتے ہیں یعنی کراچی ان کے لیے ایک ایسی شکار گاہ ہے جہاں یہ چاہیں جس طرح سے بھی انسانوں کا شکار کریں۔ یاد کیجئے جب عراق پر امریکہ چڑھ دوڑا تو کراچی میں ایک دفعہ پھر متحارب تنظیمیں متحرک ہو گئیں اور کراچی میں بدامنی کی ایک شدید لہر آ گئی۔ کراچی کے معصوم عوام کا جان و مال اس بدامنی کی لہر کی نذر ہو گیا۔

آج بھی پارہ چنار کے واقعات کو بنیاد بنا کر کراچی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے پارہ چنار میں حالات کئی ماہ سے دگرگوں ہیں۔ وہاں کئی خونی واقعات رونما ہوئے اور انسانی المیوں نے جنم لیا ہے جو سب کے سب انتہائی قابل مذمت ہیں۔ سب سے بڑا واقعہ جس میں 44 افراد کی شہادت ہوئی ان افراد میں 11 خواتین 7 شیر خوار بچوں کی عمریں 6 ماہ 8 ماہ اور 11 ماہ بتائی جاتی ہیں ان بچوں کے منہ میں گولیاں ماری گئیں یہ خیبر پختون خوا حکومت کی ناکامی اور نا اہلی کا ثبوت ہے جس کے 40 / 50 پولیس والے اس قافلے کی حفاظت کے لیے ساتھ تھے انہوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ تک نہیں کیا سارے پولیس والے محفوظ رہے مسافر مارے گئے واضح رہے خیبر پختون خواہ میں عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور مجلس وحدت المسلمین پی ٹی آئی کی اتحادی ہے بلکہ اس جماعت کے سربراہ خیبر پختون خوا سے کپتانی ٹکٹ پہ ہی سینٹر بنے ہیں پارہ چنار اور کرم کا فساد زدہ علاقہ بھی خیبر پختون خوا کا حصہ ہے آپ ان کی دو رنگی سیاست ملاحظہ فرمائیں کہ پارہ چنار اور کرم کے بند راستے کھلوانے کے لئے انہوں نے پختون خوا کے بجائے کراچی شہر کے راستوں کو بند کر دیا۔

بھائی پشاور میں دھرنا دو۔ سندھ حکومت اور کراچی کے عوام کو کیوں نشانہ انتقام بنایا جا رہا ہے۔ اگر آپ کے خیال میں وفاقی سیکیورٹی انتظامیہ قصوروار ہیں تو راولپنڈی میں دھرنا دیا جائے کراچی کے عوام تو ویسے ہی ڈاکا زنی، قتل و غارت گری، ہمہ وقت ٹریفک جام، پانی کی کمیابی اور بجلی کی عدم فراہمی کے مسائل سے مسلسل نبرد آزما ہیں۔ خدارا کراچی کی جان بخشی کی جائے۔

Facebook Comments HS