حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ ششم
گزشتہ مضامین میں ہم نے نیوٹن کی میکانیات، ذرات کے ذریعے مظاہر فطرت کی وضاحت اور برقی و مقناطیسی قوتوں کی یکجائی میں فیلڈ اور پوٹینشل کے تعلق پر بات کی تھی۔ جس میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ مادی مظاہر کی وضاحت میں مابعدالطبعیاتی تصورات بری طرح ناکام رہے ہیں۔ نیوٹن کا عظیم کارنامہ ان مابعدالطبیعی تصورات کے بجائے قابل پیمائش ریاضیاتی مقداروں کی مدد سے دنیا کی وضاحت پیش کرنا تھا۔ اسی سلسلے میں اہم پیشرفت زمان و مکاں کے تصورات میں بھی سامنے آئی۔ فزکس چونکہ ایک تجرباتی سائنس ہے اس لئے لازمی تھا کہ زمان و مکاں کے مابعدالطبیعاتی تصورات کو تجربی تصورات میں تبدیل کیا جائے۔ یعنی کہ زمان و مکاں کی ایسی تعریف کی جائے جس کی مدد سے انہیں دیگر مادی مقداروں کی طرح ماپا جا سکے۔
اس سلسلے میں تاریخ کی بڑی بحثوں میں زمان و مکاں کا مطلق یا نسبی ہونا، حرکت کا مطلق یا نسبی ہونا، کائنات کا محدود یا لامتناہی ہونا وغیرہ شامل تھا۔ گلیلیو کے زمانے سے حرکت کے نسبی ہونے کی بحث چلی آ رہی تھی مگر زمان و مکاں کے نسبی ہونے کے بارے زیادہ اہم بحث، انیسویں صدی میں میکسول کے ہاتھوں برقی و مقناطیسی قوتوں کی یکجائی کے بعد سامنے آئی۔ آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت بھی کچھ تجربی پیشگوئیوں اور میکسول کی مساواتوں سے نیوٹن کی میکانیات کی تطبیق کی بدولت سامنے آیا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اکثر زمان و مکاں کی بحثوں میں فزکس کی اس تاریخ یعنی نیوٹن اور میکسول کے کام کا ذکر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی یہ دکھایا جاتا ہے کہ آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت، لائنبیز وغیرہ کے تصور نسبیت سے مختلف اور تاریخی وجوہات رکھتا ہے۔ یہ موضوع تاریخی اعتبار سے بہت وسیع ہے کیونکہ بیشتر فلسفیوں نے زمان و مکاں کے تصور کو اپنے اپنے مابعدالطبیعاتی اصولوں کی مدد سے سمجھنے کی ناکام کوششیں کی ہیں جنہیں فلسفے کی تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
نیوٹن سے قبل، زمان و مکاں کے یونانی تصورات عام تھے۔ ارسطو کے مطابق ہر جسم اپنی خاص صفات کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ کائنات، مادے سے بھری ہوئی ہے، محدود ہے اور اس کی آخری حد، ساکن ستاروں کا کرہ ہے جس کے باہر کوئی خلا موجود نہیں۔ افلاطون کی تقلید میں ارسطو، خلا کا انکاری تھا۔ اس کے مطابق اجسام کی زمین سے اوپر یا نیچے کی جانب حرکت، کائنات کے مرکز کے لحاظ سے ہوتی ہے اور کائنات کا یہ مرکز چونکہ زمین کے مرکز کے ساتھ مشترک ہے اس لئے خود زمین میں حرکت کا کوئی جواز نہیں۔ بھاری اجسام زمین کے مرکز کی جانب جبکہ ہلکے اجسام مرکز سے دور جاتے ہیں اور یہ ان کی ذاتی فطرت ہے نہ کہ زمین ان پر کوئی قوت لگاتی ہے۔ یاد رہے، ارسطو کے ہاں لوکوموشن یا ایک سے دوسری جگہ حرکت بھی واحد حرکت کی قسم نہیں ہے بلکہ قوت و فعل سے بیان ہونے والی حرکت کی تعریف کی رو سے، حرکت کی بہت سی شکلوں میں سے ایک قسم ہے۔ ارسطو کے ہاں، حرکت کی نسبیت کا تصور بھی اتنا واضح نہیں ہے۔ یونانی تصور زمان و مکاں کو اقلیدس نے ریاضی کی شکل میں بیان کیا، جو ارسطو کے لفظی بیان سے زیادہ دقیق اور روشن بیان تھا۔
ڈیکارٹ نے اپنی کتاب ”اصول فلسفہ“ (کتاب دوم) میں دلیل دی کہ مادے کا جوہر توسیع ہے (یعنی سائز اور شکل کا بدلنا) ، کیونکہ اجسام کی کسی بھی دوسری صفت کا تصور اعراض میں تبدیلی کے بنا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ توسیع خلا کی صفت کو تشکیل دیتی ہے، اور اسی وجہ سے اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خلا اور مادہ ایک ہی چیز ہیں، خلا کا ہر نقطہ مادے کا نقطہ ہی ہے اور مادے کے بغیر کوئی خلا نہیں ہو سکتا۔ کائنات درحقیقت کسی خلا میں حرکت کرتے جیومیٹرک اجسام کا ایک نظام ہے۔ مادے اور خلا کو ایک کہنے کا فوری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلا کا وجود ناممکن ہے جو پھر افلاطون و ارسطو جیسی بات ہے۔
جدید سائنس میں کائنات کا کوئی مرکز نہیں ہے، نہ یہ محدود ہے بلکہ لامتناہی ہے۔ چیزوں کی حرکت ان کی ذاتی فطرت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خارجی قوتوں کے زیر اثر ہوتی ہے اور حرکت کی بس ایک ہی قسم ہے جو کہ لوکوموشن یا ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانا ہے جبکہ قوت و فعل کی مدد سے حرکت کی تعریف بے معنی اور بے سود ہے۔ کوپرنیکس کے انقلاب کے بعد سے زمین کی سورج کے گرد حرکت ثابت ہو چکی ہے اس لئے یہ کہنا کہ زمین ساکن ہے، درست نہیں ہے۔ یہ بات بھی آج کی فلکیات اور اٹامک فزکس سے غلط ثابت ہو چکی ہے کہ خلا وجود رکھتا ہے۔ ایٹم کا نناوے فیصد حصہ خلا ہے، ستاروں کے درمیان خالی جگہ موجود ہوتی ہے، اب تو لیبارٹری میں مصنوعی خلا پیدا کیا جاتا ہے، آواز کو بند کرنے والے آلات میں مصنوعی خلا پیدا کیا جاتا ہے کیونکہ آواز خلا میں سفر نہیں کرتی۔
لائبنیز وغیرہ کے ہاں یہ مابعدالطبیعاتی اصول قائم تھا کہ حالت سکون ہی اشیاء کی فطری یا انرشیل حالت (حالت جمود) ہے اور حرکت صرف تب واقع ہوتی ہے جب کوئی قوت اس جسم کی حالت جمود کو حرکت میں لے آئے۔ نیوٹن کی جمود یا انرشیا کی تعریف حالت سکون کے علاوہ حرکت کرتے اجسام پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اگر ایک جسم یونیفارم موشن میں ہو تو اس کی رفتار مستقل رہتی ہے (ساکن جسم کی رفتار صفر ہوتی ہے جو کہ ایک مستقل ہی ہے ) ۔ یونیفارم موشن میں وقت کے برابر وقفوں میں برابر فاصلہ طے ہوتا ہے۔ کسی رکے ہوئے جسم یا یونیفارم موشن کرتے جسم کی حالت کی تبدیلی کے دوران ہونے والی مزاحمت کی مقدار جمود ہے۔ گویا یونیفارم موشن بھی جمود کے تحت ہوتی ہے اسی لئے اس کو انرشیل موشن یا متحرک جمود بھی کہتے ہیں۔ گویا جمود صرف رکنے کا نام نہیں۔ لائبنیز کے برعکس نیوٹن کا تصور جمود ایک طبیعی مقدار ہے۔ جمود کی مقدار کو کمیت یا ماس کی صورت میں معلوم کیا جاتا ہے۔ دوسرے قانون کے مطابق، حرکت کرتے جسم میں جمود کی مقدار یا انرشیل ماس، کسی جسم پر لگنے والی بیرونی قوت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اسراع کی کسری مقدار کے برابر ہے۔
نیوٹن کے دور تک زمین کی حرکت کے دلائل مضبوط ہوچکے تھے اور نیوٹن بذات خود فزکس کو ازسرنو مابعدالطبیعات سے آزاد کرنے کے لئے مادی مقداروں کو جیومیٹری اور کیلکولس کے ذریعے متعارف کروا رہا تھا۔ وہ اقلیدس کے جیومیٹری کے تصورات کی بنیاد پر مکاں کی تعریف کرنے پر مجبور تھا کیونکہ اقلیدس کے مسلمات کی سچائی کو اس وقت تک چیلنج کرنے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آ سکی تھی اور وہ روزمرہ مشاہدات کے بھی قریب تھے۔ ارسطو کے برعکس نیوٹن نے ایک مطلق مکاں کی بات کی۔ مطلق مکاں ہمیشہ موجود رہتا ہے خواہ کوئی جسم وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ایسا مکاں، لامتناہی، یکساں اور قدیم ہے۔ اس کا ایک نتیجہ مطلق حرکت بھی ہے جس کا ارسطو قائل نہیں تھا۔
نسبیت کے معاملے میں نیوٹن کسی حد تک گلیلیو کا قائل تھا۔ لیکن نیوٹن کا تصور نسبیت ایک نیا تصور بھی ہے کیونکہ وہ مطلق مکاں کی نسبت حرکت کی بات کرتا ہے۔ نیوٹن کا مشہور بالٹی کا تجربہ یہی ثابت کرنے کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ خلا میں موجود کسی بالٹی میں گھومتے پانی کی حرکت صرف بالٹی کی دیواروں کے لحاظ سے نسبت میں نہیں بلکہ مطلق مکاں کے لحاظ سے بھی حرکت میں ہے۔ اس مکاں میں بذات خود کوئی حرکت نہیں پائی جاتی بلکہ اشیاء میں حرکت اس مطلق مکاں کی نسبت ہوتی ہے یعنی وہ مکاں میں ایک خاص مقام سے دوسرے مقام تک حرکت کرتے ہیں۔ کسی جسم کے خاص مقام سے مراد خلا یا سپیس (مطلق مکاں ) کا وہ حصہ ہے جسے وہ جسم پوری طرح بھر دیتا ہے۔ نیوٹن کے اس مطلق مکاں میں اقلیدیسی ریاضی کی خصوصیات بھی شامل تھیں۔ مثال کے طور پر حرکت کرتے کسی جسم کی مکاں میں ابتدائی سمت یا فاصلے کے نقطہ آغاز کو تبدیل کر دینے سے اس کی رفتار پر فرق نہیں پڑتا۔ کوئی جسم مقام الف سے شروع ہونے کے بجائے مقام ب سے حرکت شروع کرے اس سے رفتار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گویا مطلق مکاں کے تمام مقامات یکساں یا ہوموجینئس ہیں۔ یونہی تمام جہتیں یکساں ہیں وغیرہ جو کہ اقلیدیسی مکاں کے مسلمات ہیں۔
نیوٹن کے تصور حرکت کے لئے زماں کا مطلق ہونا بھی لازم ہے۔ مطلق زماں، کسی بھی شے کا اثر قبول کیے بغیر مسلسل بہتا ہے۔ یعنی وقت پر کسی جسم کا کوئی اثر نہیں ہوتا، تمام اجسام کے لئے اور تمام مقامات پر وقت ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ ہر دو لمحوں میں گزرنے والے وقت کی مقدار ایک جتنی رہتی ہے۔ وقت کی مستقل رفتار سے بہنے کی بہتر وضاحت انرشیل موشن سے ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر وقت اور مکاں کے برابر وقفے نہ کیے جائیں تو رفتار مستقل نہیں رہتی جو کہ انرشیل موشن کے لئے لازمی ہے۔ پہلے قانون حرکت کے مطابق رفتار کا بدلنا کسی بیرونی قوت کے بغیر ممکن نہیں۔ گویا انرشیل موشن تبھی ممکن ہے جب وقت مستقل رفتار سے بدلے۔ انرشیل موشن ایک پیمانہ ہے جسے استعمال میں لاکر دو واقعات کے ایک وقت میں ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ گویا، مطلق زمان و مکاں انرشیل موشن کا لازمہ ہے۔
مطلق زمان و مکاں ہی سے نیوٹن کا تصور حرکت نہ صرف اقلیدیسی ریاضی بلکہ گلیلیو کے اصول کہ حرکت نسبی ہے، سے بھی مطابقت رکھنے لگتا ہے۔ گلیلیو نے اپنے مشاہدات سے دیکھا تھا کہ کوئی میکانکی تجربہ ایسا نہیں جو ایک رکے ہوئے اور ایک یونیفارم موشن کرتے اجسام کے درمیان فرق کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں، کوئی تجربہ ایسا نہیں جو مطلق مکاں میں کسی جسم کی مطلق رفتار بتا سکے۔ اس کے لئے پہلے انرشیل فریم کو سمجھنا لازم ہے۔ ایک انرشیل فریم آف ریفرنس، مکان کا ایک ایسا حصہ ہے جس میں اجسام کسی خارجی قوت کی عدم موجودگی میں انرشیل موشن کرتے ہیں۔ انرشیل فریم میں کسی جسم میں اسراع کی موجودگی، خارجی قوت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک انرشیل فریم سے سیدھی سمت میں بہت سے دیگر انرشیل فریم تصور کیے جا سکتے ہیں۔ تمام انرشیل فریم ایک دوسرے کے لحاظ سے یونیفارم موشن یا سکون کی حالت میں ہوتے ہیں، اسے کبھی کبھار نیوٹن کا اصول نسبیت بھی کہتے ہیں۔ کسی جسم کی کمیت، رفتار، اسراع اور اس پر لگنے والی قوتوں کی مقدار سمیت دیگر مادی مقداریں تمام انرشیل فریمز میں ایک جیسی رہتی ہیں۔ یعنی ایک انرشیل فریم سے دوسرے فریم میں جانے سے یہ مقداریں تبدیل نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی جسم ایک انرشیل فریم میں ساکن ہے تو تمام انرشیل فریمز میں ساکن ہو گا۔ یہ تبھی ممکن ہے جب تمام فریمز میں وقت مستقل رفتار سے بہتا ہو۔ گویا روزمرہ مشاہدات میں زمان و مکاں مطلق ہیں۔
نیوٹن کے تصور زمان و مکاں کا تعلق کس قدر اس کے جدید تصور حرکت یا میکانیات کے فلسفے سے جڑا ہوا ہے۔ اس لئے یہ فطری بات تھی کہ اہل فلاسفہ اس پر اپنی تنقید پیش کرتے۔ ان میں کانٹ سرفہرست تھا۔ کانٹ کے مطابق مکاں، انسانی ذہن کی ایک کیٹگری ہے جو ہمارا ذہن باہر کی دنیا کی وضاحت کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ اسے ماورائی مثالیت کے آئینے میں دیکھتا ہے۔ اس کے مطابق سپیس اشیاء کی ذاتی صفت نہیں ہے اور نہ ہی ذہن سے آزاد موجود ہے۔ کانٹ کی دلیل کے دو مقدمات ہیں۔ پہلا یہ کہ علم الہندسہ a priori synthetic علم ہے۔ اس کا ثبوت یوں ہے کہ اول، علم الہندسہ واجب اور کلی علم ہے اور دوم، ہیوم کے مطابق ہم واجب اور کلی علم کو محض حواس سے حاصل نہیں کر سکتے اس لئے یہ بدیہی ہوتا ہے۔ مگر علم الہندسہ صرف بدیہی نہیں ہے کیونکہ ہم اس میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے یہ synthetic یا اصطناعی بھی ہوتا ہے۔ ایک علم جو بدیہی بھی ہو اور اصطناعی بھی، تبھی ممکن ہے اگر وہ ہمارے وجدان کا حصہ ہو اور اشیاء کی ذاتی صفت نہ ہو۔ چونکہ سپیس کا علم بھی علم الہندسہ کا علم ہے اس لئے سپیس بھی اصطناعی بدیہی تصورہے۔ کانٹ کا یہ تصور تبھی قائم رہ سکتا ہے اگر اس کے مقدمات تسلیم کر لئے جائیں۔
برقی مقناطیسی میدان پر ہونے والے میکسول کے کام، برقی و مقناطیسی قوت اور روشنی کی رفتار ماپنے والے تجربات کے بعد یہ کہنا درست نہیں کہ جیومیٹری (تین جہتی اقلیدیسی جیومیٹری) کے مسلمات ہمیشہ سچ رہتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آئن سٹائن کے تصور نسبیت کی بنیاد پڑی۔ اس نے عمومی نظریہ نسبیت میں واضح کیا کہ علم الہندسہ بدیہی علم نہیں ہے۔ جیومیٹری، تجرید محض نہیں بلکہ فزکس کی ایک شاخ بھی ہے اور یوں بدیہی نہیں بلکہ تجربی علم ہے جس میں کمی یا اضافہ بھی ممکن ہے۔ آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت محض تجرید نہیں بلکہ ایک طبیعی تصور ہے اور روزمرہ کے حالات میں نیوٹن ہی کے قوانین میں ڈھل جاتا ہے۔ اس لئے کانٹ کی بات درست نہیں۔
آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت کائنات کے بارے میں انسانی علم پر ایک حد قائم کرتا ہے۔ انسانی دماغ سے باہر جو کچھ ہے اس کا علم، دماغ اور بیرونی مادے کے باہمی تعلق پر منحصر ہے۔ دماغ مالیکیولز کا مجموعہ ہے اور مالیکیولز میں برقناطیسی قوتیں دماغ میں ہونے والے عوامل کو متعین کرتی ہیں۔ روشنی ان تعاملات کا وسیلہ ہے۔ چونکہ روشنی ایک برقناطیسی مظہر ہے اور اس کی رفتار کی ایک خاص حد ہے جو دماغ میں ہونے والے تعاملات جیسے حواس سے ڈیٹا لینا اور اس کو پراسیس کر کے عقلی اصول بنانا وغیرہ پر بھی ایک حد لگاتی ہے۔ انسانی دماغ کے کام کرنے کی رفتار، روشنی کی رفتار سے محدود ہوجاتی ہے۔
آئن سٹائن نے یہ بھی ثابت کیا تھا کہ زمان و مکاں میں معلومات کے تبادلے پر بھی روشنی حد لگاتی ہے۔ اس کے لئے تین جہتی اقلیدیسی مکاں کے بجائے چار (تین مکانی، ایک زمانی) جہتوں پر مشتمل زمان و مکاں تصور کیا جاتا ہے۔ روشنی کی رفتار اس چار جہتی زمان و مکاں میں ایک خاص رقبہ بناتی ہے، جسے لائٹ کون کہتے ہیں، اور اس رقبہ کو علیت کی حدود کہتے ہیں۔ روشنی زمان و مکاں کو تین حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ایک حصہ ماضی کی لائٹ کون کہلاتا ہے۔ اس میں وہ تمام واقعات شامل ہیں جو ماضی میں ہوئے، جیسے بگ بینگ کے بعد پہلے ستاروں کا وجود میں آنا وغیرہ۔ دوسرا حصہ، مستقبل کی لائٹ کون کہلاتا ہے۔ اس میں وہ تمام واقعات شامل ہیں جو آگے پیش آنے والے ہیں۔ ماضی سے مستقبل کی لائٹ کون جس مقام پر ملتی ہے اسے حال کہتے ہیں۔
روشنی کی تمام شعاعیں جو ماضی کو مستقبل سے ملاتے ہوئے جن راستوں سے گزرتی ہیں ان میں حال کا مقام سب کا مشترکہ ہوتا ہے۔ یعنی کائنات کی تاریخ ایک تسلسل سے ماضی سے ہوتی حال میں آئی ہے اور مستقبل میں جائے گی۔ ماضی، حال اور مستقبل کے علاوہ جو کچھ بھی زمان و مکاں میں روشنی کی اس لائٹ کون سے باہر ہے، وہ ہمارے علم میں کبھی نہیں آ سکتا۔ اسے علیت کی حدود کہتے ہیں۔ یعنی اگر کائنات، علل و معلول کے قانون پر چلتی ہے تو پھر ہم اس کو اتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا کہ روشنی کی رفتار ہمیں اجازت دیتی ہے۔ اگرچہ یہ نتیجہ آئن سٹائن کی ریاضی کی بدولت نکالا جا رہا ہے، مگر یہ محض منطقی تجرید نہیں ہے۔ روشنی کی رفتار کے علاوہ کوئی اور رستہ نہیں جس سے کائنات کا علم حاصل کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر کائنات کو جو حصہ ہماری لائٹ کون سے باہر نکل چکا ہے (کیونکہ کائنات پھیل رہی ہے ) اس کا علم ہم تک کبھی نہیں پہنچے گا۔ نہ ہی ایسی مشین یا ایسا طریقہ بنایا جا سکا ہے جو روشنی کی حد کو عبور کرسکے۔ آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت ہے کیا اور یہ کیسے تشکیل پایا؟ اگلے مضمون میں اس پر مزید بات ہوگی۔


