بنکاک: فرشتوں کی بستی: (3)
آننتا شاہی ہال:
اس عمارت سے نکلے، جوتے، جرابیں، موبائل اور کیمرے واپس لئے اور اپنے میزبان کے احکامات کے تحت شولا لانک کارن کا تعمیر کردہ اطالوی طرزِ تعمیر کا شاہکار ہال دیکھنے پیدل ہی چل پڑے۔ اس ہال کا نام آننتا شاہی ہال Ananta Throne Hall تھا۔ پیدل چل کر جانے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ راہ میں پڑنے والی دیگر عمارتوں کا تعارف بھی ہوا، ان میں مراکشی طرزِ تعمیر کی ایک عمارت دیکھی۔ دل بہت للچایا کہ اُسے اندر سے دیکھیں مگر ہمارا میزبان پنوٹاٹ اپنے کسی محبوب بادشاہ کی طرز پر احکامات جاری کر رہا تھا۔ اس کا حکم تھا کہ یہ عمارت دیکھنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ یہ عمارت بھی ایک میوزیم ہی قرار دی گئی تھی۔ اندر جانے کا طریقہ اور پروٹوکول وہی تھا۔ ہم پیدل چل چل کر تھک چکے تھے تو ہماری فریاد سنی گئی اور ہم مراکشی طرزِ تعمیر والی عمارت کی بغل میں ایک کافی شاپ میں گھس گئے۔ وہاں کچھ دیر سستائے، کافی پی اور پھر آننتا شاہی ہال کی طرف چل پڑے۔ اس ہال میں داخلے کے تمام پروٹوکول مکمل کیے۔ اس میں داخل ہونے کے اہل قرار پائے تو شروع ہی میں ہمیں ایک ڈیوائس تھما دی گئی۔ اس ڈیوائس کا کمال یہ تھا کہ یہ شاہی ہال میں موجود اشیاء کی چھ زبانوں یعنی انگریزی، تھائی، ملایا، چینی، کمبوڈین اور فرانسیسی میں صوتی تفصیلات بتاتی تھی۔ ہال میں موجود تمام چیزوں کو نمبر لگائے گئے تھے۔ آپ اس نادر چیز کے سامنے کھڑے ہوں، اس کا نمبر اس ڈیوائس میں فیڈ کریں اور زبان کا انتخاب کریں تو اس چیز کے بارے میں منتخب شدہ زبان میں مکمل تفصیلات آپ کے کانوں کی نذر کر دی جاتیں۔ یہ کیا چیز ہے، کب بنی، کیسے بنی، سائز کیا ہے، کس موقع پر تیار کی گئی، کتنے لوگوں نے کتنی مدت میں مکمل کی، اس پر کتنی لاگت آئی؟ وغیرہ وغیرہ۔
شروع میں میں نے جن نوادرات کو تفصیل سے دیکھا اور سنا اُن میں سونے اور بیٹل (Beetle) کے پَر کا استعمال بہت زیادہ ہوا تھا۔ شاہی کرسیاں، ہاتھی پر رکھے جانے والے ہودج، لکڑی سے بنے ہوئے بڑے بڑے پینل جن پر جانور منقش تھے۔ مختلف مواقع پر بنائے گئے پورٹریٹ اور نہ جانے کیا کیا۔ بعض پینل گیارہ میٹر اونچے اور سات میٹر تک چوڑے تھے۔ کچھ پورٹریٹ میں تھائی لینڈ کے تاریخی ادوار کی عکاسی کی گئی تھی۔ خود ہال کی اطالوی طرزِ تعمیر بھی رعب و دبدبہ اور کشش کا امتزاج تھی۔ اونچے اونچے گنبدوں سے بنی اس عمارت کے اندرونی حصوں کو اطالوی نقاشی سے مزین کیا گیا تھا۔ ہال کے دوسرے کنارے پر پہنچے تو سیڑھیوں سے تہہ خانے جا اترے جہاں شاہی خاندان، بادشاہوں اور محلات میں زیرِ استعمال اشیاء کو رکھا گیا تھا۔ وہاں ڈیوائس کے ذریعے وضاحت میسر نہ تھی۔ شاید شاہان، شہزادگان اور شہزادیوں کا ادب و احترام ملحوظ خاطر تھا! صوتی وضاحت کی جگہ کتبوں کے ذریعے تفصیلات مہیا کی گئی تھیں۔ چل چل کر، سن سن کر، آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی اور دل میں رشک اور شاید حسد پیدا کر دینے والے نظارے دیکھ دیکھ کر ہم اتنا تھک چکے تھے کہ باقی اشیاء کو طائرانہ شرف ملاحظہ بخشا اور تیز قدموں سے باہر کی طرف لپکے۔
اس پر تو صرف حسد کرنا ہی بنتا ہے!
شاہ شولا لانک کارن، جس نے تقریباً 47 سال حکومت کی، کی پچاس بیویاں اور 150 اولادیں تھیں۔ یہ معلوم ہوا تو مجھے اپنے سوا اپنے تمام ساتھیوں کی رالیں ٹپکتی دکھائی دیں۔ میری رالیں شاید کسی اور نے دیکھی ہوں۔ شاہ شولا لانک اپنے بیٹوں کو اکثر یورپی ممالک میں تعلیم کے لئے بھیجتا تھا جس کے دو مقاصد ہوتے تھے، ایک تو ان کی تعلیم اور دوسرے (شاید یہ اولین مقصد ہو) با اثر لوگوں سے تعلقات جنہیں بعد میں ملکی مفاد کے لئے بروئے کار لایا جاتا تھا۔ شولا لانک کارن کی اسی تعلیمی اور تعلقاتی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ بادشاہ ایک سائنسدان ہے جس نے اپنے محل میں لیبارٹریاں قائم کر رکھی ہیں اور سائنس کی ترویج میں خاصی دلچسپی رکھتا ہے۔ بادشاہ شولا لانک کارن کو دیگر ممالک سے تعلقات قائم کرنے اور نبھانے میں مہارت حاصل تھی۔ تحائف کے تبادلے اور ثقافتی لچک اُس کی خارجی پالیسی کے اہم ستون تھے۔ اسی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھائی لینڈ کبھی بھی پورپین کالونی نہیں بنا جب کہ اس کے تمام ہمسایہ ممالک کسی نہ کسی یورپی ملک کی کالونی بنے۔
اچھی بیویاں تیار کرنے والی یونیورسٹی:
اننتا شاہی ہال دیکھنے کے بعد گاڑی پر سوار ہوئے تو پنو ٹاٹ نے حسب عادت کمنٹری شروع کر دی۔ ہم ہر پہلو سے تھکے ہارے تھے۔ خاص توجہ نہ کی۔ ایک عمارت کی طرف اشارہ کر کے بولا کہ یہ خواتین کی تربیت کا کالج ہے۔ یہ سوچ کر کہ اس میں کیا خاص بات ہے ہم نے سنی ان سنی کر دی۔ مگر جب اس نے گلا صاف کر کے یہ کہا کہ یہاں لڑکیوں کو ایسے تمام علوم و فنون کی تربیت دی جاتی ہے جن سے وہ اچھی بیویاں بن سکیں تو ہماری کئی رگیں پھڑک اٹھیں بلکہ ہم خود ہی پھڑک گئے اور زور سے آنکھیں کھول کر نام پڑھا۔ سوانداست یونیورسٹی لکھا پایا۔ نام کو بڑے پیار اور حسرت سے دیکھا۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ یہاں تعلیم کا دورانیہ چار سال ہے۔ گھر گرہستی کے تمام کام سکھائے جاتے ہیں۔ ڈگری عطا کی جاتی ہے اور لوگ ایسی لڑکیوں سے شادی کو ترجیح دیتے ہیں جن کے پاس یہ ڈگری ہے۔ اس طرح کے صرف بنکاک میں چار اور ادارے ہیں۔ ہم تصور میں ایسے اداروں کی ڈگری یافتہ بیویوں کے کمالات میں کھو سے گئے۔
تھائی لینڈ کا راجہ بازار اور بریانی کی بدنامی:
یہ تصور اس وقت ٹوٹا جب مختلف سڑکوں اور چوکوں سے گزرنے کے بعد ہم ”دے ویٹ“ نامی علاقے میں جا پہنچے۔ وہاں کی تنگ سڑکیں، لبِ سڑک دکانیں اور ارد گرد کا ماحول ایسا تھا کہ وہ علاقہ ہمیں تھائی لینڈ کا راجہ بازار لگا۔ سستی اشیاء کی خریداری کے لئے لوگ بکثرت یہاں آتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹ، شراب کی دکانیں اور نہ جانے کیا کیا۔ یہاں لبِ سڑک ایک چھوٹا سا قلعہ بھی دیکھا جس کے بارے میں ہمیں صرف یہ بتایا گیا کہ یہ مسلمانوں کے طرزِ تعمیر سے متاثر ہو کر بنایا گیا۔ اُسی قلعے کے ملحقہ ایک پارک بھی تھا۔ یہاں آنے کا مقصد ایک ہندوستانی ریسٹورنٹ جس کا نام ”روٹی متھابا“ تھا میں دوپہر کا کھانا بتایا گیا۔ اس چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں ہم نے چاول کھائے جنہیں بریانی کا نام دیا گیا تھا۔ میٹھے چاول اور کسی سالن کا آمیزہ لگتا تھا۔ ریسٹورنٹ ہندوستانی، بیٹھنے کی جگہ تنگ اور بریانی کے نام پر گول مول موٹے موٹے چاول نما دانے کھانے پڑے تو ہندوستان کی ایسی کی تیسی کرنے کو اچھا خاصا مواد ہاتھ آ گیا تھا مگر پھر اپنے میزبان کے محبت بھرے، پر خلوص جذبات اُس پر غالب آ گئے اور ہم نے الٹا گیئر لگا کر اس بریانی اور ریسٹورنٹ کی اس طرح مدح سرائی کی کہ جس میں ان دونوں خامیوں کا ذکر تک نہ تھا۔
بنکاک میں مسجد اور مدرسہ: دیکھنے ہم بھی گئے مگر۔
”پنوں“ کا ذہن بڑا منفرد تھا۔ الگ ہی طرح سے سوچتا تھا۔ راجہ بازار یعنی دے ویٹ میں دوپہر کا کھانا کھا کر اس نے نعرۂ مستانہ لگایا کہ اب ہم بنکاک میں آپ کو مسجد دکھائیں گے۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ ”فرشتوں کی اس بستی“ میں ہمارے اپنے مؤمن بھائی دیکھنے کا موقع ملے گا۔ گاڑی سے اتر کر مسجد کا راستہ پیدل جاتا تھا۔ ہمارا میزبان حسبِ (بُری ) عادت تیزی سے آگے آگے کمنٹری کرتے چلا جا رہا تھا اور ہم اس کے پیچھے اس کی آواز پر دوڑ لگا رہے تھے۔ اسی دوران بارش شروع ہو گئی۔ وہ روڈ سے گزرتے ہوئے اچانک ایک تنگ گلی میں گم ہو گیا۔ ہانپتے کانپتے ہم نے پیچھا کیا، اُس وقت ہمارے دوست منیر احمد کی حالت دیکھنے والی تھی۔ تیز تیز چلنے کی وجہ سے ذہن اور زبان میں بھی تیزی آ گئی تھی مگر ہم اس خوف سے کہ پنوٹاٹ ہماری آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے، اس کے ذہن اور زبان کی تیزی سے مستفید نہ ہو سکے۔ تنگ گلی نے ایک موڑ لیا تو ایک اور تنگ مگر بند گلی میں ایک عمارت کے سامنے خود کو پایا۔ ”پنوں“ نے اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا تو ہم سب نے بیک زبان اس کی توجہ اس کے جوتوں کی طرف دلائی کہ جوتے اُتارے بغیر آپ اور ہم اندر نہیں جا سکتے۔ ہم نے تاک جھانک کر کے اندر دیکھا مگر کوئی دکھائی نہ دیا۔ مسجد کے سامنے والی عمارت ایک دینی مدرسہ کی تھی۔ ہماری خواہش تھی کہ وہاں کسی مؤمن سے ملاقات ہو جائے مگر بارش اور ”پنوں“ کی تیزی آڑے آئی اور ہمیں چند ایک تصاویر لینے کے بعد وہاں سے ٹلنا پڑا۔
سڑکی سیاحت کا بھی کچھ فائدہ ہے :
دے ویٹ بازار کے ساتھ ساتھ بنکاک کا دریا چاؤ پرایا بہتا ہے۔ اس دریا کا درشن اور کشتی میں بیٹھ کر اس کی سیر ہمارے پروگرام میں شامل تھا۔ ویمرن میک مینشن اور اننتا شاہی ہال، تھکا دینے والی پیدل سیاحت، شولا لانک کارن کی 50 شادیوں کی طلسمِ ہوشربا داستان سے جنم لینے والی آہوں، اچھی بیویاں تیار کرنے والے اداروں کا تذکرہ، ”روٹی متھابا“ ریسٹورنٹ سے زہر مار کی ہوئی نام نہاد بریانی اور بنکاک میں مسجد اور مدرسہ نہ دیکھ پانے کی کسک نے مل کر ایسی کیفیت پیدا کر دی تھی کہ دریائی سفر اس کا مداوا معلوم ہونے لگا۔ مگر بُرا ہوا اس لمحے کا جب ہمارے ایک ساتھی نے جانے کیوں اور کیا سوچ کر کہہ دیا کہ مجھے کشی میں سیر نہیں کرنی! ہمارا یہ ساتھی بعد میں اپنے جملے کی وضاحتیں دیتا رہ گیا مگر ”پُنوں“ نے اس کی رائے کو ایسا اُچکا کہ اس کے چھوٹے قد کے باوجود ہم اس کے فیصلے کو پکڑ کر نیچے نہ لا سکے۔ دریا کے اردگرد کئی اور دلچسپیاں تھیں جن کو دیکھ کر اندر کا بچہ مچلنا شروع ہو گیا مگر باہر کے باشعور، پڑھے لکھے، ڈگریاں اور ملازمت یافتہ دانش ور نے اُس معصوم کا گلا دبا دیا۔ چاؤ پرایا کا مطلب بادشاہ کا دریا ہے۔ یہ دریا شہر کے بیچوں بیچ شمال سے جنوب کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ اسی دریا کی بدولت بنکاک کے قدرتی حسن میں ایک الگ سی رنگینی پائی جاتی ہے۔ دریا کے کناروں پر کھوپرے کے درخت ہیں اور بعض جگہ ان درختوں کے جُھنڈ جزیرے کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی دریا کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ کی سب سے پرانی سڑک واقع ہے جسے چرانگ گو کہتے ہیں۔ دریائی سفر کی محرومی کا ازالہ بنکاک کے مختلف علاقوں کا سڑکی دورہ قرار پایا۔ اس دوران ہم نے چائنہ ٹاؤن، سی لوم کا علاقہ، سونے کی مارکیٹ (جو اتوار کی وجہ سے بند تھی) کے علاوہ دیگر کئی مقامات دیکھے جن کے نام اب یاد نہیں۔ اس سڑکی سیاحت کے کئی نقصانات ذہن میں گونجتے رہے مگر پھر اس کا ایک فائدہ بھی محسوس ہوا کہ اس کی وجہ سے ہم میں اِن جگہوں کی مفصل سیاحت کا شوق بھڑک اٹھا۔
”پراتو نام“ ، ایک اور ناکام ایڈونچر:
اس سڑکی سیاحت کے بعد ہم شام سے پہلے ہی ہوٹل واپس آ گئے کہ آج کا پروگرام اختتام پذیر ہو گیا تھا۔ ہم تینوں یعنی میں، منیر احمد اور اظہر، نے اس شام خریداری کا پروگرام بنایا۔ تھوڑا تروتازہ ہو کر شام سوا چھ بجے ہوٹل سے بنکاک کے مشہور تجاری علاقے، جہاں ہول سیل کا کاروبار ہوتا ہے، کی طرف پیدل چل پڑے۔ علاقے کا نام ”پراتو نام“ ہے۔ ہوٹل کی حدود سے نکلے ہی تھے کہ بارش شروع ہو گئی مگر ہم چلتے رہے۔ تاہم ذرا آگے گئے تو بارش تیز ہو گئی اور ہم نے سڑک کے کنارے لگی بڑی سی چھتری کی پناہ لی۔ آدھا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد واپسی کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ بارش کم ہونا شروع ہو گئی۔ ہم نے دوبارہ ”پراتو نام“ کی طرف چلنا شروع کر دیا۔
”پراتو نام“ بہت بڑا تجارتی مرکز ہے۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ فٹ پاتھ پر زیادہ تر کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹالز ہیں۔ ریسٹورنٹ کے بیرونی حصے بھی فٹ پاتھ تک پھیلے ہوئے تھے یعنی اپنا ہی ماحول تھا۔ ہم ایک شاپنگ پلازے میں داخل ہوئے، زیادہ تر ملبوسات کی دکانیں تھیں، خریداری کا بگل بجایا ہی تھا کہ لگا کہ دکانیں بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ وقت دیکھا تو سات بج کر پندرہ منٹ تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ دکانیں صبح سات بجے سے شام سات بجے تک کھلی رہتی ہیں یعنی پندرہ منٹ اوپر ہو گئے تھے۔ اسی دوران دکانوں کے شٹر بند ہونے کی گڑگڑاہٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔ ہم نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا اور فٹافٹ دوسرے پلازے میں جا گھسے جو ہمارے جانے تک آدھا بند ہو چکا تھا مگر ہم نے بھی اس کی چوتھی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیا۔ ہمارے اس ایڈونچر نے بھی منہ کی کھائی کیونکہ تمام دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ خفت مٹانے کے لئے ہم نے ”پراتو نام“ کی حدود میں گھومنا شروع کر دیا۔ جب بزعم خود لگا کہ کافی گھوم لیا ہے تو واپس چل پڑے۔ پنوٹاٹ چونکہ ہم سے اگلے دن صبح نو بجے ملنے کا کہہ گیا تھا، اس لئے ہم تینوں نے رات کا کھانا اپنی قیام گاہ Centra Grando کے ایک ریسٹورنٹ میں کھایا۔ کھانے کے دوران دن بھر کے حالات، واقعات، محسوسات، مشاہدات اور تجربات پر ہلکی پھلکی نوک جھونک رہی جس کی وجہ سے تھکاوٹ، حیرت اور حسرت میں کمی آئی تاہم ہمارے پیارے ساتھی منیر احمد نے خود کو پرسکون کرنے اور دن بھر کی لگی ان آلائشوں سے نجات پانے کے لئے کچھ اور ہی بندوبست کر لیا تھا۔
(جاری ہے )

