یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے
”امّی آپ کے اسکول میں واش روم کیسے ہیں؟
پبلکن المنائی ایسوسی ایشن کی سالانہ ری یونین (جو اس بار میرے اسکول یعنی کہ ایف جی مینوالا پبلک گرلز ہائی اسکول میں منعقد ہونی تھی) میں تیار ہوتی میری 10 سالہ بیٹی ایلیا نے مجھ سے پوچھا:
”کیسے ہیں مطلب جیسے ہوتے ہیں ویسے ہی ہیں“ ۔ میں نے جواب دیا
”نہیں امّی میرا مطلب ہے کہ صاف ہیں کہ نہیں؟“
اب کی بار میں نے ذرا رک کے جواب دیا ”بیٹا جب ہم پڑھتے تھے تب تو صاف ہوتے تھے اب کا معلوم نہیں۔“
اور دماغ میں 2016 میں کیے گئے اسکول کے وزٹ کا منظر گھوم گیا جب اسکول کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ سوائے اسکول کے ایڈمن آفس اور بیج صحن کے کسی جگہ ہمیں صفائی نظر نہیں آئی تھی۔
میں نے دل میں دعا کی۔ ”اے اللّہ عزت رکھ لینا۔“
مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے میں اپنے اسکول پہنچ چکی تھی کیونکہ میرا ارادہ اسے اسکول گھمانے کا تھا۔
کراچی میں اس بار سردی دسمبر ہی میں زور پکڑ چکی تھی اور اسکول کافی بڑا اور کھلا ہونے کی وجہ سے مزید سردی محسوس ہو رہی تھی۔ جونہی اسکول کی بلڈنگ اور ہال پہ نظر گئی تازہ رنگ و روغن دیکھ کر خوشی ہوئی لیکن پکچر ابھی باقی تھی دوست۔
اسکول کی بلڈنگ کے اندر قدم رکھتے ہی مارے حیرت کے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ صرف تازہ رنگ و روغن نہیں بلکہ پوری بلڈنگ صاف ستھری چمک رہی تھی۔ میں سب سے پہلے میٹرک بلاک میں بیٹی کو لے گی جہاں 10 th C کی جگہ لیب بن چکی ہے اور کلاسز کے نمبر بھی بدل چکے ہیں لیکن سب سے اچھی بات یہ کہ ہر بلاک میں صاف ستھرے واش روم بن چکے ہیں۔ میں ہر بلاک میں اسے لے گئی۔ لائبریری کے سامنے سے گزرتے ہوئے مسز عفت یاد آ گئیں۔ پرنسپل آفس اسی جگہ ہے اور اس کے سامنے مسز شاہدہ جعفری کا آفس یاد آ گیا۔ اور ہاں لائبریری کو اب اسٹاف روم بنا دیا گیا ہے جبکہ اسٹاف روم وزیٹرز روم ہے۔ بیج صحن میں کھدائی بتا رہی تھی کہ مزید کام ابھی ہو رہا ہے۔
جس جگہ اسمبلی ہوتی تھی وہاں جا کہ ہماری پیاری پرنسپل مسز نور مظہر حسین مرحومہ میگا فون لئے آنکھوں کے سامنے آ گئیں جہاں وہ روز اسمبلی میں ہم سے مخاطب ہوتی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار یومِ حسین پہ اسی اسٹیج پہ نوحہ پڑھتے پڑھتے میں ایک دم نوحے کے اشعار بھول گئی۔ اس وقت میں نویں جماعت میں تھیں۔ اسمبلی میں بالکل سناٹا تھا اور میرے نوحہ بھول جانے پہ بھی مجال ہے کوئی ہنسا ہو۔ میری پشت سے میرے کندھے پہ آگے بڑھ کر مسز نور مظہر حسین نے شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر کہا
”بیٹا کوئی اور نوحہ یاد ہے؟“
میں نے اثبات میں گردن ہلائی تو کہا ”وہی پڑھ دو“
اور یوں میں نے دوسرا نوحہ پڑھا۔
یہ سطریں لکھتے ہوئے بھی آنکھیں بھر آئی ہیں۔ کتنی خوش نصیب ہوں میں کہ جس کو ایسے ہیرا اساتذہ ملے جنھوں نے ہمیں صرف علم کی روشنی ہی نہیں دی بلکہ ہماری شخصیت کو بھی نکھارا۔
اسٹیج کے دائیں جانب مسز کہکشاں اپنا پیانو بجاتی یاد آ گئیں ان کے چچا ک لکھا اور ان کے والد کا کمپوز کردہ اسکول کا ترانی
” تو ہے نور کا ہالا
ایف جی مینوالا۔ ”
آج بھی ہمیں نہ صرف یاد ہے بلکہ 2016 میں جب ہم اسکول وزٹ پہ گئے تھے تو مسز کہکشاں کے ساتھ مل کر گایا بھی تھا۔
وہ اس وقت ایف جی بوائز کی پرنسپل تھیں اور ہم سے ملنے بطورِ خاص مینوالا تشریف لائیں تھیں۔
اور وہیں اسٹیج کے دائیں جانب ہمارے اسکول کے بینڈ کی بھی جگہ تھی۔ جس کی دھن پہ ہم مارچ پاسٹ کرتے ہوئے اپنی کلاسوں میں واپس جاتے تھے۔
میں ایلیا کو سب جگہیں دکھا رہی تھی اور وہ حیران ہو کر بس یہی کہے جا رہی تھی ”امّی اتنا بڑا اور صاف ستھرا اسکول۔“
میں نے خوشی اور فخر کے ملے جلے جذبات سے کہا ”ابھی تو پورا گھما بھی نہیں سکی۔ چونکہ ری یونین کی میزبانی بھی مجھے ہی کرنی تھی اور وقت کی تنگی اور سردی بھی تھی لہذا سامنے ہال اور اس کے سامنے جہاں ہمارے ریجنل اسپورٹس ہوتے تھے، ہم نہیں جا سکے۔
البتہ میں نے بیٹی کو وہ جگہ دکھائی جہاں سب دوستیں بریک ٹائم اور چھٹی کے وقت بیٹھتی تھیں اور ہم اس کو ”اڈّہ“ کہتے تھے وہاں سے مین گیٹ نظروں میں رہتا تھا تاکہ سب کو اپنی اپنی گاڑی یا بس نظر آئے۔
اسکول میں گھومتے ہوئے اچانک محسوس ہوا کہ اسپورٹس ٹیچر مس مہر نے متوجہ کرنے کے لئے اپنی سیٹی بجائی، میں نے مڑ کر دیکھا تو سامنے صرف حسین یادوں کا ایک ہیولہ تھا۔ کاش زندگی میں ایک ریوائنڈ کا بٹن ہوتا اور میں واپس جا کر اپنے ہر استاد کو گلے لگا کر شکریہ کہہ سکتی۔
ری یونین میں امریکہ سے خاص کر ہم سب کی پیاری مسز تسنیم یونس شرکت کرنے تشریف لائیں تھیں۔ اس کے علاوہ میری آٹھویں جماعت کی کلاس ٹیچر مسز کوثر سے مل کر بھی دلی خوشی ہوئی۔ مسز نگہت، مسز نادرہ سے مل کر بس یوں لگا جیسے پھر سے اسّی اور نوّے کی دہائی میں واپس چلی گئی ہوں۔ اس کے علاوہ بھی جتنے اساتذہ نے شرکت کی ان کی دلی شکر گزار ہوں۔
لیکن یہ بات نہ لکھنا زیادتی ہو گی کہ اسکول کی حالت کو بہتر بنانے میں سب سے زیادہ ہاتھ ہمارے ریجنل ڈائریکٹر کرنل وسیم شکور کا ہے اور اس وقت جو ایف جی مینوالا کی پرنسپل ہیں مسز عظمٰی بتول ان کا۔ جنھوں نے ہمیں یقین دلایا کہ اسکول کی حالت مزید بہتر ہو گی اور تعلیمی اعتبار سے بھی اس کو اسی درجے پہ واپس لایا جایا گا جو مسز نور مظہر حسین کے زمانے میں تھا۔
ری یونین ڈنر کے بعد بہترین میوزیکل پروگرام تھا اور یوں ایک خوبصورت یادگار شام اختتام پذیر ہوئی۔ آخر میں َمیں تمام اساتذہ جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ان کے لئے دعائے مغفرت کرنا چاہوں گی۔ اللّہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ اور ہمارے معاشرے میں طالبات اور طالب علموں کو مزید اساتذہ کا احترام اور ان کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


