کیا وہ انسان واقعی پہاڑوں سے اونچا تھا


muhammad suban gul

مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے اپنے دادا کے قریبی دوست خان عبدالغفار خان کی سوانح عمری لکھی ہے۔ راج موہن اس مقصد کے حصول کی خاطر پاکستان بھی آئے۔ کئی ہفتے یہاں رہے۔ کتاب کا عنوان ہے ”خان عبدالغفار خان: نان وائلنٹ بادشاہ آف پختونز“

کتاب میں ایک کوشش بہرحال کی گئی ہے کہ باچا خان کا عدم تشدد ایک سیاسی حکمت عملی دکھائی جائے۔ جبکہ گاندھی جی کل عمری عدم تشدد کے استعارہ ہیں۔ راج موہن گاندھی ایک ”محقق“ ہے۔ لیکن یہاں ”بلڈ از تھکر دین واٹر“ یا اردو میں ”اپنا اپنا غیر غیر“ کی ضرب المثل نے ایک محقق کی جگہ ایک پوتے کو سامنے لا کھڑا کیا۔

ایک محقق نے گاندھی جی کو پڑھا ہو گا۔ سو جلدوں پر مشتمل گاندھی جی کی تمام تحاریر پر ایک نظر ڈالی ہوگی۔ انہی تحاریر میں جلد نمبر 72 کے صفحہ نمبر 277 پر گاندھی جی کا باچاخان کے متعلق لکھا ہوا پڑھا ہو گا۔ گاندھی جی لکھتے ہیں۔

”اس طوفان میں جس نے ورکنگ کمیٹی کے بیشتر ارکان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خان صاحب عبدالغفار خان چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ انہیں اپنے مقام کے بارے میں کبھی کوئی شک نہیں تھا۔“

آخری جملے کو دوبارہ پڑھیے کہ باچا خان کو اپنے مقام کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ وہ چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔

یاد رہے باچا خان نے دوسری جنگ عظیم میں کانگریس کی متذبذب پالیسی پر احتجاجاً مجلس عاملہ سے استعفیٰ دیا تھا۔ استعفیٰ میں لکھا تھا۔

”میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جس عدم تشدد پر میں نے یقین کیا ہے۔ جس کی تبلیغ میں نے اپنے خدائی خدمتگار بھائیوں کو کی ہے۔ وہ بہت وسیع ہے۔ یہ ہماری زندگی کو متاثر کرتا ہے اور صرف اس کی مستقل قدر ہوتی ہے۔ جب تک ہم عدم تشدد کے اس سبق کو پوری طرح سے نہیں سیکھیں گے۔ ہم ان مہلک جھگڑوں کو کبھی ختم نہیں کر پائیں گے۔ جو سرحد کے لوگوں پر ایک لعنت بن کر آئی ہے“

استعفیٰ میں باچا خان نے واضح کیا ہے۔ عدم تشدد کا وہ تصور جو انہوں نے اپنے پختون بھائیوں کو سمجھایا ہے۔ وہ بہت وسیع ہے۔ باچا خان کی جدوجہد فقط انگریزوں کو ملک سے نکالنے پر منتج نہ تھی۔ بلکہ باچا خان نے تو آزادی سے دہائیوں پہلے ترکِ نو آبادیات [ڈی کلونائزیشن] پر کام شروع کیا تھا۔ باچا خان نے قوم کو انگریزوں سے آزاد کرنے سے بہت پہلے اپنے خدائی خدمتگاروں کو فکری آزاد کیا تھا۔

یہ بات غور طلب ہے کہ پختونخوا ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سرحد نہ تھی۔ بلکہ یہ دو مختلف دنیاؤں کے درمیان وہ رہگزر تھی، جس پر انگریز آخر دم تک قابض رہنا چاہتے تھے۔

انگریز استعمار اپنے ساتھ ایک باقاعدہ طرز حیات لایا تھا۔ اس طرز حیات کو پورے ہندوستان میں بالعموم اور پختونخوا میں بالخصوص رائج کرنا تھا۔ باچا خان اس طرز حیات کا منکر تھا۔

جواہر لال نہرو کو خوابوں میں بھی جن لوگوں کی فکر ستاتی تھی۔ باچا خان ان کو بچانے کی خاطر اپنے وسیع عدم تشدد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔

باچا خان کے ایک اور سوانح نگار جے ایس برائٹ ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔

”ایک پختون کے لیے عدم تشدد آسان نہیں ہے۔ پختون تندخو اور جنگ جو ہے۔ ان کا مزاج اس پہلے حملہ آور کے آنے کے بعد سے ہی متشدد رہا۔ جس نے سرحد عبور کر کے اس کے گھر اور چولہے کا امن خراب کیا۔ اس لیے نوجوان عبدالغفار کے لیے عدم تشدد کے مسلک کو اپنانا خاصہ مشکل رہا ہو گا۔ اس کی کامیابی قوت ارادی کا اعلی ترین مظہر رہی ہوگی۔ تاریخ اس کا ثانی نہیں دکھاتی ہے۔“

واقعی، تاریخ باچا خان کا ثانی نہیں رکھتی۔ جو محققین باچا خان کا گاندھی جی سے موازنہ کرتے ہیں۔ ان کے لیے عرض ہے کہ فکری بے ایمانی کو ایک طرف کر کے باچا خان کو خود گاندھی جی کے عینک سے دیکھنے کی کوشش کریں گے تو بھی باچا خان اپنے پہاڑوں جتنا اونچا دکھے گا۔

جب ہم تاریخ کے اوراق سے دھول صاف کرتے ہیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ پختون وطن اسکندر اعظم سے ڈونلڈ رمز فیلڈ تک سینکڑوں استعماری قوتوں کی رزم گاہ بن چکا ہے۔

مگر انگریزوں سے پہلے جتنے حملہ آوروں نے پختون وطن کا رُخ کیا۔ ان میں اور انگریزوں کے درمیان ایک بنیادی فرق تھا۔ انگریز فقط تلوار سے ہی جنگ نہیں لڑ رہا تھا۔ انگریز سامراج کو مغلیہ سلطنت سے ہندوستان تو ملا ہی۔ ساتھ میں پختون دشمنی اس وراثت کا باقاعدہ حصہ رہی۔ مغل حکمران تلوار چلاتے مگر کسی حد تک انہوں نے پختونوں کے خلاف کئی اور محاذ بھی کھولے تھے۔ جیسے پختونوں کے درمیان رچے قبائلی تضادات سے فائدہ اٹھانا۔ انگریز نے اسی پالیسی کے تحت اگر ایک ہاتھ سے تلوار چلائی تو دوسرے ہاتھ میں لارڈ میکالے کے وہ مقالے تھے جن میں ایک ایسی نسل پروان چڑھانے کی بات ہوئی تھی۔ جن کے نین نقش تو ہندوستانی ہوں گے۔ مگر ذہنی طور پر انگریز ہی کہلائیں گے۔ ان لوگوں نے انگریز سامراج کو توانائی بخشنی تھی۔ اسی پس منظر میں رہتے ہوئے باچا خان کی تحریک کا مطالعہ کیا جائے۔ تو شاید ہی کوئی مشکل سامنے آئے۔

باچا خان میکالے کے نظام تعلیم کے متبادل اپنے آزاد سکولوں میں ایسے اذہان پروان چڑھا رہا تھا۔ جو انگریز کی اس اسکیم پر ہرگز پورا نہ اترتے تھے۔

اب ان لوگوں کو بتانا کہ آپ جائیں، انگریز کی خاطر ہٹلر سے جنگ لڑیں۔ انگریز آپ کو آزادی دلائے گا۔ یہ بات عقل تو کم از کم نہیں مانتی کہ باچا خان جیسا نابغہ آزادی کی اس اسکیم کو سبسکرائب کر لے۔

ہندوستان پر قبضہ کرنے والے اپنی مرضی سے ہندوستان چھوڑتے۔ اس بات پر باچاخان کے ساتھی جواہر لعل، مولانا آزاد، سردار پٹیل اور حتیٰ کہ گاندھی جی تک یقین رکھتے تو رکھتے مگر باچا خان اس فکر سے نابلد تھے۔

باچا خان نے دوسری جنگ عظیم میں ہندوستان کی شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنے والوں سے راستے جدا کر لیے۔ جب کانگریس کو پتہ چلا کہ انگریز ان کو صرف ورغلا رہا ہے۔ ہندوستان سے نکلنے کا کوئی پلان نہیں۔ تب انہوں نے آندھیوں میں چٹان کی مانند ڈٹے باچا خان سے دوبارہ ساتھ ملنے کی درخواست کی۔ جس کو باچا خان نے قبول کیا۔ اس واقعے سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ باچا خان عدم تشدد پر ایک سیاسی حکمت عملی سے زیادہ عقیدوی بنیادوں پر کھڑے تھے۔

بقول جے اس برائٹ

” باچا خان آسمان تک پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ گاندھی جی ابھی تک زمین پر ہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مہاتما ہواؤں میں مبارزہ کر رہے ہیں۔

غفار خان شیلے کی طرح آسمان سے زمین کی طرف آئے ہیں۔ جبکہ مہاتما گاندھی کیٹس کی طرح زمین سے آسمان کی طرف جا رہے ہیں۔

اس لیے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ غفار خان کو سرحدی گاندھی کیوں کہا جائے؟ اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں ہے کہ مہاتما ان سے پہلے میدان میں تھے۔ روحانی سے زیادہ جاہ طلب تھے اور کسی نہ کسی طریقے سے زیادہ تشہیر حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اگر ہم کسی شخص کو روحانی خوبیوں سے پرکھتے ہیں۔ تو غفار خان کو سرحدی گاندھی کے بجائے گاندھی کو ہندوستان کا باچاخان کہا جائے۔ یہی حقیقت ہے۔

اگرچہ حقیقت یہی ہے مگر ستم ظریفی بھی یہی ہے کہ جے ایس برائٹ نے اپنی کتاب کا نام ”فرنٹیئر اینڈ اٹس گاندھی“ رکھا ہے۔ اس کے علاوہ باچاخان کی سیاسی جدوجہد 1910 سے شروع ہوتی ہے۔ اس دوران گاندھی جی جنوبی افریقہ میں ستیا گرہ پر عمل پیرا تھے۔ گاندھی جی 1915 کے اوائل میں ہندوستان لوٹے۔ تب تک باچا خان گوری سرکار کی جانب سے پہلی ضرب بھی وصول کر چکے تھے۔

بات رہتی ہے تو صرف تشہیر کی۔ گاندھی جی کے حصے میں ایک ایسی ریاست آئی۔ جہاں گاندھی جی کو پوجا جاتا ہے۔

باچا خان کے حصے میں آنے والی ریاست نے بنتے ہی پہلا اہتمام باچا خان کو پس زندان رکھنے کا کیا۔ باچا خان کے حصے میں آنے والی ریاست میں دیے جلانا جرم تھا۔

باچا خان اپنے پہاڑوں جتنا اونچا تھا مگر باچا خان کے حصے میں آنے والی ریاست اتنی قد آور شخصیت کو تحفے میں محض طوق و زنجیر ہی دے پائی۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “کیا وہ انسان واقعی پہاڑوں سے اونچا تھا

  • 09/01/2025 at 10:19 صبح
    Permalink

    کسی بھی شخص کی زندگی چاہے وہ سماجی یا حقیقی ہو، یا سیاسی۔ اس میں کئی اتار چڑھاؤ اور مدو جزر آتے ہیں۔
    تاریخ کے عدسے سے انہیں ماضی میں جاکر دیکھیں تو ہر شخص اپنے اپنے مطابق اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ مذکورہ شخص کا رد عمل ان مواقع پر کیسا رہا۔
    یہاں بھی کسی دیکھنے والے کا گلاس آدھا خالی ہوتا ہے اور کسی کا آدھا بھرا ہوا۔

    میرا تعلق اردو بولنے والے ایک کراچی کے گھرانے سے رہا۔ ظاہر ہے مجھے باچا خان سے وہ عقیدت کبھی محسوس نہیں ہوگی جو ہجرت کرکے آنے والے سیاسی بزرگوں سے رہی۔

    لیکن سٹھیانے کی اس عمر میں آکر اب مجھے اگر باچا خان کے فلسفے یا معاملات پر بات کرنی پڑے تو میں بھی باچا خان کی سیاسی زندگی کودو حصوں میں تقسیم کروں گا۔
    ایک پاکستان بننے سے پہلے اور پھر پاکستان بننے کے بعد۔
    پاکستان بننے سے پہلے ان کا جو بھی سیاسی کردار تھا اصولاً وہ 15 اگست 1947 کو ختم ہوجانا چاہئے۔ اگر ان ہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی یا پختونستان کے لئے آواز اٹھائی تو یقیناً یہ کوئی غلط بات نہیں تھی۔ ان کا فلسفہ اور ان کا نقطہ نظر تھا جس کا سب کو احترام کرنا چاہئے۔

    متعدد علمائے اکرام ہوں یا سیاسی اکابرین جیسے باچا خان، مولانا آزاد، یونینسٹ یا خاکسار کے لیڈران ۔۔۔ اگر یہ جناح کی مسلم لیگ کے موقف سے متفق نہیں تھے تو اس میں کیا خرابی ہے ؟

    اصل بات یہ ہے کہ پاکستان بن جانے کے بعد ان کا رویہ یا سیاسی تبدیلی کیا کہتی ہے۔

    اگر جے یو آئی پاکستان بننے سے پہلے مخالف تھی تو کیا قباحت ہے۔ کیا ان ہوں نے پاکستان بننے کے بعد ملک سے غداری کی ہے تو اس پر بات ہوسکتی ہے۔

    جہاں تک یہ تصور کہ موہن داس کرم چند کو ہندوستان کا باچا خان قرار دیا جانا چاہئے تھا تو یہ لکھاری کی محض عقیدت ہی کہلاسکتی ہے معذرت کے ساتھ یہاں اقبال کا شعر جو شاید ناگوار گزرے: مگر لکھاری کے موقف پر فٹ بیٹھتا ہے۔

    معلوم نہيں ، ہے يہ خوشامد کہ حقيقت
    کہہ دے کوئي الو کو اگر ‘رات کا شہباز

    حقیقت یہ ہے کہ باچا خان کی پارٹی نے کانگریس سے اتحاد کیا تھا نہ کہ کانگریس نے خدائی خدمتگار سے.
    باچا خان کا سیاسی قد یقیناً گاندھی کے مقابلے میں کہیں کم تھا۔ جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی تو یہی کہ گاندھی عمر میں 21 سال بڑے تھے۔ اور اس زمانے میں بھی کسی عمر رسیدہ کو اس کے بچے کی عمر کے شخص سے تشبیہہ نہیں دی جاتی تھی۔ اور شاید اب بھی اسے معیوب ہی سمجھا جائے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ باچا خان اپنے وقت کے ولی خان تھے۔

    گاندھی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1893 میں جب جنوبی افریقہ میں "لوگوں کے حقوق کے لئے کیا” تو اس وقت باچا خان کی عمر محض 3 سال تھی۔

    گاندھی 1921 سے لگ بھگ مسلسل کانگریس کے سربراہ تھے جب کہ باچا خان نے اس وقت محض کانگریس میں بحیثیت سیاسی کارکن شمولیت اختیار کی تھی۔

    خدائی خدمت گار کے عقیدت مند شاید چند لاکھ سے ایک آدھ ملین ہوں گے۔ جب کہ گاندھی کے عقیدت مندوں کی تعداد اس وقت کروڑوں میں تھی۔ گاندھی نے خود کو کنگ میکر بنانا پسند کیا بہ نسبت کنگ بننے کے۔

    یہ گاندھی کا ظرف ہی تھا کہ جس طرح اس نے تقسیم کے وقت دونوں طرف ہونے والی قتل و غارت پر آواز اٹھائی اور پاکستان کو نہرو حکومت کی جانب سے اثاثے منتقل نہ کرنے پر نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ بھوک ہڑتال بھی کی جو اس کے قتل کا بھی ایک سبب بنی۔ یہ اور بات کہ ہم پاکستانی محض ہندو لیڈر ہونے کی وجہ سے گاندھی کی وہ عزت نہ کرسکے جس کے وہ حقدار تھے۔ شاید اسی طرح جیسے جناح کو جو احترام ہندوستان میں ملنا چاہئے تھا مگر نہ مل سکا۔

    بہرحال اسی لئے باچا خان کو سرحدی گاندھی کہنے کی بات سمجھ میں آتی ہے۔

    بحیثیت پاکستانی مجھے اس سے زیادہ غرض نہیں کہ قیام پاکستان سے پہلے باچا خان کا کیا کردار تھا۔ میرے لئے زیادہ اہم یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ان کا سیاسی کردار کیا رہا۔
    ان کی پختونستان کے لئے مسلسل جدو جہد، مختلف ادوار میں ریاستی مخالف کردار اور مرتے وقت پاکستان کو اس طرح تشبیہہ دینا جیسے مولانا جوہر نے ہندوستان کے لئے کیا تھا کہ "پاکستان میں دفن ہونے سے انکار”۔
    بادی النظر میں باچا خان ایک سچے پختون نیشلسٹ رہے ہوں گے مگر ایک اچھے اور سچے پاکستانی کبھی نہیں رہے۔
    جو مرتے وقت بھی پاکستان کو مطعون کرگئے اور یہاں دفن ہونا پسند نہ کیا۔
    دعا ہے اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور جلال آباد افغانستان میں مدفون ان کی قبر کو کشادہ کرے۔ آمین

    • 09/01/2025 at 3:39 شام
      Permalink

      آپ نے مزید لکھا کہ :
       گاندھی جی کے حصے میں ایک ایسی ریاست آئی۔ جہاں گاندھی جی کو پوجا جاتا ہے۔

      گاندھی کے حصے میں جو کچھ بھی آیا اس کی ازادی میں ان کا اہم کردار اور حصہ تھا۔ یہ اور بات کہ ان کو اسی آزادی کی قیمت اپنے قتل سے چکانی پڑی۔
      جب کہ باچا خان کے حصے میں وہ ریاست آئی جس کی آزادی میں ان کا کردار بمشکل کچھ تھا۔ تو ظاہر ہے ان کو یہاں کون پوجتا یہ اور بات کہ ان کے بھائی ریاست سے فائدہ اٹھاتے رہے۔

      باچا خان کو وسطی اور جنوبی و مشرقی و مغربی ہند کے لوگوں سے متعارف کرانے کے لئے کانگریس نے ان کا موازنہ صوبہ سرحد کے گاندھی کے طور پر کیا کیوں کہ کروڑوں لوگ گاندھی کو جانتے تھے۔
      یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے صوبہ سرحد کے لوگ اگر گاندھی کو نہیں جانتے تھے تو ان سے تعارف کرانے کے لئے مقامی لوگوں کو مثال دی جاتی ہوگی کہ یہ ہندوستان یا کانگریس کے باچا خان ہیں۔

Comments are closed.