اڑان پاکستان: ذہنوں سے مگر خوف کے سائے نہیں جاتے


معاشی بحالی کے کئی چیلنجز سے دوچار پاکستان کی وفاقی حکومت نے ’اُڑان پاکستان‘ کے نام سے ایک منصوبہ لانچ کیا ہے جس میں اقتصادی شرح نمو اور برآمدات کے ساتھ سماجی شعبوں کے لیے بلند اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 30 دسمبر 2024 کو اس کا افتتاح ایسے موقع پر کیا جب حکومت ملکی معیشت میں استحکام اور مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے اور آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے سلسلے میں ٹیکس، نجکاری اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات کے لیے کوشاں ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے مطابق یہ پروگرام ایک جامع قومی اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ ہے جو پاکستان کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچائے گا۔ اس پروگرام کا مقصد ملک کو مستحکم، پائیدار اور عالمی معیشت میں مسابقتی بنانا ہے۔ اس پروگرام کے اہداف میں برآمدات آئندہ 5 سال میں 60 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانا ہے جبکہ موجودہ حجم 30 ارب ڈالر ہے۔ جی ڈی پی کی شرح نمو آئندہ 5 برس میں 6 فیصد، ای پاکستان کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فری لانسنگ انڈسٹری پانچ ارب ڈالر تک لے جانا جس کے لیے سالانہ دو لاکھ آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنا۔ ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے میں آئندہ 5 برس میں گرین ہاؤس گیسز میں 50 فیصد تک کمی، قابل کاشت زمین میں 20 فیصد اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 10 ملین ایکٹر فٹ کا اضافہ شامل ہے۔ توانائی کے شعبے میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 10 فیصد تک بڑھانا اور مہنگائی کی شرح ”سنگل ڈیجٹ“ تک لانا۔

سولر انرجی سیکٹر میں حکومت سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گی جس میں قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے آسان قوانین اور مراعات شامل ہیں۔ عوامی شراکت داری بڑے پیمانے پر پبلک، پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبے اس پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ ”اڑان پاکستان“ ’گیم چینجر‘ ہے۔ ای پاکستان کے تحت جدید ٹیکنالوجی کا فروغ پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں نمایاں کرے گا۔ ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے قدرتی وسائل کا بہتر استعمال ہو گا جبکہ سماجی مساوات کے شعبے میں خواتین اور نوجوانوں کو معاشی ترقی میں شامل کیا جائے گا۔ ہر حکمران دعویٰ کرتا رہا کہ اس کی کارکردگی کی وجہ سے ملکی معیشت ٹیک آف کی پوزیشن پر آ گئی ہے۔ ایسے خوشنما منصوبے کئی بار لانچ ہوئے مگر ہر حکومت کی رخصتی کے بعد منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور پاکستان ”زیرو پوائنٹ“ پر ہی کھڑا نظر آتا ہے اسی لیے :

ذہنوں سے مگر خوف کے سائے نہیں جاتے

ہر آنے والا حکمران یہ واویلا کرتا ہے کہ گزشتہ حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ’خزانہ خالی ہے‘ معیشت چلانے کے لیے کڑی شرائط پر مبنی قرضوں کے حصول کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ قرض دہندگان کی شرائط، بے محابہ ٹیکسوں کی صورت میں عوام کے گلے میں ڈال دی جاتی ہیں اور عام آدمی ڈر جاتا ہے۔

اب باغ کی رونق کو بڑھائے گا بھلا کون
ہر پھول پہ ہر خار پہ بھی ٹیکس لگے گا

نیا حکمران اس کے بعد دعویٰ کرتا ہے کہ معیشت ٹیک آف کی پوزیشن پر آ گئی ہے حالانکہ گردن تک قرضوں میں ڈوبے ممالک کبھی ٹیک آف کی پوزیشن میں نہیں آسکتے۔ لیڈرشپ کی ان کج ادائیوں کے باوجود اللہ کرے اس بار معیشت ٹیک آف کا دعویٰ آخری ثابت ہو۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب حکمران اپنے مرتب کردہ منصوبوں پر عملدرآمد بھی سیکھ جائیں۔

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

اب بھی معیشت ٹھیک ہونے کے دعوے مزید ٹیکس اور یوٹیلٹیز میں بے تحاشا اضافہ کر کے ہی ممکن بنائے گئے۔ عوامی نمائندے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد سالانہ اضافہ کرنے پر 100 بار سوچتے ہیں ’لیکن اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافہ لمحوں میں کر دیتے ہیں۔ خدا کرے کہ اس بار ملکی معیشت حقیقتاً ٹیک آف کر جائے اور اُڑان پاکستان پروگرام کامیاب ہو جائے۔

موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے

بعض معاشی ماہرین کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ”اڑان پاکستان“ کے اہداف، زمینی حقائق، سیاسی عدم استحکام اور ناقص امن و امان کی صورتحال میں حاصل کرنا مشکل ہے۔ غربت میں 13 فیصد کمی لانا کیسے ممکن ہے جب ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے اور 2026 تک یہ شرح مزید بڑھے گی۔ ان اعداد و شمار کی موجودگی میں گھریلو زندگی میں یہ ہو رہا ہے۔

خالی بٹوا اس کے ہاتھوں میں تھما دیتا ہوں
یوں ہتھیلی پر کبھی سرسوں جما دیتا ہوں
بھوک و افلاس نے غریبوں کی یہ حالت کردی ہے۔
بیچ سڑک اک لاش پڑی تھی اور یہ لکھا تھا
بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

ان خوشنما منصوبوں کے باوجود غربت کے خاتمے کے دعوے محض دعوے ہی رہے اور اقبال ساجد کے بقول:

غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک
خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے شارٹ ٹرم اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے، جیسا کہ ٹیکس وصولی وغیرہ تو ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ ملک کسی بڑے ہدف کی طرف بڑھے۔ 6 فیصد گروتھ ریٹ اور جی ڈی پی کا سائز ایک کھرب ڈالر تک لے جانا بہت مشکل ہے کیونکہ معیشت اس سال مشکل سے ایک فیصد شرح نمو حاصل کر سکی ہے۔ 60 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف اس لیے مشکل ہو گا کہ یہ ہدف انڈسٹری سرمایہ کاری سے ہو گا جبکہ انڈسٹری اس وقت 25 سالوں کی کم ترین سطح پر ہے۔

بہرحال احسن اقبال کا دعویٰ ہے کہ معاشی بحالی کا یہ پروگرام ’زمینی حقائق اور عالمی تجربات کی روشنی میں‘ تیار ہوا ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ شفافیت، استقامت اور عوامی شمولیت کے ساتھ کام کرے تو یہ اہداف قابل حصول ہیں ملائشیا، ترکیہ اور جنوبی کوریا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بقول اس پروگرام کے دو، تین سال بعد آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارے حکمران کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یہ پروگرام آخری ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سب سے زیادہ 25 بار آئی ایم ایف پروگرام میں جانے والا ملک ہے۔ معیشت کی بس اتنی ترقی ہوئی ہے کہ یہ 22 سے 31 خاندانوں کی اجارہ داری تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے باوجود حکومت کو یہ کریڈٹ دینا ہو گا کہ دیوالیہ ہونے کی پشین گوئیوں کے باوجود معاملات سنبھالے اور افراطِ زر کنٹرول کیا گیا۔ مئی 2023 ء میں افراطِ زر کی شرح 38 فیصد تھی جو نومبر 2024 ء میں 4 فیصد پر آ گئی۔ ڈالر 280 سے 277 روپے کا ہوا۔ 2024 ء کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس 64 ہزار 661 پوائنٹس پر تھا جو دسمبر میں ایک لاکھ 18 ہزار پوائنٹس کی حد چھو گیا۔ اوورسیز پاکستانیوں کی نقد رقوم 34 فیصد اضافے سے 14 اعشاریہ 8 فیصد بلین ڈالر ہو گئیں۔ جولائی 2023 ء میں بنیادی شرح سود 21 اعشاریہ 5 فیصد سے دسمبر 2024 ء تک 13 فیصد ہو گئی۔ چین، ہانگ کانگ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ سعودیہ اور عرب امارات بڑی سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں۔ سعودیہ کو 540 ملین ڈالر (ایک کھرب 50 ارب 28 کروڑ روپے ) کے ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز کے فروخت کی منظوری دی گئی۔ سعودی کمپنی ’آرامکو‘ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا ہے۔ ریاست نے بلوچستان میں فوجی آپریشن اور کے پی کے، میں خوارج کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ان کوششوں کو دیکھتے ہوئے معیشت میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس بار خدا کرے ملکی معیشت حقیقتاً ٹیک آف کر جائے اور حکومت کا ”اُڑان پاکستان“ پروگرام کامیاب ہو اور عوام کو بھی ریلیف ملے۔

Facebook Comments HS