کچھ والٹیئر، ژولا اور جوائس کے بارے میں
کافکا کے ناول The Trial کو استعارہ بناتے ہوئے برادر بزرگ نے ایک خوبصورت کالم لکھا۔ برادر بزرگ کہتے ہیں کہ کافکا عجیب رنگ کا لکھنے والا ہے۔ اس رائے سے اختلاف ممکن نہیں۔ پھر کافکا کے رنگ تحریر کا ایک شاندار محاکمہ کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائوں کے ضمن میں طبلے پر آخری چوٹ لگاتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ ابھی ہمارے درمیان ادب اور سیاست کے دھاروں سے دریا نکالنے والا قلم موجود ہے۔ اس زاویے سے دیکھئے تو جنگ اخبار بذات خود ایک تمدنی ادارہ ہے۔ اکتوبر 1947 ء میں دہلی سے کراچی منتقل ہوا۔ نومبر 1959 ء میں دارالحکومت کراچی سے راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تو روزنامہ جنگ بھی راولپنڈی پہنچ گیا۔ ہمارے موجودہ گروپ چئیرمین تب کوئی دو یا تین برس کے رہے ہوں گے۔ ہم نے خود مشاہدہ تو نہیں کیا لیکن روایت ہے کہ جنگ راولپنڈی کے لیے کاتبوں اور دوسرے صحافی کارکنوں کی پنڈی ریلوے اسٹیشن پر آمد ایک باقاعدہ خبر کا درجہ رکھتی تھی۔ بہت سے اتار چڑھائو دیکھنے کے بعد اکتوبر 1981 ء میں روزنامہ جنگ پاکستانی سیاست کے مرکز لاہور آن پہنچا۔ یہ واقعہ ہم نے دیکھ رکھا ہے۔ پاکستان کا پہلا اخبار جس نے نوری نستعلیق کے عنوان سے پرنٹ میڈیا کو کمپیوٹر کی دنیا میں داخل کیا۔ اب اس واقعے پر چار عشرے گزر گئے۔ پاکستان میں کون ایسا لکھنے والا تھا جس کے رشحات قلم سے جنگ لاہور کے صفحات روشن نہیں ہوئے۔
ہماری صحافتی تاریخ نے بہت جوار بھاٹا دیکھ رکھا ہے۔ یہاں سول اینڈ ملٹری گزٹ پر پابندی لگی۔ ترقی پسند اخبارات ’امروز‘ پاکستان ٹائمز اور ہفت روزہ لیل و نہار‘ سرکاری تحویل میں لیے گئے۔ ہماری صحافت نے ایسے مدیر بھی دیکھ رکھے ہیں جنہوں نے اخبار کو خدا حافظ کہا تو ان کے عقب میں درجنوں صحافی بطخ کے بچوں کی طرح اخبار چھوڑ آئے۔ اس میں پہلا واقعہ تو روزنامہ امروز سے چراغ حسن حسرت کا استعفیٰ تھا۔ فیض صاحب پنڈی سازش کیس میں قید کاٹ رہے تھے۔ مشتاق گورمانی نے مجید سالک کو آلہ کار بنایا۔ بالآخر میاں افتخار الدین نے حسرت صاحب کو امروز کی ادارت سے الگ کر دیا۔
صحافت روزگار اور نظریے کے بیچ ایک نیم تاریک گلیارا ہے۔ صحافی یا تو رائے رکھ لے یا نوکری سے چمٹا رہے۔ بیچ کا راستہ نہیں ہوتا۔ بندہ ناچیز نے بھی ’ادارہ جنگ‘ کے انگریزی اخبار میں ملازمت اختیار کی تو حسین نقی کو رخصت ہوئے چند ماہ گزر چکے تھے۔ جنوری 1992ء میں میر خلیل الرحمن کا انتقال ہوا تو ہمارے جیو ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو چودہ یا پندرہ سن کے پیٹے میں تھے۔ جیوکی اسکرین روشن ہونے میں ابھی دس برس باقی تھے۔ یہ سب قصے برادر بزرگ کے کالم میں کافکا اور فوجی سزائوں کے اشارے سے حافظے پر ابھر آئے۔
ارے، ایک واقعہ تو بیان ہونے سے رہ گیا۔ میاں نواز شریف دوسری بار وزیراعظم بنے تو دو تہائی اکثریت کے خمار نے انہیں آلیا۔ ایک صاحب سیف الرحمن ان دنوں کچھ ایسے ہی مقام پر تھے جس پر آج کل لاہور کا ایک صحافی فائز ہے۔ روزنامہ جنگ کو چودہ صحافیوں کی ایک فہرست ارسال کی گئی کہ انہیں فارغ خطی دی جائے۔ اس فہرست میں ایک نام سہیل وڑائچ کا بھی تھا۔ میاں نواز شریف کی سیاست سلامت لیکن سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ میں آج مدیر کے منصب پر روشنی دے رہے ہیں اور ہمیں کافکا کے فکشن پر ایسا کالم عطا کرتے ہیں جس کے کسی حرف پر انگلی رکھنا مشکل ہے لیکن صحافت میں رائے کا اختلاف تو جائز ہے۔
والٹیئر اٹھارہویں صدی کے فرانس میں خرد پسندی کا نشان تھا۔ 1761 ء میں ایک نوجوان اپنی دکان میں مردہ پایا گیا۔ فرانس میں کیتھولک عقائد کے ماننے والے اکثریت میں تھے اور مرنے والے نوجوان کا بوڑھا باپ پروٹیسٹنٹ تھا۔ مشتعل ہجوم نے بیٹے کے قتل کا الزام باپ کے شانوں پر رکھ دیا اور والٹیئر نے بے گناہ باپ کے لیے قلم اٹھا لیا۔ نامعلوم کتنے ہزار خطوط والٹیئر نے گمنام بوڑھے کے حق میں لکھے ہوں گے۔ بالآخر یہ ثابت ہو گیا کہ مقتول نوجوان کا باپ مذہبی تعصب کا شکار ہوا تھا۔
ٹھیک ایک صدی بعد فرانس میں ایمل ژولا نام کا ایک ادیب موجود تھا۔ جاسوسی کے الزام میں ایک یہودی الفریڈ ڈرے فس کو فوجی عدالت نے 1896 ء میں سزا سنا دی۔ ایمل ژولا نے ڈرے فس کے غیر علانیہ وکیل کا منصب سنبھال لیا۔ اپنے اخبار کے صفحہ اول پر اس نے فرانس کے صدر کو ناانصافی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ بالآخر 1906 ء میں ڈریفس بے گناہ قرار پایا۔ فرانس اور برطانیہ میں تاریخی طور پر مخاصمت رہی ہے۔ برطانیہ کے شمال میں آئرلینڈ کیتھولک عقائد کے لیے جانا جاتا ہے۔ آئرلینڈ نے انگریزی زبان کو بہت سے ادیب دیے ہیں۔ آسکر وائلڈ، برنارڈ شا اور جیمز جوائس کو کون نہیں جانتا۔ جیمز جوائس کا ناول ’یولسسز‘ قسطوں میں شائع ہوا تو اس پر فحاشی اور قومی سلامتی کے منافی مواد کی بنا پر پابندی لگی تھی۔
خرد مند ذہن کافکا کا ہو یا والٹیئر کا ،آسکر وائلڈ کا قلم ہو یا جیمز جوائس کی لسانی تراکیب، فوجی سزائوں کو نہیں مانتے۔ انسانی ارتقا میں فوج جنگل اور شہر کے درمیان ایک پڑائو کا درجہ رکھتی ہے۔ جنگل طاقت کا قانون مانتا ہے او رشہر دلیل کی زبان سمجھتا ہے۔ لیکن یہ سوال ان اصحاب سے بھی کرنا چاہیے جنہوں نے 9 مئی 2023 ء کو سیاسی احتجاج کے لیے فوجی اہداف کا انتخاب کیا۔ کافکا فوجی سزائوں کو نہیں مانتا لیکن کافکا فوج کے ساتھ مل کر ایک صفحے کی حکومت بھی تسلیم نہیں کرتا۔


–
ہفتہ ہوچلا تھا ربع صدی کی رائیگانی اشاعت کو اور اس فقیر کو تشویش لاحق ہوچلی کے لکھاری کی طبیعت قابو میں ہو۔ مزاج کی خیر ہے !
–
اور آج کیا یادوں کا پٹارا کھلا۔
–
جنگ اخبار اور ہمدرد کے نونہال کی کئی نسلیں مقروض ہیں۔ فقیر بھی ان میں ایک رہا۔ حکیم صاحب اور برکاتی صاحب (اللہ تعالی غریق رحمت کرے) ایک طرف، تو دوسری طرف بڑے میر صاحب کے ایک آدھ درشن جنگ کے صدر دفتر میں ہوئے جب وہ ہمارے بچوں کے صفحے کے مربی مرزا سلیم بیگ کو ایک آدھ بارستو پلا رہے ہوتے تھے۔
–
"شام” صاحب بھی کبھی کبھار علم میں اضافہ کردیتے تھے۔ یہی بہت تھا کہ ان دنوں اس فقیر کے کاغذ پر کھینچے کیڑے مکوڑے بچوں کے صفحے پر ہرہفتے اور کبھو ساتھ اسلامی صفحے پر مولانا یوسف بنوری کے مسائل کے ساتھ نظر آجاتےتھے۔
–
کمپیوٹر ٹائپنگ کا دور جنگ کراچی میں شروع ہوا ساتھ شام کا اخبار "عوام” بھی چھپنا شروع ہوگیا۔ اور یوں ہم جیسوں کو چند گھنٹے کی بورڈ پر انگلیاں مارنے کے اچھے پیسے مل جایا کرتے تھے۔ وجہ "بیسک، فورٹران فور اور کوبول” میں کمپیوٹر پروگرامنگ ان دنوں کرتے تھے جب لوگوں کو کمپیوٹر کی اسپیلنگ بتانے پر جاب مل جایا کرتی تھی۔
–
مگر نظر آرہا تھا کہ اورنگ زیب مارکیٹ میں اور اردو اخبارات جرائد و رسائل میں کاتب حضرات کی روٹی روزی اور بدمعاشی ختم ہونے کو ہے۔
–
یہی بات ہے کہ ہم لوگ بالخصوص ہمارے سیاست داں دور رس نہیں ہوتے۔ اپنی فیکٹریاں اور ایئرلائن چلانی ہوں تو دنیا کے بہترین دماغ لے آئیں گے مگر ریاست کی بات ہو تو قابلیت "جی حضور” پر شروع ہوکر”رائٹ سر” پر ختم ہوجاتی ہے۔
–
کتنے ہی ماضی کے بزنس یعنی کاروبار آج ان کا کوئی نام بھی نہیں جانتا۔ کاتب بھی ان میں سے ایک ہے۔ آڈیو کیسٹ میں من پسند گانے بھرنے ہوں۔ ویڈیو کیسٹ اور وی سی آر کرائے پر چلانا ہوں۔ آج بھی کالی پیلی ٹیکسیوں کے ڈرائیور لگ بھگ ہر شہر میں سر پکڑے بیٹھے ہیں۔ جن لوگوں نے خود کو نئے نظام میں ڈھال لیا وہ بچ گئے۔ ورنہ اب ٹانگے کا کوچوان کتابوں میں ہی زندہ ہے اور یکہ (یکا) تاش کی گڈی میں۔
–
ہمارے ملک میں فوجی قوانین یا مقدمات پر بڑی لے دے ہوتی ہے۔
کیا قبائلی جرگوں، وڈیروں کی اوطاق اور بیٹھکوں میں جو فیصلے ہوتے ہیں وہ قابل قبول ہوتے ہیں؟
سوات میں پندرہ سولہ سال پہلے شدت پسند نیک و کار صوفیوں کو اہل علاقہ نے قبولیت اسی لئے بخشی تھی کہ ملکی عدالتیں بہت دور تھیں اور غریب کے لئے انصاف حاصل کرنا "چاند” کو چھونے کی مانند ہوتا تھا۔ تو اللہ دے اور بندہ لے۔
بلیوں نے بندر کو قاضی مانا اور سواتی فیصلے دھڑا دھڑ شروع ہوگئے۔ لوگ بھی خوش کہ اگر ہمارے خلاف ہی فیصلہ ہونا ہے تو لٹکانے کی کیا ضرورت۔ دس سال بعد کا ہوتا آج ہی ہوجائے۔
–
اگر ملکی عدالتیں صحیح بروقت اور سستا انصاف کررہی ہوں تو فوجیوں کو کون سی موت آرہی ہے کہ وہ ان کے گھر اور تنصیبات میں گھس کر یا ان پر حملہ کرنے والوں کو پہلے ڈھونڈیں پھر گرفتار کریں اور پھر مقدمہ بھی چلائیں ساتھ دنیا بھر سے بدنامی بھی سمیٹیں۔
–
یہاں مسئلہ ان کی اپنی اندرونی ساکھ کا بھی ہوتا ہے۔ ایک سپاہی اور ایئرمین سے لے کر کرنیل اور جرنیل کو کون جواب دے گا کہ ان پر حملہ کرنے والے کو انصاف کیسے ملے گا۔ اور شہیدوں کے اہل خانہ کو کون ٹھنڈا کرے گا کہ آپ کے بچے کی یادگاریا قبر کی بے حرمتی کرنے والا کیوں سزا نہ پاس سکا۔
–
میں ہمیشہ کہتا ہوں آج کے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہ فوج ہے نہ معاشی۔ یہ ہے سستا فوری اور صحیح انصاف۔
ہمارے قانون سازوں نے قوانین اور مختلف طریقہ کار ایسے بنادیئے ہیں کہ مانو مکڑی کے جالے ہیں۔ یعنی تار عنکبوت۔ جن میں چھوٹے موٹے غریب غربا کیڑے اور جاندار تو پھنس اور الجھ سکتے ہیں مگر بڑے جان دار جالے کو پھاڑ کر دندناتے پھرتے ہیں۔
–
میں لوگوں کو یہ بھی کہتا ہوں کہ شکر کریں وہ یعنی فوج مقدمات چلاکر معافیاں بھی دے رہی ہے اور لوگوں کو رہا بھی کررہے ہیں۔ اگر آُپ نے یہ راستہ بند کردیا تو وہ آج تو کچھ نہیں کہیں گے بس اگلی دفعہ سنتری کو حکم دیں گے کہ جو چہاردیواری میں نظر آئے پہلا ہالٹ کا کاشن دینا اور دوسرے پر گولی چلادینا وہ بھی پیر پر نہیں سر پر۔ کون بعد میں علاج کرائے گا یا مقدمات بھگتے گا۔
–
اگر فوج کا کام سویلین کا ٹرائل کرنا نہیں تو پہلے فوجی قوانین کی کتاب "آرمی اور ایئرفورس لاء” وغیرہ کو اسمبلی میں پیش کرکے اس میں موجود وہ شقیں ختم کروادیں جن کی رو سویلین پر ٹرائل چل سکتا ہے اور صاف لکھوادیں کہ سویلین پر ٹرائل نہیں چل سکتا۔
–
اس کے بعد جو فوجی حدود میں داخل ہوگا۔ چینی سسٹم کے تحت "گولی مارکر” اس کے لواحقین سے گولی کے پیسے بھی فوج لیا کرے گی۔ آزمائش شرط ہے۔
–
ویسے کیا خیال ہے کیا کسی شخص یا اشخاص کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سچی یا جھوٹی خبر سن کر آپ یعنی وجاہت مسعود کے گھر میں (چاہے وہ ذاتی ہو کرایہ کا یا سرکاری) گھس جائے آپ کے بیڈروم سے سامان اٹھا کر لے جائے۔ الماری سے کپڑے نکال کر لوگوں کو دکھائے اور ان کو پہنتا پھرے۔
–
اس طرح کی ٹریس پاسنگ کی سزا دو سال تو ملکی سویلین قوانین میں بھی موجود ہے۔ اور اگر گھس بیٹھیا متشدد ہو جیسا کہ کور کمانڈر وجاہت مسعود کے گھر ہوا تو دس سال سے لے کر عمرقید کی سزا ۔۔۔۔ سویلین قانون میں بھی لکھی ہوئی ہے۔
ایک بھانجے صاحب کو اس دن میں نے ٹی وی چینل پر دیکھا۔ فخر سے کور کمانڈر کے یونیفارم کی پتلون پہن کر ایسے اچھل رہے تھے جیسے سابق انڈین آرمی چیف آں جہانی بپن راوت کے یونیفارم کی پتلون ہو۔
–
ایک اور نمونہ کور کمانڈر کے یونیفارم کی میڈل رینک اور نیم پلیٹ سمیت شرٹ پہنے یوں گھوم رہا تھا جیسے بندر کا تماشہ دکھانے والا بندر سے کہتا ہے کہ کلفٹن پر بابو یا سسرال میں داماد کیسے گھومتا ہے۔
–
صاحب،۔۔۔۔۔۔ بھانجے اور یونیفارم پہننے والے لڑکے پر دس سال سے عمر قید کی سزا کہیں نہیں گئی ویڈیو اور اپنے بیانات ہی کافی ہیں۔ تو فرق کیا پڑتا ہے سزا کس سسٹم سے آرہی ہے۔
–
افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ یہی بھانجے صاحب پہلے بھی اسی طرح کی حرکتیں کرتے رہے تھے۔ لاہور کے ایک ہسپتال میں جب وکلا نے حملہ کیا تو کئی مریضوں سے آکسیجن ہٹائی گئی اور کہا جاتا پے متعدد کو خوف سے دل کا دورہ پڑا اور فوری مدد نہ ملنے پر کئی لوگ ناحق ہسپتال ہی میں مارے گئے۔
–
کیا کسی کو سزا ملی؟
–
اگر مل جاتی تو ان لوگوں کو 9 مئی نہ دیکھنا پڑتا۔
ان صاحب کے والد جو خود کو عقل کل ثانی سمجھتے ہیں۔ اپنے سالے کی برائی بھی کرتے ہیں اور بیٹے بیوی کی معرفت وکٹ کے دونوں جانب اسٹروک بھی لگاتے ہیں اگر انہوں نے بیٹے کو
ماضی میں غلط کام پر روک لیا ہوتا تو آج اپنے کالم اور بیانات میں ٹسوے نہ بہا رہے ہوتے۔
–
حقیقت تو یہ بھی ہے کہ۔۔۔
پاکستا ن میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں ہوں۔ ان کے گھر، مقامات تدفین، ان کے مال و اسباب، کاروبار ان سب پر اگر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرکے قانون اگر فوری سزا دے دے تو نہ فوجی عدالت کا کھگیڑ اٹھے اور نہ جرگوں کا۔
–
کرم اور بلوچستان کے پہاڑوں اور سنسان علاقوں میں دہائیوں سے ہونے والے خونی تماشوں کو ہی دیکھ لیں۔ وہاں موجود لوگ کیا سمجھ کر بے گناہ شہریوں کو جان سے مارتے ہیں۔ کہاں ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں جو بعد میں ان شرپسندوں پر مقدمات چلانے سے بھی خوف کھاتی ہیں اور پولیس اسٹیشن اور جیل ان کو قید کرنے سے کتراتے ہیں۔
–
کسی کو یاد نہ ہو تو میں یاد کروادوں۔
ایک تھے اکبر بگتی۔ آخر دنوں میں گیس پائپ لائن، بجلی کے کھمبے اور ریلوے ٹریک ان کے لوگ عام شام اڑادیا کرتے تھے۔ پولیس اور عدالتیں "جیسے تھے” پر چل رہی تھیں۔ اور گڑبڑ کرنے والے مزید شیر ہورہے تھے۔ لوگ بھول گئے مگر مجھے یاد ہے لوگ عام شام اخبار اور ٹی وی پر بولتے تھے کہ شرپسند ملکی املاک کو تباہ کررہی ہے ہم خوار ہورہے ہیں اور ریاست ستو پی کر سورہی ہے۔
جب تک پائپ لائن، بجلی کے کھمبے اور ٹرین ٹریک پر حملے ہورہے تھے ظاہر ہے فوج صرف تماشہ ہی دیکھ سکتی تھی کہ یہ اس کا کام نہیں تھا۔
–
ان ہی دنوں دو فوجی ہیلی کاپٹروں پرحملہ ہوا۔ ایک میں شاید آئی جی ایف سی تھا دوسرے میں صدر مشرف۔ پھر وہی ہونا تھا جو 9 مئی کو ہوا۔ بگتی صاحب پہاڑ اور غاروں میں تھے۔ اور فوجی کمانڈو ان کے پیچھے۔ وزیر داخلہ چوہدری شجاعت نے انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور یوں فوج نے انصاف کرتے ہوئے بغیر مقدمہ چلائے بگتی صاحب اور ان کے لوگوں کو ٹھنڈا کردیا۔ ساتھ غار میں فوجی کمانڈو بھی ریاستی مجرم کو گرفتار کرتے شہید ہوئے۔
یہ اور بات کہ وہ مجرم اب شہید کہلاتا ہے جیسے نو مئی کو سزا پانے والے انقلابی کہلارہے ہیں۔
–
یہی تماشہ 2007 میں لال مسجد میں ہوا۔ مدرسے کے طالب علم اپنے مولوی حضرات کے جھانسے میں اسلام آباد میں نفاذ شریعت کرنے لگے۔ آب پارہ دوسرا صوفی نیک محمد کا سوات بن گیا۔ چینی مساج سینٹر کے غیرملکی اغوا ہونے لگے۔ ساتھ ازبک اور تاجک پریاں بھی مال غنیمت کے طور پر اٹھالی گئیں۔ پھر وہی کہانی کہ لوگوں نے شور مچایا کہ ریاست سو رہی ہے۔
وزیر داخلہ چوہدری شجاعت نے بڑی کوشش کی کہ روٹی ٹکر کھلا کر مٹی پائیں مگر یہ ہو نہ سکا۔ ہفتہ دس دن گزرگئے اور سول ادارے معاملے کو قابو میں نہ لا سکے تو ظاہر ہے فوج کو طلب کرلیا گیا۔ اور پھر مولانا برقع عبدالعزیز اور اس وقت کے چیف جسٹس نے مل کر جو خرابیاں پیدا کیں۔ ایک خونی تماشہ آنکھوں نے دیکھا۔
مگر افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ پہلے تو فوج کو بلایا گیا اور آج برا بھی مشرف اور فوج کو ہی کہا جاتا ہے۔
–
کرم کو ہی لے لیں۔
ایک طرف ترکمانستان اپنے خرچے پر افغانستان میں کارگو ٹرین کے لئے پٹڑی بچھارہا ہے جو اسی کرم ٹل کوہاٹ سے پاکستان میں آئے گی جو اس علاقے کے لوگوں کے لئے گیم چینجر ہوگی اور یہ احمق دنیا کو یہ بتانے کی بجائے کے ویلکم ویلکم۔۔۔۔۔۔ ٹوپک زماں قانون کی عملی تفسیر بنے بیٹھے ہیں۔
مجھے نہیں لگتا اگر یہی حال رہا تو ترکمانستان ۔۔۔۔۔افغانستان کی بجائے سیدھا براستہ ایران اپنا تجارتی سامان بحیرہ فارس کے حوالے کردے گا۔ پھر بیٹھ کر کھیلیں "یا حسین ہم نہ تھے” اور "لبیک لبیک”۔
–
ویسے ان آنکھوں نے وہ منظر بھی دیکھا ہے جب مٹہ اور کبل کے علاقوں میں ردالفساد کے بعد فوجیوں نے جان دے کر اور جان پر کھیل کر سوات میں دہشت گردوں کا صفایا کیا اور سینکڑوں کو ہرفتار کیا۔ المیہ اس وقت سامنے آیا جب ان محاذ آرائیوں میں دوبدو گرفتار ہونے والے حضرات کو مقامی تھانے اور جیل حکام دونوں نے رکھنے سے انکار کردیا۔ اب ان سینکڑوں دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے کی ذمہ داری کس کی تھی۔ تمام مقامی عدالت اور جج حضرات نے ان پر مقدمات چلانے سے انکار کردیا تھا۔ پھر کیا ہوا تھا کیا فرق پڑتا ہے۔
–
یہ سیاست دانوں کو بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ ببانگ دہل فوج کی ترقی اور پوسٹنگز پر بات کریں۔ یہ ان کا درد سر نہیں ہونا چاہئے کہ آئی ایس آئی کا سربراہ کس کا سمدھی لگے گا اور کون یہاں سے نہیں جائے گا۔ یہ بھی ایک مذاق تھا کہ خان صاحب نعرے لگارہے تھے کہ ساری دنیا میں اسرائیل سے لے کر بپن راوت یا اجیت دوول کو پاکستان آرمی کا چیگ لگادو مگر عاصم منیر نہ لگے۔ پھر کہنے لگے یہ بھی نہیں ہوتا تو اسی باجوہ کو ساری زندگی یا الیکشن تک آرمی چیف رکھا جائے اور آج ان کے معتقدین کہتے نہیں تھکتے کہ باجوہ نے توسیع کے لئے ان کی حکومت گرادی تھی اور یہ پھر بھی اسے مزید توسیع دینے کو تلے تھے۔ شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔
–
بھائیوں فوج کو سر پر بٹھاؤ مگر اپنے پاس شراکت میں کیوں بٹھاتے ہو۔ کس حکیم نے کہا ہے کہ الیکشن کے وقت ان کا ایک بھی سپاہی پولنگ اسٹیشن کے اندر یا باہر ہو یا الیکشن کمیشن میں موجود ہو۔ پہلے خود یہ کام کرتے ہیں پھر ہارنے پر کبھی آرٹی ایس اور کبھی فارم 45 سے 47 کے پیچھے چھپتے ہیں۔ بنائیں ایک بار فول پروف نظام اور کریں مضبوط ادارے جو آپ کا کام ہے ورنہ روتے رہیں کہ ایک گروہ کہہ رہا ہوگا۔۔۔لبیک لبیک اور دوسرا۔۔۔یا حسین ہم نہ تھے۔