طالبان کے قدموں تلے کچلا افغانستان

پاکستان کی مقتدرہ نے ہمیشہ افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست ماننے کے بجائے اسے اپنا پانچواں صوبہ سمجھا ہے۔ موجودہ سیاسی لیڈرشپ میں آدھے تو ضیاء الحق کو اپنا پدر تسلیم کرتے ہی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے پدر خانوں میں بھی ضیاء کا نام دیکھا ہے۔ جو اپنا امام ذوالفقار علی بھٹو کو مانتے ہیں۔ خیر یہ بات کسی سے ڈکی چھپی تھوڑی ہے۔ کہ حکمت یار، ربانی اور مسعود کن کی حکومت کے دوران مملکت

Read more

فیمنزم اور باچا خان

فیمینزم یا نسائیت کی تعریف کچھ یوں ہے ”نسائیت، نسوانیت، تانیثیت یا تحریک آزادیٔ نسواں ان معاشرتی تحریکوں، سیاسی تحریکوں اور تانیثی نظریات کا ایک سلسلہ ہے جس کا مقصد جنس کی سیاسی، معاشی، ذاتی اور معاشرتی مساوات کو متعین اور قائم کرنا ہے“ جنس کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم سے جو طبقات وجود میں آتے ہیں۔ ان کا رشتہ آقا اور غلام کا ہوتا ہے۔ آقا اور غلام کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ صنفی بنیادوں پر آقا اور

Read more

کیا وہ انسان واقعی پہاڑوں سے اونچا تھا

مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے اپنے دادا کے قریبی دوست خان عبدالغفار خان کی سوانح عمری لکھی ہے۔ راج موہن اس مقصد کے حصول کی خاطر پاکستان بھی آئے۔ کئی ہفتے یہاں رہے۔ کتاب کا عنوان ہے ”خان عبدالغفار خان: نان وائلنٹ بادشاہ آف پختونز“ کتاب میں ایک کوشش بہرحال کی گئی ہے کہ باچا خان کا عدم تشدد ایک سیاسی حکمت عملی دکھائی جائے۔ جبکہ گاندھی جی کل عمری عدم تشدد کے استعارہ ہیں۔ راج موہن

Read more

باچا خان: سیکولرازم کا داعی

ایک ہندوستانی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے باچا خان کہتے ہیں ” جواہر لال جی فرنٹیئر آئے تھے۔ ہمارے رضاکار اسلام زندہ باد اور نعرہ تکبیر کا نعرہ لگا رہے تھے۔ ہندوستان میں تو اس پر بہت جھگڑے ہوتے تھے۔ کہ یہ مسلمان کا نعرہ ہے۔ یہ سکھ نعرہ ہے۔ میں نے جواہر لال سے پوچھا۔ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا میں کیا جانوں؟ میں نے کہا یہ سکھ ہے ” یہ تربیت خدائی خدمت گاروں کی تھی۔ باچا

Read more

سولہ دسمبر: ریاست کہاں کھڑی ہے

”اگر میری مادری زبان تمہاری ریاست کی بنیادوں کو ہلا گئی ہے تو اس سے مراد ہے کہ تم نے اپنی ریاست میری زمین پر تشکیل دی ہے“ موسی اینتر جب یہ بات کر رہا تھا۔ تو یقیناً اسے معلوم ہو چکا ہو گا۔ کہ موسی نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے۔ جو سیاق و سباق میں رکھی جائے یا مضمون کے بغیر پڑھی جائے مطلب ہر طرح سے واضح ہے۔ موسی کو سمجھ تھی کہ اس کی یہ

Read more