فوج کے ترجمان کی چارج شیٹ


فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کم کم میڈیا کے سامنے آتے ہیں جب کبھی وہ میڈیا کے سامنے آتے ہیں تو یہ محض پریس کانفرنس نہیں ہوتی بلکہ یہ فوج کے فیصلوں اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ہوتا ہے 27 دسمبر 2024 ء ان کی پانچویں پریس کانفرنس تھی جس میں انہوں نے جہاں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے افغان حکومت کو باور کرایا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج اور سہولت کاری کو روکے بصورت دیگر ہماری پالیسی واضح ہے ہم ڈیجیٹل سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے لیگل اور ٹیکنیکل ایکشن لے رہے ہیں وہاں انہوں نے 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 ء کے واقعات کے حوالے سے ”انتشاری سیاست“ کرنے والوں کو بھی چارج شیٹ کیا ہے۔

فوج کے ترجمان کو اس وقت میڈیا کے سامنے آنا پڑتا ہے جب مختلف حلقوں میں فوج کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے جا رہے ہوں گو کہ احمد شریف فوج کے جرنیل ہیں لیکن ان کی گفتگو میں فوجی جرنیل کی سی تمکنت و دبدبہ نہیں ہوتا بلکہ انتہائی جامع الفاظ میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں اس میں کوئی جھول نہیں ہوتی پریس کانفرنس میں پوچھے گئے بعض سوالات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے جنرل صاحب شاید ان ہی سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف پریس کانفرنس میں جچے تلے الفاظ میں اپنی بات کرتے ہیں اور سوالات کا جواب بھی اسی انداز میں دے کر سوال کنندہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس لب و لہجہ میں اس نے سوال کیا ہے۔ آئی ایس پی آر سے بلاوا آئے تو صحافتی برادری بھی جی ایچ کیو سے ملحق آئی ایس پی آر کی طرف دوڑ لگا دیتی ہے دہشت گردی کے واقعات کے باعث صحافیوں کی آئی ایس پی آر تک رسائی محدود کر دی گئی ہے اب صرف ان ہی صحافیوں کو پریس کانفرنسوں میں مدعو کیا جاتا ہے جو ”وزارت دفاع“ کور کرتے ہیں۔

ایک دور میں بریگیڈیئر کی سطح پر آئی ایس پی آر کے سربراہ ہوتے تھے پھر میجر جنرل اور اب لیفٹیننٹ جنرل کو آئی ایس پی آر کا ڈائریکٹر جنرل بنایا جاتا ہے بریگیڈئیر صولت رضا کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئی ایس پی آر جانا نہیں ہوا وہ اس لحاظ سے ہم عصر ہیں کہ میرے ساتھ ہی صحافت کی وادی میں قدم رکھا تھا البتہ آئی ایس پی آر کے کار پردازوں سے رابطہ رہتا ہے بریگیڈیئر تفضل صدیقی، بریگیڈیئر صدیق سالک اور بریگیڈیئر صولت رضا سے یاد اللہ رہی بریگیڈیئر صدیق سالک غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کے بعد آنے والے لیفٹیننٹ جنرل راشد قریشی اور لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کے ادوار بھی آئے لیکن جب سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل بنے میں ان کی پریس ٹاک کو بڑی توجہ سے سنتا ہوں خبریت تلاش کرتا ہوں ان کی گفتگو خاصی متاثر کن ہوتی ہے ان کے انداز بیان میں گھن گرج تو نہیں ہوتی لیکن وہ انتہائی سلیقے سے دل میں اتر جانے والی گفتگو کرتے ہیں ان کے انتخاب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسی شخصیت کو اس منصب پر فائز کیا گیا ہے جو اس کا اہل ہے۔

رجیم چینج ہونے کے بعد اینکر پرسنز کی آرمی چیف تک رسائی ختم کر دی گئی ہے اسی طرح اس مخلوق کا فوجی قیادت کے پاس آنا جانا بھی کم ہو گیا ہے۔ اس صورت حال میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس کا انعقاد غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے پچھلے دنوں سے ایک سیاسی جماعت کے آلہ کار سوشل میڈیا کی طرف سے 9 مئی 2023 ء اور 26 نومبر 2024 ء کے واقعات کے حوالے سے فوج پر دھول اڑائی جا رہی تھی فوج کی جانب سے ان سب کا جواب دینا ضروری تھا سو ”ڈیل یا ڈھیل“ کے بارے میں پائے جانے والے کنفیوژن کو دور کرنے کے لئے فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس ضروری تھی کچھ معاملات پر انہوں خود گفتگو کی جب کہ کچھ سوال کنندگان نے ان سے سوالات کر کے انہیں فوج کی پالیسی بیان کرنے کا موقع فراہم کر دیا فوج کے ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ”9 مئی 2023 ء فوج نہیں عوام کا مقدمہ ہے، ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا کچھ لوگ اپنی سیاست کے لئے نوجوانوں میں زہر بھرتے ہیں ’اس بیانیے اور زہریلے پروپیگنڈے کی بنیاد رکھنے والے ہی اصل ماسٹر مائنڈ ہیں“ اگرچہ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ ان لوگوں کی طرف تھا جنہوں نے 9 مئی 2023 ء کے واقعات کا منصوبہ بنایا انہوں نے سوال کیا کہ ”2021 ء میں کس کی ضد تھی کہ فتنہ الخوارج سے بات چیت کر کے انہیں دوبارہ آباد کیا جائے‘ ایک شخص کی غلطی کی قیمت قوم نے اپنے خون سے ادا کی، فورسز غلط فیصلوں کے دھبے اپنے خون سے دھو رہی ہیں“ انہوں نے فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کو بھی مخاطب کیا کہ ”ملٹری کورٹس کو عالمی عدالت کی تائید حاصل ہے ’جو لوگ فوجی عدالتوں کے مخالف ہیں کچھ عرصہ پہلے تک ان عدالتوں کے سب سے بڑے داعی تھے‘ کچھ عرصہ پہلے بیانیہ بنایا گیا کہ نو مئی کے حملے ایجنسیوں نے کرائے ’اب انتشاریوں کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ایجنسیوں کے بندوں کو بھی سزائیں دی گئیں نئے سال کے آغاز پر آرمی چیف نے جن 19 افراد کی سزائیں معاف کی ہیں وہ عمران خان کے نعرے ہی لگا رہے تھے پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے مستقبل کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے لیکن وہ طرح دے گئے اور کہا کہ اس معاملے پر تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ“ سیاست‘ کنفیوژن اور بیانیہ سازی کے بجائے خیبرپختونخوا حکومت کو گڈ گورننس پر توجہ دینی چاہیے ’26 نومبر کو سیاسی قیادت کے بھاگنے کی جگ ہنسائی سے بچنے کے لیے کارکنوں کی ہلاکت کا بیانیہ بنایا گیا‘ انتشاری سیاست کا کنٹرول ملک سے باہر سوشل میڈیا کے پاس ہے ”۔

2024 ء کو دہشت گردی کا سال قرار دیا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی انہوں نے کہا کہ ”سال 2024 ء میں دہشت گردوں کے کئی بڑے ناموں سمیت 925 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا اور آپریشنز میں 73 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو مارا گیا ’383 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان تک جاتے ہیں، دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ 8 لاکھ سے زائد غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کو واپس بھجوایا جا چکا ہے‘ جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعے 26 نومبر کو بیانیہ بنایا گیا کہ ہزاروں افراد مارے گئے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ انتشاری سیاست کا کنٹرول اندرون ملک سیاسی لیڈرز کے پاس نہیں، ملک سے باہر افراد کے پاس ہے انہوں نے سوال کیا کہ“ فتنہ خوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی تو کس کے فیصلے پر بات چیت کر کے انہیں سیٹل کیا گیا 2021 ء میں کس کی ضد تھی کہ بات چیت کر کے ان کو سیٹل کیا جائے، بات چیت کی اس ضد کی قیمت خیبرپختونخوا ادا کر رہا ہے۔

فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس کا ایک ایک لفظ اس کے مستقبل کے لائحہ عمل کا اظہار ہے یہ پریس کانفرنس ایسے وقت کی گئی ہے جب واشنگٹن سے ایک کال آنے پر کپتان کی رہائی کا چرچا ہے اس پریس کانفرنس میں خوش فہمی میں مبتلا سیاسی جماعت کے کارپردازوں کو باور کرا دیا گیا راولپنڈی، اسلام آباد کے معاملات میں کوئی دخل نہیں دے رہا لہذا مذاکرات کی میز اسلام آباد میں سجائی جائے تو بہتر ہے۔

Facebook Comments HS