ڈار صاحب جب آپ ڈھاکہ جائیں تو
بنگلہ دیش ہمارا کھویا ہوا بھائی ہے، ہم ان کی ہر ممکن حمایت اور مدد کریں گے۔ اسحاق ڈار
یہ خبر میں نے وی پی این کی بدولت سنگاپور سے لاگ ان ہو کر ایکس پر ”Bangla Urdu | بنگلہ اردو“ نامی اکاؤنٹ پر پڑھی۔ دل چاہا کہ اس نام پر ہی کچھ دل ہلکا کروں پھر سوچا کہ جب عاطف اسلم اور راحت علی کے ڈھاکہ میں کامیاب کنسرٹس پر الیٹ اور مڈل کلاس بنگالی نوجوان جھوم رہے ہیں اور بنگلہ دیش سے اردو پڑھنے طالب علم پاکستان آرہے ہیں تو کیوں ”نا خوشگوار“ تاریخ کو یاد کیا جایے؟ وہ تاریخ جو ہمارے بقیہ ماندہ پاکستان میں تو چھپائی جاتی ہے اور بنگلہ دیش میں شدو مد سے پڑھائی جاتی ہے۔ جس میں قائداعظم محمد علی جناح پر اور مغربی پاکستان کی ظالم اور بے حس اشرافیہ پر بنگالیوں پر اردو نازل اور نافذ کرنے کا الزام بھی ہے، اس قدم کا ماتم بھی ہے، ناراضگی بھی ہے، غصّہ بھی ہے اور بنگالیوں کی مزاحمت کا پر جوش تذکرہ بھی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد ، 1948 سے لے کر 21 فروری 1952 تک، مشرقی پاکستان میں بنگالی کو پاکستان کی سرکاری زبانوں میں شامل کرنے کی تحریک کو زبان کی تحریک کہا جاتا ہے۔ زبان کی تحریک بنگلہ دیشی ثقافت کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ بنگلہ دیشی قوم پرستی کے فروغ اور ایک منفرد اور علیحدہ بنگلہ دیشی شناخت کے حصول کی جانب پہلا قدم تھا۔
بنگالی اب تک تو بنگالی قومیت پرستی کا معمار شیخ مجیب کو مانتے تھے۔ شیخ حسینہ کے بعد کے بنگلہ دیش میں اس زبان سے محبّت یا اردو بولنے والے غیر بنگالیوں سے نفرت کا کیا درجہ ہو گا اس کے بارے میں تو سیاسی پنڈت یا میڈیا کے جوتشی ہی بتا سکیں گے۔
میں تو بنگلہ دیشی میڈیا کی یہ خبر بھی پڑھ کر دم بخود رہ گئی کہ ”ملک و قوم کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن نہیں جنرل ضیاء الرحمٰن ہیں ؛ بنگلہ دیش کا تعلیمی نصاب تبدیل۔ حکومت نے حقائق کو درست کرنے کے لیے ملک کا نصاب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔“ پھر تنوع، تعصبات اور تصورات کے فلسفوں پر دکھی ہو گئی۔ مفاد پرست سیاست کس کس طرح عام لوگوں کو لڑواتی ہے اور تباہ کرتی ہے۔
”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی سیاسی حکمتِ عملی جس میں معاش کی تلاش میں بنیادی حقوق کی آگاہی سے محروم طبقات کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پھر لوگوں کو تقسیم کر کے ان پر کنٹرول حاصل کیا جاتا ہے تاکہ وہ متحد ہو کر مخالفت نہ کر سکیں۔ یہ استعماری طاقتوں کے طرزِ حکمرانی کا فارمولا انگریز کے جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔
مورخ کبھی آزاد نہیں رہا۔ مقبوضہ تاریخ پر کیا تبصرہ کرنا اور دل جلانا؟ لیکن اگر تاریخ کا ایک بھیانک چیپٹر حال کی حقیقت بن کر بار بار سامنے آ رہا ہو تو ایک انسانی حقوق کی کارکن، ایک فیمنسٹ اور پاکستان سے غیر مشروط محبّت کرنے والی پاکستانی ہونے کے ناتے میں اس کمیونٹی کو کیسے بھول جاؤں جو ترپن سال سے پاکستان سے محبّت کے ”جرم“ میں بنگلہ دیش کے تیرہ کے قریب شہروں میں 7 x 7 / 6 x 6 کے ڈربوں میں جن کو کیمپ بھی کہا جاتا ہے مقیّد ہے۔ شہریت کے حقوق کے نام پر مفاد پرست گروہوں اور لینڈ مافیا کی سازشوں کا شکار رہی ہے۔ ڈھاکہ میں اس اذیت خانے کا نام ”جنیوا کیمپ“ ہے۔ در بدر، رد کی گئی ’دھتکاری ہوئی یہ کمیونٹی بے وطن ہے اور شاید وطن کے ہوتے ہوئے بھی جلا وطن ہے۔ پاکستانی قوم پرستوں کی نفرت بیورو کریسی کی غفلت اور سیاسی منافقتوں کی ملی بھگت ناکہ فنڈز کی عدم دستیابی ان کی وطن واپسی کو مکمّل نہ کر سکی۔ مہاجر اور مذہب کے نام پر مفادات سمیٹنے والی، پروگریسو یا جمہوری اقدار کے نام پر حکمرانی کے مزے لینے والی سیاسی جماعتیں سب ہی ان کے معاملے میں خاموش ہیں۔ لبرل سول سوسائٹی بھی ان مظلوم لوگوں کی واپسی کی حامی نہیں ہے۔
16 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 2024 تک۔ تذلیل، توہین اور گمشدہ شناختوں کے 19,359 دن ہیں۔ اور بے زمین سے بے وطن ہونے تک کی بے امان لوگوں کی فریاد نہ کوئی سنے والا ہے نہ سنانے والا۔ سررینڈر کے بعد کیا ہوا تھا؟ اس بات سے کسی بے باک صحافی، کسی آزاد میڈیا، کسی نوجوان اکادمک کو کیا دلچسپی ہے۔ جب دھڑادھڑ راتوں رات تھنک ٹینک بن جائیں اور حسب موقع اور حسب فرمائش سقوط ڈھاکہ پر مناسب الفاظ میں بات کرنے والے ادبی میلے، سیمینارز اور ٹاک شوز کو میسر ہوں تو ہم اجڑنے والوں کو شامل کرنے کی اور لفٹ کرانے کی کیا ضرورت ہے؟
وہ لوگ (جن کو محصورین بھی کہا جاتا ہے، اٹکا بہاری بھی کہا جاتا ہے۔ شالا بہاری تو اکہتر سے پہلے بھی بنگالی ہتک کرتے ہوئے کہتے تھے ) کبھی مشرقی پاکستان (جو اب بنگلہ دیش ہے ) میں فخر سے پاکستانی کے طور پر رہتے تھے۔ 1971 کے ہنگامہ خیز واقعات کے دوران انہیں ناقابل تصور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، تشدد سے بھاگتے ہوئے اسی جگہ ڈس پلسڈ لوگوں کی فہرست میں آ گئے جسے وہ اپنا وطن سمجھتے تھے۔ لیکن ان کا المیہ نظرانداز کیا گیا، ان کی آوازیں وسیع سیاسی بیانیوں اور مصلحتوں کے درمیان دب گئیں۔
ڈھاکہ، دیناج پور، چٹاگانگ، سنت نگر، کھلنا، راجشاہی، سلہٹ اور دیگر شہروں اور قصبوں میں بہاری خاندانوں کو 1971 کی بنگلہ دیش کی ”آزادی کی جنگ“ کے دوران ناقابل بیان اور ہولناک تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے حامی بہاری اور کچھ دیگر غیر بنگالی اردو بولنے والے انتقام کا نشانہ بنے۔ یہ انتقام ان سے ان کے اپنے ہی مسلمان بنگالی بھائیوں نے لیا۔ وہ عام بنگالی، جو مغربی پاکستان کی اشرافیہ کے ہاتھوں ذلت کا شکار ہوئے تھے ان کا غصّہ ان کی بعد میں مکتی باہنی کے طور پر ایک علیحدہ وطن کے لیے لڑنے کی تربیت میں کام آیا۔
ہماری بہاری اور غیر بنگالی خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ حاملہ خواتین بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ اور یہاں تک کہ شکم مادر میں بچوں کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ زندگیاں برباد ہو گئیں، اور شناختیں چھین لی گئیں۔ دسمبر 1971 میں مکتی باہنی نے بہاریوں کے گھروں میں گھس گھس کر عورتوں کی آبرو ریزی کی اور مردوں کو بیدردی سے مار ڈالا تھا۔ اس کمیونٹی کی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی ہے۔ بھیرب بازار میں بنگالیوں نے بہاری عورتوں کا ننگا جلوس نکالا تھا۔ وہ سر عام ریپ کرتے جاتے تھے اور قتل کرتے جاتے تھے۔ مارنے کے بعد ان کی شرم گاہوں میں بنگلہ دیش کے جھنڈے کی لکڑی گاڑ دیتے تھے۔ یہ سانحے ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب ”پاکستان کیوں ٹوٹا“ میں بھی درج ہیں۔
قطب الدین عزیز ایک معروف پاکستانی صحافی، مصنف اور سفارت کار تھے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ خاص طور پر اپنی کتاب ”بلڈ اینڈ ٹیرز“ (Blood and Tears) کے لیے مشہور ہیں، جس میں انہوں نے 1971 کی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں پیش آنے والے مظالم اور انسانیت سوز واقعات کو دستاویزی شکل دی۔ یہ کتاب ان 170 برباد افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے جو اس دور میں متاثر ہوئے اور مغربی پاکستان میں ”پناہ“ لینے پر مجبور ہوئے۔ افسوس صد افسوس کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے 55 شہروں میں مارچ۔ اپریل 1971 میں عوامی لیگ کے جنگجوؤں اور دیگر باغیوں کے ہاتھوں مغربی پاکستانیوں، بہاریوں، اور دیگر غیر بنگالیوں اور پاکستان کے حامی بنگالیوں پر ڈھائے گئے مظالم کے 170 گواہان کی یہ شہادتیں نہ کبھی مین سٹریم میڈیا پر بیان کی گئیں نہ ہی یونیورسٹی، کاکول یا سول سروس اکیڈمیز میں پڑھی یا پڑھائی گئیں۔ سولہ دسمبر 1971 کو باضابطہ ہتھیار ڈالے گئے۔ پاکستان دو لخت ہوا، سقوط ڈھاکہ پر اب تک نصاب تک میں سکوت ہے۔ اس کمیونٹی کو جوپیارے پاکستان کے جھنڈے سے دستبردار نہیں ہوئی انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا۔ یاد رکھیں مسلمان بنگالیوں نے مسلمان بہاریوں کا قتل کیا، چاہے ان کی ٹریننگ انڈیا نے کی ہو، لیکن اپنے ہی غیر بنگالی بھائی، بہنوں، کولیگز پر بندوق مسلمانوں نے ہی تانی تھی۔ ان مسلمان بنگالی قاتلوں کو فریڈم فائٹرز کہا جاتا ہے اور نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دنیا کے کی ملکوں میں ان کو بے تحاشا عزت اور تکریم دی گئی ہے۔
ہم لوگ کس کو سمجھائیں کہ صرف جغرافیہ نہیں بدلا ہماری شناخت اور حیثیت بھی بدلی۔ کیسا بدلہ لیا بنگالیوں نے؟ شکوہ پاکستان کے مراعات یافتہ طبقے سے جن کے ظلم کا شکار غریب پنجابی تک ہے اور برق گرائی گئی تو ہم امن پسند پڑھے لکھے مڈل کلاس اور محنت کی روزی کمانے والے بہاریوں پر۔
میڈیا کی پابندیوں کے دوران شہری بہاریوں اور ان کی نسل کشی کی کہانی ثابت قدمی کی ہے، جنہوں نے مشکلات کے باوجود اپنی بقا کی جنگ لڑی اور اس معاشرے میں ضم ہونے کی کوشش کی جو اکثر انہیں مسترد کرتا ہے۔ یہ وہ وراثتیں ہیں جو ان لوگوں کے لیے چھوڑ دی گئیں جو زندہ بچ گئے۔
بات چلی تھی ڈار صاحب کے بنگلہ دیش کے اس دورے کی جو وہ فروری میں کریں گے اور جس کو ان کا ہم نوا میڈیا ابھی سے تاریخ ساز لیبل کر چکا ہے۔ ڈار صاحب آپ اس دورے میں تجارت کی بات کریں گے کہ یہی کامیابی کی دلیل ہے ضرور کریں مگر ہماری کمیونٹی کا قرض بھی تو واپس کریں۔ پتا نہیں آپ کی نظر سے یہ سطریں گزریں گی بھی یا نہیں؟ اور فارن آفس میں کون ہو گا جو بریفنگ میں اس المیے کو شامل کرے گا جس کا نوحہ میں گزری ہوئی کئی دہائیوں سے پیش کر رہی ہوں۔ کوئی طاقتور توجہ نہیں دیتا۔ میرے تو دوست، سنگی، ساتھی، ادا، بھرا، بھائی سب ہی دور ہوتے جا رہے ہیں جیسے جیسے ان کو میری شناخت اور میرے مطالبے کا علم ہوتا جا رہا ہے۔ پھر بھی ایک مُوہِم سی امید پر کچھ حقائق پھر سے قلم بند کیے ہیں کہ شاید ”ہم سب“ جیسے انسان دوست فورم کے توسط سے آپ تک رسائی ہو جائے۔ اور شاید آپ اور آپ کی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ سوچیں کہ آپ نے اس کمیونٹی کے لیے کیا کیا اور آپ کیا کر سکتے ہیں؟ بہت شکریہ۔ بڑے لوگوں کے لیے سمری تیار کی جاتی ہے۔ تو پلیز پڑھ لیجیے ہماری بپتا کا خلاصہ بلکہ تلخیص :
”ہم ان عشاق پاکستان کی چوتھی /پانچویں نسل ہیں جنھوں نے پاکستان کی خاطر پرو لبریشن بنگالیوں کا قہر سہا اور پاک فوج نے جب ہتھیار ڈال دیے اور بنگلہ دیش اور بقیہ پاکستان کے دو الگ الگ حکمران بن گئے تو ہم محب وطن لوگوں کو دھتکار دیا گیا اور کہا گیا کہ ادھر ہی رہو وہی تمہارا وطن ہے یعنی انہی بنگالیوں کے ساتھ جنھوں نے قتل کیا ریپ کیا روزگار اور شناخت کو تباہ کیا ان ہی کے ساتھ بغیر کسی دعویٰ کے مداوے کے عدم برابری کے ساتھ سسک سسک کر زندگی کی سانسیں پوری کرو۔ یہ ہے ہماری پاکستان سے یک طرفہ محبّت اور بربادی کی کہانی۔ ہم بھی تجدید تعلق چاہتے ہیں۔ ہو سکے تو آپ ڈھاکہ میں ہم سے بھی ملیں اور ہمیں پاکستان اور بنگلہ دیش میں عزت کے ساتھ آباد کردیں۔“


