بنکاک: فرشتوں کی بستی (4)
”ہواہن“ کیوں؟ ”پتایا“ کیوں نہیں؟
اگلے دن یعنی 7 اکتوبر کو ہمارا پروگرام ”ہواہن“ جانے کا تھا۔ صبح نو بجے چیک آؤٹ کر کے گاڑی میں سوار ہو کر چل پڑے۔ ”ہواہن“ تھائی لینڈ کے مشہور ساحلی شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ ٔ شہرت یہ ہے کہ قدیم زمانے سے ہی بادشاہ، ملکائیں اور شاہی خاندان کے لوگ گرمیوں کا موسم گزارنے یہاں آ جایا کرتے تھے۔ تھائی لینڈ میں تقریباً 100 ساحل پائے جاتے ہیں مگر عوامی استعمال کے لئے صرف چار ہیں یعنی پتایا، ہواہن، بانگ سین اور شئام۔ شئام مقامی لوگوں میں زیادہ مقبول ہے، ہواہن شاہی خاندان کے زیر استعمال رہنے کی وجہ سے مشہور ہے، تاہم غیر ملکی سیاحوں میں زیادہ مقبول نہیں۔ غیر ملکی سیاح زیادہ تر پتایا جانا پسند کرتے ہیں۔ تھے تو ہم بھی غیر ملکی ہی اس لئے ہمارے ذہنوں میں بھی پتایا ہی چھایا ہوا تھا۔ ہم نے پنوٹاٹ سے پتایا نہ جانے کے بارے میں سوالات کر کر کے اسے زچ کیا تو اس نے بتایا کہ پتایا کا بنکاک سے فاصلہ ایک گھنٹہ جب کہ ہواہن جانے کے لئے دو گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ ہماری اگلی الجھن یہ تھی کہ پھر ہمیں پتایا کیوں نہیں لے جایا گیا؟ پہلے تو اس نے وہاں کے کاروبارِ زندگی، جو دن رات چلتے رہتے ہیں، کے بارے میں بتایا، دن کی چہل پہل اور رات کی چکاچوند روشنیوں میں جاری سرگرمیوں پر نہایت خشک اور سنجیدہ گفتگو کی۔ لیکن ہم اسی چہل پہل اور روشنیوں کے طلب گار تھے۔ پھر اس نے ہواہن اور پتایا کا موازنہ شروع کر دیا اور اس کی شرافت اور نیکی کی تعریفیں کرتے ہوئے بولا کہ ہواہن میں رات کو پرسکون خاموشی ہوتی ہے جب کہ دن میں بھی شور نہیں ہوتا اور پھر ہواہن میں صفائی کا معیار بہت اعلیٰ ہے جب کہ پتایا اس لحاظ سے اتنا خوش قسمت نہیں۔ یہ سُن کر ہمارے دل نے زور دار نعرہ لگایا کہ بھائی اب یہ اُس کی خوش قسمتی نہیں ہماری کوتاہ قسمتی ہے! اس کوتاہ قسمتی کا اندازہ ہمیں اس وقت اور بھی زیادہ ہوا جب ہم نے پاکستان واپس آ کر اپنے ہواہن جانے کا تذکرہ ان لوگوں کے سامنے کیا جو پتایا اور ہواہن دونوں دیکھ چکے تھے۔ ہم بڑے جذبے سے اپنے ہواہن جانے اور وہاں کی حقیقی اور موہوم پُر کشش باتوں کا ذکر کرتے تو ہمیں محسوس ہوتا کہ ہمارے یہ سامعین زیرِ لب مسکرا رہے ہیں اور کچھ نامراد بے تکلف دوست تو با قاعدہ ہمارا مذاق اڑانے لگتے۔ بہرحال ہم بھی پنوٹاٹ کی ان باتوں سے مطمئن نہ ہوئے اور اپنی الجھن پہ اڑے رہے۔ ہمارا ”پنوں“ ایک ذہین، چابکدست اور ماہر ڈپلومیٹ تھا۔ ہمارے تابڑ توڑ حملوں کا آخر میں اس نے ایسا جواب دیا کہ میں اور اظہر تو ممیاتے ہوئے خاموش ہو گئے مگر منیر احمد کے شعلہ شوق سے اس نے راستے میں آنے والی کچھ رنگینیوں میں اور رنگ بھر کر جان چھڑائی۔ جو جواب اس نے دیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور پتایا میں غیر اسلامی ماحول چھایا ہوا ہے، تھائی لینڈ کی حکومت نہیں چاہتی کہ اُس کی وجہ سے یہ پیارے پیارے مسلمان پتایا جا کر اخلاقی فساد کے خطرات سے دوچار ہوں۔ میرا جی تو چاہا کہ میں ”پنوں“ کو وہ خطرناک موضوعات یاد دلاؤں جن پر گزشتہ تین دن کے دوران وہ ہم سے بے تکان گفتگو کر چکا تھا، مگر پھر اِس خیال سے رُک گیا کہ یہاں معاملہ عزتِ سادات کا ہے۔ ”پنوں“ ظالم نے چاروں ساحلوں کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ غیر ملکی لوگ بالخصوص روسی سیاح پتایا کو بہت پسند کرتے ہیں۔ جب وہ یہ بتا رہا تھا تو ہمیں اس کی معصومیت پر پیار بھرا غصہ آیا کہ اس بیچارے کو پتا ہی نہیں کہ کئی اور ممالک کے سیاح بھی اسی کے دلدادہ ہیں!
ہواہن کی ہوا خوری:
تین گھنٹے سفر کے بعد ہم ہواہن کے بان نب کلیون (Bean Nub Kluen) نامی سمندری ریزارٹ پہنچے۔ اس ریزارٹ میں تین سوئمنگ پول تھے اور سمندر بالکل سامنے تھا کہ کمرے سے نکلیں اور شوق ہو تو پانی سے جا ملیں ٹھاہ کر کے! ریزارٹ میں اپنا اپنا ٹھکانہ معلوم ہونے پر اپنا سامان ٹھکانے لگایا اور گاڑی میں جا سوار ہوئے کہ شہر میں جا کر دوپہر کا کھانا کھائیں۔ تھائی لینڈ کے ایک معروف ریسٹورنٹ اور بیکری چین (S&P) میں کھانا کھانے چلے گئے۔ ریسٹورنٹ اور بیکری کی اس چین کو 1973 میں ایک میاں بیوی نے شروع کیا تھا۔ S اور P انہی کے ناموں کے پہلے حروف ہیں۔ اسی ریسٹورنٹ میں رات کا کھانا کھایا اور اگلے دن کا ناشتہ بھی کیا۔ یہیں پر رات کے کھانے میں دنیا کے مہنگے ترین فروٹ دریان سے بنی سویٹ ڈش بھی کھائی۔ بتایا گیا کہ دریان تھائی لینڈ کے کچھ علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اسے کئی طریقوں سے تیار کر کے کھایا جاتا ہے۔
دوپہر کے کھانے کے بعد اپنے ریزارٹ کے قریب واقع پہاڑیوں کی طرف چل پڑے۔ چڑھائی چڑھتے چینی بدھ مت کا ایک بہت بڑا ٹیمپل دیکھا۔ اُسی ٹیمپل کے بیچوں بیچ گزرنے کے بعد مہاتما بدھ اور پھر چینی بدھا کے مجسموں کو دیکھا۔ چین میں بدھ مت نے رواج پایا تو ہمارے ہاں کے معروف مہاتما بدھ کی طرح ایک شخصیت نے شہرت پائی جسے چینی بدھا کہا گیا۔ یہ والے بُدھا ہمارے پنجابی کلچر کی زبان میں بڑے صحت مند اور بھاری بھرکم تھے۔ ایسے لگتا تھا ان کے نظام تربیت میں کھانے پینے کے حوالے سے مہاتما بدھ کی تعلیمات کا زیادہ اثر نہیں رہا، ۔ مہاتما بدھ اور چینی بدھا کے اِن مجسموں کو دیکھتے ہوئے ہم پہاڑی پر چڑھتے جا رہے تھے۔ پہاڑی کی چوٹی پر چینی بدھا کا ایک اور دیوہیکل مجسمہ نصب تھا جسے سنہری رنگ میں رنگا گیا تھا۔ اس مجسمے کی چوڑائی لمبائی اور جسامت سے ایسا لگ رہا تھا کہ گویا اس پہاڑی کو اُس نے تھام رکھا ہے۔ چوٹی سے سمندر کا نظارہ دلکش اور سمندر کے کنارے ماہی گیروں کے گھروں کی لمبی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی تھیں۔ ہر گھر کے باہر ایک یا دو کشتیاں بھی کھڑی تھیں۔
سوئمنگ پول اور تنہائی:
شام کو جب واپس ریزارٹ آئے تو نیکر شرٹ پہن کر اپنے ساتھیوں سمیت سمندر کے کنارے آ گئے۔ شام ہو جانے اور روشنی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہ ملا۔ تصاویر بنوائیں اور پھر اپنے ساتھیوں کو سوئمنگ پول میں نہانے کی ناکام دعوت دی۔ ہم تنہا ہی اس پول میں گھس گئے۔ پانی بہت لطف اندوز اور اردگرد کا ماحول بھی خوبصورت تھا مگر اکیلے ہونے کی وجہ سے زیادہ لطف اندوز نہ ہوسکا۔
لڑکی لڑکا یا کچھ اور؟
دوپہر کے کھانے کے لئے جب ہم ہواہن کے S&P ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے کھانے کا انتظار کر رہے تھے تو ”پنوں“ نے اپنے منفرد اسٹائل میں اچانک ہم تینوں کو مخاطب کیا اور شیشے کے اسُ پار کسی کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا بتائیں لڑکا ہے یا لڑکی؟ ہم تینوں کو یہ سوال نہایت احمقانہ لگا۔ میں نے سوچا کہ شاید اسے کوئی شرارت سوجھی ہے، مگر اس کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ہم تینوں نے نہایت متانت اور مدبرانہ انداز میں اسے سمجھاتے ہوئے بتایا کہ وہ لڑکی ہے۔ اس پر اس نے فاتحانہ انداز میں قہقہہ لگایا اور بولا کہ نہیں وہ لڑکا ہے۔ ہم تینوں بھی اڑ گئے جبکہ اب اس نے ہمارا ہلکا پھلکا تمسخر اڑانا شروع کر دیا۔ پہلے تو اس نے اسDrag Queen بننے کی سائنس سمجھائی اور دور ہی سے اس لڑکی، معافی چاہتا ہوں، لڑکے کے حدود اربعہ کی تبدیلی کے طبی طریقوں پر روشنی ڈالی۔ ہماری حالت اس شاگرد جیسی تھی جس نے اپنے تئیں شاندار پرچہ کرنے کے باوجود ایف گریڈ لیا تھا۔ اس نے جب ہماری گومگو والی کیفیت دیکھی تو ہمیں ساتھ لے کر اُس لڑکی نما لڑکے کے اتنا قریب لے گیا کہ جہاں سے وہ ہمیں اچھی طرح سمجھا بھی سکے اور سبکی کا اندیشہ بھی نہ ہو۔ پنوں کی فصاحت و بلاغت اور اس لڑکے کے معائنے نے مل کر ہمیں ہار ماننے پر مجبور کر دیا ورنہ شروع شروع میں تو ہم تینوں نے اُس کے ساتھ شرط لگانے کا بھی ارادہ کر لیا تھا۔
جہاں رومانس وہیں پاکستانی:
بنکاک سے ہواہن آتے ہوئے پنوٹاٹ نے ہمیں ناریل کے باغات دکھائے۔ ایک طرف بڑی بڑی عمارتیں قطار اندر قطار دکھائی دے رہی تھیں اور دوسری طرف ناریل کے باغات کا طویل سلسلہ نظر آ رہا تھا۔ اپنی سحر انگیز خوشبو اور الگ ذائقے کی وجہ سے اُسے رومانوی ناریل کہا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے (اُس وقت کے ) وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو یہ ناریل بہت پسند ہے اور اسے اُن کے لئے یہاں سے منگوایا جاتا ہے۔
سمندری نمک کا دیسی اور ولایتی طریقہ:
بنکاک سے ہواہن جاتے ہوئے ہم نے ایک جگہ پر لگاتار کھلے کھلے میدان دیکھے تو تجسس ہوا کہ اتنی وسیع جگہ خالی کیوں چھوڑ دی گئی ہے۔ ہمارے اس تجسس کو دیکھتے ہوئے پنوں نے گاڑی رکوائی اور ہمیں بتایا کہ یہ کھلی جگہ کسی مقصد میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس جگہ سمندر کا پانی جمع کیا جاتا ہے اور پھر اس کے سوکھنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جب پانی سوکھ جاتا ہے تو پیچھے اس کا نمک رہ جاتا ہے۔ یہاں تک تو قدیم زمانے سے استعمال ہونے والا دیسی طریقہ ہی چلتا ہے۔ اس کے بعد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سوکھے ہوئے نمک کو کیمیائی عمل سے گزار کر صاف کر لیا جاتا ہے جس سے نمک کھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔
سڑکوں کا جال زراعت کے لئے وبال:
بنکاک سے ہواہن اور پھر واپسی پر ہم نے شدت سے محسوس کیا کہ تھائی لینڈ میں سڑکوں کا اوپر تلے ایک وسیع جال بچھا دیا گیا ہے۔ جب ہم نے اس تاثر کا اظہار کیا تو ہمارے میزبان نے ہمارے اس مشاہدے پر ہمیں شاباش دینے کے انداز میں ہاں میں ہاں ملائی اور بتایا کہ عالمی بینک نے تھائی لینڈ کو خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ سڑکیں تعمیر کرنے کا نتیجہ ماحولیات پر برے اثرات کی شکل میں نکل رہا ہے جس کی وجہ سے تھائی لینڈ کی زراعت کو خطرات درپیش ہو گئے ہیں۔ اس لمحے ہمارا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا کہ ہمارے اس مشاہدے پر عالمی بینک کی مہر تصدیق بھی ثبت ہو گئی ہے۔
پنوٹات کے سفری انٹرویو کی روداد:
کچھ تو ہمارے میزبان کی زبان اور حرکتیں ان تھک تھیں، کچھ ہمارا شوق بھی بڑھ گیا تھا، اس لیے دوران سفر ہم نے بھی پنو ٹاٹ کا انٹرویو شروع کر دیا۔ اس انٹرویو کی روداد کا خلاصہ ذیل میں پیشِ خدمت ہے :
عام تاثر سے ہٹ کر تھائی لینڈ کی سیاحت کا اس کی معیشت میں صرف 10 فی صد حصہ ہے۔ جب کہ برآمدات کا حصہ 40 فی صد ہے۔ برآمدات میں سرفہرست کاریں، چاول، شوگر، کافی، جانوروں کی خوراک، ربڑ، پام آئل، ٹیک وڈ، فرنیچر، جیولری، کیلا، کوکونٹ اور دودھ سے بننے والی اشیاء شامل ہیں۔ درآمدات میں کاٹن، گوشت وغیرہ زیادہ اہم ہیں۔
تھائی لینڈ کے جنوبی علاقے اپنے پہاڑی سلسلوں اور موسم کی دلکشی کی وجہ سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ تاہم وہاں سیاحت کو اتنا فروغ نہیں جتنا شمالی علاقوں کو ہے۔ اس کی وجہ وہاں کی جیوپولیٹکل صورتِ حال ہے۔ پہلے تو آزادی کی کئی تحریکیں چل رہی تھیں، مگر آہستہ آہستہ ایک کے سوا باقی ماند پڑتی جا رہی ہیں۔
تھائی لینڈ کے دیہاتی علاقوں میں شادی کی رسومات کا انبار ہمارے ہاں کی شادیوں جیسا ہی ہے مگر شہروں میں مغربی انداز غالب آتا جا رہا ہے۔
بدھ ازم میں خدا پر ایمان لانا ضروری نہیں، بلکہ کائنات کی مادی قوتوں کو ہی اُس کے وجود کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ تکلف برطرف مجھے یہ بات پلے نہ پڑی تو میں نے کرید کرید کر اس سے پوچھا، اس نے بھی زور لگا لگا کر بتایا مگر گاڑی آگے نہ چل سکی اس لئے خاموش ہو گیا۔ خدا پر ایمان کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود نروان حاصل کیے بغیر روح کو چین نہیں ملتا اور وہ اس وقت تک دنیا میں واپس آتی رہتی ہے جب تک اسے نروان حاصل نہ ہو جائے۔ جسے لڑکے اور لڑکی کا فرق معلوم نہ ہو سکا اسے یہ دقیق بات کہاں سمجھ میں آنی تھی؟
شنگ مائی کا صوبہ بنکاک سے 50 گنا زیادہ بڑا ہے۔ بنکاک اور اس کے درمیان تاریخی جنگیں رہیں ہیں مگر شولا لانک کارن نے ) پچاس شادیاں کرنے کے باوجود ( اسے فتح کر لیا اور اس وقت سے وہ تھائی لینڈ کا ایک صوبہ ہے۔ شنگ مائی کی عورتیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ ان کا رنگ سفید، جلد ملائم اور تھائی لینڈ کی عام عورتوں کے برعکس قد لمبے اور ناز و نعم وافر مقدار میں ہوتا ہے۔ ”پنوں“ کے بیان کی چاشنی کے ساتھ ساتھ اْس کی گہری چاہت پھوٹ پھوٹ کر آشکار ہوئی تو ہمارے دل کے نہاں خانوں میں بھی شنگ مائی زمین پر جنت نما ٹکڑے کے طور پر مرتسم ہوا اور اسے دیکھنے اور پرکھنے کی تمنا نے زور سے انگڑائی لی!
تھائی لینڈ کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم عنصر ہمسایہ ممالک پر بھرپور توجہ دینا ہے۔ وہ میانمر، ویتنام اور لاؤس پر اپنے بجٹ کا ایک حصہ خرچ کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ ان ممالک میں اپنی برآمدات اور سیاحت کو فروغ دے رہا ہے۔
تھائی لینڈ میں بھینس کے دودھ کو استعمال نہیں کیا جاتا، بھینس کو کھیتی باڑی کے لئے رکھا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کی کھال مختلف مصنوعات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ہم نے سوال داغا کہ پھر اس کے دودھ کے ساتھ کیا حشر کیا جاتا ہے؟ اب مجھے یاد نہیں کہ جواب میں اسے ایکسپورٹ کرنے کا بتایا تھا یا پھر اس کی مصنوعات بنا کر دیگر ممالک کو بھیج دینے کا؟
تھائی لینڈ کی سول سروس کا ڈھانچہ پاکستانی سول سروس کی طرز پر ہی ہے۔ اس میں شامل ہونے اور ترقی کرنے کے مراحل بھی کم و بیش ہم سے ملتے جلتے ہیں، تاہم ان کی بیوروکریسی ہم سے اس لحاظ سے بہتر ہے (جیسا کہ بتایا گیا) کہ وہ عوام کی خدمت کا جذبہ رکھتی ہے نہ کہ اس پر حکمرانی کرنے کا۔ جس دن ہماری واپسی تھی یعنی 8 اکتوبر 2013، اس دن بنکاک کی خبر نظر سے گزری کہ وہاں بارہ پولیس تھانوں کے سربراہوں کو صرف اس لئے معطل کر دیا گیا کہ ان کے تھانوں میں صفائی کا انتظام معیار کے مطابق نہیں تھا۔ انہیں معطل کر کے ہیڈ کوارٹر بلا لیا گیا تھا تا کہ وہ وہاں رہ کر اپنی اس کوتاہی کو دور کرنے کی تربیت حاصل کر سکیں۔
ہواہن میں ہی کاؤ تاؤ کا پہاڑی سلسلہ ہے جو تھائی لینڈ کو میانمار سے الگ کرتا ہے۔ ہم نے یہ سنا اور مان لیا اور تحریر کر دیا ہے۔ محققین اپنا راستہ خود بنائیں۔ ہماری پنجابی میں کہتے ہیں : ”اپنے تے رینا، ساڈے تے نہ رینا“ ۔
(جاری ہے )

